نماز کا بیان
نماز کے فرائض،سنتیں،مکروہات
٭فرائض نماز:
1: صاحب طاقت پرکھڑے ہو کر نماز پڑھنا فرض ہے:اس لیے کہ کھڑا ہونے کی طاقت رکھنے والے کے لیے بیٹھ کر نماز پڑھنا درست نہیں ہے۔اللہ سبحانہ وتعالیٰ کا ارشاد ہے:
﴿وَقُومُوا لِلّٰهِ قَانِتِينَ﴾’’اور اللہ کے لیے فرمانبردار بن کر کھڑے ہو جاؤ۔‘‘[4]
اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:((صَلَّ قَائِمًا،فَإِنْ لَّمْ تَسْتَطِعْ فَقَاعِدًا،فَإِنْ لَّمْ تَسْتَطِعْ فَعَلٰی جَنْبٍ))
’’کھڑے ہو کر نماز پڑھ،اگر طاقت نہیں تو بیٹھ کر،اگر پھر بھی طاقت نہیں تو پہلو پر لیٹ کر ہی نماز پڑھ۔‘‘[5]
2: نیت کرنا:یعنی دل میں ارادہ کرے کہ میں فلاں نماز ادا کر رہا ہوں۔اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:
’إِنَّمَا الْأَعْمَالُ بِالنِّیَّاتِ‘ ’’عملوں کا دارومدار نیتوں پر ہے۔‘‘[6]
3: تکبیر تحریمہ:یعنی ’’اللہ اکبر‘‘ کہنا۔اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:
((مِفْتَاحُ الصَّلَاۃِ الطُّھُورُ،وَتَحْرِیمُھَا التَّکْبِیرُ وَتَحْلِیلُھَا التَّسْلِیمُ))’’نماز کی کنجی وضو ہے،اس کی تحریم تکبیر اور اس کی تحلیل سلام ہے۔‘‘[7]
4: قراء ت سورئہ فاتحہ:اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:((لَا صَلَاۃَ لِمَنْ لَّمْ یَقْرَأْ بِفَاتِحَۃِ الْکِتَابِ))
’’اس شخص کی نماز نہیں جو سورئہ فاتحہ نہیں پڑھتا۔‘‘[1]
اور جو قرآن پاک میں ہے:﴿وَإِذَا قُرِئَ الْقُرْآنُ فَاسْتَمِعُوا لَهُ وَأَنصِتُوا﴾’’اور جب قرآن پڑھا جائے تو سنو اور خاموش رہو۔‘‘[2]
اور اسی طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان:((إِذَا قَرَأَ فَأَنْصِتُوا))
’’جب وہ(امام)قراء ت کرے تو تم خاموش رہو۔‘‘[1] سورت فاتحہ کے علاوہ قراء ت کے بارے میں ہے۔
5: رکوع کرنا اور رکوع سے سر اٹھانا:اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص کو جس نے نماز درست نہیں پڑھی تھی،فرمایا تھا:
((ثُمَّ ارْکَعْ حَتّٰی تَطْمَئِنَّ رَاکِعًا،ثُمَّ ارْفَعْ حَتّٰی تَعْتَدِلَ قَائِمًا))’’رکوع اطمینان کے ساتھ کر،پھر سر اٹھا اور سیدھا کھڑا ہو جا۔‘‘[2]
6: سجدہ کرنا اور سجدے سے سر اٹھانا:اس لیے کہ رسول اللہ نے نماز درست نہ پڑھنے والے کو فرمایا تھا:((ثُمَّ اسْجُدْ حَتّٰی تَطْمَئِنَّ سَاجِدًا،ثُمَّ ارْفَعْ حَتّٰی تَطْمَئِنَّ جَالِسًا))
’’پھر اطمینان کے ساتھ سجدہ کر اور سر اٹھا اور اطمینان کے ساتھ بیٹھ جا۔‘‘[3] اور اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا ارْكَعُوا وَاسْجُدُوا﴾’’اے ایمان والو!رکوع کرو اور سجدہ کرو۔‘‘[4]
7: رکوع،سجدہ،قیام اور جلسہ میں اطمینان کو ملحوظ رکھنا:جیسا کہ مذکورہ بالا حدیث میں ان مواقع پر’مسئُ الصَّلاۃ‘(درست نماز نہ پڑھنے والے)کے لیے ’حَتّٰی تَطْمَئِنَّ‘ کا حکم ہے کہ اطمینان سے پڑھ۔اطمینان کی حقیقت یہ ہے کہ رکوع،قیام،سجدہ اور جلسہ میں اعضاء کے استقرار کے بعد اتنی دیر ٹھہرے کہ کم از کم ایک بار ’سُبْحَانَ رَبِّيَ الْعَظِیمِ‘ کہہ لے۔اس سے زائد ٹھہرنا مسنون ہے۔
8: سلام اور سلام کے لیے بیٹھنا:اس لیے کہ نمازی سلام کہے بغیر نماز سے فارغ نہیں ہو سکتا،نیز سلام بیٹھے بیٹھے ہی کہے گا،اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:’وَتَحْلِیلُھَا التَّسْلِیمُ‘ ’’اور نماز کی ’’تحلیل‘‘ سلام ہے۔‘‘[5]
