صحابہ کرام ؓ کی بیعت
صحابۂ کرام ؓ کا حضور ﷺ کے خُلفا کے ہاتھوں پر بیعت ہونا
حضرت منتشر کے والد کہتے ہیں کہ جس وقت یہ آیت
{ اِنَّ الَّذِیْنَ یُبَایِعُوْنَکَ اِنَّمَا یُبَایِعُوْنَ اللّٰہَ}1
تحقیق جو لوگ بیعت کرتے ہیں تجھ سے وہ بیعت کرتے ہیں اللہ سے۔
نازل ہوئی تو آپ نے لوگوں کو ا س وقت اس طرح بیعت فرمایا کہ ہم اللہ کے لیے بیعت ہوتے ہیں اور ہم حق بات مانا کریں گے۔ اور حضرت ابو بکر ؓ نے صحابہ ؓ کو بیعت کرتے وقت فرمایا تھا کہ میں جب تک اللہ کا فرماں بردار رہوں تم میری بیعت پر اس وقت تک باقی رہو، لیکن حضرت عمر ؓ اور بعد والے خُلَفَا نے حضور ﷺ کی طرح بیعت فرمایا۔2
حضرت ابن العُفَیْف ؓ فرماتے ہیں کہ میں نے دیکھا کہ رسول اللہ ﷺ کے بعدحضرت ابو بکر ؓ لوگوں کو بیعت فرمارہے تھے۔ صحابہ کی ایک جماعت اُن کی خدمت میں آتی وہ کہتے: کیا تم مجھ سے اس بات پر بیعت ہوتے ہو کہ تم اللہ اور اس کی کتاب کی اور پھر امیر کی بات کو سنوگے اورمانوگے ؟ وہ حضرات کہتے: جی ہاں۔ پھر حضرت ابو بکر اُن کو بیعت فرمالیتے۔ میں ان ہی دنوں یا کچھ عرصہ پہلے بالغ ہوچکا تھا، میں کچھ دیر آپ کے پاس کھڑا رہا اور آپ لوگوں سے بیعت میں جو عہد لے رہے تھے وہ میں نے سیکھ لیا۔ پھر میں نے آپ کے پاس جا کر خود ہی یہ کہنا شروع کردیاکہ میں آپ سے اس بات پر بیعت ہوتا ہوں کہ اللہ اور اس کی کتاب کی اور پھر امیر کی بات کو سنوں گا اور مانوں گا۔ یہ سن کر آپ نے مجھ پر اوپر سے نیچے تک ایک نگاہ ڈالی ۔ میرا خیال یہ ہے کہ میرا یہ عمل آپ کو بہت پسند آیا۔ اللہ کی اُن پر رحمت ہو۔ (پھر آپ نے مجھے بیعت فرمالیا ) 3
حضرت ابو سفر ؓ فرماتے ہیں کہ جب حضرت ابو بکر ؓ شام کی طرف کوئی لشکر روانہ فرماتے تو اُن کو اس بات پر بیعت فرماتے کہ (کافروں سے) خوب نیزوں سے جنگ کریں گے اور اگر طاعون کی بیماری آگئی تو بھی جمے رہیں گے۔1
حضرت انس ؓ فرماتے ہیں کہ میں مدینہ پہنچا، حضرت ابو بکر ؓ کا انتقال ہو چکا تھا اور اُن کی جگہ حضرت عمر ؓ خلیفہ بن چکے تھے۔ میں نے حضرت عمر سے عرض کیا: آپ اپنا ہاتھ بڑھائیں میں آپ کے ہاتھ پر اسی چیز پربیعت ہوتا ہوں جس پر میں آپ سے پہلے آپ کے ساتھی (حضرت ابو بکر ؓ) سے بیعت ہوا تھا کہ جہاں تک میرا بس چلے گا میں بات سنوں گا اور مانوں گا۔2
حضرت عمیر بن عطیّہ لیثیؓ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عمر بن خطاب ؓکی خدمت میں حاضر ہوکر عرض کیا: اے امیر المؤمنین! آپ اپنا ہاتھ بلند فرمائیں، اللہ اسے بلند ہی رکھے! میں آپ سے اللہ اور اس کے رسول کے طریقہ کے مطابق بیعت ہوتا ہوں۔ آپ نے مسکراتے ہوئے اپنا ہاتھ بلند کیا اور فرمایا: اس بیعت کا مطلب یہ ہے کہ اس بیعت سے تمہارے کچھ حقوق ہم پر آگئے اور ہمارے کچھ حقوق تم پر آگئے ( اور وہ یہ ہیں کہ تم ہماری مانو گے اور ہم تمھیں صحیح صحیح بتائیں گے)۔اور حضرت عبداللہ بن عکیمؓ فرماتے ہیں کہ میں اپنے اس ہاتھ سے حضرت عمر سے اس بات پر بیعت ہوا کہ بات سنوں گا اور مانوں گا ۔3
