صحابہ کرام ؓ کی غیبی تائید
دنیا کی زیب وزینت کو بے قیمت سمجھنا
حضرت معقل بن یسار ؓ حضرت نعمان بن مقرِّن ؓ کی امارت میں اَصفہان کے فتح ہونے کے بارے میں لمبی حدیث ذکر کرتے ہیں۔ اس میں یہ بھی ہے کہ حضرت نعمان ؓ لشکر لے کر اَصفہان کے قریب پہنچے تو ان کے اَور اصفہان کے درمیان دریا تھا۔ حضرت نعمان ؓ نے حضرت مغیرہ بن شعبہ ؓ کو قاصد بنا کر اَصفہان بھیجناچاہا۔ ان دنوں اَصفہان میں ذوالحاجبین بادشاہ تھا۔ اس نے آنے والے صحابی کو مرعوب کرنے کے لیے اپنے ساتھیوں سے مشورہ کیا کہ کیا میں اپنا دربار فوجی انداز سے سجاکر بیٹھوں یا شاہانہ شان وشوکت سے سجائوں؟ اس کے ساتھیوں نے شاہانہ شان وشوکت کا مشورہ دیا۔ چناںچہ اس نے شاہی طریقہ سے اپنا دربار سجایا۔ خودشاہی تخت پر بیٹھا اور سر پر شاہی تاج رکھا اور درباری اس کے گرد دو صفیں بناکر کھڑے ہوگئے۔ ان لوگوں نے دیباج کے ریشمی کپڑے پہن رکھے تھے، ان کے کانوں میں بالیاں اور ہاتھوں میں کنگن تھے۔
حضرت مغیرہ بن شعبہ ؓ دربار میں آئے، وہ سر جھکائے تیزی سے چل رہے تھے۔ ان کے ہاتھ میں نیزہ اور ڈھال تھی، اور لوگ دو صفیں بنائے بادشاہ کے گرد قالین پر کھڑے تھے۔ حضرت مغیرہ ؓ نیزے پر ٹیک لے کر چل رہے تھے جس سے وہ قالین پھٹ گیا۔ ایسا انھوں نے قصداً کیا تا کہ یہ ان لوگوں کے لیے بدفالی ہو۔ ذوالحاجبین نے ان سے کہا: اے جماعتِ عرب! تم لوگ سخت فاقہ اور مشقت میں مبتلا ہو اس لیے اپنے ملک سے نکل کر ہمارے ہاں آگئے ہو۔ اگر تم چاہو تو ہم تمھیں غلہ دے دیتے ہیں، اسے لے کر تم اپنے ملک واپس چلے جائو۔ پھر حضرت مغیرہ نے گفتگو شروع فرمائی، پہلے اللہ کی حمد وثنا بیان کی پھر فرمایا:
ہم عرب لوگ واقعی بہت برے تھے، مردار جانور کھایاکرتے تھے اور بڑے کمزور تھے۔ تمام لوگوں کا ہم پر زور چلتاتھا، ہمارا کسی پر نہیں چلتاتھا۔ پھر اللہ نے ہم میں ایک رسول بھیجا جو ہمارے شریف خاندان کا تھا جس کا حسب ہم میں سب سے اعلیٰ تھا جس کی بات سب سے زیادہ سچی تھی۔ انھوں نے ہم سے وعدہ کیاتھا کہ یہ جگہ فتح ہوکر ہمیں ملے گی اور اب تک ہم ان کے تمام وعدوں کو سچا پاچکے ہیں۔ اور میں یہاں بڑے شان دار کپڑے اور قیمتی سامان دیکھ رہاہوں، مجھے یقین ہے کہ میرے ساتھی انھیں لیے بغیر یہاں سے نہیں جائیںگے۔ آگے اور بھی حدیث ہے۔1
