تیمم کا بیان
تیمم کا طریقہ
’’بسم اللہ‘‘ کہے اور دل میں اس کام کے مباح ہونے کا ارادہ کرے،جس کے لیے وہ تیمم کر رہا ہے اور دونوں ہتھیلیاں زمین پر مارے۔مٹی ہو یا ریت،پتھر ہو یا شوریلی زمین،سب جگہ جائز ہے اور دونوں ہاتھوں سے گرد جھاڑ لے تو کوئی حرج نہیں ہے،پھر ایک ہی بار چہرے کا مسح کرے اور اگر چاہے تو دوبارہ زمین پر مارے اور ہتھیلی،کلائی اور کہنیوں تک کا مسح کرے،یہ جائز ہے اور اگر ہتھیلی کے مسح پر ہی اکتفا کر لے تو بھی جائز ہے۔
ایک سوال::اگر ’’تیمم‘‘ نہیں ٹوٹا تو کیا ایک ’’تیمم‘‘ سے کئی نمازیں پڑھنا جائز ہے۔
جواب:مسئلہ میں اگرچہ اختلاف ہے لیکن حق یہی ہے کہ ایک تیمم سے کئی نمازیں پڑھی جاسکتی ہیں،اس لیے کہ نصوص سے تیمم کا وضو کے قائم مقام ہونا ثابت ہے تو جب ایک وضو سے کئی نمازیں پڑھنا درست ہے تو تیمم سے بھی درست ہے۔