حضرت سُلَیم ابو عامر ؓ فرماتے ہیں کہ حمراء کا وفد حضرت عثمان ؓ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ انھوں نے حضرت عثمان سے اس پر بیعت کرنی چاہی کہ وہ اللہ کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہیں کریں گے، نماز قائم کریں گے، زکوٰۃ دیں گے، رمضان کے روزے رکھیں گے اور مجوسیوں کی عید چھوڑ دیں گے۔ جب انھوں نے ان تمام باتوں کی ہاں کرلی تب ان کو بیعت کیا۔4
حضرت مِسْوَر بن مخرمہ ؓ فرماتے ہیں کہ جس جماعت کو حضرت عمر ؓ نے (خلافت کے فیصلہ کے لیے) ذمہ دار بنایا تھا وہ جمع ہوکر مشورہ کرنے لگے توان سے حضرت عبدالرحمن ؓ نے کہا کہ یہ میرا فیصلہ ہے کہ میں نے تو خلیفہ بننا نہیں ہے، خلیفہ تو آپ لوگوں میں سے کوئی ہوگا۔ اب اگر آپ کہو تو آپ لوگوں میں سے کسی ایک کو منتخب کردیتا ہوں۔ چناںچہ ان سب نے حضرت عبدالرحمن کو اس کا اختیار دے دیا۔ جب ان حضرات نے اپنا معاملہ حضرت عبدالرحمن کے سپرد کر دیا تو سب لوگوں کی توجہ حضرت عبدالرحمن کی طرف ہوگئی۔ اس جماعت کے باقی حضرات کے پاس نہ جاتا ہوا کوئی نظر آیا اور نہ پیچھے چلتا ہوا۔ سب لوگ ان دنوں میں حضرت عبدالرحمن کو ہی جاکر اپنے مشورے دیتے یہاں تک کہ جب وہ رات آئی کہ جس کی صبح کو ہم لوگ حضرت عثمان ؓ سے بیعت ہوئے اور اس رات کا کچھ حصہ گزر گیا، تو حضرت عبدالرحمن نے آکر میرا دروازہ اس زور سے کھٹکھٹایا کہ میں جاگ اٹھا۔ انھوں نے کہا: تم تو مزے سے سورہے ہو اورمیں آج رات ذرا بھی نہیں سویا۔ جاؤ! حضرت زُبیر اور سعد کو میرے پاس بلا لاؤ۔ میں ان کو بلالایا۔ انھوں نے ان دونوں سے کچھ دیر مشورہ کیا، پھر مجھ سے کہا: جاؤ! حضرت علی کو میرے پاس بلا لاؤ۔ میں اُن کو بلا لایا۔ ان سے حضرت عبدالرحمن آدھی رات تک الگ باتیں کرتے رہے۔ پھر حضرت علی اُن کے پاس سے اٹھ کر چلے گئے، انھیں (اپنے خلیفہ بننے کی)کچھ امید تھی۔ اور حضرت عبدالرحمن کوحضرت علی سے اس بارے میں کچھ خطرہ تھا۔ پھر حضرت عبدالرحمن نے مجھ سے کہا: جاؤ اور حضرت عثمان کو بلا لاؤ۔ میں انھیں بلا لایا۔ حضرت عبدالرحمن اُن سے بات کرتے رہے یہاں تک کہ فجر کی اَذان پر دونوں حضرات علیحدہ ہوئے۔
جب لوگ صبح کی نماز پڑھ چکے اور یہ ذمہ دار جماعت منبر کے پاس جمع ہوگئی تو حضرت عبدالرحمن ؓ نے مدینہ میں جتنے مہاجرین اور اَنصار تھے ان سب کے پاس پیغام بھیجا اور اس سال حج میں لشکروں کے جو اُمرا حضرت عمر ؓ کے ساتھ تھے اُن کے پاس بھی پیغام بھیجا۔ جب یہ سب لوگ جمع ہوگئے تو حضرت عبدالرحمن نے خطبہ پڑھ کر فرمایا:
اَما بعد! اے علی! میں نے لوگوں کی رائے میں خوب غور کیا لوگ حضرت عثمان کے برابر کسی کو نہیں سمجھتے ہیں، تم اپنے دل میں کوئی ایسا ویسا خیال نہ آنے دینا۔ اور پھر حضرت عثمان کا ہاتھ پکڑ کر کہا کہ میں تم سے اس بات پر بیعت ہوتا ہوںکہ تم اللہ تعالیٰ کے طریقہ پر، اور اس کے رسول (ﷺ) کی اور اُن کے بعد کے دونوں خلیفوںکی سنت پر چلوگے۔ پہلے اُن سے حضرت عبدالرحمن بیعت ہوئے اور پھر مہاجرین اور انصار اور لشکروں کے اُمرا اور تمام لوگ بیعت ہوئے۔ 1