حضرت محمد، حضرت طلحہ، حضرت عمرو اور حضرت زیاد ؓ اپنی اپنی سند سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت سعد ؓ نے آدمی بھیج کر حضرت مغیرہ بن شعبہ ؓ اور صحابہ کی ایک جماعت کو بلایا اور فرمایا: میں آپ لوگوں کو ان لوگوں (رستم وغیرہ) کے پاس بھیجنا چاہتا ہوں اس بارے میں آپ لوگوں کی کیا رائے ہے؟ ان سب حضرات نے کہا: آپ جو حکم فرمائیں گے ہم تابع دار ہیں اور اس پر پکے رہیں گے (یعنی ہم جانے کے لیے تیار ہیں)۔ اور وہاں جاکر جب کوئی ایسا مسئلہ پیش ہوگا جس میں آپ کی طرف سے کوئی فیصلہ نہیں ہوا ہوگا تو ہم اس چیز کے بارے میں غور کریں گے، جو زیادہ مناسب اور لوگوں کے لیے زیادہ مفیدہے، اور جو سمجھ میں آئے گا وہ ہم ان لوگوں کو بتائیں گے۔ حضرت سعد ؓ نے فرمایا: عقل مند تجربہ کار لوگ ایسے ہی کیا کرتے ہیں۔ اب آپ لوگ جائیں اور جانے کی تیاری کریں۔ حضرت رِبعی بن عامر ؓ نے کہا: عجمی لوگوں کے اپنے طورطریقے اور آداب ہیں۔ جب ہم سب ان کے پاس جائیں گے تو وہ سمجھیں گے کہ ہم نے ان کا بڑا اہتمام کیا ہے، لہٰذا آپ ان کے پاس ایک سے زیادہ آدمی نہ بھیجیں۔ باقی تمام حضرات نے بھی اس بات میں حضرت رِبعیؓکی تائید کی۔ اس کے بعد حضرت رِبعی ؓ نے کہا: آپ سب مجھے بھیج دیں۔ اس پر سعد ؓ نے انھیں بھیجنے کا فیصلہ کردیا۔
چناںچہ حضرت رِبعیؓرستم کے لشکر گاہ میں اس سے ملنے کے لیے روانہ ہوئے۔ پل پر جوسپاہی مقررتھے انھوں نے حضرت رِبعی ؓ کو روک لیا اور ان کے آنے کی اطلاع دینے کے لیے آدمی رستم کے پاس بھیجا۔ رستم نے فارس کے بڑے سرداروں سے مشورہ کیا اور یہ سوال کیا کہ ہم کیا صرف اپنی تعداد کے زیادہ ہونے پر فخر کریں یا شاہی اور قیمتی سامان دکھاکر عربوں کا بے حیثیت ہونا ظاہر کریں اور اس طرح انھیں مرعوب کریں۔ سب کا اسی پر اتفاق ہوا کہ شاہی اور قیمتی سامان کا مظاہرہ کیاجائے۔ چناںچہ خزانے سے نکال کر انھوں نے زیب وزینت کا ساراسامان سجاڈالا، اور ہر طرف قیمتی گدے، بچھو نے اور قالین بچھادیے، اور خزانے میں کوئی چیز نہ رہنے دی۔ رستم کے لیے سونے کا تخت رکھا گیا، اس ے بیش قیمت شان دار کپڑے پہنائے گئے اور قیمتی قالین بچھائے گئے اور ایسے تکیے رکھے گئے جو سونے کی تاروں سے بنے ہوئے تھے۔ (حضرت رِبعی ؓ کو پل کے سپاہیوں نے آگے جانے کی اجازت دے دی تو) حضرت ربعی ؓ اپنے گھوڑے پر چل پڑے۔ گھوڑے کے بال زیادہ اور قد چھوٹا تھا۔ ان کے پاس ایک چمک دار تلوار تھی اور اسے پرانے کپڑے میں لپیٹا ہواتھا۔ ان کے نیزے پر چمڑے کے تسمے بندھے ہوئے تھے، اور ان کے پاس گائے کی کھال کی بنی ہوئی ڈھال تھی جس پر روٹی کے مانند گول سرخ چمڑا لگا ہوا تھا، اور ان کے ساتھ ان کی کمان اور تیر بھی تھے۔
