صحابہ کرام ؓ کی غیبی تائید

صحابۂ کرام ؓ کے غالب آنے کے بارے میں دشمنوں نے کیا کہا

حضرت زُہری کہتے ہیں: جب اللہ تعالیٰ نے حضرت ابوبکر ؓ کو خلیفہ بنادیا اور عرب کے بہت سے لوگ مرتدہوکر اسلام سے خارج ہوگئے تو حضرت ابو بکر ؓ مقابلہ کے لیے مدینہ سے چلے۔ جب بقیع کی طرف ایک پانی پر پہنچے تو انھیں مدینہ کے بارے میں خطرہ محسوس ہوا، اس لیے حضرت ابوبکر ؓ مدینہ واپس آگئے (اور دوسروں کو بھیجنے کا ارادہ کیا) اور حضرت خالد بن ولید بن مغیرہ سیف اللہ ؓ کو امیر مقرر فرماکر لوگوں کو ان کے ساتھ جانے کی دعوت دی اور حضرت خالد ؓ کو حکم دیا کہ وہ قبیلۂ مضر کے علاقہ میں جائیں اور وہاں جتنے لوگ مرتد ہوچکے ہیں ان سے جنگ کریں، پھر وہاں سے یمامہ جاکر مسیلمہ کذاب سے جنگ کریں۔ چناںچہ حضرت خالد بن ولید ؓ وہاں سے لشکر لے کر چلے اور پہلے طلیحہ کذاب اَسدی سے جنگ کی۔ اللہ نے طلیحہ کو شکست دی۔ عیینہ بن حصن بن حذیفہ فزاری بھی طلیحہ کذاب کے پیچھے لگ گیا تھا۔ جب طلیحہ نے دیکھا کہ اس کے ساتھیوں کو بہت زیادہ شکست ہورہی ہے تو اس نے کہا: تمہاراناس ہو! تم لوگوں کو شکست کیوں ہو جاتی ہے؟ اس پر اس کے ساتھی نے کہا:میں آپ کو بتاتاہوں کہ ہمیں شکست کیوں ہو جاتی ہے؟ اس کی وجہ یہ ہے کہ ہم میں سے ہر آدمی یہ چاہتاہے کہ اس کا ساتھی اس سے پہلے مرجائے اور ہمارا مقابلہ ایسے لوگوں سے ہے جن میں سے ہر آدمی اپنے ساتھی سے پہلے مرنا چاہتاہے۔ طلیحہ لڑنے میں سخت حملہ آورتھا، چناںچہ اس نے حضرت عکاشہ بن محصن اور حضرت ابنِ اَقرم ؓ کو شہید کیا۔ جب طلیحہ نے حق کو غالب آتے دیکھا تو پہلے تو پیدل بھاگا،پھر بعد میں اسلام لے آیا اور عمرے کا اِحرام باندھا۔ اس کے بعد باقی حدیث ذکر کی۔ 1 حضرت عمرو بن عاص ؓ فرماتے ہیں: مسلمانوں کا ایک لشکر روانہ ہوا میں ان کا امیر تھا۔ چلتے چلتے ہم اِسکندریہ پہنچے تو وہاں کے بادشاہ نے پیغام بھیجا کہ اپنا ایک آدمی میرے پاس بھیجو تاکہ میں اس سے بات کروں اور وہ مجھ سے بات کرے۔ میں نے ساتھیوں سے کہا: میں خود ہی اس کے پاس جائوں گا۔ چناںچہ میں ترجمان لے کر گیا، اس کے پاس بھی ترجمان تھا۔ ہمارے لیے دومنبررکھے گئے۔ اس نے پوچھا: آپ لوگ کون ہیں؟ میں نے کہا: ہم عرب ہیں۔ ہمارے ہاں کانٹے دار درخت اور کیکر ہوتے ہیں (کھیتیاں اور باغات نہیں ہوتے) البتہ ہمارے ہاں بیتُ اللہ ہے۔ ہماراعلاقہ سب سے زیادہ تنگ تھا اور ہمارے معاشی حالات سب سے زیادہ سخت تھے، ہم مردار کھالیتے تھے اور ایک دوسرے کا مال لوٹ لیتے تھے، غرض یہ کہ ہماری زندگی سب سے زیادہ بری تھی۔ پھر ایک آدمی ہمارے اندر ظاہر ہوا جو ہمارا سب سے بڑاسردار نہیں تھا اور ہم میں سب سے زیادہ مال دار نہیں تھا۔ اس نے کہا: میں اللہ کا رسول ہوں۔ وہ ہمیں ان کاموں کا حکم کرتے جنھیں ہم جانتے نہیں تھے، اور جن کاموں پر ہم اور ہمارے آباء واجداد پڑے ہوئے تھے ان سے ہمیں روکتے تھے۔ ہم نے ان کی مخالفت کی اور انھیں جھٹلایا اور ان کی بات کو ردّ کردیا، یہاں تک کہ ان کے پاس دوسری قوم کے لوگ آگئے اور انھوں نے کہا: ہم آپ کی تصدیق کرتے ہیں، آپ پر ایمان لاتے ہیں، آپ کا اتباع کرتے ہیں اور جو آپ سے جنگ کرے گا ہم اس سے جنگ کریں گے۔ وہ ہمیں چھوڑکر ان کے پاس چلے گئے۔ ہم نے وہاں جاکر ان سے کئی مرتبہ جنگ کی، انھوں نے ہمارے بہت سے آدمی قتل کر دیے اور ہم پرغالب آگئے۔ پھر وہ آس پاس کے عربوں کی طرف متوجہ ہوئے اور جنگ کرکے ان پر بھی غالب آگئے۔ اب جو لوگ میرے پیچھے ہیں اگر ان کو آپ لوگوں کی اس عیش وعشرت کا پتا چل جائے تو وہ سب آکر اس عیش وعشرت میں آپ کے شریک ہو جائیں۔ یہ بات سن کر وہ بادشاہ ہنسا اور اس نے کہا: آپ کے رسول نے سچ کہا ہے اور ہمارے پاس ہمارے رسول بھی وہی چیزیں لاتے رہے ہیں جو آپ کے رسول آپ کے پاس لائے ہیں۔ ہم ان رسولوں کی باتوں پر عمل کرتے رہے، پھر ہم میں کچھ بادشاہ ظاہر ہوئے جو اُن نبیوں کی باتوں کو چھوڑ کر ہمیں اپنی خواہشات پر چلاتے رہے۔ اگر آپ لوگ اپنے نبی ﷺ کی بات کو مضبوطی سے پکڑے رہیں گے تو جو بھی آپ لوگوں سے لڑے گا آپ لوگ اس پر ضرور غالب آجائیں گے اور جو بھی آپ لوگوں کی طرف ہاتھ بڑھائے گا آپ لوگ اس پر ضرور حاوی ہو جائیں گے۔ پھر جب آپ لوگ اس طرح کریں گے جس طرح ہم نے کیا اور نبیوں کی بات چھوڑ کر ہمارے بادشاہوں کی طرح خواہشات پر عمل کریں گے تو پھر آپ اور ہم برابر ہوجائیں گے، یعنی آپ لوگ بھی ہماری طرح اللہ کی مدد سے محروم ہوجائیںگے، پھر نہ آپ کی تعداد ہم سے زیادہ ہوگی اور نہ طاقت (لہٰذا ہم آپ پر غالب آئیں گے)۔ حضرت عمرو بن عاص ؓ فرماتے ہیں: میں نے کبھی کسی ایسے آدمی سے بات نہیں کی جو اس سے زیادہ نصیحت کرنے والاہو۔ 1 حضرت ابو اِسحاق کہتے ہیں: حضورﷺ کے صحابہؓ کے سامنے دشمن مقابلہ کے وقت اتنی دیر کبھی نہیں ٹھہر پاتاتھا جتنا وقفہ اونٹنی کے دومرتبہ دودھ نکالنے کے درمیان ہوتاہے۔ (اونٹنی کے دودھ نکالنے کی صورت یہ ہوتی ہے کہ اس کا دودھ اوپر چڑھاہواہوتاہے تھنوں میں کم ہوتاہے۔ پہلے اونٹنی کے بچے کو دودھ پینے کے لیے لایاجاتاہے، وہ دودھ پیتاہے تو دودھ نیچے اُترآتاہے، بچے کو ہٹاکر آدمی دودھ نکالنے لگتاہے تو اونٹنی اپنا دودھ اوپر چڑھالیتی ہے، اس لیے دوبارہ بچہ لایاجاتاہے وہ پینے لگتاہے تو دودھ پھر نیچے اُترآتاہے، تو بچے کو ہٹاکر پھر دوبارہ نکالاجاتاہے، اس طرح ایک وقت میں اونٹنی کا سارا دودھ دودفعہ نکالنے سے حاصل ہوتاہے تو ان دودفعہ دودھ نکالنے کا درمیانی وقفہ چندمنٹ کا ہوتاہے۔ دوسری صورت یہ ہوسکتی ہے کہ جب اونٹنی کا دودھ نکالتے ہیں اس وقت وہ کھڑی ہوتی ہے، تو نکالنے والا ایک ٹانگ پر کھڑاہوتاہے اور دوسری ٹانگ اٹھاکر اپنا پائوں پہلی ٹانگ کے گھٹنے پر رکھ لیتاہے اس اور دوسری ٹانگ کے گھٹنے اور ران پر برتن رکھ کر اس میں دودھ نکالتاہے اس طرح نکالنے والاتھک جاتا ہے اور ایک ٹانگ پر کھڑے ہونے کی وجہ سے گرنے والاہوجاتاہے تو وہ برتن نیچے رکھ کر اور دونوں ٹانگیں سیدھی زمین پر ٹکاکر کچھ دیر آرام کرتاہے، پھر اسی طرح ایک ٹانگ پر کھڑے ہوکر دوبارہ دودھ نکالتاہے تو یہ آرام کا درمیانی وقفہ یہاں مرادہے۔ یہ وقفہ بھی چندمنٹ کا ہوتاہے) روم کا بادشاہ ہِرَقل اَنطاکیہ میں قیام پذیر تھا۔ جب رومی فوج مسلمانوں سے شکست کھاکر وہاں پہنچی تو اس نے فوج سے کہا: تمہارا ناس ہو! تم مجھے ان لوگوں کے بارے میں بتائو جو تم سے جنگ کررہے ہیں، کیا یہ تمہارے جیسے انسان نہیں ہیں؟ ان سب جرنیلوں نے کہا: ہیں۔ ہرقل نے کہا: تمہاری تعداد زیادہ ہے یا ان کی؟ انھوں نے کہا: نہیں، ہرمعرکہ میں ہماری تعداد ان سے کئی گناہ زیادہ تھی۔ ہرقل نے کہا: پھر کیابات ہے تمھیں شکست کیوں ہو جاتی ہے؟ اس پر ایک بوڑھے جرنیل نے کہا: اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ لوگ رات کو عبادت کرتے ہیں اور دن کو روزہ رکھتے ہیں اور معاہدہ کو پوراکرتے ہیں اور نیکی کا حکم کرتے ہیں برائی سے روکتے ہیں اور آپس میں انصاف کرتے ہیں۔ اور اس کے برعکس ہم لوگ شراب پیتے ہیں، زناکرتے ہیں، ہرحرام کا ارتکاب کرتے ہیں، معاہدہ توڑدیتے ہیں، ایک دوسرے کا مال چھین لیتے ہیں اور ظلم کرتے ہیں اور ان کاموں کا حکم کرتے ہیں جن سے اللہ ناراض ہوتاہے اور جن کاموں سے اللہ راضی ہوتاہے ان سے ہم روکتے ہیں اور زمین میں فساد پھیلاتے ہیں۔ ہرقل نے کہا: تم نے مجھ سے سچی بات کہی ہے۔ 1 یحییٰ بن یحییٰ غسانی اپنی قوم کے دو آدمیوں سے نقل کرتے ہیں کہ جب مسلمانوں نے اُردن کے کنارے پر پڑائوڈالاتو ہم نے آپس میں کہا: دِمَشق کا عن قریب محاصرہ ہونے والاہے۔ اس لیے ہم دمشق گئے تاکہ محاصرہ شروع ہونے سے پہلے ہی وہاں سے خرید وفروخت کرلیں۔ ہم ابھی دِمَشق میں تھے کہ دِمَشق کے کمانڈر نے ہمارے پاس بلانے کے لیے قاصد بھیجا۔ ہم اس کے پاس گئے۔ اس نے کہا: کیاتم دونوں عرب ہو؟ ہم نے کہا: جی ہاں۔ اس نے کہا: کیا تمہارامذہب نصرانیت ہے؟ ہم نے کہا: جی ہاں۔ اس نے کہا: تم دونوں میں سے ایک جاکر ان مسلمانوں کے حالات معلوم کرکے آئے دوسرااس کے سامان کے پاس ٹھہر جائے۔ چناںچہ ہم دونوں میں سے ایک گیا اور مسلمانوں میں کچھ دیر ٹھہر کر واپس آیا اور اس نے کہا: میں ایسے لوگوں کے پاس سے آرہاہوں جو دبلے پتلے ہیں، عمدہ اور اصیل گھوڑوں پر سوار ہوتے ہیں، رات کے عبادت گزاراور دن کے شہ سوار ہیں، تیر میں پرلگاتے ہیں، اسے تراشتے ہیں، نیزے کو بالکل سیدھاکرتے ہیں، وہ اتنی اونچی آواز سے قرآن پڑھتے ہیں اور اللہ کا ذکر کرتے ہیں کہ اگر آپ ان میں بیٹھ کر اپنے ہم نشین سے کوئی بات کریں تو شور کی وجہ سے آپ کی بات کوئی سمجھ نہیں سکے گا۔ اس پر دِمَشق کے کمانڈر نے اپنے ساتھیوں کی طرف متوجہ ہوکرکہا: مسلمانوں کے ان حالات کے معلوم ہوجانے کے بعد اب تم ان کا مقابلہ نہیں کرسکتے۔ 2 حضرت عُروہ کہتے ہیں: (جب جنگِ یرموک کے دن) دونوں لشکر ایک دوسرے کے قریب ہوگئے تو (رومی جرنیل) قُبُقْلارنے جاسوسی کے لیے مسلمانوں میں ایک عربی آدمی بھیجا اور اس سے کہا: ان لوگوں میں داخل ہوجائو، اور ان میں ایک دن اور ایک رات رہو، اور پھر آکر مجھے ان کے حالات بتائو۔ حضرت عُروہ کہتے ہیں: مجھے بتایاگیاکہ یہ عربی آدمی قبیلۂ قُضاعہ کی شاخ تزید بن حیدان میں سے تھا جسے ابنِ ہزارف کہاجاتاتھا۔ چناںچہ وہ مسلمانوں میں داخل ہوگیا اور عربی ہونے کی وجہ سے عجمی معلوم نہیں ہورہاتھا۔ اور ایک دن ایک رات ان میں رہا، پھر قُبُقْلارکے پاس واپس آیاتو قُبُقْلارنے اس سے پوچھا: تم نے کیا دیکھا؟ اس نے کہا: یہ لوگ رات کو عبادت کرتے ہیں اور دن گھوڑوں کی پشتوں پر گزارتے ہیں۔ اگر ان کے بادشاہ کا بیٹاچوری کرے تو اس کا بھی ہاتھ کاٹ دیتے ہیں، اور اگر زناکرے تو اسے بھی سنگسار کردیتے ہیں۔ یہ اپنے معاشرے میں حق کو قائم کرتے ہیں۔ اس پر قُبُقْلارنے اس سے کہا: اگر تم نے مجھ سے سچ کہا ہے تو پھر زمین کے اندر دفن ہوجانا روئے زمین پر رہ کر ان کا مقابلہ کرنے سے بہتر ہے، اور میں دل سے چاہتاہوں کہ اللہ میری اتنی بات مان لے کہ میدان میں مجھے اور اس مسلمانوں کو رہنے دے خود میدان میں نہ آئے، نہ میری مدد کرے اور نہ ان کی (کیوںکہ اس طرح میں جیت جائوںگا اس لیے کہ اس طرح فتح اور شکست کا فیصلہ تعداد اور سامان جنگ پر ہوگا اور وہ میرے پاس ان سے بہت زیادہ ہے)۔ 