نبی کریم ﷺ اور آپ کے صحابۂ کرام ؓ کی سختیاں، بھوک اور پیاس برداشت کرنا
حضور ﷺ کا اللہ کی طرف دعوت دینے کی وجہ سے سختیوں اور تکالیف کا برداشت کرنا
حضرت اَنس ؓ فرماتے ہیں کہ حضور ﷺ نے فرمایا کہ اللہ کی خاطر جتنی تکلیف مجھے پہنچائی گئی اتنی کسی کو نہیں پہنچائی گئی، اور جتنا مجھے اللہ کی وجہ سے ڈرایا گیا اتنا کسی کو نہیں ڈرایا گیا، اور مجھ پر تیس دن اور تیس راتیں مسلسل ایسی گزری ہیں کہ میرے اور بلال (ؓ ) کے پاس کسی جان دار کے کھانے کے قابل صرف اتنی چیز ہوتی جو بلال کی بغل کے نیچے آجائے (یعنی بہت تھوڑی مقدار میں ہوتی تھی)۔ 2
حضرت عَقِیل بن ابی طالب ؓ فرماتے ہیں کہ قریش ابوطالب کے پاس آئے اور کہا: اے ابوطالب! آپ کابھتیجا (حضور ﷺ) ہمارے گھروں اور ہماری مجلس میں ہمارے پاس آتا ہے، اور ہمیں ایسی باتیں سناتا ہے جن سے ہمیں بڑی تکلیف ہوتی ہے۔ اگر آپ مناسب سمجھیں تو اس کو ہمارے پاس آنے سے روک دیں۔ تو ابو طالب نے مجھ سے کہا: اے عقیل! اپنے چچا زاد بھائی کو ڈھونڈ کر میرے پاس لاؤ۔چناںچہ میں آپ کو ابو طالب کی ایک کوٹھڑی میں سے بلاکرلایا۔آپ میرے ساتھ چل رہے تھے آپ سایہ میں چلنا چاہتے تھے (کیوں کہ دھوپ تیز تھی) لیکن راستہ میں سایہ نہ مل سکا،یہاں تک کہ آپ ابوطالب کے پاس پہنچ گئے۔ تو آپ سے ابوطالب نے کہا: اے میرے بھتیجے! اللہ کی قسم! جیسے کہ تم کو خود بھی معلوم ہے میں تمہاری ہر بات مانتا ہوں۔ تمہاری قوم والوں نے آکر یہ کہاکہ تم کعبہ میں اور اُن کی مجلسوں میں جاکر اُن کو ایسی باتیں سناتے ہو جن سے اُن کو تکلیف ہوتی ہے ۔ اگر تم مناسب سمجھو تو اُن کے پاس جانا چھوڑ دو۔ آپ نے نگاہ کو آسمان کی طرف اٹھاکر فرمایا کہ جس کام کو دے کر مجھے مبعوث کیا گیاہے اس کو چھوڑنے کی میں بالکل قدرت نہیں رکھتا ہوں،جیسے کہ تم میں سے کوئی سورج میں سے آگ کا شعلہ لانے کی قدرت نہیں رکھتا۔ اس پر ابوطالب نے کہا:میرا بھتیجا کبھی غلط بات نہیں کہتا، تم سب بھلائی کے ساتھ واپس چلے جاؤ۔ 1
حضور ﷺ سے ابوطالب نے کہا: اے میرے بھتیجے! آپ کی قوم میرے پاس آئی ہے اور اس نے ایسی ایسی باتیں کہیں ہیں۔ تم مجھ پر بھی ترس کھاؤ اور اپنی جان پر بھی، اور اتنا بوجھ مجھ پر نہ ڈالو کہ جس کو نہ میں اٹھاسکوں اور نہ تم۔ لہٰذا تم اپنی قوم کو وہ باتیں کہنی چھوڑ دو جو اُن کو ناگوار لگتی ہیں۔ اس سے حضور ﷺ یہ سمجھے کہ آپ کے بارے میں آپ کے چچا کی رائے بدل گئی ہے اور وہ اب آپ کی مدد چھوڑ کر آپ کو قوم کے حوالے کرنے والے ہیں اور اب اُن میں آپ کاساتھ دینے کی ہمت نہیں رہی ہے۔ اس پر حضور ﷺ نے فرمایا: اے میرے چچا! اگر سورج میرے دائیں ہاتھ میںاور چاند میرے بائیں ہاتھ میں رکھ دیا جائے تو بھی میں اس کام کو چھوڑنے والا نہیں ہوں، (میں اس کام میں لگا رہوں گا) یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اس کام کوغالب کردیں یا اس کام کی کوشش میں میری جان چلی جائے۔ اتنا کہہ کر حضورﷺ کی آنکھیں ڈبڈبا آئیں اور آپ رو دیے اور آپ وہاں سے پشت پھیر کر چل دیے۔ جب ابو طالب نے دیکھا کہ حضور ﷺ اپنے کام پر اتنے پختہ ہیں (کہ اس کے لیے جان تک قربان کرنے اور چاند، سورج تک اٹھالینے کوتیار ہیں) تو انھوں نے حضور ﷺ کو پکارا: اے میرے بھتیجے! آپ اُن کی طرف متوجہ ہوئے۔ ابوطالب نے کہا:آپ اپنا کام کرتے رہیں اور جیسے دل چاہتا ہے کرتے رہیں، اللہ کی قسم! میں کسی وجہ سے بھی تمہارا کبھی ساتھ نہیں چھوڑوں گا۔ 1
حضرت عبداللہ بن جعفر ؓ فرماتے ہیں کہ جب ابو طالب کا انتقال ہوا تو قریش کا ایک کمینہ آدمی حضور ﷺ کے سامنے آیا اور اس نے آپ پر مٹی ڈالی۔ آپ اپنے گھر واپس چلے گئے۔ آپ کی ایک بیٹی آکر آپ کے چہرے سے مٹی صاف کرنے لگی اور رونے لگی۔ آپ نے فرمایا: اے میری بیٹی! مت رو، کیوں کہ اللہ تعالیٰ تمہارے والدکی ضرور حفاظت کرنے والے ہیں۔ اورآپ فرمارہے تھے کہ ابوطالب کے انتقال تک قریش میرے ساتھ اتنی ناگواری کا معاملہ نہیں کر رہے تھے، اب یہ شروع ہوگئے ہیں۔ 2
حضرت ابوہریرہ ؓ فرماتے ہیں کہ جب ابوطالب کا انتقال ہوگیاتو قریش کے لوگ حضورﷺ کے ساتھ تُرش رُوئی اور سختی کے ساتھ پیش آنے لگے۔ آپ نے فرمایا: اے میرے چچا! آپ کی کمی بہت جلد محسوس ہونے لگی۔3
حضرت حارث بن حارث ؓ فرماتے ہیںکہ میںنے اپنے والدسے پوچھا: یہ مجمع کیسا ہے؟ میرے والد نے کہا: یہ لوگ اپنے ایک بے دین آدمی پر جمع ہیں۔ چناںچہ ہم اپنی سواری سے اُترے تودیکھا کہ رسول اللہ ﷺ لوگوں کو ا للہ کو ایک مان لینے اور اس پر ایمان لانے کی دعوت دے رہے تھے، اور لوگ آپ کی دعوت کا اِنکار کر رہے تھے اور آپ کو طرح طرح کی تکلیفیں پہنچارہے تھے،یہاں تک کہ آدھا دن گزر گیا اور لوگ آپ کے پاس سے چلے گئے۔ تو ایک عورت پانی کا برتن اور رومال لیے ہوئے آئی جس کا سینہ کھلا ہوا تھا۔ آپ نے اس عورت سے برتن لے کر پانی پیا اور وضو کیا پھر اس عورت کی طرف سر اٹھا کر کہا:اے میری بیٹی! اپنے سینے کو ڈھانپ لے اوراپنے باپ کے بارے میں کوئی خوف اور خطرہ محسوس نہ کر۔ ہم نے پوچھا: یہ عورت کون ہے؟ لوگوںنے بتایا:یہ ان کی بیٹی حضرت زینب ؓ ہیں۔4