جب اس شاہی دربار کے قریب پہنچے اور سب سے پہلا بچھاہواقالین آگیا تو ان لوگوں نے ان سے کہا کہ نیچے اتر جائیں، لیکن یہ اپنے گھوڑے کو اس قالین پر لے گئے۔جب وہ پوری طرح قالین پر چڑھ گیا تب یہ اس سے نیچے اُترے، اور پھر دوتکیوں کو لے کر انھیں پھاڑا اور گھوڑے کی لگام کی رسی اس میںسے گزار کر گھوڑے کو اس سے باندھ دیا۔ وہ لوگ انھیں ایسا کرنے سے نہ روک سکے۔ حضرت ربعی ؓ دیکھتے ہی سمجھ گئے تھے کہ یہ لوگ اپنا شاہی ٹھاٹھ باٹھ دکھا کر ہمیں مرعوب کرنا چاہتے ہیں، اس لیے انھوں نے یہ کام قصداً کیا تاکہ ان لوگوں کو پتا چلے کہ انھوں نے اس سب کچھ سے کوئی اثر نہیں لیا۔ اور انھوں نے زرہ پہنی ہوئی تھی جو حوض کی طرح لمبی چوڑی تھی اور اونٹ کے گدے کو بیچ میں سے کاٹ کر بطورِ قباکے اسے پہن رکھا تھا اور سَن کی رسی سے اسے درمیان سے باندھ رکھا تھا اور یہ عربوں میں سب سے زیادہ بالوں والے تھے۔ انھوں نے اونٹ کے چمڑے والی لگام سے اپنے بالوں کو باندھا ہواتھا اور ان کے سرکے بالوں کی چار مینڈھیاں تھیں جو پہاڑی بکری کے سینگوں کی طرح کھڑی ہوئی تھیں۔
ان لوگوں نے کہا: آپ اپنے ہتھیار اتار کر یہاں رکھ دیں۔ انھوں نے کہا: میں آپ لوگوں کے پاس خود نہیں آیاہوں جو میں آپ کے کہنے پر اپنے ہتھیار اتاردوں۔ آپ لوگوںنے مجھے بلایا ہے، جیسے میں چاہتا ہوں ویسے مجھے آنے دیتے ہیںپھر تو ٹھیک ہے، ورنہ میں واپس چلاجاتاہوں۔ ان لوگوں نے رستم کو بتایا، رستم نے کہا: اسے ایسے ہی آنے دو، وہ ایک ہی تو آدمی ہے۔ ان کے نیزے کے آگے نوک دار تیزپھل لگا ہوا تھا، وہ چھوٹے چھوٹے قدم رکھ کر اس نیزے پر ٹیک لگاکر چلنے لگے، اور وہ یوں قالینوں اور بچھونوں میں سوراخ کرتے جارہے تھے، اور اس طرح انھوں نے ان کے تمام قالین پھاڑ دیے اور خراب کردیے۔ جب یہ رستم کے قریب پہنچے تو پہرے داروں نے انھیں گھیرے میں لے لیا اور یہ بچھونے میں نیزہ گاڑکر خود زمین پر بیٹھ گئے۔ ان لوگوں نے کہا: آپ نے ایسا کیوں کیا؟ فرمایا: ہم تمہاری زینت کے اس سامان پر بیٹھنا نہیں چاہتے۔ پھر رستم نے ان سے بات شروع کی اور کہا: آپ لوگ ملکِ عرب سے کیوں آئے ہیں؟ فرمایا: اللہ نے ہمیں بھیجاہے، اور وہی ہمیں یہاں اس لیے لے کر آیاہے تاکہ ہم جسے وہ چاہے اسے بندوں کی عبادت سے نکال کر اللہ کی عبادت کی طرف اور دنیا کی تنگی سے نکال کر آخرت کی وسعت کی طرف اور ظلم والے اَدیان سے نکال کر عدل والے دین اسلام کی طرف لے آئیں۔