9: نماز کے ارکان میں ترتیب کو ملحوظ رکھنا:تکبیر تحریمہ سے پہلے نمازی سورئہ فاتحہ نہیں پڑھ سکتا اور نہ رکوع سے پہلے سجدہ کر سکتا ہے،اس لیے کہ نماز کی کیفیت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے اور آپ نے صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کو اسی کی تعلیم دی ہے،چنانچہ آپ کا فرمان ہے:
’صَلُّوا کَمَا رَأَیْتُمُونِي أُصَلِّي‘ ’’اس طرح نماز پڑھو،جس طرح تم نے مجھے پڑھتے دیکھا ہے۔‘‘[6]
لہٰذا نماز میں کوئی مقدم رکن،مؤخر نہیں کیا جاسکتا اور نہ مؤخر کو مقدم کرنا جائز ہے،ورنہ نماز باطل ہو جائے گی۔
٭نماز کی سنتیں:
نماز میں سنتیں دو طرح کی ہیں،مؤکدہ جو واجب کے حکم میں ہیں اور غیر مؤکدہ جو مستحب کے درجہ میں ہیں۔
٭مؤکدہ سنتیں:
1: فجر کی نماز اور ظہر،عصر،مغرب اور عشاء کی پہلی دو رکعتوں میں سورئہ فاتحہ پڑھنے کے بعد کوئی مکمل سورت یا قرآن پاک کی ایک دو آیات تلاوت کرنا۔چنانچہ مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ظہر کی پہلی دو رکعتوں میں فاتحۃ الکتاب اور دو سورتیں پڑھتے تھے اور پچھلی دو رکعتوں میں صرف ام الکتاب(سورئہ فاتحہ)اور کبھی کبھی کوئی آیت
اونچی آواز سے پڑھ لیتے تھے۔[1]
2: امام اور منفرد کا ’سَمِعَ اللّٰہُ لِمَنْ حَمِدَہُ،رَبَّنَا وَلَکَ الْحَمْدُ‘ اور مقتدی کا صرف ’رَبَّنَا وَلَکَ الْحَمْدُ‘ کہنا۔اس لیے کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رکوع سے پیٹھ اٹھاتے ہوئے ’سَمِعَ اللّٰہُ لِمَنْ حَمِدَہُ‘ کہتے،پھر کھڑے ہو کر ’رَبَّنَا وَلَکَ الْحَمْدُ‘ کہتے۔[2]
اور اس لیے بھی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:’’جب امام ’سَمِعَ اللّٰہُ لِمَنْ حَمِدَہُ‘ کہے تو تم ’اَللَّھُمَّ!رَبَّنَا لَکَ الْحَمْدُ‘ کہو۔[3]
3: رکوع میں تین بار ’سُبْحَانَ رَبِّيَ الْعَظِیمِ‘ اور سجدہ میں تین بار ’سُبْحَانَ رَبِّيَ الْأَعْلٰی‘ کہنا۔اس لیے کہ جب آیت مبارکہ﴿فَسَبِّحْ بِاسْمِ رَبِّكَ الْعَظِيمِ﴾’’اپنے رب عظیم کی تسبیح بیان کرو۔‘‘ نازل ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’رکوع میں اس کی تعمیل کرو‘‘اور جب آیت مبارکہ﴿سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى﴾’’اپنے اعلی رب کی تسبیح بیان کرو،‘‘ نازل ہوئی تو فرمایا:’’سجدہ میں اس کے مطابق ذکر کرو۔‘‘[4]
4: سجدے کو جاتے وقت اور سجدے سے جلسہ یا قیام یا تشہد کی طرف منتقل ہوتے وقت تکبیر ’اَللّٰہُ أَکْبَرُ‘ کہنا۔اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ان مواقع میں یہ ثابت ہے۔[5]
5: پہلا اور دوسرا تشہد اور ان کے لیے بیٹھنا بھی واجبات میں شمار ہے۔
6: الفاظ تشہد پڑھنا جوکہ یہ ہیں:’اَلتَّحِیَّاتُ لِلّٰہِ وَالصَّلَوَاتُ وَالطَّیِّبَاتُ،اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ أَیُّھَا النَّبِيُّ وَرَحْمَۃُ اللّٰہِ وَبَرَکَاتُہُ،اَلسَّلَامُ عَلَیْنَا وَعَلٰی عِبَادِ اللّٰہِ الصَّالِحِینَ،أَشْھَدُ أَنْ لَّا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ،وَأَشْھَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہُ وَرَسُولُہُ‘ ’’(میری)تمام قولی،بدنی اور مالی عبادتیں اللہ ہی کے لیے ہیں۔اے نبی!آپ پر سلام،اللہ کی رحمت اور اس کی برکات ہوں،ہم پر اور اللہ کے نیک بندوں پر(بھی)سلامتی ہو،میں اقرار کرتاہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے اور اقرار کرتا ہوں کہ محمد(صلی اللہ علیہ وسلم)اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔‘‘[1]
