نبی کریم ﷺ اور آپ کے صحابۂ کرام ؓ کی سختیاں، بھوک اور پیاس برداشت کرنا
حضرت ابو ذر ؓ کا سختیاں برداشت کرنا
حضرت ابنِ عباس ؓ فرماتے ہیں کہ جب حضرت ابوذر ؓکو حضور ﷺ کی بعثت کی خبر ہوئی تو انھوں نے اپنے بھائی سے کہا: تم اس وادی (مکہ) کو جاؤ اور جو آدمی یہ کہتا ہے کہ وہ نبی ہے ا ور اس کے پاس آسمان سے خبر آتی ہے اس کے حالات معلوم کرو، اس کی باتیں سنو اور پھر مجھے آکر بتاؤ۔ چناںچہ اُن کے بھائی مکہ حضور ﷺ کی خدمت میں گئے، آپ کی باتیں سنیں، پھر حضرت ابو ذرکو واپس آکر بتایا کہ میںنے انھیں دیکھا کہ وہ عمدہ اخلاق اختیار کرنے کا حکم دے رہے تھے اور انھوں نے ایسا کلام سنایا جو شعر نہیں تھا۔ حضرت ابوذر نے کہا: تمہاری باتوں سے میری تسلی نہیں ہوئی، جو میں معلوم کرنا چاہتا تھا وہ مجھے معلوم نہ ہوسکا۔ چناںچہ انھوںنے زادِ سفر لیا اور پانی کا مشکیزہ بھی سواری پر رکھا ( اور چل پڑے) یہاں تک کہ مکہ پہنچ گئے اور مسجدِ حرام میں آکر حضور ﷺ کو تلاش کرنے لگے۔ یہ حضور ﷺ کو پہچانتے نہیں تھے اور لوگوں سے حضور ﷺ کے بارے میں پوچھنا انھوں نے (حالات کی وجہ سے) مناسب نہ سمجھا، یہاں تک کہ رات آگئی تو یہ وہیں لیٹ گئے۔ تو اُن کو حضرت علی ؓ نے دیکھا اور وہ سمجھ گئے کہ یہ پردیسی مسافر ہیں۔ حضرت ابوذر حضرت علی کو دیکھ کر اُن کے پیچھے ہولیے، (حضرت علی نے اُن کی میزبانی کی) لیکن دونوں میں سے کسی نے دوسرے سے کچھ نہ پوچھا اور یوںہی صبح ہوگئی۔ وہ اپنا مشکیزہ اور زادِ سفر لے کر پھر مسجدِ حرام آگئے اور سارا دن وہاں ہی رہے۔حضور ﷺ نے اُن کو نہ دیکھا یہاں تک کہ شام ہوگئی، یہ اپنے لیٹنے کی جگہ واپس آئے۔
حضرت علی کا اُن کے پاس سے گزر ہوا۔ انھوں نے کہا: کیا اس آدمی کے لیے اس بات کا وقت نہیں آیا کہ اپنا ٹھکانا جان لے؟ حضرت علی نے ان کواٹھایااور ان کو اپنے ساتھ لے گئے، لیکن دونوں میں سے کسی نے بھی دوسرے سے کچھ نہ پوچھا یہاں تک کہ تیسرا دن ہوگیا، اور پھر حضرت علی نے پہلے دن کی طرح کیا اور یہ اُن کے ساتھ چلے گئے۔ پھر حضرت علی نے اُن سے کہا: کیا تم مجھے بتاتے نہیں ہو کہ تم یہاں کس لیے آئے ہو؟ حضرت ابو ذر نے کہا کہ میں اس شرط پر بتاؤں گا کہ تم مجھے عہد وپیمان دو کہ تم مجھے ٹھیک ٹھیک بتاؤگے۔ حضرت علی نے وعدہ فرمایا، تو حضرت ابوذر نے ان کو اپنے آنے کا مقصد بتایا۔ حضرت علی نے کہاکہ یہ بات حق ہے اور وہ اللہ کے رسول (ﷺ) ہیں۔ جب صبح ہو تو تم میرے پیچھے چلنا۔ اگر میں ایسی کوئی چیز دیکھوں گا جس سے مجھے تمہارے بارے میں خطرہ ہوگا تو میں پیشاب کرنے کے بہانے رک جاؤں گا (تم چلتے رہنا)۔ اگر میں چلتا رہا تو تم میرے پیچھے چلتے رہنا اور جس گھر میں میں داخل ہوں اس میں تم بھی داخل ہوجانا۔ چناںچہ ایسے ہی ہوا۔یہ حضرت علی کے پیچھے چلتے رہے یہاں تک کہ حضرت علی حضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوگئے اور یہ بھی اُن کے ساتھ حاضرِ خدمت ہوگئے۔