اس کے بعد آگے ویسے حدیث ذکر کی ہے جیسے حضرت عمر ؓ کے زمانۂ خلافت میں صحابہ ؓ کے دعوت دینے کے باب میں گزرچکی ہے۔ آگے حدیث میں یہ ہے کہ رستم نے اپنی قوم کے سرداروں سے کہا: تمہارا ناس ہو! کپڑوں کو مت دیکھو سمجھ داری، گفتگو اور سیرت کو دیکھو۔ عرب کے لوگ کپڑے اور کھانے کا خاص اہتمام نہیں کرتے، ہاں خاندانی صفات کی بڑی حفاظت کرتے ہیں۔ اس حدیث میں یہ بھی ہے کہ پھر وہ لوگ حضرت رِبعیؓکے ہتھیاروں پر اعتراض کرنے لگے اور ان کے ہتھیاروں کو معمولی اور گھٹیا بتانے لگے۔ اس پر انھوں نے ان سے کہا: تم اپنی جنگی مہارت مجھے دکھائو میں اپنی تمھیں دکھاتاہوں۔ یہ کہہ کر چیتھڑے میں سے اپنی تلوار باہر نکالی تو وہ آگ کے شعلے کی طرح چمک رہی تھی۔ ان لوگوں نے کہا: بس کریں اور اسے نیام میں رکھ لیں۔ چناںچہ انھوں نے اسے نیام میں رکھ لیا۔ پھر حضرت رِبعی ؓ نے ان کی ڈھال پر تیر ماراتو وہ پھٹ گئی اور ان لوگوں نے حضرت ربعیؓ کی ڈھال پر تیر ماراتو وہ نہ پھٹی بلکہ صحیح سالم رہی۔ پھر فرمایا: اے فارس والو! تم لوگوں نے کھانے پینے اور لباس کو بڑاکام بنارکھاہے ہم انھیں چھوٹے کام سمجھتے ہیں۔ پھر حضرت رِبعیؓانھیں غور کرنے کے لیے (تین دن کی) مہلت دے کر واپس چلے گئے۔
اگلے دن رستم نے پیغام بھیجا کہ اسی آدمی کو پھر بھیج دیں۔ اس پر حضرت سعد ؓ نے حضرت حذیفہ بن محصنؓکو بھیجا۔ وہ بھی حضرت ربعی ؓ کی طرح معمولی کپڑوں میں اور سیدھی سادی حالت میں چلے۔جب پہلے قالین کے پاس پہنچے تو وہاں والوں نے کہا: اب آپ سواری سے نیچے اُتر جائیں۔ انھوں نے فرمایا: میں تب اُتر تا اگر میں اپنی ضرورت کے لیے آتا، تم جاکر اپنے بادشاہ سے پوچھو کہ میں اس کی ضرورت کی وجہ سے آیا ہوں یا اپنی ضرورت کی وجہ سے؟ اگر وہ کہے: میں اپنی ضرورت کی وجہ سے آیا ہو ں تو بالکل غلط کہتاہے اور میں تمھیں چھوڑ کر واپس چلاجائوں گا، اور اگر وہ کہے: میں اس کی ضرورت کی وجہ سے آیاہوں تو پھر تم لوگوں کے پاس ویسے آئوں گا جیسے میں چاہوںگا۔اس پر رستم نے کہا: اسے اپنے حال پر چھوڑ دو جیسے آتاہے آنے دو۔ چناںچہ حضرت حذیفہؓوہاں سے آگے چلے اور رستم کے پاس جاکر کھڑے ہوگئے۔ رستم اپنے تخت پر بیٹھا ہواتھا اس نے کہا: نیچے اُترجائیں۔ حضرت حذیفہ ؓ نے کہا: میں نہیں اُتروںگا۔ جب انھوں نے اُترنے سے انکار کردیاتو رستم نے ان سے پوچھا کہ کیابات ہے آج آپ آئے ہیں ہمارے کل والے ساتھی نہیں آئے؟ حضرت حذیفہ ؓ نے کہا: ہمارا امیر سختی نرمی ہر حال میں ہمارے درمیان برابری کرناچاہتے ہیں۔ کل وہ آئے تھے آج میری باری ہے۔