7: جہری نمازوں،یعنی مغرب اور عشاء کی پہلی دو رکعتوں اور نماز فجر(کی دونوں رکعتوں)میں جہری قراء ت کرنا اور باقی رکعات میں آہستہ تلاوت کرنا۔
8: سری نمازوں میں آہستہ قراء ت کرنا:یہ فرض نمازوں کے لیے حکم ہے۔نوافل میں آہستہ قراء ت کرنا،اگر وہ نوافل دن کے وقت پڑھ رہاہو،سنت ہے۔اگر رات کے وقت پڑھے تو جہری پڑھے گا،اِلاَّ یہ کہ اونچی آواز سے قراء ت کرنے میں کسی کو تکلیف کا خطرہ ہے تو پھر آہستہ قراء ت کرنا مسنون ہے۔
9: آخری تشہد میں(التحیات)کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر درج ذیل درود پڑھنا:
((اَللّٰھُمَّ!صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّعَلٰی آلِ مُحَمَّدٍ،کَمَا صَلَّیْتَ عَلٰی إِبْرَاھِیمَ وَعَلٰی آلِ إِبْرَاھِیمَ،إِنَّکَ حَمِیدٌ مَّجِیدٌ،اَللّٰھُمَّ!بَارِکْ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّ عَلَی آلِ مُحَمَّدٍِ،کَمَا بَارَکْتَ عَلٰی إِبْرَاھِیمَ وَعَلٰی آلِ إِبْرَاھِیمَ،إِنَّکَ حَمِیدٌ مَّجِیدٌ))
’’اے اللہ!محمد(صلی اللہ علیہ وسلم)اور آپ کی آل پر رحم وکرم فرما،جیسا کہ تونے ابراہیم(علیہ السلام)اور ان کی آل پر رحمت فرمائی تھی یقینا تو ستائش وشان والا ہے۔اے اللہ!محمد(صلی اللہ علیہ وسلم)اور آپ کی آل پر برکت فرما،جیسا کہ تونے ابراہیم(علیہ السلام)اور ان کی آل پر برکت فرمائی تھی۔یقینا تو ستائش و شان والا ہے۔‘‘[2]
٭ غیر مؤکدہ امور:
1 دعائے استفتاح:
((سُبْحَانَکَ اللّٰھُمَّ وَبِحَمْدِکَ وَتَبَارَکَ اسْمُکَ وَتَعَالٰی جَدُّکَ وَلَا إِلٰہَ غَیْرُکَ))
’’اے اللہ!تو پاک ہے(میں)تیری تعریف کرتا ہوں،تیرا نام برکت والا ہے،تیری عظمت بلند و بالا ہے اورتیرے سوا کوئی معبود نہیں ہے۔‘‘[3]
2: پہلی رکعت میں ’’تعوذ‘ اور ہر رکعت میں آہستہ بسم اللہ پڑھنی چاہیے۔اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
﴿فَإِذَا قَرَأْتَ الْقُرْآنَ فَاسْتَعِذْ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ﴾’’جب تو قرآن پڑھے تو شیطان مردود سے اللہ کی پناہ مانگ۔‘‘[1]
3: تکبیر تحریمہ،رکوع جاتے اور رکوع سے سر اٹھاتے وقت،کندھوں کے برابر ہاتھ اٹھانا(رفع الیدین کرنا)اور اسی طرح دوسری رکعت سے اٹھتے وقت بھی۔ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں:((کَانَ رَسُولُ اللّٰہِ صلی اللّٰه علیہ وسلم إِذَا قَامَ لِلصَّلَاۃِ رَفَعَ یَدَیْہِ حَتّٰی تَکُونَا بِحَذْوِ مَنْکِبَیْہِ،ثُمَّ کَبَّرَ،فَإِذَا أَرَادَ أَنْ یَّرْکَعَ فَعَلَ مِثْلَ ذٰلِکَ،وَإِذَا رَفَعَ مِنَ الرُّکُوعِ فَعَلَ مِثْلَ ذٰلِکَ))
’’نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز کے لیے کھڑے ہوتے تو اپنے دونوں ہاتھ کندھوں کے برابر اٹھا کر ’اَللّٰہُ أَکْبَرُ‘ کہتے،پھر جب رکوع کا ارادہ کرتے تو اسی طرح اٹھاتے اور جب رکوع سے اٹھتے تو بھی اسی طرح رفع الیدین کرتے۔‘‘[2]
’وَإِذَا قَامَ مِن الرَّکْعَتَینِ رَفَعَ یَدَیہِ‘ ’’اور جب دو رکعتوں سے کھڑے ہوتے تو رفع الیدین کرتے۔‘‘[3]
پھر فرماتے:’سَمِعَ اللّٰہُ لِمَنْ حَمِدَہُ،رَبَّنَا وَلَکَ الْحَمْدُ‘ ’’اللہ نے اس کی(دعا)سن لی جس نے اس کی حمد کی،اے ہمارے رب!اور تیرے ہی لیے تعریف ہے۔‘‘[4]