حضرت منیب اَزْدی ؓ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول ا للہ ﷺ کو زمانۂ جاہلیت میں دیکھا تھا کہ آپ فرمارہے تھے: اے لوگو! لاَ إِلٰہَ اِلاَّ اللّٰہُ کہہ لو، کامیاب ہوجاؤ گے۔ تو میں نے دیکھا کہ ان میں سے کوئی تو آپ کے چہرے پر تھوک رہا ہے اور کوئی آپ پر مٹی ڈال رہا ہے اور کوئی آپ کو گالیاں دے رہاہے(اور یوں ہی ہوتا رہا) یہاں تک کہ آدھا دن گزر گیا۔ پھر ایک لڑکی پانی کا پیالہ لے کر آئی جس سے آپ نے اپنے چہرے اور دونوں ہاتھوں کو دھویا اور کہا: اے میری بیٹی! نہ تم اپنے باپ کے اچانک قتل ہونے کا خطرہ محسوس کرو اور نہ کسی قسم کی ذلت کا۔ میں نے پوچھا: یہ لڑکی کون ہے؟ لوگوں نے یہ بتایا کہ حضور ﷺ کی بیٹی حضرت زینب (ؓ) ہیں۔ وہ ایک بہت خوب صورت بچی تھیں۔1
حضرت عروہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن العاص ؓ سے پوچھا کہ آپ مجھے بتائیں کہ مشرکین نے حضور ﷺ کو سب سے زیادہ کون سی تکلیف پہنچائی؟ انھوں نے کہا: ایک مرتبہ حضور ﷺ حطیم کعبہ میں نماز پڑھ رہے تھے کہ اتنے میں عُقْبہ بن ابی مُعَیط آیا اور اس نے اپنا کپڑا حضور ﷺ کی گردن میں ڈال کر زور سے آپ کا گلا گھونٹا۔ حضرت ابو بکر ؓ آئے اور عُقْبہ کو کندھے سے پکڑ کر حضور ﷺ سے پیچھے ہٹایااوریہ کہا:
أَتَقْتُلُوْنَ رَجُلاً أَنْ یَّقُوْلَ رَبِّيَ اللّٰہُ، وَقَدْ جَائَ کُمْ بِالْبَیِّنَاتِ مِنْ رَّبِّکُمْ۔
کیا مارے ڈالتے ہو ایک مرد کو اس بات پر کہ کہتا ہے: میرا رب اللہ ہے، اور لایا تمہارے پاس کھلی نشانیاں تمہارے رب کی۔2
حضرت عمرو بن العاص ؓ فرماتے ہیں کہ میں نے صرف ایک ہی دن دیکھا کہ قریش کعبہ کے سائے میں بیٹھے ہوئے حضور ﷺ کو قتل کرنے کا مشورہ کر رہے ہیں۔ اس وقت حضور ﷺ مقام ِ ابراہیم کے پاس نماز پڑھ رہے تھے۔ چناں چہ عُقْبہ بن ابی مُعَیط کھڑا ہو کر آپ کی طرف بڑھا اور آپ کی گردن میں اپنی چادر ڈال کر اس نے آپ کو اس زور سے کھینچا کہ حضور ﷺ گھٹنوں کے بَل زمین پر گر گئے۔ لوگوں میں ایک شور مچ گیا۔ سب نے یہ سمجھا کہ آپ قتل کردیے گئے ہیں۔ حضرت ابو بکر ؓ دوڑتے ہوئے آئے اور انھوں نے پیچھے سے آپ کی دونوں بغلوں میں ہاتھ ڈال کر آپ کو اٹھایا اور وہ یہ کہتے جارہے تھے: کیا مارے ڈالتے ہو ایک مرد کو اس بات پر کہ کہتا ہے کہ میرا ربّ اللہ ہے۔ پھر کفار آپ کے پاس سے چلے گئے۔ حضور ﷺ نے کھڑے ہوکر نماز پوری فرمائی۔ جب آپ نماز سے فارغ ہوئے تو کفار کعبہ کے سائے میں بیٹھے ہوئے تھے۔ آپ اُن کے پاس سے گزرے۔ آپ نے فرمایا:اے جماعتِ قریش! سن لو، اس ذات کی قسم جس کے قبضہ میں محمد (ﷺ)کی جان ہے! مجھے تمہاری طرف تمہیں ذبح کرنے کے لیے ہی بھیجا گیا ہے (یعنی نہ ماننے والے ہمارے ہاتھوں آخر قتل ہوں گے)۔ اور آپ نے اپنے ہاتھ کو اپنے حلق پر پھیر کر ذبح ہونے کی طرف اشارہ کیا۔ تو آپ سے ابوجہل نے کہا: آپ تو نادان نہیں ہیں (لہٰذا ایسی سخت بات نہ کہیں، برداشت سے کام لیں)۔آپ نے اس سے فرمایا: تو بھی ان میں سے ہے (جو آخر قتل ہوں گے)۔ 1
حضرت عروہ بن زبیر ؓ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عبداللہ بن عمرو ؓ سے پوچھا کہ آپ نے قریش کو اپنی دشمنی ظاہر کرتے ہوئے حضور ﷺ کو سب سے زیادہ تکلیف پہنچاتے ہوئے جو دیکھا وہ کیا ہے؟ انھوں نے کہا: ایک دفعہ قریش کے سردار حطیم میں جمع تھے، میں بھی وہاں موجود تھا۔ وہ آپس میں کہنے لگے کہ اس آدمی کی طرف سے ہمیں جتنا برداشت کرنا پڑا ہے ہمیں اتنا کبھی برداشت نہیں کرنا پڑا۔ یہ ہمیں بے وقوف کہتا ہے اور ہمارے آباء واَجداد کوبرا بھلا کہتا ہے اور ہمارے دین میں عیب نکالتا ہے اور ہماری جماعت کے ٹکڑے ٹکڑے کر رہا ہے اور ہمارے معبودوں کو گالیاں دیتا ہے۔ ہم نے اس کی طرف سے بہت برداشت کرلیا ہے۔ وہ لوگ اس طرح کی باتیں کر ہی رہے تھے کہ سامنے سے حضور ﷺ چلتے ہوئے تشریف لائے۔ آپ نے حجرِاَسودکااستلام کیا اور بیتُ اللہ کا طواف کرتے ہوئے اُن کے پاس سے گزرے۔ انھوں نے آپ کی بعض باتیں نقل کرکے آپ کو طعنہ دیا۔ راوی کہتے ہیں کہ میں نے اس کا اثر آپ کے چہرۂ مبارک پر محسوس کیا۔ آپ ان کے سامنے سے آگے چلے گئے۔
جب آپ اُن کے پاس سے دوبارہ گزرنے لگے تو انھوں نے ویسی ہی باتیں کہہ کر آپ کوپھر طعنہ دیا جس کا اثر میں نے آپ کے چہرۂ مبارک پر محسوس کیا۔ جب آپ ان کے پاس سے تیسری مرتبہ گزرنے لگے تو انھوں نے پھر ویسی ہی باتیں کہہ کر آپ کو طعنہ دیا۔ آپ نے کہا: اے جماعتِ قریش! کیا تم سن رہے ہو؟ قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ میں محمد (ﷺ) کی جان ہے! میں تو تم لوگوں کو ذبح کرنے کے لیے ہی آیا ہوں ( یعنی جو ایمان نہ لائے گا وہ آخر قتل ہوگا)۔ آپ کی اس بات کی اُن پر ایسی ہیبت طاری ہوئی کہ وہ سب لوگ ایک دم سہم گئے، یہاں تک کہ اس سے پہلے جو آپ پر سختی کرنے کے بارے میں سب سے زیادہ زور لگا رہا تھا وہ بھی آپ سے عاجزی اور خوشامد سے بات کر کے آپ کو ٹھنڈا کرنے لگ گیااور یوں کہنے لگ گیا: اے ابو القاسم! آپ بھلائی کے ساتھ تشریف لے جائیں، اللہ کی قسم! آپ تو نادان آدمی نہیں ہیں ( لہٰذا ایسی سخت بات نہ کہیں، برداشت سے کام لیں )۔آپ واپس تشریف لے گئے۔