1 حضرت ابنِ رُفیل کہتے ہیں: جب رستم نے نجف میں پڑائو ڈالا تو اس نے نجف سے ایک جاسوس مسلمانوں میں بھیجا جو قادسیہ جاکر مسلمانوں میں ایسے گھس گیا جیسے کہ ان ہی میں سے گیا تھا اور اب واپس آیا ہے۔ اس نے دیکھا کہ مسلمان ہر نماز کے وقت مسواک کرتے ہیں، پھر سب مل کر نماز پڑھتے ہیں اور نماز کے بعد سب اپنی قیام گاہوں میں چلے جاتے ہیں۔ پھر اس جاسوس نے واپس آکر سارے حالات رستم اور اس کے ساتھیوں کو بتائے اور رستم نے بھی اس سے بہت سوالات کیے، یہاںتک کہ یہ بھی پوچھا کہ یہ لوگ کیا کھاتے ہیں؟ اس جاسوس نے کہا: میں نے مسلمانوں میں صرف ایک رات گزاری ہے، اللہ کی قسم! میں نے تو ان میں سے کسی کو کچھ بھی کھاتے نہیں دیکھا۔ البتہ میں نے انھیں شام کو سوتے وقت اور صبح سے کچھ دیر پہلے کچھ لکڑیاں چوستے ہوئے دیکھاہے۔ رستم وہاں سے چل کر جب مقامِ حصن اور مقامِ عتیق کے درمیان پہنچاتو وہ صبح کی نماز کا وقت تھا۔ حضرت سعد ؓکے مؤذن نے صبح کی اذان دی۔ رستم نے دیکھا کہ اذان سنتے ہی سارے مسلمان حرکت میں آگئے۔ رستم نے حکم دیا کہ اہلِ فارس میں اعلان کردیاجائے کہ سب سوار ہوجائیں۔ ساتھیوں نے پوچھا: کیوں؟ اس نے کہا: کیا تم دیکھ نہیں رہے کہ اعلان ہوتے ہی تمہارادشمن تم پر حملہ کرنے کے لیے حرکت میں آگیاہے؟ اس کے اس جاسوس نے کہا: یہ لوگ تو اس وقت نماز کے لیے حرکت میں آئے ہیں۔ اس پر رستم نے فارسی زبان میں کہا: جس کا ترجمہ یہ ہے: آج صبح میں نے ایک غیبی آواز سنی اور وہ عمر ہی کی آواز تھی جوکہ کتوں سے یعنی عربوں سے باتیں کرتاہے، اور انھیں دانائی اور سمجھ سکھاتاہے۔ جب رستم کے لشکر نے دریاپار کرلیا تو وہ آکر وہاں ٹھہرگیا۔ اتنے میں حضرت سعد ؓ کے مؤذن نے نماز کے لیے اذان دی، پھر حضرت سعد نے نماز پڑھائی اور رستم نے کہا: عمر نے میرا جگر کھالیا۔ 1 قبیلۂ بنو قُشَیر کے ایک صاحب بیان کرتے ہیں: جب (شاہِ روم) ہرقلِ قسطنطنیہ (جسے آج کل اِستنبول کہاجاتاہے) کی طرف روانہ ہوا تو ایک رومی آدمی پیچھے سے آکر اسے ملا جوکہ مسلمانوں کے ہاں قید تھا اور وہاں سے چھوٹ کر آیا تھا۔ ہرقل نے اس سے کہا: مجھے ان مسلمان لوگوں کے بارے میں کچھ بتائو۔ اس نے کہا: میں ان کے حالات اس طرح تفصیل سے بتاتا ہوں کہ گویا آپ ان کو دیکھ رہے ہیں۔وہ دن کے شہ سوار اور رات کے عبادت گزار ہیں۔ اور اپنے ماتحت ذمیوں سے کھانے کی چیز قیمت دے کر ہی لیتے ہیں۔ جب بھی کسی کے پاس جاتے ہیں تو سلام ضرور کرتے ہیں اور جو اِن سے جنگ کرے تو جب تک اس کا کام تمام نہ کر لیں مقابلہ پر ڈٹے رہتے ہیں۔ ہرقل نے کہا: اگر تم نے مجھ سے سچ کہاہے تو وہ لوگ میرے ان قدموں کے نیچے کی زمین کے ضرور مالک بنیںگے۔ 2 (ایران کے بادشاہ) یَزدجرد نے مدد حاصل کرنے کے لیے چین کے بادشاہ کو خط لکھا۔ شاہِ چین نے خط لانے والے قاصدسے کہا: مجھے معلوم ہے کہ جب کسی بادشاہ پر دشمن غالب آجائے اور وہ دوسرے بادشاہ سے مدد طلب کرے تو اس کا حق ہے کہ وہ دوسرا بادشاہ اس کی مدد کرے، لیکن پہلے تم مجھے ان لوگوں کی صفات اور حالات بتائو جنھوں نے تمھیں تمہارے ملک سے نکال دیا ہے، کیوںکہ میں دیکھ رہاہوں کہ تم نے ان کی تعداد کی کمی اور اپنی تعداد کی کثرت کا ذکرکیاہے، اور میں نے بھی سناہے کہ تم لوگوں کی تعداد بہت زیادہ ہے، اس کے باوجود یہ تھوڑی تعداد والے لوگ تم پر غالب آرہے ہیں۔ اس کی وجہ صرف یہ ہے کہ تم میں کچھ خرابیاں ہیں اور ان میں کچھ اچھائیاں ہیں۔ قاصد کہتاہے: میں نے شاہِ چین سے کہا: آپ ان کے بارے میں مجھ سے جو چاہیں پوچھیں۔ اس نے کہا: کیا وہ عہد وپیمان کو پوراکرتے ہیں؟ میں نے کہا: جی ہاں۔ اس نے کہا: وہ لوگ جنگ کرنے سے پہلے تمھیں کیا کہتے ہیں؟ میں نے کہا: وہ ہمیں تین باتوں میں سے ایک بات کی دعوت دیتے ہیں۔ پہلے تو ہمیں اپنے دین کی دعوت دیتے ہیں، اگر ہم اسے قبول کرلیں تو وہ ہمارے ساتھ وہی سلوک کرتے ہیں جو وہ اپنے ساتھ کرتے ہیں۔ پھر وہ ہمیں اس بات کی دعوت دیتے ہیں کہ ہم جزیہ اداکریں، وہ ہماری حفاظت کریں گے۔ ہم اگر ان دوباتوںکو نہ مانیں تو پھر وہ ہم سے جنگ کریں گے۔ پھر اس نے پوچھا: وہ اپنے امیروں کی اطاعت کرنے میں کیسے ہیں؟ میں نے کہا: وہ اپنے امیر کی سب سے زیادہ اطاعت کرنے والے لوگ ہیں۔ پھر اس نے پوچھا: وہ کن چیزوں کو حلال سمجھتے ہیں اور کن چیزوں کو حرام؟ میں نے اسے مسلمانوں کے حلال اور حرام کی تفصیل بتائی۔ اس نے پوچھا: کیا وہ حلال کو حرام اور حرام کو حلال کرلیتے ہیں؟میں نے کہا: نہیں۔ اس نے کہا: جب تک یہ لوگ حرام کو حلال اور حلال کو حرام نہیں کریں گے اس وقت تک یہ ہلاک نہیں ہوںگے۔ مجھے ان کے لباس کے بارے میں بتائو؟ میں نے ان کے لباس کی تفصیل بتائی۔ پھر اس نے کہا: اُن کی سواریوں کے بارے میں بتاؤ۔ میں نے کہا: ان کی سواریاں عربی گھوڑے ہیں۔ پھر میں نے عربی گھوڑوں کی صفات ذکرکیں۔ اس نے کہا: یہ تو بہت اچھے قلعے ہیں۔ پھر میں نے کہا: ان کی سواریاں اونٹ بھی ہیں، اور اونٹ کے بیٹھنے اور بوجھ اٹھاکر کھڑے ہونے کا سارا انداز بتایا۔ اس نے کہا: یہ تمام باتیں لمبی گردن والے جانور میں ہواکرتی ہیں (غالبا شاہِ چین نے اونٹ دیکھا نہ ہوگا)۔ پھراس نے یزدجرد کو جواب میں یہ لکھا کہ میرے پاس اتنا بڑالشکرہے کہ اگر میں اسے آپ کی مدد کے لیے بھیجوں تو اس کا پہلا حصہ ایران کے شہر مرو میں ہوگا اور آخری چین میں، لیکن میں اسے نہیں بھیجوںگا اور اسے نہ بھیجنے کی وجہ یہ نہیں ہے کہ آپ کا جو مجھ پر حق ہے میں اسے نہیں جانتا، بلکہ اس کی وجہ یہ ہے کہ آپ کا جن لوگوں سے مقابلہ ہے آپ کے قاصدنے ان کے تمام حالات مجھے تفصیل سے بتائے ہیں، یہ ایسے زبردست لوگ ہیں کہ اگر یہ پہاڑوں سے ٹکراجائیں تو پہاڑ ریزہ ریزہ ہوجائیں۔ اگر یہ اپنی ان صفات پر باقی رہے اور یوںہی بڑھتے رہے تو ایک دن مجھے بھی میری سلطنت سے ہٹادیںگے، اس لیے آپ ان سے صلح کرلیں اور صلح صفائی کے ساتھ ان کے ساتھ رہنے پر راضی ہوجائیں اور جب تک وہ آپ کو نہ چھیڑیں آپ انھیں کچھ نہ کہیں۔1 ہم اس کتاب میں جو کچھ لکھنا چاہتے ہیں یہ اس کا آخری مضمون ہے: فَالْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِيْ ھَدَانَا لِھٰذَا وَمَا کُنَّا لِنَھْتَدِيَ لَوْلَا أَنْ ھَدَانَا اللّٰہُ۔ تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں جس نے ہمیں اس خیر کی ہدایت نصیب فرمائی، اگر اللہ ہمیں ہدایت نہ دیتے تو ہم ازخود ہدایت نہ پاسکتے۔ اَللّٰہُمَّ لَوْلَا أَنْتَ مَا اھْتَدَیْنَا وَلَا تَصَدَّقْنَا وَلَا صَلَّیْنَا فَأَنْزِلَنْ سَکِیْنَۃً عَلَیْنَا إِذَا أَرَادُوْا فِتْنَۃً أَبَیْنَا اے اللہ! اگر تیری مہربانی شامل حال نہ ہوتی تو ہمیں ہدایت نہ ملتی اور نہ ہم صدقہ دیتے اور نہ ہم نماز پڑھتے۔ تُو ہم پر اطمینان اور سکینہ نازل فرما۔ جب مشرک لوگ ہم سے فتنہ والا کام کرانا چاہتے ہیں تو ہم انکار کردیتے ہیں۔ آج بروز بدھ محرم الحرام کے مہینے میں ہجرتِ نبوی (عَلٰی صَا حِبِھَا أَلْفُ أَلْفِ صَلَاۃٍ وَّتَحِیَّۃٍ) کے تیراسو اُناسی والے سال میں عبدِ ضعیف محمد یوسف سَلَّمَہُ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنِ التَّلَھُّفِ وَالتَّأَسُّفِ کے ہاتھوں کتاب ’’ حیاۃالصحابہ ؓ ‘‘ مکمل ہوئی۔ اللہ تعالیٰ کی توفیق سے کتاب کی تیسری جلد کی طباعت منگل ۱۲ربیع الثانی ۱۳۸۵ھ مطابق ۱۰ اگست ۱۹۶۵ء کو پوری ہوئی۔ اللہ تعالیٰ کے فضل وکرم سے آج بروز بدھ ۲۷ شوال ۱۴۱۵ھ مطابق ۲۹ مارچ ۱۹۹۵ء کو ترجمہ مکمل ہوا۔