4: قراء ت ’’فاتحۃ الکتاب‘‘ کے بعد آمین کہنا۔کیونکہ مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب﴿غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ﴾پڑھتے تو اونچی آواز سے آمین کہتے۔[5]
اور اس لیے بھی کہ آپ کا فرمان ہے:((إِذَا قَالَ الإِْمَامُ:﴿غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ﴾فَقُولُوا:آمِینَ،فَإِنَّہُ مَنْ وَّافَقَ قَوْلُہُ قَوْلَ الْمَلَائِکَۃِ غُفِرَلَہُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِہِ))
’’جب امام﴿غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ﴾پڑھے تو تم آمین کہو،جس کی آواز فرشتوں کی آواز کے موافق ہو گئی،اس کے پہلے گناہ معاف ہوجائیں گے۔‘‘[6]
5: صبح کی نماز میں لمبی،عصر و مغرب میں مختصر اور عشاء و ظہر میں درمیانی قراء ت کرنا۔اس لیے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کو لکھا کہ ’’صبح کی نماز میں طوال مفصل(سورئہ حجرات سے سورئہ بروج تک)اور ’’ظہر‘‘ میں اوساط مفصل(سورئہ بروج سے سورئہ بینہ تک)اور مغرب کی نماز میں قصار مفصل﴿لَمْ يَكُنِ الَّذِينَ﴾سے آخر تک)پڑھو۔[1]
6: دو سجدوں کے درمیان جلسہ میں یہ دعا پڑھنا:’اَللّٰھُمَّ اغْفِرْلِي وَارْحَمْنِي وَاجْبُرْنِي وَاھْدِنِي وَارْزُقْنِي‘
’’اے میرے اللہ!مجھے معاف کر دے،مجھ پر رحم فرما،میرے نقصان پورے کر دے،مجھے ہدایت دے اور مجھے رزق عطا فرما۔‘‘[2]
اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دو سجدوں کے درمیان یہ دعا پڑھتے تھے۔
7: صبح کی آخری رکعت یا وتر کی رکعت میں قراء ت کے بعد یا رکوع سے سر اٹھاکر دعائے قنوت پڑھنا۔
جس کے الفاظ یہ ہیں:’اَللّٰھُمَّ اھْدِنِي فِیمَنْ ھَدَیْتَ،وَعَافِنِي فِیمَنْ عَافَیْتَ،وَتَوَلَّنِي فِیمَنْ تَوَلَّیْتَ،وَبَارِکْ لِي فِیمَا أَعْطَیْتَ،وَقِنِي شَرَّمَا قَضَیْتَ،إِنَّکَ تَقْضِي وَلَا یُقْضٰی عَلَیْکَ،إِنَّہُ لَا یَذِلُّ مَنْ وَّالَیْتَ،(وَلَا یَعِزُّ مَنْ عَادَیْتَ)،تَبَارَکْتَ رَبَّنَا وَتَعَالَیْتَ‘
’’اے اللہ!مجھے ہدایت کی راہ دکھا کر ان لوگوں میں شامل فرما،جنھیں تو نے ہدایت نصیب فرمائی ہے اور مجھے عافیت دے کر ان لوگوں میں شامل فرما،جنھیں تو نے عافیت سے نوازا ہے اور مجھے(اپنا)دوست بنا کر ان لوگوں میں شامل فرما،جنھیں تو نے(اپنا)دوست بنایا ہے اور جو تونے مجھے عطا کر رکھا ہے اس میں مجھے برکت عطا فرما۔اور جو تونے(برا)فیصلہ کر رکھا ہے اس کے شر سے مجھے بچالے۔اس لیے کہ تو فیصلے فرماتا ہے تجھ پر فیصلہ لاگو نہیں کیا جا سکتا۔اور یہ کہ جس سے تو دوستی لگالے وہ کبھی رسوا نہیں ہوتا اور جسے تو دشمن بنا لے وہ کبھی عزت نہیں پاسکتا۔اے ہمارے رب!تو بابرکت اور بلند مقام والا ہے۔‘‘[3]
اسی طرح یہ دعا بھی ثابت ہے:’اَللّٰھُمَّ!إِنِّي أَعُوذُ بِرِضَاکَ مِنْ سَخَطِکَ وَبِمُعَافَاتِکَ مِنْ عُقُوبَتِکَ وَأَعُوذُبِکَ مِنْکَ لَا أُحْصِي ثَنَائً عَلَیْکَ،أَنْتَ کَمَا أَثْنَیْتَ عَلٰی نَفْسِکَ‘
’’اے اللہ!میں تیری ناراضگی سے تیری رضا کے ساتھ پناہ چاہتا ہوں۔اور تیری سزا سے تیری بخشش کے ساتھ پناہ چاہتا ہوں۔تیری سزا سے تیری ہی پناہ چاہتا ہوں میں تجھ پر تیری حمد وثنا کو شمار نہیں کر سکتا تو ایسا ہی ہے جیسا کہ تو نے خود اپنی تعریف کی ہے۔‘‘[1]