اگلے دن وہ لوگ پھر حطیم میں جمع ہوئے، میں بھی اُن کے ساتھ تھا۔ وہ ایک دوسرے سے کہنے لگے کہ ان کی طرف سے جو تکلیفیں پیش آرہی ہیں ان کا تم نے اس سے تذکرہ کیا اور تم جو اُن کے ساتھ معاملہ بَرَت رہے ہو اس کا تم نے اُن سے ذکرکیا،(اس کے جواب میں )جب انھوں نے تم کو ایسی بات صاف صاف کہہ دی جو تمہیں بری لگی تو تم نے ان کو چھوڑ دیا (ان کے ساتھ کچھ نہیں کیا، کچھ کرنا چاہیے تھا)۔ وہ آپس میں یہ باتیں کر ہی رہے تھے کہ اتنے میں حضور ﷺ سامنے سے تشریف لے آئے۔ یہ سب ایک دم آپ کی طرف جھپٹے اور آپ کو چاروں طرف سے گھیر لیااورکہنے لگے: تم ہی ہو جو یوں کہتے ہو اور یوں کہتے ہو؟ اور حضور ﷺ کی طرف سے انھیں جو باتیں پہنچتی رہتی تھیں کہ حضور ﷺ اُن کے معبودوں کے اور اُن کے دین کے عیوب گِنَا رہے ہیں، وہ سب انھوں نے کہہ ڈالیں۔ حضور ﷺ نے فرمایا: ہاں، میں نے یہ سب باتیںکہی ہیں۔ تو میں نے دیکھاکہ ان میں سے ایک آدمی نے آپ کا گریبان پکڑ لیا۔ حضرت ابو بکر ؓ آپ کو بچانے کے لیے کھڑے ہوئے اور وہ روتے ہوئے کہنے لگے:
أَ تَقْتُلُوْنَ رَجُلًا أَنْ یَّقُوْلَ رَبِّيَ اللّٰہُ۔
کیا مارے ڈالتے ہو ایک مرد کواس بات پر کہ کہتا ہے میرا رب اللہ ہے۔
پھر یہ لوگ حضور ﷺ کے پاس سے چلے گئے۔ قریش کے حضور ﷺ کو تکلیفیں پہنچانے کا سب سے زیادہ سخت واقعہ جو میں نے دیکھا ہے وہ یہ ہے ۔1
حضرت اسماء بنتِ ابی بکر ؓ سے لوگوں نے پوچھا کہ رسول اللہ ﷺ کو مشرکین کی طرف سے جو تکلیفیں اٹھانی پڑیں تم نے ان میں سے زیادہ سخت تکلیف کون سی دیکھی؟ انھوں نے کہا کہ مشرکین مسجدِ حرام میں بیٹھے ہوئے رسول اللہ ﷺ کا اور آپ ان کے معبودوں کے بارے میں جو فرماتے تھے اس کا تذ کرہ کر رہے تھے کہ اتنے میں حضور ﷺ سامنے سے تشریف لائے۔ وہ سب ایک دم کھڑے ہوکرحضور ﷺ پر ٹوٹ پڑے۔ چیخ وپکار کی آواز حضرت ابوبکر ؓ تک پہنچی۔ لوگوں نے ان سے کہا:اپنے حضرت کو بچالو۔ حضرت ابوبکر ہمارے پاس سے اُٹھ کر چل پڑے، اُن کی چار زلفیں تھیں اور وہ یہ کہتے جارہے تھے: تمھارا ناس ہو! کیا مارے ڈالتے ہو ایک مرد کو اس بات پر کہ کہتا ہے میرا رب اللہ ہے اور لایا ہے تمہارے پاس کھلی نشانیاں تمہارے ربّ کی۔ تو وہ حضور ﷺ کو چھوڑ کر حضرت ابوبکرپر ٹوٹ پڑے۔ پھر حضرت ابوبکر ہمارے پاس واپس آئے (اور کافروں نے آپ کو اتنا مارا تھا کہ) جس زُلف کو بھی پکڑتے وہ ہاتھ میں آجاتی (یعنی سرکے بال چوٹوں کی وجہ سے جھڑ نے لگ گئے تھے)۔ اور وہ فرما رہے تھے:
تَبَارَکْتَ یَا ذَا الْجَلَالِ وَالإِکْرَامِ!
تو بہت برکت والا ہے اے بڑائی اور عظمت والے ! 2
حضرت انس بن مالکؓ فرماتے ہیں کہ ایک دفعہ کافروں نے حضور ﷺ کو اتنا مارا تھا کہ آپ بے ہوش ہوگئے تھے ، تو حضرت ابو بکر ؓ کھڑے ہوکر بلند آواز سے کہنے لگے: تمہارا ناس ہو! کیا مارے ڈالتے ہو ایک مرد کو اس بات پر کہ وہ کہتا ہے کہ میرا ربّ اللہ ہے؟ لوگوں نے پوچھا:یہ کون ہے ؟کافروں نے کہا: پاگل ابوبکر ہے ۔1
حضر ت علی ؓ ایک دن لوگوں میں بیان کررہے تھے، انھوں نے فرمایا: اے لوگو! بتاؤ لوگوں میں سب سے زیادہ بہادر کون ہے؟ لوگوں نے کہا: اے امیر المؤمنین! آپ۔ حضرت علی نے کہا کہ جو بھی میرے مقابلے میں آیا میں تو اس پر غالب ہوا۔ سب سے بہادر تو حضرت ابوبکر ؓ ہیں۔ ہم لوگوں نے ( غزوئہ بدر کے موقع پر ) حضور ﷺ کے لیے چھپّر بنایا تھا، پھر ہم نے کہا کہ کون حضور ﷺ کے ساتھ رہے گا تا کہ کوئی مشرک حضور ﷺ (پر حملہ )کا ارادہ نہ کر سکے؟ اللہ کی قسم! ہم میں سے کوئی بھی حضور ﷺ کے قریب نہ جاسکا، بس ایک ابوبکرنے اس کی ہمت کی اور وہ ننگی تلوار لیے ہوئے حضور ﷺ کے سرہانے کھڑے رہے۔ جو کافر بھی حضور ﷺ کی طرف آنے کا ارادہ کرتا یہ اس پر جھپٹتے۔ تو یہ ہیں لوگوں میں سب سے زیادہ بہادر۔ میں نے ایک دفعہ دیکھا کہ قریش نے حضور ﷺ کو چاروں طرف سے پکڑرکھاتھا، کوئی آپ پر ناراض ہورہاتھا، کوئی آپ کو جھنجھوڑ رہا تھا اور وہ یہ کہہ رہے تھے کہ تم نے تمام خداؤں کا ایک خدا بنادیا۔ اللہ کی قسم! اس دن بھی حضرت ابوبکر کے علاوہ ہم میں سے اور کوئی حضور ﷺ کے قریب نہ جا سکا۔ یہ آگے بڑھے کسی کو مارتے تھے، کسی سے لڑتے تھے، کسی کو جھنجھو ڑتے تھے اور کہتے جاتے تھے: تمہارا ناس ہو! کیا مارے ڈالتے ہو ایک مرد کو اس بات پر کہ وہ کہتا ہے کہ میرا رب اللہ ہے۔
اتنا کہنے کے بعد حضرت علی ؓ نے جو چادر اوڑھ رکھی تھی وہ اوپر اٹھائی اور رونے لگے (اور اتنا روئے) کہ اُن کی ڈاڑھی تر ہوگئی۔ پھرکہا: میں تم سے اللہ کی قسم دے کر پوچھتا ہوں کہ آلِ فرعون کا مؤمن بہتر ہے (جن کا قرآن میں تذکرہ ہے )یا ابوبکر؟ تمام لوگ خاموش رہے۔ حضرت علی نے کہا: اللہ کی قسم! ساری زمین آلِ فرعون کے مؤمنوں سے بھر جائے تو اُن (کی زندگی بھر کے اعمال ) سے حضرت ابوبکرکی ایک گھڑی زیادہ قیمتی ہے۔ آلِ فرعون کا وہ مؤمن تو اپنا ایمان چھپا رہا تھا اور یہ اپنے ایمان کا اعلان کر رہے تھے۔1
حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضور ﷺ مسجدِ حرام میں تشریف فرماتھے اور ابوجہل بن ہشام، شَیْبہ بن ربیعہ، عتبہ بن ربیعہ،عقبہ بن ابی مُعَیط ،اُمیّہ بن خَلَف اور دو اور آدمی، کل سات کافر حطیم میں بیٹھے ہوئے تھے اور حضور ﷺ نماز پڑھ رہے تھے، اور نماز میں لمبے لمبے سجدے کر رہے تھے۔ ابو جہل نے کہا کہ تم میں سے کون ایسا ہے جو فلاں جگہ جائے جہاں فلاںقبیلہ نے جانور ذبح کر رکھا ہے اور اس کی اوجھڑی ہمارے پاس لے آئے، پھر ہم وہ اوجھڑی محمد (ﷺ) کے اوپر ڈال دیں گے۔ ان میں سے سب سے زیادہ بد بخت عقبہ بن ابی مُعَیط گیا اور اس نے وہ اوجھڑی لاکر حضور ﷺ کے کندھوں پر ڈال دی جب کہ حضور ﷺ سجدے میں تھے۔ میں وہاں کھڑا تھا مجھ میں بولنے کی بھی ہمت نہیں تھی، میں تو اپنی حفاظت نہیں کرسکتا تھا۔ میں وہاں سے جانے لگا کہ اتنے میں آپ کی صاحب زادی حضرت فاطمہ ؓ نے یہ خبر سنی، وہ دوڑی ہوئی آئیں اور آپ کے کندھوں سے اوجھڑی کو انھوں نے اتارا۔ پھر قریش کی طرف متوجہ ہوکر اُن کو برا بھلا کہنے لگ گئیں۔ کافروں نے اُن کو کچھ جواب نہ دیا۔ حضور ﷺ نے اپنی عادت کے مطابق سجدہ پورا کر کے سر اٹھایا۔ جب آپ نماز سے فارغ ہوئے تو تین مرتبہ یہ بد دعا کی: اے اللہ! تو قریش کی پکڑ فرما۔ عتبہ، عقبہ، ابوجہل اور شیبہ کی پکڑ فرما۔ پھر آپ مسجدِ حرام سے باہر تشریف لے گئے۔
راستہ میں آپ کو ابو البَخْترِی بغل میں کوڑا دبائے ہوئے ملا۔اس نے حضور ﷺ کا چہرہ پریشان دیکھ کر پوچھا کہ آپ کو کیا ہوا؟ آپ نے فرمایا: مجھے جانے دو۔ اس نے کہا: خدا جانتاہے میں آپ کو اس وقت تک نہیں چھوڑوں گا جب تک کہ آپ مجھے نہ بتادیں کہ آپ کو کیا پیش آیا ہے؟ آپ کو ضرور کوئی بڑی تکلیف پہنچی ہے۔ جب آپ نے دیکھا کہ یہ تو مجھے بتائے بغیر نہیں چھوڑے گا تو آپ نے اس کو سارا واقعہ بتا دیا کہ ابو جہل کے کہنے پر آپ پر اوجھڑی ڈالی گئی۔ ابو البَخْترِی نے کہا: آؤ مسجد چلیں۔حضورﷺاور ابو البَخْترِی چلے اور مسجد میں داخل ہوئے۔ پھر ابو البَخْترِی ابوجہل کی طرف متوجہ ہوکر بولا: اے ابو الحَکَم! کیا تمہارے ہی کہنے کی وجہ سے محمد پر اوجھڑی ڈالی گئی ہے؟ اس نے کہا: ہاں۔ ابو البَخْترِی نے کوڑا اُٹھا کر اس کے سر پرمارا۔ کافروں میں آپس میں ہاتھا پائی ہونے لگی۔ ابوجہل چِلّایا: تم لوگوں کاناس ہو! تمہاری اس ہاتھاپائی سے محمد کافائدہ ہو رہا ہے۔ محمد تو یہ چاہتے ہیں کہ ہمارے درمیان دشمنی پیدا ہوجائے، اور وہ اور اُن کے ساتھی بچے رہیں۔1
بخاری اورمسلم اور ترمذی وغیرہ نے ابو البَخْترِی والے قصہ کو مختصر نقل کیا اور ’’صحیح بخاری‘‘ میں یہ بھی ہے کہ حضور ﷺ پر اوجھڑی ڈالنے کے بعد وہ لوگ زور زور سے ہنسنے لگے اور ہنسی کے مارے ایک دوسرے پر گر رہے تھے۔ امام احمد کی روایت میں یہ ہے کہ حضرت عبداللہ فرماتے ہیں کہ میں نے ان ساتوں کافروں کودیکھا کہ یہ سارے کے سارے جنگ ِ بدر کے دن قتل کیے گئے۔2
حضرت یعقوب بن عتبہ کہتے ہیں کہ ایک دن حضور ﷺ صفا پہاڑی پر تشریف لے جا رہے تھے کہ اچانک سامنے سے آکر ابوجہل نے آپ کا راستہ روک لیا اور آپ کو بہت تکلیف پہنچائی۔ حضرت حمزہ ؓ شکاری آدمی تھے اور اس دن وہ شکار کرنے گئے ہوئے تھے اور حضور ﷺ کے ساتھ ابوجہل نے جوکچھ کیا وہ حضرت حمزہ کی بیوی نے دیکھ لیا تھا۔ چناںچہ جب حضرت حمزہ (شکار سے) واپس آئے تو اُن کی بیوی نے اُن سے کہا: ابو عُمَارہ! جوکچھ ابو جہل نے (آج) تمہارے بھتیجے کے ساتھ کیا ہے اگر تم اسے دیکھ لیتے ( تو نہ جانے تم اس کے ساتھ کیا کرتے۔ یہ سن کر) حضرت حمزہ کو بڑا غصہ آیا۔ چناںچہ وہ گھر میں داخل ہونے سے پہلے ہی اپنی گردن میں کمان لٹکائے ہوئے اسی طرح چل دیے اور مسجدِ (حرام) میں داخل ہوئے۔ وہاں انھوں نے ابوجہل کو قریش کی ایک مجلس میں بیٹھے ہوئے پایا۔ انھوں نے بغیر کچھ کہے ابوجہل کے سر پر زور سے کمان ماری اور اس کا سر زخمی کردیا۔ قریش کے کچھ لوگ کھڑے ہو کر حضرت حمزہ کو ابوجہل سے روکنے لگے۔حضرت حمزہ نے کہا:(آج سے) میرا بھی وہی دین ہے جو محمد ﷺ کادین ہے۔ میں گواہی دیتاہوں کہ وہ اللہ کے رسول ہیں۔ اللہ کی قسم! میں اپنی اس بات سے نہیں پھروں گا۔ اگر تم (اپنی بات میں) سچے ہو تو مجھے اس سے روک کر دیکھ لو۔ حضرت حمزہ ؓ کے مسلمان ہونے سے حضور ﷺ اور مسلمانوں کو بہت قوت حاصل ہوئی، اور مسلمان اپنے کام میں اور زیادہ پکے ہوگئے۔ اور اب قریش ڈرنے لگے، کیوں کہ انھیں معلوم تھا کہ اب حضرت حمزہ حضور ﷺکی ضرور حفاظت کریں گے۔1
حضرت محمد بن کعب قُرظی مرسلاً روایت کرتے ہیں کہ ایک دن حضرت حمزہ ؓ اپنی تیر اندازی سے واپس آئے تو اُن کو ایک عورت ملی جس نے اُن سے کہا: اے ابو عُمَارہ! تمہارے بھتیجے کو ابو جہل بن ہشام سے کتنی تکلیف اُٹھانی پڑی۔ اس نے بُرا بھلا کہا، اُن کو تکلیف پہنچائی اور یہ کیا اور وہ کیا۔ حضرت حمزہ نے پوچھا: کیا کسی نے ایسا کرتے ہوئے دیکھا؟ اس نے کہا: ہاں۔ اللہ قسم! بہت سے لوگ دیکھ رہے تھے۔ حضرت حمزہ وہاں سے چل دیے اور صفا مروہ کے پاس قریش کی اس مجلس میں پہنچے جہاں ابوجہل بیٹھا ہوا تھا۔ اپنی کمان پر ٹیک لگا کر کہنے لگے: میں نے ایسے اور ایسے تیر چلائے اور یہ کیا اور وہ کیا۔ پھر انھوں نے دونوں ہاتھوں سے کمان پکڑ کر ابو جہل کے کانوں کے درمیان سر پر اس زور سے ماری کہ کمان ٹوٹ گئی اور کہا کہ یہ تو کمان کی مار تھی اس کے بعد تلوار کی ہوگی۔ میں گواہی دیتاہوں کہ وہ اللہ کے رسول ﷺ ہیں اور وہ اللہ کے پاس سے حق لے کر آئے ہیں۔ لوگوں نے کہا: اے ابو عمارہ! وہ ہمارے معبودوں کو برا بھلا کہتے ہیں، اور یہ کام تو ایسا ہے کہ اگر تم بھی کرو تو ہم تمہیں نہ کرنے دیں، حالاں کہ تم اُن سے افضل ہو۔ اور اے ابو عُمَارہ! تم تو بدخُلْق نہ تھے۔2
