وضو کا بیان

سنن وضو

1: وضو کی ابتدا میں بسم اللہ کہنا۔اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: ’لَا وُضُوئَ لِمَنْ لَّمْ یَذْکُرِ اسْمَ اللّٰہِ عَلَیْہِ‘ ’’جو اللہ کا نام نہیں ذکر کرتا اس کا وضو نہیں ہے۔‘‘[2] 2: جب نیند سے بیدار ہو تو برتن میں ہاتھ داخل کرنے سے پہلے دونوں ہاتھوں کو تین بار دھونا۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: ((إِذَا اسْتَیْقَظَ أَحَدُکُمْ مِّنْ نَّوْمِہِ فَلَا یَغْمِسْ یَدَہُ فِي الإِْنَائِ حَتّٰی یَغْسِلَھَا ثَلَاثًا،فَإِنَّہُ لَا یَدْرِي أَیْنَ بَاتَتْ یَدُہُ)) ’’جب تم میں سے کوئی نیند سے جاگے،تو برتن میں ہاتھ نہ ڈالے حتیٰ کہ اسے تین بار دھولے،اس لیے کہ وہ نہیں جانتا کہ اس کے ہاتھ نے کہاں رات گزاری ہے؟‘‘[3] ہاں اگر نیند سے بیدار نہ ہوا ہو(اور ہاتھ پر نجاست بھی نہ ہو)تو پھر برتن میں ہاتھ ڈالنے میں کوئی حرج نہیں بلکہ اس وقت ہاتھ سے پانی لے کر تین بار دونوں ہتھیلیاں دھونا مسنون ہے۔ 3: مسواک کرنا بھی سنت رسول(صلی اللہ علیہ وسلم)ہے۔ارشاد عالی ہے:’لَوْلَا أَنْ أَشُقَّ عَلٰی أُمَّتِي لَأَمَرْتُھُمْ بِالسِّوَاکِ مَعَ کُلِّ وُضُوئٍ‘ ’’اگر مجھے اپنی امت پر مشقت کا اندیشہ نہ ہوتا تو میں انھیں ہر وضو کے ساتھ مسواک کرنے کا حکم دیتا۔‘‘[4] 4: کلی کرنا،یعنی منہ میں پانی ڈال کر صفائی کر کے باہر پھینک دینا بھی اسی قبیل سے ہے۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’اِذَا تَوَضَّأْتَ فَمَضْمِضْ‘ ’’جب تو وضو کرے تو کلی کر۔‘‘[5] 5: ناک میں پانی داخل کرنا اور اسے صاف کرنا سنت ہے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’بَالِغْ فِي الْاِسْتِنْشَاقِ إِلَّا أَنْ تَکُونَ صَائِمًا‘ ’’ناک میں پانی لے جانے میں مبالغہ کر،اِلاَّ یہ کہ تو روزہ دار ہو۔‘‘[1] 6: داڑھی کا خلال کرنا،عمار بن یاسر رضی اللہ عنہما نے وضو میں داڑھی کا خلال کیا تو اس پر حیرت کا اظہار کیا گیا۔اس پر انھوں نے فرمایا:’’میں خلال کیوں نہ کروں،جبکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی داڑھی کا خلال کرتے دیکھا ہے۔‘‘[2] 7: ہر عضو تین تین بار دھونا مسنون ہے اور ایک بار دھونا فرض ہے۔ 8: کانوں کے اندرونی اور بیرونی حصہ کا مسح کرنا بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فعل اورسنت ہے۔ 9: ہاتھوں اور پاؤں کی انگلیوں کا خلال کرنا بھی سنت ہے۔ارشاد عالی ہے: ((إِذَا تَوَضَّأْتَ فَخَلِّلْ بَیْنَ أَصَابِعِ یَدَیْکَ وَرِجْلَیْکَ))’’جب تو وضو کرے تو اپنے ہاتھ اور پاؤں کی انگلیوں کا خلال کر۔‘‘[3] 10: ہاتھوں اور پاؤں کو دھونے میں دائیں طرف سے شروع کرنا۔٭ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’إذَا تَوَضَّأْتُمْ فَابْدَؤُوا بِمَیَامِنِکُمْ‘’’جب تم وضو کرو تو دائیں جانب سے شروع کرو۔‘‘[4] اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں:’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جوتے پہننے،کنگھی کرنے،وضو اور سب کاموں میں دائیں طرف(سے شروع کرنا)پسند تھا۔