نبی کریم ﷺ اور آپ کے صحابۂ کرام ؓ کی سختیاں، بھوک اور پیاس برداشت کرنا

حضرت طلحہ بن عبید اللہ ؓ کا سختیاںبرداشت کرنا

حضرت مسعود بن حِراش ؓ کہتے ہیں کہ ہم صفا اور مروہ کے درمیان سعی کر رہے تھے کہ ہم نے دیکھا ایک نوجوان آدمی کے ہاتھ گردن کے ساتھ بندھے ہوئے ہیں اور لوگوں کا ایک بڑا مجمع اُس کے پیچھے پیچھے چل رہا ہے۔ میں نے پوچھا : اس نوجوان کو کیا ہوا؟ لوگوں نے بتایا کہ یہ طلحہ بن عبید اللہ ہیں جو بے دین ہوگئے ہیں۔ اور حضرت طلحہ کے پیچھے پیچھے ایک عورت تھی جو بڑے غصہ سے بول رہی تھی اور اُن کو برا بھلا کہہ رہی تھی۔ میں نے پوچھا: یہ عورت کون ہے؟ لوگوں نے بتایا: یہ اُن کی والدہ صَعْبہ بنت الحضرمی ہے۔3 حضرت ابراہیم بن محمد بن طلحہ کہتے ہیں کہ حضرت طلحہ بن عبید اللہ ؓ نے مجھے بتایا کہ میں بُصریٰ کے بازار اورمیلہ میں موجود تھا، تو وہاں ایک پادری اپنے گرجا گھر کے بالاخانہ میں رہتا تھا۔ اس نے کہا کہ اس بازار اور میلہ والوں سے پوچھو کہ کیا ان میں کوئی حرم کا رہنے والا ہے؟ میں نے کہا: ہاں، میں ہوں۔ اس نے پوچھا کہ کیا احمد (ﷺ) کاظہور ہوگیا ہے ؟ میں نے کہا: احمد کون ؟ اس نے کہا: عبد اللہ بن عبد المطّلب کے بیٹے۔ یہ وہ مہینہ ہے جس میں اُن کا ظہور ہوگا اور وہ آخری نبی ہیں۔ حرم ِ (مکہ) میں ان کا ظہور ہوگا اور وہ ہجرت کرکے ایسی جگہ جائیںگے جہاں کھجوروں کے باغات ہوںگے، پتھریلی اور شوریلی زمین ہوگی۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ لوگ تو ان کا اتباع کرلیں اور تم ان سے پیچھے رہ جاؤ۔ حضرت طلحہ ؓ فرماتے ہیں کہ اس کی بات میرے دل کو لگی اور میں وہاں سے تیزی سے چلا اور مکہ پہنچ گیا اور میں نے پوچھا: کیا کوئی نئی بات پیش آئی ہے ؟ انھوں نے کہا: ہاں محمد بن عبد اللہ (ﷺ) جو اَمین کے لقب سے مشہور ہیں انھوں نے نبوت کا دعویٰ کیا ہے اور ابنِ ابی قحافہ نے اُن کا اتباع کیا ہے۔ چناںچہ میں حضرت ابو بکر ؓ کے پاس گیا اور میں نے کہا: کیا آپ نے اس آدمی کا اتباع کرلیا ہے ؟ انھوں نے کہا: ہاں، تم بھی ان کی خدمت میں جاؤ اور ان کا اتباع کرلو کیوں کہ وہ حق کی دعوت دیتے ہیں۔ حضرت طلحہ نے حضرت ابو بکرکو اس پادری کی بات بتائی۔ حضرت ابو بکر حضرت طلحہ کو حضور ﷺ کی خدمت میں لے گئے، و ہاں حضرت طلحہ مسلمان ہوگئے۔ اور انھوں نے حضور ﷺ کو بھی اس پادری کی بات بتائی جس سے حضور ﷺ کو بہت خوشی ہوئی۔ جب حضرت ابو بکر اور حضرت طلحہ دونوں مسلمان ہوگئے تو ان دونوں کو نوفل بن خُویلد بن العدویّہ نے پکڑ کر ایک رسی میں باندھ دیا اور بنو تیم نے ا ن دونوں کو نہ بچایا۔ نوفل بن خویلد کو مشیرِ قریش کہا جاتا تھا۔ (ایک رسی میں باندھے جانے کی وجہ سے) حضرت ابوبکر اور حضرت طلحہ ؓ کو قَرِیْنَین (یعنی دو ساتھی) کہا جاتا ہے۔ امام بیہقی کی روایت میں یہ بھی ہے کہ حضور ﷺ نے یہ دعا مانگی: اے اللہ ! ہمیں ابن العدویّہ کے شر سے بچا۔1