حضرت عباسؓ فرماتے ہیں کہ میں ایک دن مسجدِ (حرام ) میں (بیٹھا ہوا) تھا کہ اتنے میں ابوجہل (لَعَنَہُ اللّٰہُ) سامنے سے آیا اور کہنے لگا کہ میں نے اللہ کے لیے نذر مانی ہے کہ اگر محمد ( ؑ ) کو سجدہ کرتے ہوئے دیکھ لوں گا تو اُن کی گردن کو پاؤں کے نیچے روند ڈالوں گا۔ میں وہاں سے حضور ﷺ کی طرف چل دیا اور جاکر میں نے انھیں ابو جہل کی بات بتائی۔ آپ وہاں سے غصہ میں نکلے یہاں تک کہ مسجدِ حرام پہنچ گئے اور مسجدمیں داخل ہونے کی آپ کو اتنی جلدی تھی کہ دروازے کے بجائے دیوار پھلانگ کر آپ اندر گئے۔میں نے کہا: آج کا دن تو بہت برا ہوگا۔ میں نے اپنی لنگی کو مضبوط باندھا اور حضور ﷺ کے پیچھے ہولیا۔ آپ نے اندر جا کر یہ پڑھنا شروع کیا:
{اِقْرَاْ بِاسْمِ رَبِّکَ الَّذِیْ خَلَقَ O خَلَقَ الْاِنْسَانَ مِنْ عَلَقٍ O}1
پڑھتے پڑھتے جب آپ اس آیت پر پہنچے جس میں ابو جہل کا تذ کرہ ہے:
{کَلَّا اِنَّ الْاِنْسَانَ لَیَطْغٰی O اَنْ رَّاٰہُ اسْتَغْنٰی O}2
تو ایک آدمی نے ابو جہل سے کہا: اے ابو الحَکَم! یہ محمد ( ؑ مسجد میں) ہیں۔ اس نے کہا: کیا تم وہ (منظر) نہیں دیکھ رہے ہو جومیں دیکھ رہاہو ں؟ اللہ کی قسم! آسمان کاکنارہ مجھ پر بند ہوچکا ہے۔ جب حضور ﷺ سورت کے آخر پر پہنچے توآپ نے سجدہ فرمایا۔3
حضرت برّہ بنتِ ابی تجراۃ فرماتی ہیں کہ ایک دن ابو جہل اور اس کے ساتھ چند کافروں نے رسول اللہ ﷺ کا راستہ روکا اور آپ کو بہت تکلیف پہنچائی، تو حضرت طُلَیب بن عمیر ؓ ابوجہل کی طرف بڑھے اور اسے مارا جس سے اس کا سر زخمی ہوگیا۔ لوگوں نے حضرت طُلَیب کوپکڑ لیا، ابو لہب طُلَیب کی مدد کے لیے کھڑا ہوا۔ (حضرت طُلَیب کی والدہ) حضرت اَرویٰ ؓ کو جب اس واقعہ کی خبر لگی تو انھوں نے کہا کہ طُلَیب کی زندگی کا بہترین دن وہ ہے جس دن اس نے اپنے ماموں زاد بھائی (حضور ﷺ) کی مدد کی۔ لوگوں نے ابو لہب سے کہا: (تمہاری بہن) اَرویٰ بے دین ہوگئی ہے۔ ابو لہب حضرت اَرویٰ کے پاس گیا اور ان سے ناراض ہونے لگا تو انھوں نے کہا: تم بھی اپنے بھتیجے (محمد ؑ) کی حمایت میں کھڑے ہوجاؤ، کیوں کہ اگر وہ غالب آگئے تو تمہیں اختیار ہوگا، ورنہ تمہیں اپنے بھتیجے کے بارے میں معذور سمجھائے گا۔ ابو لہب نے کہا: کیا ہم تمام عربوں (سے لڑنے) کی طاقت رکھتے ہیں؟ اور وہ تو ایک نیا دین لے کر آیا ہے۔1
حضرت قتادہ مرسلاً بیان کرتے ہیں کہ عُتَیْبہ بن ابی لہب کی شادی حضور ﷺ کی صاحب زادی حضرت اُمّ کلثوم ؓ سے ہوئی اورحضرت رُقیّہ ؓ عُتَیْبہ کے بھائی عتبہ بن ابی لہب کے نکاح میں تھیں۔ ابھی ان کی رخصتی نہیں ہوئی تھی کہ حضور ﷺ کی نبوت کا ظہور ہوا۔ جب سورت {تَبَّتْ یَدَا اَبِیْ لَہَبٍ}نازل ہوئی تو ابولہب نے اپنے دونوں بیٹوں عُتَیْبہ اور عتبہ سے کہا: میرا تم دونوں سے کوئی تعلق نہیں ہے اگر تم محمد ( ؑ) کی بیٹیوں کو طلاق نہ دو۔ اور عُتَیْبہ اور عتبہ دونوں کی ماں بنتِ حرب بن اُمیّہ نے بھی جسے قرآن میں {حَمَّالَۃَ الْحَطَبِ} کہا گیا ہے، کہا: اے میرے بیٹو! ان دونوں کو طلاق دے دو، کیوں کہ یہ دونوں بے دین ہوگئی ہیں۔ چناںچہ ان دونوں نے طلاق دے دی۔ جب عُتَیْبہ نے حضرت اُمّ کلثوم ؓ کو طلاق دے دی تو وہ حضور ﷺ کے پاس آیا اور کہنے لگا: میں نے تمہارے دین کا اِنکار کیا ہے اور تمہاری بیٹی کو طلاق دے دی ہے تاکہ تم کبھی میرے پاس نہ آؤ اور نہ میں تمہارے پاس آؤں۔ پھراس نے آپ پر حملہ کرکے آپ کی قمیض کو پھاڑ دیا۔ وہ ملکِ شام کی طرف تجارت کے لیے جانے والا تھا۔ آپ نے فرمایا: میں اللہ سے سوال کرتا ہوں کہ وہ تجھ پر اپنا کوئی شیر مسلّط کردے۔ چناںچہ وہ قریش کے تجارتی قافلہ کے ساتھ گیا۔ جب یہ لوگ زَرْقاء مقام پر پہنچے تو رات کو وہاں ٹھہر گئے۔ ایک شیر نے اس رات اس قافلہ کا چکر لگایا۔ عُتَیْبہ کہنے لگا: ہائے میری ماں کی ہلاکت! یہ شیر تو مجھے ضرور کھاجائے گا جیسے کہ محمد (ﷺ) نے کہا تھا۔ مجھے ابنِ ابی کبشہ (یہ نام کافروں نے حضور ﷺ کا رکھا ہوا تھا) نے مار ڈالا جو کہ مکہ میں ہے اور میں شام میں ہوں۔ چناںچہ اس شیر نے سارے قافلہ میں سے صرف عُتَیْبہ پر حملہ کیا اور اس کا گوشت نوچ ڈالا اور اسے مار ڈالا ۔
زُہیر بن علاء کہتے ہیں کہ ہمیں ہشام بن عروہ نے اپنے والد سے یوں بیان کیا ہے کہ وہ شیر اس رات اس قافلہ کا چکر لگا کر واپس چلاگیا۔ قافلہ والوں نے عُتَیبہ کو اپنے درمیان لٹایا۔ چناںچہ وہ شیر دوبارہ آیا اور سب کو پھلانگتا ہوا عُتَیبہ تک پہنچا اور اس کے سر کو چبا ڈالا۔ حضرت عثمان بن عفان ؓ نے پہلے حضرت رُقیّہ ؓ سے شادی کی پھر (اُن کی وفات کے بعد) حضرت اُمّ کلثوم ؓ سے کی ۔1
حضرت ربیعہ بن عباد دِیلی ؓ نے فرمایا: میں تم لوگوں کو یہ کہتے ہوئے بہت سنتا ہوں کہ قریش رسول اللہ ﷺ کو گالیاں دیا کرتے تھے اور تکلیف پہنچایا کرتے تھے۔ میں ان واقعات کا کثرت سے دیکھنے والا ہوں۔ حضور ﷺ کا گھر ابو لہب اور عُقْبہ بن ابی مُعَیْط کے گھر کے درمیان تھا۔ جب آپ اپنے گھر واپس آتے تو دروازے پر اوجھڑی اور خون اور گندگی پاتے۔ آپ اپنی کمان کے کنارے سے ان سب چیزوں کو ہٹاتے جاتے اور فرماتے: اے قریش کی جماعت! یہ پڑوسی کے ساتھ بہت برا سلوک ہے۔ 2