انھوں نے حضور ﷺ کی بات سنی اور اسی جگہ مسلمان ہوگئے۔ حضور ﷺ نے اُن سے فرمایا: اپنی قوم کے پاس واپس چلے جاؤ اور انھیں ساری بات بتاؤ، (اور تم وہاں ہی رہو) یہاں تک کہ میں تمہیں حکم بھیجوں۔ حضرت ابو ذر نے کہا کہ اس ذات کی قسم جس کے قبضے میں میری جان ہے! میں اس کلمۂ توحید کا کافروں کے بیچ میںپورے زور سے اعلان کروں گا۔ چناں چہ وہاں سے چل کر مسجدِ حرام آئے اور بلند آواز سے پکار کر کہا: أَشْہَدُ أَنْ لَّا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ وَأَشْہَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُوْلُ اللّٰہِ۔یہ سن کر مشرکین کھڑے ہوئے اور اُن کو اتنا مارا کہ اُن کو لٹادیا۔ اتنے میں حضرت عباس آگئے اور وہ (اُن کو بچانے کے لیے) ان پر لیٹ گئے اور انھوں نے کہا: تمہارا ناس ہو! کیا تمہیں معلوم نہیں ہے کہ یہ قبیلہ غِفَار کا آدمی ہے اور ملکِ شام کا تمہارا تجارتی راستہ اسی قبیلہ کے پاس سے گزرتا ہے۔ اور حضرت عباس نے اُن کو کافروں سے چھڑا لیا۔ اگلے دن حضرت ابو ذر نے پھر ویسے ہی کیا۔ چناںچہ پھر کافروں نے اُن پر حملہ کیا اور اُن کو مارا اور پھر حضرت عباس (بچانے کے لیے) اُن پر لیٹ گئے۔ 1
اِمام بخاری نے حضرت ابنِ عباس ؓ کی روایت میں یوں نقل کیا ہے کہ انھوں نے اعلان کیا: اے جماعت ِقریش! سن لو: أَشْہَدُ أَنْ لَّا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ وَأَشْہَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہٗ وَرَسُوْلُہٗ۔ کافروں نے کہا: پکڑو اس بے دین کو۔ چناںچہ وہ سب کھڑے ہوکر مجھے مارنے لگے اور مجھے اتنا مارا گیا کہ میں مرنے کے قریب ہوگیا۔ حضرت عباس ؓ میری مدد کو آئے اور میرے اوپر لیٹ گئے اور کافروں کی طرف متوجہ ہوکر کہا: تمہارا ناس ہو! تم غِفَار کے آدمی کو مارنے لگے ہو؟ حالاں کہ تمہاری تجارت کا راستہ اور تمہاری گزرگاہ غِفَار کے پا س سے ہے۔ چناںچہ لوگ مجھے چھوڑ کر پیچھے ہٹ گئے۔ جب اگلا دن ہوا تو میں نے بلند آواز سے پہلے دن کی طرح پھر کلمۂ شہادت (کافروں کے بیچ میں) پڑھا ۔ پھر کافروں نے کہا: پکڑو اس بے دین کو۔ چناںچہ اس دن بھی میرے ساتھ وہی سلوک ہوا جو اس سے پہلے دن ہوا تھا، اور پھر حضرت عباس میری مدد کو آئے اور مجھ پر لیٹ گئے اور کافروں سے وہی بات کہی جو انھوںنے پہلے دن کہی تھی۔ 2
اِمام مسلم نے حضرت ابوذر ؓ کے اِسلام لانے کا قصہ اور طرح سے بیان کیا ہے۔ جس میں یہ ہے کہ میرا بھائی گیا اور وہ مکہ پہنچا، پھر مجھ سے واپس آکر کہا کہ میں مکہ گیا تھا وہاں میں نے ایک آدمی دیکھا جسے لوگ بے دین کہتے تھے۔ اُن کی شکل و صورت آپ سے بہت زیادہ ملتی ہے۔ حضرت ابو ذر فرماتے ہیں کہ پھر میں مکہ گیا، وہاں میں نے ایک آدمی کو دیکھا جو اُن کا نام لے رہا تھا۔ میں نے پوچھا: وہ بے دین آدمی کہاں ہے؟ یہ سن کر وہ آدمی میرے بارے میں چیخ چیخ کر کہنے لگا: یہ بے دین ہے، یہ بے دین ہے ۔ لوگوں نے مجھے پتھر وں سے اتنا مارا کہ میں پتھر کے سرخ بت کی طرح سے ہوگیا۔ (جاہلیت کے زمانے میں کافر جانور ذبح کر کے بتوں پر خون ڈالا کرتے تھے، میں اس بت کی طرح لہو لہان ہوگیا) چناںچہ میں کعبہ اور اُس کے پردوں کے درمیان چھپ گیا اور پندرہ دن رات اس میں یوں ہی چھپا رہا۔ میرے پاس آبِ زَم زَم کے علاوہ کھانے پینے کی کوئی چیز نہیں تھی۔ حضور ﷺ اور حضرت ابو بکر ؓ مسجدِ حرام میں (ایک دن) آئے، میری ان سے ملاقات ہوئی اور اللہ کی قسم! سب سے پہلے میں نے آپ کو اسلامی طریقہ کے مطابق سلام کیا اور میں نے کہا: یا رسول اللہ! اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ۔ آپ نے فرمایا: وَعَلَیْکَ السَّلَامُ وَرَحْمَۃُ اللّٰہِ،تم کون ہو؟ میں نے کہا: بنو غِفَار کا ایک آدمی ہوں۔ آپ کے ساتھی (حضرت ابو بکر ؓ) نے کہا: مجھے آج رات ان کو اپنا مہمان بنانے کی اجازت دے دیں۔ چناںچہ وہ مجھے اپنے گھر لے گئے جو مکہ کے نچلے حصہ میں تھا۔ انھوں نے مجھے چندمٹھی کشمش لاکر دی۔ پھر میں اپنے بھائی کے پاس آیا اور میں نے اسے بتایا کہ میں مسلمان ہوگیا ہوں۔ اس نے کہا: میں بھی تمہارے دین پر ہوں۔ پھر ہم دونوں اپنی والدہ کے پاس گئے۔ انھوںنے بھی یہی کہاکہ میں تم دونوں کے دین پر ہوں۔ پھر میں نے اپنی قوم کو جا کر دعوت دی، اُن میں سے بعض لوگوں نے میری تابعداری کی (اور وہ مسلمان ہوگئے)۔ 1
حضرت ابو ذر ؓ فرماتے ہیں: میں مکہ میں حضور ﷺ کے ساتھ ٹھہر گیا۔ آپ نے مجھے اِسلام سکھایا اور میں نے کچھ قرآن بھی پڑھ لیا۔ پھر میں نے کہا: یا رسول اللہ! میں اپنے دین کا اِعلان کرنا چاہتا ہوں۔ آپ نے فرمایا: مجھے تمہارے بارے میں خطرہ ہے کہ تم کو قتل کر دیا جائے گا۔ میں نے کہا: چاہے مجھے قتل کردیا جائے لیکن میں یہ کام ضرور کروں گا۔ آپ خاموش ہوگئے۔ مسجدِ حرام میں قریش حلقے لگا کر بیٹھے ہوئے باتیں کر رہے تھے، میں نے وہاں جاکر زور سے کہا: أَشْہَدُ أَنْ لَّا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ وَأَشْہَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُوْلُ اللّٰہِ۔یہ سنتے ہی وہ تمام حلقے ٹوٹ گئے اور وہ لوگ کھڑے ہوکر مجھے مارنے لگے اور مجھے سرخ بت کی طرح بناکر چھوڑا۔ اور اُن کا یہ خیال تھا کہ وہ مجھے قتل کرچکے ہیں۔ جب مجھے افاقہ ہوا تو میں حضور ﷺ کی خدمت میں آیا۔ آپ نے میرا یہ حال دیکھ کر فرمایا کہ کیا میں نے تم کومنع نہیں کیا تھا؟ میں نے کہا: یا رسول اللہ! یہ میرے دل کی چاہت تھی جسے میں نے پورا کرلیا ہے۔ میں حضور ﷺ کے پاس ٹھہر گیا۔ پھر آپ نے فرمایا: اپنی قوم میں چلے جاؤ اور جب تمہیں ہمارے غلبہ کی خبر ملے توپھر میرے پاس آجانا ۔ 2
ایک روایت میں حضرت ابوذر ؓ فرماتے ہیں کہ میں مکہ گیا تو وادی (مکہ) کے تمام لوگ مجھ پر ہڈیاں اور ڈھیلے لے کر ٹوٹ پڑے، اور مجھے اتنا مارا کہ میں بے ہوش ہو کر گر گیا۔ جب مجھے ہوش آیا اور میں اٹھا تو میں نے دیکھا کہ میں پتھر کے سرخ بت کی طرح سے (لہولہان) ہوں ۔1