‘‘[5] 11: چہرے،ہاتھوں اور پاؤں کو خوب دھوکر اور پانی پہنچا کر قیامت کے دن کی نورانیت بڑھانا بھی مسنون ہے۔ ٭ وضو میں ترتیب ضروری ہے،جیسا کہ مذکور ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیشہ وضو میں دایاں ہاتھ اور دایاں پاؤں پہلے دھوتے رہے۔جیسا کہ کتب احادیث میں واضح ہے،لہٰذا ترتیب کی فرضیت میں یہ بھی داخل ہے۔(الاثری) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان مقدس ہے:((إِنَّ أُمَّتِي یُدْعَوْنَ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ غُرًّا مُّحَجَّلِینَ مِنْ آثَارِ الْوُضُوئِ،فَمَنِ اسْتَطَاعَ مِنْکُمْ أَنْ یُّطِیلَ غُرَّتَہُ فَلْیَفْعَلْ)) ’’قیامت کے دن میری امت کے چہرے،ہاتھ اور پاؤں وضو کے آثار کی وجہ سے منور ہوں گے،تم میں جو اپنی چمک کو لمبا کرنا چاہے تو کر گزرے۔‘‘[1] 12: سر کا مسح ٭ ماتھے کے بالوں سے شروع کرے اور گدی تک لے جائے،پھر پیشانی تک واپس لے آئے،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہی معمول رہا ہے۔چنانچہ حدیث میں ہے: (إِنَّ رَسُولَ اللّٰہِ صلی اللّٰه علیہ وسلم)مَسَحَ رَأْسَہُ بِیَدَیْہِ فَأَقْبَلَ بِھِمَا وَأَدْبَرَ،بَدَأَ بِمُقَدَّمِ رَأْسِہِ حَتّٰی ذَھَبَ بِھِمَا إِلٰی قَفَاہُ ثُمَّ رَدَّھُمَا إِلَی الْمَکَانِ الَّذِي بَدَأَ مِنْہُ ’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں ہاتھوں کے ساتھ سر کے اگلے حصہ سے مسح شروع کیا اور گدی تک لے گئے،پھر انھیں واپس اس جگہ تک لے آئے جہاں سے شروع کیا۔‘‘[2] 13: وضو کے بعد یہ دعا پڑھے: ’أَشْھَدُ أَنْ لَّا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہُ لَا شَرِیکَ لَہُ،وَأَشْھَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہُ وَرَسُولُہُ،اَللَّھُمَّ اجْعَلْنِي مِنَ التَّوَّابِینَ،وَاجْعَلْنِي مِنَ الْمُتَطَھِّرِینَ‘ ’’میں گواہی دیتا ہوں کہ ایک اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے،اس کا کوئی شریک نہیں ہے اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد(صلی اللہ علیہ وسلم)اس کے بندے اور رسول ہیں۔اے اللہ!مجھے توبہ کرنے اور پاک رہنے والوں میں سے بنا۔‘‘[3] رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں:((مَنْ تَوَضَّأَ فَأَحْسَنَ الْوُضُوئَ،ثُمَّ قَالَ:أَشْھَدُ أَنْ لَّا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہُ لَا شَرِیکَ لَہُ وَأَشْھَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہُ وَرَسُولُہُ،فُتِحَتْ لَہُ أَبْوَابُ الْجَنَّۃِ الثَّمَانِیَۃُ یَدْخُلُ مِنْ أَیِّھَا شَائَ)) ’’جو شخص اچھی طرح وضو کرتا ہے،پھر ’أَشْھَدُ أَنْ لاَّ إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہُ لَاشَرِیکَ لَہُ وَأَشْھَدُ أَنّ مُحَمَّدًا ٭ سر کے مسح کا فرض طریقہ یہی ہے جو حدیث سے ثابت ہے اسے مسنون امور میں شمار کرنا محل نظر ہے۔(الاثری) ’عَبْدُہُ وَرَسُولُہُ ‘ دعا پڑھتا ہے،اس کے لیے بہشت کے آٹھوں دروازے کھول دیے جاتے ہیں،جس سے چاہے گا داخل ہو گا۔‘‘[1]