حضرت عروہ فرماتے ہیں کہ حضور ﷺ کی زوجۂ محترمہ حضرت عائشہ ؓ نے ان سے بیان فرمایا کہ انھوں نے حضور ﷺ سے پوچھا کہ جنگ ِاُحد کے دن سے بھی زیادہ سخت دن آپ پر کوئی آیا ہے؟ آپ نے فرمایا کہ مجھے تمہاری قوم کی طرف سے بہت زیادہ تکلیفیں اٹھانی پڑیں اور اُن کی طرف سے مجھے سب سے زیادہ تکلیف عقبہ (طائف) کے دن اٹھانی پڑی۔ میں نے (اہلِ طائف کے سردار) ابنِ عبدِیالِیْل بن عبدِ کُلال کے سامنے اپنے آپ کو پیش کیا (کہ مجھ پر ایمان لاؤ اور میری نصرت کرو اور مجھے اپنے ہاں ٹھہرا کر دعوت کا کام آزادی سے کرنے دو) لیکن اس نے میری بات نہ مانی۔ میں (طائف سے) بڑا غمگین اور پریشان ہو کر راستہ پر (واپس) چل پڑا۔ (میں یوں ہی غمگین اور پریشان چلتا رہا) قرنِ ثعالِب کے مقام پر پہنچ کر (میرے اس غم اور پریشانی میں) کچھ کمی آئی تو میں نے اپنا سر اٹھایا تو دیکھا کہ ایک بادل مجھ پر سایہ کیے ہوئے ہے۔ میں نے غور سے دیکھا تو اس میں حضرت جبرائیل ؑ تھے۔ انھوں نے مجھے آواز دی اور کہا کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کی قوم کی وہ گفتگو جو آپ سے ہوئی سنی اور ان کے جوابات سنے اور ایک فرشتہ کو جس کے متعلق پہاڑوں کی خدمت ہے آپ کے پاس بھیجا ہے کہ آپ ان کفار کے بارے میں جو چاہیں اسے حکم دیں۔ اس کے بعد پہاڑوں کے فرشتے نے مجھے آواز دے کر سلام کیا اور عرض کیا: اے محمد! آپ نے جو حضرت جبرائیل ؑ سے سنا ہے وہ بالکل ٹھیک ہے۔ آپ کیا چاہتے ہیں؟ اگر آپ ارشاد فرما دیں تو میں (مکہ کے) دونوں پہاڑوں (ابو قبیس اور احمر) کو اُن پر ملا دوں؟ (جس سے یہ سب درمیان میں کچل جائیں) حضورِ اَقدس ﷺ نے فرمایا: نہیں، بلکہ مجھے امید ہے کہ اللہ تعالیٰ اُن کی پشتوں میں ایسے لوگوں کو پیدا فرمائے گا جو ایک اللہ عزّوجل کی عبادت کریں گے اور اس کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہیں کریں گے۔ 1
حضرت ابنِ شہاب بیان کرتے ہیں کہ جب ابو طالب کا انتقال ہوا تو حضور ﷺ یہ اُمید لے کر طائف تشریف لے گئے کہ وہاں والے آپ کو اپنے ہاں ٹھہرا لیں گے۔چناںچہ آپ قبیلہ ثقیف کے تین آدمیوں کے پاس تشریف لے گئے جو اس قبیلہ کے سردار تھے، اور آپس میں بھائی تھے، اور اُن کے نامِ عبدِیالِیْل اور حبیب اور مسعود تھے۔ یہ عمرو کے بیٹے تھے۔ آپ نے اپنے آپ کو اُن پر پیش فرمایا اور ان لوگوں سے اپنی قوم کی ناقدری اور بے حرمتی کی شکایت کی، لیکن ان لوگوں نے آپ کو بہت برا جواب دیا۔ 2
حضرت عروہ بن زُبیر ؓ فرماتے ہیں کہ ابوطالب کا انتقال ہوگیا اور (کفارِ قریش کی طرف سے) حضور ﷺ پر تکلیفیں اور سختیاں اور زیادہ بڑھ گئیں۔ آپ قبیلہ ثقیف کے پاس اس امید پر تشریف لے گئے کہ وہ آپ کو اپنے ہاں ٹھہرالیں گے اور آپ کی مدد کریں گے۔ آپ نے دیکھا کہ قبیلہ ثقیف کے تین سردار ہیں جو کہ آپس میں بھائی ہیں: عبدِیالِیْل بن عمرو اور حبیب بن عمرو اور مسعود بن عمرو۔ آپ نے اپنے آپ کو اُن پر پیش کیا، اور ان لوگوں سے تکلیفوں کی اور اپنی قوم کی بے حرمتی کرنے کی شکایت کی۔ ان میں سے ایک نے کہا کہ اگر اللہ تعالیٰ نے آپ کو کچھ دے کر بھیجا ہو تو میں کعبہ کے پردوں کی چوری کروں (یعنی اللہ تعالیٰ نے آپ کو کچھ دے کر نہیں بھیجا)۔ اور دوسرے نے کہا کہ اس مجلس کے بعد میں آپ سے کبھی بھی کو ئی بات نہیں کروں گا، کیوں کہ اگر آپ واقعی رسول ہیں تو آپ کا مقام اس سے بہت اونچا ہے کہ مجھ جیسا آپ سے بات کرے ۔ اور تیسرے نے کہا: (رسول بنانے کے لیے آپ ہی رہ گئے تھے)کیا اللہ تعالیٰ آپ کے علاوہ کسی اور کو رسول نہیں بنا سکتے تھے؟اور آپ نے اُن سے جو گفتگو فرمائی وہ انھوں نے سارے قبیلہ میں پھیلا دی اور وہ سب جمع ہو کر حضور ﷺ کا مذاق اڑانے لگے اور آپ کے راستہ پر دو صفیں بنا کر بیٹھ گئے اور انھوں نے اپنے ہاتھوں میں پتھر لے لیے اور آپ جو قدم بھی اٹھاتے یا رکھتے اسے پتھر مارتے اورآپ کا مذاق بھی اڑاتے جاتے۔ جب آپ اُن کی صفوںسے آگے نکل گئے اور ان کافروں سے چھٹکارا پایا اور آپ کے دونوں قدم مبارک سے خون بہہ رہا تھا تو آپ ان لوگوں کے ایک انگوروں کے باغ میں چلے گئے اور ایک انگور کی بیل کے نیچے سائے میں بیٹھ گئے۔ آپ بہت غمگین، رنجیدہ اور دُکھی اور تکلیف زدہ تھے ،اور آپ کے دونوں قدموں سے خون بہہ رہا تھا۔
اسی باغ میں عتبہ بن ربیعہ اور شَیْبہ بن ربیعہ کافر بھی تھے۔ جب آپ نے ان دونوں کو دیکھاتو ان کے پاس جانا پسند نہ فرمایا، کیوں کہ آپ جانتے تھے کہ یہ دونوں اللہ اور اس کے رسول کے دشمن ہیں، حالاں کہ آپ سخت تکلیف اور پریشانی میں تھے۔ ان دونوںنے اپنے غلام عدّاس کو انگور دے کر حضور ﷺ کی خدمت میں بھیجا۔ وہ عیسائی تھے اور نِیْنویٰ کے رہنے والے تھے۔عدّاس نے آکر حضورﷺ کے سامنے انگور رکھ دیے۔ حضور ﷺ نے (انگور کھانے کے لیے) بسم اللہ پڑھی، اس سیعدّاس کو بڑا تعجب ہوا۔ آپ نے ان سے پوچھا: تم کہاںکے رہنے والے ہو؟ انھوں نے کہا: میں نِیْنویٰ کا رہنے والا ہوں۔ آپ نے فرمایا: تم اس بھلے اور نیک آدمی کے شہر کے رہنے والے ہوجن کا نام حضرت یونس بن متّیٰ تھا۔ عدّاس نے حضور ﷺ سے عرض کیا کہ آپ کو کیسے پتہ چلا کہ حضرت یونس بن متّیٰ کون ہیں؟ آپ کو حضرت یونس ؑ کے جتنے حالات معلوم تھے وہعدّاس کو بتائے۔ اور آپ کی عادت مبارکہ یہ تھی کہ کسی انسان کا درجہ اس سے کم نہیںسمجھتے تھے کہ اسے اللہ کا پیغام پہنچائیں (یعنی چھوٹے بڑے ہر ایک کو دعوت دیا کرتے تھے)۔ حضرت عدّاس نے عرض کیا: یا رسول اللہ! آپ مجھے حضرت یونس بن متیٰ ؑ کے بارے میں کچھ اور بتائیں۔ چناںچہ حضور ﷺ پر حضرت یونس بن متیٰ ؑ کے بارے میں جتنی وحی نازل ہوئی تھی وہ سب حضور ﷺ نیعدّاس کو سنادی۔ اس پر وہ حضور ﷺ کے سامنے سجدے میں گرگئے اور آپ کے قدموں کو چومنے لگ گئے جن میں سے خون بہہ رہا تھا۔