رستم نے کہا: آپ لوگ کیوں آئے ہیں؟ فرمایا: اللہ نے ہمیں اپنا دین عطافرماکر ہم پہ بڑا احسان فرمایا، ہمیں اپنی نشانیاں دکھائیں یہاں تک کہ ہم نے اسے پہچان لیا حالاںکہ ہم اس سے پہلے اسے بالکل نہیں جانتے تھے۔ پھر اللہ نے ہمیں حکم دیا کہ ہم تمام لوگوں کو تین باتوں میں سے ایک بات کی دعوت دیں۔ ان باتوں میں سے جسے بھی وہ مان لیں گے اسے ہم قبول کرلیں گے۔پہلی بات یہ ہے کہ اسلام لے آئو، اگر اسلام لے آئوگے تو ہم تمھیں چھوڑ کر واپس چلے جائیں گے۔ دوسری بات یہ ہے کہ اگر اسلام نہیں لاتے تو پھر جزیہ اداکرو۔ اگر جزیہ اداکروگے اور تمھیں ضرورت پڑی تو ہم تمہاری دشمن سے حفاظت کریںگے۔ تیسری بات یہ ہے کہ یہ دونوں باتیں منظور نہ ہوں تو پھر لڑائی اور مقابلہ۔ رستم نے کہا: کیا چند دن تک کے لیے صلح ہوسکتی ہے؟ فرمایا: ہاں تین دن تک کے لیے ہوسکتی ہے، لیکن وہ تین دن کل گزشتہ سے شمار ہوں گے۔ جب رستم نے حضرت حذیفہ ؓ سے بھی وہی جواب پایا جو حضرت ربعی ؓ سے سنا تھا تو اس نے حضرت حذیفہ کو واپس کردیا اور اپنے ساتھیوں کی طرف متوجہ ہوکر کہنے لگا: تمھیں میری رائے سمجھ میں کیوں نہیں آرہی؟ کل ہمارے پاس پہلا آدمی آیا وہ ہم پر غالب آگیا اور ہمارے قالین پر نہ بیٹھا (بلکہ ہمارے انتظامات چھوڑکر) ہماری زمین پر بیٹھ گیا اور اس نے اپنا گھوڑا ہماری زینت کے سامان کے اوپر کھڑا کیا اور ہم نے زینت کے لیے جو تکیے رکھے تھے ان کے ساتھ اپنا گھوڑا باندھ دیا اسے اچھی فال لینے کا موقع مل گیا، کیوںکہ وہ ہماری زمین کو بھی اپنے ساتھیوں کے پاس لے گیا اور زمین میں جو کچھ تھا اسے بھی لے گیا ان تمام باتوں کے باوجود وہ عقل مند بھی بہت تھا۔ آج یہ دوسرا آدمی ہمارے پاس آیا تو یہ آکر ہمارے سرپر کھڑا ہوگیا۔ یہ بھی اچھی فال لے کر گیاہے، یہ تو ہمیں نکال کر ہماری زمین پر قبضہ کرلے گا۔ (رستم کے ساتھیوں نے رستم کی باتوں کا سخت جواب دیا) اور ان میں بات چیت اتنی بڑھی کہ رستم کو بھی غصہ آگیا اور اس کے ساتھیوں کو بھی۔ اگلے دن رستم نے پیغام بھیجا کہ ہمارے پاس ایک آدمی بھیجو۔ چناںچہ مسلمانوں نے حضرت مغیرہ بن شعبہ ؓ کو بھیجا۔ 1