جب عتبہ اور اس کے بھائی شَیْبہ نے اپنے غلام کو یہ کرتے ہوئے دیکھا تو دونوں سکتے میں رہ گئے۔ جب حضرت عدّاس ؓ ان دونوں کے پاس واپس آئے تو ان دونوں نے ان سے کہا: تم کو کیا ہوا کہ تم نے محمد (ﷺ) کو سجدہ بھی کیااور ان کے قدموں کو بھی چوما اور ہم نے تم کو ہم میں سے کسی کے ساتھ ایسا کرتے ہوئے نہیں دیکھا۔ حضرت عدّاس نے کہا: یہ ایک بھلے آدمی ہیں، اور انھوں نے مجھے چند ایسی باتیں بتائی ہیں جو مجھے اس رسول کے بارے میں معلوم تھیں جن کو اللہ تعالیٰ نے ہماری طرف مبعوث فرمایا تھا، جن کو حضرت یونس بن متّیٰ کہا جاتا ہے۔ اور انھوں نے مجھے بتایا کہ وہ اللہ کے رسول ہیں۔ اس پر وہ دونوں ہنس پڑے اور کہنے لگے: ارے! یہ آدمی تمہیں تمہاری نصرانیت سے نہ ہٹا دے، یہ آدمی بہت دھوکا دیتا ہے۔ پھر حضور ﷺ مکہ واپس تشریف لے آئے۔1
حضرت موسیٰ بن عقبہ کی روایت میں یہ ہے کہ طائف والے حضور ﷺ کے راستہ پر دو صفیں بنا کر (دائیں بائیں) حضور ﷺ (کو تکلیف پہنچانے) کے لیے بیٹھ گئے۔ جب آپ وہاں سے گزرے تو جو قدم بھی آپ اٹھاتے یا رکھتے وہ اس پر پتھر مارتے، یہاں تک کہ انھوں نے آپ کو لہولہان کر دیا۔ جب آپ نے اُن سے چھٹکارا پایا تو آپ کے دونوں قدموں سے خون بہہ رہا تھا۔ اور ابنِ اسحاق کی روایت میں یہ ہے کہ حضور ﷺ ثقیف کی بھلائی سے نااُمید ہو کر جب ان کے پاس سے کھڑے ہوگئے تو ان سے آپ نے فرمایا: تم نے جو کچھ کرنا تھا کرلیا (کہ میری دعوت کو قبول نہیں کیا)، اتنا تو کرو کہ تم میری بات چھپا کر رکھو، کیوں کہ آپ یہ نہیں چاہتے تھے کہ آپ کی قوم کو طائف والوں نے آپ کے ساتھ جو کچھ کیا ہ وہ معلوم ہو، کیوں کہ اس سے وہ حضور ﷺ کے خلاف اور زیادہ جری ہوجائیں گے۔ لیکن انھوں نے ایسا نہ کیا، اور اپنے نادان لڑکوں اور غلاموں کو آپ کے خلاف بھڑکایا جس پر وہ آپ کو برا بھلا کہنے لگے اور آپ کے خلاف شور مچانے لگے، یہاں تک کہ آپ کے خلاف لوگوں کا مجمع جمع ہوگیا اور عتبہ بن ربیعہ اور شَیْبہ بن ربیعہ کے ایک باغ میں پناہ لینے پر آپ کو مجبور کر دیا۔ اس وقت وہ دونوں اس باغ میں تھے۔ ثقیف کے جتنے لوگ آپ کے پیچھے لگے ہوئے تھے وہ واپس چلے گئے۔ آپ انگور کی ایک بیل کے نیچے بیٹھ گئے۔ ربیعہ کے یہ دونوں بیٹے آپ کو دیکھ رہے تھے اور طائف کے نادان لوگوں نے آپ کو جو تکلیف پہنچائی اسے بھی انھوں نے دیکھا۔
ابنِ اسحاق کہتے ہیں کہ مجھ سے یہ بھی بیان کیا گیا ہے کہ جب آپ قبیلہ بنو جُمَح کی ایک عورت سے ملے تو آپ نے اس سے فرمایا کہ ہمیں تمہارے سسرال والوں سے کتنی تکلیف اٹھانی پڑی۔ جب آپ کو (طائف والوں کی طرف سے) قدرے اطمینان ہوا تو آپ نے یہ دعا مانگی: اے اللہ! تجھ ہی سے شکایت کرتا ہوں میں اپنی کمزوری اور بے کسی کی اور لوگوں میں ذلت اور رسوائی کی۔ اے ارحم الراحمین! توہی ضعفا کا رب ہے اور تو ہی میرا پروردگار ہے۔ تو مجھے کس کے حوالے کرتا ہے؟ کسی اجنبی بیگانے کے جو مجھے دیکھ کر ترش رو ہوتا ہے اور منہ چڑھاتاہے، یا کہ کسی دشمن کے جس کو تونے مجھ پر قابو دے دیا۔ اے اللہ! اگر تومجھ سے ناراض نہیں ہے تو مجھے کسی کی بھی پروا نہیں، تیری حفاظت مجھے کافی ہے۔ میں تیرے چہرے کے اس نور کے طفیل جس سے تمام اندھیریاں روشن ہو گئیں اور جس سے دنیا اور آخرت کے سارے کام درست ہوجاتے ہیں، اس بات سے پناہ مانگتا ہوںکہ مجھ پر تیرا غصہ ہو یا تو مجھ سے ناراض ہو۔ تیری ناراضگی کا اس وقت تک دور کرنا ضروری ہے جب تک تو راضی نہ ہو، نہ تیرے سوا کوئی طاقت ہے نہ قوت۔
جب عتبہ بن ربیعہ اور شَیْبہ بن ربیعہ نے حضور ﷺ کو اس حال میں دیکھا تو رشتہ داری کا جذبہ اُن کے دل میں اُبھر آیا اور انھوں نے اپنے نصرانی غلام کو بلایا جس کا نام عدّاس تھا۔ اور اس سے کہاکہ انگوروں کا یہ خوشہ لو اور اس بڑی پلیٹ میںرکھ کر اس آدمی کے پاس لے جاؤ اور اسے کہو کہ وہ یہ انگور کھالے۔ چناںچہ عدّاس وہ انگور لے کر گئے اور حضور ﷺ کے سامنے جاکر رکھ دیے اور آپ سے عرض کیا کہ نوش فرما لیں۔ جب حضور ﷺ نے انگوروں کی طرف ہاتھ بڑھایا تو آپ نے بسم اللہ پڑھی اور انگوروں کو کھانے لگے۔ عدّاس نے حضورﷺ کے چہرے کو غور سے دیکھ کر کہا: اللہ کی قسم! اس علاقے والے (کھانے کے وقت ) یوں نہیں کہتے۔ حضور ﷺ نے اس سے پوچھا: تم کون سے علاقہ کے ہو؟ اور تمہارا دین کیا ہے ؟ اس نے کہا: میں نصرانی ہوں اور نِیْنویٰ کا رہنے والا ہوں۔ آپ نے فرمایا: تم تو نیک آدمی یونس بن متّیٰ ؑ کی بستی کے رہنے والے ہو۔ عدّاس نے حضورﷺ سے کہا: آپ کو یونس بن متّیٰ کا کیسے پتہ چلا ؟ آپ نے فرمایا: وہ میرے بھائی تھے اور نبی تھے اور میں بھی نبی ہوں۔ عدّاس حضور ﷺ کے سامنے پورے جھک گئے اور آپ کے سر اور ہاتھوں اور قدموں کو چومنے لگے۔ (یہ منظر دیکھ کر) ربیعہ کے دونوں بیٹوں میں سے ایک دوسرے سے کہنے لگا: ارے! انھوں نے تو تمہارے غلام کو بگاڑ دیا۔ جب حضرت عدّاس ان دونوں کے پاس واپس آئے تو دونوں نے ان سے کہا: اے عدّاس! تیراناس ہو! تمہیں کیا ہوا؟ تم اس آدمی کے سر اور ہاتھوں اور قدموں کو چوم رہے تھے۔ حضرت عدّاس نے کہا: اے میرے آقا! رُوئے زمین پر ان سے بہتر کوئی نہیں ہے، مجھے انھوں نے ایسی بات بتائی ہے جسے نبی کے علاوہ کوئی نہیں جان سکتا۔ دونوں نے حضرت عدّاس سے کہا: تیرا ناس ہو ! یہ آدمی کہیں تمہیں تمہارے دین سے نہ ہٹا دے، کیوں کہ تمہارا دین اس کے دین سے بہتر ہے۔ 1
حضرت سلیمان تیمی نے اپنی سیرت کی کتاب میں یہ بیان کیا ہے کہ حضرت عدّاس ؓ نے حضور ﷺ سے عرض کیا تھا کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔2
حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ حضرت ابو بکر ؓ نے فرمایا: اگر تم مجھ کو اور رسول اللہ ﷺ کو اس وقت دیکھتیں جب ہم دونوں غارِ (ثور) پر چڑھے تھے، (تو عجب منظر دیکھتیں)۔ حضور ﷺ کے قدموں سے خون ٹپک رہا تھا اور میرے دونوں پاؤں (سن ہوکر) پتھرا گئے تھے۔ حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ (حضور ﷺ کے قدموں میں سے خون ٹپکنے کی وجہ یہ ہے کہ) حضور ﷺ ننگے پاؤں چلنے کے عادی نہیں تھے (اور اس موقع پر ننگے پاؤں چلنا پڑا تھا)۔ 1
حضرت انس ؓ فرماتے ہیں کہ جنگِ اُحد کے دن حضور ﷺ کا (داہنا نچلا)رباعی دانت شہید ہوگیا تھا اور آپ کا سر مبارک زخمی ہوگیا تھا۔ آپ اپنے چہرہ ٔمبارک سے خون پونچھتے جاتے اور فرماتے جاتے کہ وہ قوم کیسے کامیاب ہوگی جنھوں نے اپنے نبی کے سر کو زخمی کردیا اور اس کا اگلا دانت شہید کردیا، حالاں کہ وہ ان کو اللہ کی طرف دعوت دے رہے تھے۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی:
{لَیْسَ لَکَ مِنَ الْاَمْرِ شَیْئٌ اَوْ یَتُوْبَ عَلَیْہِمْ اَوْ یُعَذِّبَہُمْ فَاِنَّہُمْ ظٰلِمُوْنَ} 2
تیرا اختیار کچھ نہیں، یا اُن کو توبہ دیوے خداتعالیٰ، یا اُن کو عذاب کرے کہ وہ ناحق پر ہیں ۔3
حضرت ابوسعید ؓ فرماتے ہیں کہ جنگِ اُحد کے دن حضور ﷺ کا چہرۂ مبارک زخمی ہوگیا۔ سامنے سے حضرت مالک بن سنان ؓ آئے اور انھوں نے حضور ﷺ کے زخم کو چوسا اور آپ کے خون کو نگل گئے۔ آپ نے فرمایا: جو ایسا آدمی دیکھنا چاہتا ہے کہ جس کے خون میں میرا خون مل گیا ہے وہ مالک بن سنان کو دیکھ لے۔4
حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ حضرت ابوبکر ؓ جب جنگ ِاُحد کا ذکر فرماتے تو یہ ارشاد فرماتے کہ یہ دن سارے کا سارا حضرت طلحہ ؓ کے حساب میں ہے۔ پھر (تفصیل سے) بیان فرماتے ہیں کہ میدانِ جنگ سے منہ موڑنے والوں میں سے سب سے پہلے واپس لوٹنے والا میں تھا ، تو میں نے دیکھا کہ ایک آدمی حضور ﷺ کی حفاظت کے لیے بڑے زور شور سے جنگ کر رہا ہے۔ میں نے اپنے دل میں کہا کہ خدا کرے یہ حضرت طلحہ ہوں، اس لیے کہ جو ثواب مجھ سے چھوٹنا تھا وہ تو چھوٹ گیا، اب مجھے زیادہ پسند یہ ہے کہ یہ ثواب میری قوم کے کسی آدمی کوملے (اور حضرت طلحہ میری قوم کے آدمی تھے)۔ اور میرے اور مشرکین کے درمیان ایک آدمی اور تھا جسے میں پہچان نہیں رہا تھا اور میں بہ نسبت اس آدمی کے حضور ﷺ سے زیادہ قریب تھا لیکن وہ مجھ سے زیادہ تیز چل رہا تھا، تو اچانک کیا دیکھتا ہوں کہ وہ ابو عبیدہ بن جرّ اح ہیں۔ ہم دونوں حضور ﷺ کی خدمت میں پہنچے تو ہم نے دیکھا کہ آپ کا اگلا دانت شہید ہوچکا ہے اور آپ کا چہرۂ مبارک زخمی ہے اور خَود کی دو کڑیاں آپ کے رُخسار مبارک میں گھس گئی ہیں۔ آپ نے ہم سے فرمایا: اپنے ساتھی طلحہ کی خبر لو جو کہ زیادہ خون نکلنے کی وجہ سے کمزور ہوچکے تھے۔ (حضور ﷺ کو زخمی حالت میں دیکھ کر) ہم لوگ آپ کے اس فرمان کی طرف توجہ نہ کرسکے۔(ہم بہت پریشان ہوگئے تھے) میں حضور ﷺ کے چہرے سے کڑیاں نکالنے کے لیے آگے بڑھا تو حضرت ابو عبیدہ نے مجھے اپنے حق کی قسم دے کر کہا کہ (یہ سعادت لینے کے لیے) مجھے چھوڑ دو۔ میں نے (یہ موقع) اُن کے لیے چھوڑدیا۔ انھوں نے ہاتھ سے کڑیاں نکالنا پسند نہ کیا کہ اس سے حضور ﷺ کو تکلیف ہوگی بلکہ دانتوں سے پکڑ کرایک کڑی نکالی۔ کڑی کے ساتھ ان کا سامنے کا ایک دانت بھی نکل کر گر گیا۔ جو انھوں نے کیا اسی طرح کرنے کے لیے میں آگے بڑھا، انھوں نے پھر مجھے اپنے حق کی قسم دے کر کہا: (یہ سعادت لینے کے لیے ) مجھے چھوڑ دو۔ اور انھوں نے پہلی مرتبہ کی طرح دانتوں سے پکڑ کر کڑی کو نکالا۔ اس دفعہ کڑی کے ساتھ اُن کا دوسرا دانت نکل کر گر گیا۔ دانتوں کے ٹوٹنے کے باوجود حضرت ابو عبیدہ لوگوں میں بڑے خوب صورت نظر آتے تھے۔ حضورﷺ کی خدمت سے فارغ ہوکر ہم لوگ حضرت طلحہ کے پاس آئے۔ وہ ایک گڑھے میں پڑے ہوئے تھے، اور اُن کے جسم پر نیزے اور تیر اور تلوار کے ستّر سے زیادہ زخم تھے، اور اُن کی انگلی بھی کٹ گئی تھی۔ ہم نے اُن کی دیکھ بھال کی ۔ 1