حضرت ابوعثمان نہدی کہتے ہیں: جب حضرت مغیرہ ؓ پل پر پہنچے اور پل پار کرکے فارس والوں کے پاس جانا چاہا تو انھیں پہرے داروں نے روکا اور رستم سے ان کے بارے میں اجازت طلب کی اور انھوں نے صحابۂ کرام ؓ کو مرغوب کرنے کے لیے جوشاہی انتظامات کررکھے تھے وہ سارے اسی طرح سے تھے، انھوں نے کوئی تبدیلی نہیں کی تھی۔ ان لوگوں نے تاج اور قیمتی کپڑے جو کہ سونے کے تاروں سے بُنے ہوئے تھے پہنے ہوئے تھے، اور تیر پھینکنے سے تیر جتنی دور جاتاہے اتنی دور تک قالین بچھائے ہوئے تھے، ان پر چل کر ہی آدمی ان کے بادشاہ تک پہنچ سکتاتھا۔بہرحال رستم کے اجازت دینے پر حضرت مغیرہ ؓ وہاں سے آگے چلے، ان کے سر کے بالوں کی چار مینڈھیاں بنی ہوئی تھیں۔ وہ چلتے چلتے جاکر رستم کے ساتھ اس کے تخت اور گدے پر بیٹھ گئے۔ اس پر وہ سب لوگ حضرت مغیرہ ؓ پر جھپٹے اور بڑبڑائے اور جھنجھوڑ کر انھیں تخت سے نیچے اُتار دیا۔
حضرت مغیرہ ؓ نے فرمایا: ہمیں تو یہ خبر پہنچی تھی کہ آپ لوگ بڑے سمجھ دار ہیں، لیکن میں نے آپ لوگوں سے زیادہ بے وقوف قوم کوئی نہیں دیکھی۔ ہم تمام عرب لوگ آپس میں برابر ہیں۔ ہم میں سے کوئی کسی کو اپنا غلام نہیں بناتا، ہاں کسی سے جنگ ہو تو پھر اور بات ہے۔ میرا خیال تھا کہ آپ لوگ بھی آپس میں ہماری طرح رہتے ہوں گے اور آپ لوگوں نے جوکچھ کیا اس سے اچھا تو یہ تھا کہ مجھے پہلے ہی بتادیتے کہ آپ لوگ آپس میں برابر نہیں، بلکہ ایک دوسرے کے ربّ ہیں۔ اگر رستم کے ساتھ بیٹھنا آپ لوگوں کے خیال میں ٹھیک نہیں ہے تو آیندہ ہم ایسا نہیں کریںگے۔ آپ لوگوں کے پاس میں خود نہیں آیا ہوں، آپ لوگوں نے بلایاتو میں آیا ہوں۔ آج مجھے پتا چلا ہے کہ تمہارا نظام ڈھیلاپڑھ چکاہے، اور تم لوگ مغلوب ہونے والے ہو، اور اس طور طریقہ پر اور اس سمجھ پر ملک باقی نہیں ر ہ سکتا۔ یہ باتیں سن کر عام لوگ کہنے لگے: اللہ کی قسم! یہ عربی بالکل ٹھیک کہہ رہا ہے۔ ان کے چودھری کہنے لگے:اللہ کی قسم! اس نے تو ایسی بات کہی ہے کہ ہمارے غلام ہمیں ہمیشہ اس کی طرف کھینچتے رہیں گے۔ اللہ ہمارے پہلوں کو غارت کرے! کس قدر اَحمق تھے کہ ان عربوں کی بات کو معمولی سمجھتے رہے (آج یہ اتنے زوروں پر آگئے ہیں، انھیں چاہیے تھا کہ ان عربوں کو شروع میں ہی کچل دیتے)۔ اس کے بعد راوی نے باقی حدیث ذکرکی ہے جس میں رستم کے سوالات اور حضرت مغیرہ ؓ کے جوابات کا ذکر ہے۔1