8: آپ جس انداز٭ پر بیٹھتے تھے،اسی طرح بیٹھنا،یعنی بیٹھنے کے جملہ مواقع میں بائیں پاؤں پر بیٹھنا اور دایاں پاؤں کھڑا رکھنا اور آخری تشہد کے موقع پر سرین پر بیٹھنا اور بایاں پاؤں دائیں پنڈلی کے نیچے سے نکالنا اور بایاں ہاتھ بائیں گھٹنے پر انگلیاں پھیلا کر رکھنا اور دائیں ہاتھ کی ساری انگلیاں بند کرنا اور شہادت کی انگلی سے اشارہ کرنا،اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ہے کہ آپ تشہد میں بیٹھتے تو دایاں ہاتھ دائیں ران پر رکھتے اور بایاں ہاتھ بائیں ران پر اور(دائیں ہاتھ کی)شہادت کی انگلی سے اشارہ کرتے،اس حالت میں نگاہ اشارہ سے آگے متجاوز نہ ہوتی تھی۔[2]
9: سینے پر دایاں ہاتھ بائیں کلائی پر رکھنا۔صحابی حضرت سہل رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
((کَانَ النَّاسُ یُؤْمَرُونَ أَنْ یَّضَعَ الرَّجُلُ یَدَہُ الْیُمْنٰی عَلٰی ذِرَاعِہِ الْیُسْرٰی فِي الصَّلَاۃِ))’’لوگوں کو حکم دیا جاتا تھا کہ نماز میں دایاں ہاتھ٭ بائیں کلائی پر رکھیں۔‘‘[3]
ایک روایت میں ہے کہ حضرت جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
((مَرَّ رَسُولُ اللّٰہِ صلی اللّٰه علیہ وسلم بِرَجُلٍ وَّھُوَ یُصَلِّي وَقَدْ وَضَعَ یَدَہُ الْیُسْرٰی عَلٰی الْیُمْنٰی فَانْتَزَعَھَا وَوَضَعَ الْیُمْنٰی عَلَی الْیُسْرٰی))
’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک ایسے شخص کے پاس سے گزرے،جو اپنا بایاں ہاتھ دائیں پر رکھ کر نماز پڑھ رہا تھا تو آپ نے اس کا ہاتھ کھینچ کر دایاں ہاتھ بائیں پر کر دیا۔‘‘[4]
٭ بیٹھنے کی مذکورہ کیفیت میں بروایت ابو حمید رضی اللہ عنہ مروی ہے،کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب دو رکعتوں کے بعد بیٹھتے تو بائیں پاؤں پر بیٹھتے اور دایاں پاؤں کھڑا رکھتے اور جب آخری رکعت میں بیٹھتے تو بایاں پاؤں آگے کرتے اور دوسرا(دایاں)کھڑا کرتے اور سرین پر بیٹھ جاتے۔یہ کیفیت ابو حمید رضی اللہ عنہ نے صحابہ رضی اللہ عنہم کی ایک جماعت کے سامنے بیان کی تھی،جس کی انھوں نے تصدیق کی۔(مؤلف)| قیام میں سیدھا کھڑا ہونا ضروری ہے،دایاں ہاتھ بائیں کلائی(ہتھیلی سے لے کر کہنی تک)پر رکھیں تو ہاتھ آسانی سے سینہ پر آتے ہیں،لہٰذا یہی مسنون ہے۔اس کیفیت میں ہاتھ ناف کے نیچے تک نہیں جاتے۔(الاثری)
10: سجدے میں دعا کرنا،اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:
((أَلَا!وَإِنِّي نُھِیتُ أَنْ أَقْرَأَ الْقُرْآنَ رَاکِعًا أَوْ سَاجِدًا،وَأَمَّا الرُّکُوعُ فَعَظِّمُوا فِیہِ الرَّبَّ،وَأَمَّا السُّجُودُ فَاجْتَھِدُوا فِي الدُّعَائِ،فَقَمِنٌ۔حَقِیقٌ۔أَنْ یُّسْتَجَابَ لَکُمْ))
’’سنو!مجھے منع کیا گیا ہے کہ میں رکوع یا سجدے میں قرآن کی قراء ت کروں،رکوع میں رب تعالیٰ کی تعظیم بیان کرو اور سجدے میں دعا کی کوشش کرو،تمھارے لیے قبولیت کی پوری توقع ہے۔‘‘[1]
11: آخری تشہد میں درود کے بعد ان کلمات مبارکہ کے ساتھ دعا کرنی چاہیے:((اَللَّھُمَّ!إِنِّي أَعُوذُبِکَ مِنْ عَذَابِ جَھَنَّمَ،وَمِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ،وَمِنْ فِتْنَۃِ الْمَحْیَا وَالْمَمَاتِ،وَمِنْ شَرِّ فِتْنَۃِ الْمَسِیحِ الدَّجَّالِ))
’’اے اللہ!میں عذاب جہنم،عذاب قبر،آزمائش حیات وممات اور فتنۂ مسیح دجال سے تیری حفاظت کا طلب گار ہوں۔‘‘[2]
اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:’’جب تم میں سے کوئی ایک آخری تشہد سے فارغ ہو جائے تو(مندرجہ بالا)چار چیزوں سے اللہ کی پناہ کی درخواست کرے۔‘‘[3]
12: دائیں اور بائیں طرف ’اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ وَرَحْمَۃُ اللّٰہِ‘ کہنا،اس لیے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم دائیں اور بائیں طرف منہ کرکے سلام پھیرا کرتے تھے،یہاں تک کہ آپ کے رخسار کی سفیدی مقتدیوں کو نظر آتی تھی۔[4]
13: سلام کے بعد درج ذیل احادیث کے مطابق ذکر و دعا کرنا۔
ایک بار ’اَللّٰہُ أَکْبَرُ‘[5]
ثوبان رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز سے فارغ ہوتے تو تین بار ’أَسْتَغْفِرُ اللّٰہَ‘ ’’میں اللہ تعالیٰ سے بخشش چاہتا ہوں ‘‘کہتے۔پھر فرماتے:
((اَللَّھُمَّ!أَنْتَ السَّلَامُ وَمِنْکَ السَّلَامُ تَبَارَکْتَ یَاذَا الْجَلَالِ وَالإِْکْرَامِ))
’’اے اللہ!تو سلامتی والا ہے اور سلامتی تیری ہی طرف سے ہے،اے جلالت وعزت کے مالک!تو برکت والا ہے۔‘‘[6]
معاذ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دن میرا ہاتھ پکڑ کر فرمایا:
((یَا مُعَاذُ!إِنِّي لَأُحِبُّکَ::أُوصِیکَ یَا مُعَاذُ!لَا تَدَعَنَّ فِي دُبُرِ کُلِّ صَلَاۃٍ أَنْ تَقُولَ:اَللَّھُمَّ!أَعِنِّي عَلٰی ذِکْرِکَ وَشُکْرِکَ وَحُسْنِ عِبَادَتِکَ))
’’اے معاذ!مجھے تجھ سے محبت ہے،میں تجھے وصیت کرتا ہوں کہ کسی نماز کے بعد یہ کلمات کہنا نہ چھوڑنا۔اے اللہ!اپنے ذکر،شکر اور اچھی عبادت کے لیے میری مدد کر۔‘‘[1]
مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہر فرض نماز کے بعد یہ ذکر کرتے تھے:
((لَا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہُ لَا شَرِیکَ لَہُ،لَہُ الْمُلْکُ وَلَہُ الْحَمْدُ،وَھُوَ عَلٰی کُلِّ شَيْئٍ قَدِیرٌ،اَللَّھُمَّ!لَا مَانِعَ لِمَا أَعْطَیْتَ وَلَا مُعْطِيَ لِمَا مَنَعْتَ،وَلَا یَنْفَعُ ذَا الْجَدِّ مِنْکَ الْجَدُّ))
’’ایک اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں،اس کا کوئی شریک نہیں،ملک اسی کا ہے اور تعریف بھی اسی کے لیے ہے اور وہی ہر چیز پر قادر ہے،اے اللہ!جو تو دے،اسے کوئی روک نہیں سکتا اور جو تو روک دے،اسے کوئی دے نہیں سکتا اور کسی بڑے کو اس کی بڑائی تیری گرفت سے نہیں بچاسکتی۔‘‘[2]
ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’جو شخص ہر نماز کے بعد ’’آیۃ الکرسی‘‘ پڑھتا ہے،مرنے کے بعد وہ بہشت میں داخل ہو گا۔[3]
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبیٔ کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’جو شخص ہر نماز کے بعد33 بار ’سُبْحَانَ اللّٰہِ‘،33 بار ’اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ‘اور 33 بار ’اَللّٰہُ أَکْبَرُ‘ کہے اور ایک بار ’لَا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہُ لَا شَرِیکَ لَہُ،لَہُ الْمُلْکُ وَلَہُ الْحَمْدُ،وَھُوَ عَلٰی کُلِّ شَيْئٍ قَدِیرٌ‘ کہے تو اس کے سب گناہ معاف ہو جائیں گے،چاہے وہ سمندر کی جھاگ کے برابر ہی ہوں۔[4]
سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہر نماز کے بعد یہ کلمات پڑھتے تھے:
((اَللَّھُمَّ!إِنِّي أَعُوذُ بِکَ مِنَ الْبُخْلِ،وَأَعُوذُ بِکَ مِنَ الْجُبْنِ،وَأَعُوذُ بِکَ أَنْ أُرَدَّ إِلٰی أَرْذَلِ الْعُمُرِ،وَأَعُوذُ بِکَ مِنْ فِتْنَۃِ الدُّنْیَا،وَأَعُوذُ بِکَ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ))
’’اے اللہ!میں بخل سے تیری پناہ پکڑتا ہوں اور بزدلی سے تیری پناہ پکڑتا ہوں اور یہ کہ میں رذیل عمر میں ڈال
دیا جاؤں،اس سے بھی تیری پناہ مانگتا ہوں اور دنیا کی آزمائش اور عذاب قبر سے تیری پناہ طلب کرتاہوں۔‘‘[1]
سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ یہ دعا اپنے بچوں کو بھی سکھاتے تھے۔[2]
٭نماز میں ناپسندیدہ امور:
1: نماز میں سر کو ادھر ادھر پھیرنا یا آنکھ سے ادھر ادھر دیکھنا:رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:
((ھُوَ اخْتِلَاسٌ یَّخْتَلِسُہُ الشَّیْطَانُ مِنْ صَلَاۃِ الْعَبْدِ))’’یہ ایک جھپٹ ہے،جو شیطان بندے کی نماز پر مارتا ہے۔‘‘[3]
2: آسمان کی طرف دیکھنا:اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
((مَا بَالُ أَقْوَامٍ یَّرْفَعُونَ أَبْصَارَھُمْ إِلَی السَّمَائِ فِي صَلَاتِھِمْ،لَیُنْتَھَیَنَّ عَنْ ذٰلِکَ،أَوْلَتُخْطَفَنَّ أَبْصَارُھُمْ))
’’جو لوگ نماز میں اپنی نظریں آسمان کی طرف اٹھاتے ہیں،وہ اس کام سے رک جائیں یا پھر ان کی نگاہیں اچک لی جائیں گی۔‘‘[4]
3: پہلو(کوکھ)پر ہاتھ رکھنا:اس لیے کہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلوؤں پر ہاتھ رکھ کر نماز پڑھنے سے منع فرمایا۔[5]
4: لٹکے ہوئے بالوں،آستین یا کپڑوں کو سمیٹنا اور درست کرنا:کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’أْمِرْتُ أَنْ أَسْجُدَ عَلٰی سَبْعَۃِ أَعْظُمٍ وَّلَا أَکُفَّ ثَوْبًا وَّلَا شَعْرًا‘
’’مجھے سات ہڈیوں پر سجدہ کرنے کا حکم دیا گیا ہے اور یہ کہ میں کپڑے یا بالوں کو نہ سمیٹوں۔‘‘[6]
5: انگلیوں کوایک دوسری میں داخل کرنا اور انھیں چٹخانا:اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کو اس طرح کرتے دیکھا تو فرمایا:’لَا تُفَقِّعْ أَصَابِعَکَ وَأَنْتَ فِي الصَّلَاۃِ‘ ’’نماز میں اپنی انگلیوں کو نہ چٹخا۔‘‘[7]
6: سجدے کی جگہ پر ایک سے زیادہ بار کنکریوں پر ہاتھ پھیرنا:اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:
((إِذَا قَامَ أَحَدُکُمْ إِلَی الصَّلَاۃِ فَلَا یَمْسَحِ الْحَصٰی،فَإِنَّ الرَّحْمَۃَ تُوَاجِہُہُ))
’’جب تم سے کوئی نماز کے لیے کھڑا ہو تو کنکریوں کو نہ چھوئے،اس لیے کہ رحمت اس(نمازی)کے سامنے ہوتی ہے۔‘‘[1]
نیز آپ کا فرمان ہے:’إِنْ کُنتَ فَاعِلًا فَوَاحِدَۃً‘ ’’اگر تو نے ایسا کرنا ہی ہے تو ایک بار کر۔‘‘[2]
7: کوئی ایسا بے فائدہ کام کرنا،جو نماز کے خشوع میں مخل ہو،مثلاً:لباس یا داڑھی کے بالوں کو ہاتھ لگاتے رہنا یا جائے نماز اور دیواروں کے رنگوں اور ڈیزائنوں کو دیکھتے رہنا وغیرہ۔اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’اُسْکُنُوا فِي الصَّلَاۃِ‘ ’’نماز میں سکون اختیار کرو۔‘‘[3]
8: رکوع یا سجدے میں تلاوت قرآن کرنا:اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
((نُھِیتُ أَنْ أَقْرَأَ الْقُرْآنَ رَاکِعًا أَو سَاجِدًا))’’مجھے رکوع یا سجدے میں قراء ت قرآن سے منع کیا گیا ہے۔‘‘[4]
9: پاخانہ یا پیشاب کو روکے رکھنا:
10: اسی طرح کھانے کی موجودگی میں نماز شروع کر دینا:اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:
((لَا صَلَاۃَ بِحَضْرَۃِ الطَّعَامِ،وَلَا ھُوَ یُدَافِعُہُ الْأَخْبَثَانِ))’’کھانے کی موجودگی اور پاخانہ وپیشاب کی حاجت میں نماز جائز نہیں ہے۔‘‘[5]
11: تشہد میں ایڑیوں پر بیٹھنا اور سجدے میں بازو زمین پر بچھا دینا:اس لیے کہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں:
((وَکَانَ(رَسُولُ اللّٰہِ صلی اللّٰه علیہ وسلم)یَنْھٰی عَنْ عُقْبَۃِ الشَّیْطَانِ،وَیَنْھٰی أَنْ یَّفْتَرِشَ الرَّجُلُ ذِرَاعَیْہِ افْتِرَاشَ السَّبُعِ))
’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم شیطان کی طرح بیٹھنے سے منع فرمایا کرتے تھے(ایڑیوں پر بیٹھنے)اور اس سے بھی روکا کرتے تھے کہ انسان(سجدے)میں اپنے بازو درندے کی طرح زمین پر بچھا دے۔‘‘[6]
٭نماز کو باطل کرنے والی چیزیں:
1: نماز کا کوئی رکن چھوٹ جائے،بشرطیکہ نماز میں یا نماز کے فوراً بعد اس کا تدارک نہ کرے۔اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص کو جس نے آپ کے سامنے نماز پڑھی اور اطمینان واعتدال کو،جوکہ رکن نماز ہے،ترک کیا تو آپ نے فرمایا:’اِرْجِعْ فَصَلِّ فَإِنَّکَ لَمْ تُصَلِّ‘ ’’واپس جا،نماز پڑھ،اس لیے کہ تو نے نماز نہیں پڑھی۔‘‘[1]
2: نماز میں کھانا یا پینا یا کسی سے کوئی بات کرنا:اس لیے کہ آپ کا فرمان ہے:’إِنَّ فِي الصَّلَاۃِ شُغْلًا‘ ’’بے شک نماز میں(اللہ تعالیٰ کے ساتھ)مصروفیت ہوتی ہے۔‘‘[2]
3: اصلاحِ نماز کے علاوہ کوئی اور بات کرنا:اللہ عزوجل کا ارشاد ہے:﴿وَقُومُوا لِلّٰهِ قَانِتِينَ﴾’’اور اللہ کے لیے فرماں بردار(خاموش)ہو کر کھڑے ہوجاؤ۔‘‘[3]
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’إِنَّ ھٰذِہِ الصَّلَاۃَ لَا یَصْلُحُ فِیھَا شَيْئٌ مِّنْ کَلَامِ النَّاسِ‘’’بے شک نماز میں لوگوں کی باتوں میں سے کوئی چیز جائز نہیں ہے۔‘‘[4]
البتہ اصلاحِ نماز کے لیے حسب ضرورت اس انداز میں بولنا درست ہے،مثلاً:امام سلام کے بعد اگر مقتدیوں سے دریافت کرے کہ نماز پوری ہو گئی ہے تو اس کے بولنے سے نماز خراب نہیں ہوگی یا امام کو غلطی لگ رہی ہے تو مقتدی اسے قراء ت کر کے بتا دے تو اس میں بھی کوئی حرج نہیں ہے،اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز کے دوران کلام فرمائی اور ذوالیدین رضی اللہ عنہ بھی بولے اور ان کی نماز باطل نہیں ہوئی تھی،ذوالیدین رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کی:اے اللہ کے رسول(صلی اللہ علیہ وسلم!)کیا آپ بھول گئے ہیں یا نماز میں قصر(کمی)ہو گئی ہے۔آپ نے فرمایا:’’نہ میں بھولا ہوں اور نہ ہی نماز میں کوئی کمی ہوئی ہے۔‘‘[5]
4: کھلکھلا کر ہنسنا:البتہ مسکرانے سے نماز باطل نہیں ہو گی،اس لیے کہ مسلمانوں کا اس بات پر اتفاق ہے کہ قہقہہ سے نماز باطل ہو جاتی ہے بلکہ بعض علماء تو اس سے وضو کے ٹوٹنے کے بھی قائل ہیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ہے:
((لَا یَقْطَعُ الصَّلَاۃَ الْکَشْرُ وَلٰکِنْ تَقْطَعُھَا الْقَھْقَھَۃُ))’’مسکراہٹ نماز کو نہیں توڑتی،البتہ قہقہہ سے نماز ٹوٹ جاتی ہے۔‘‘[6]
5: کسی کام میں زیادہ مشغولیت جو عبادت کے منافی ہونے اور دل واعضاء کے نماز کے علاوہ کام میں مشغول ہونے کی وجہ سے نماز کے باطل ہونے کا باعث ہو،ہاں معمولی کام،جیسا کہ پگڑی درست کرنا یا صف کو درست کرنے کے لیے آگے پیچھے ہونا یا ایک ہی بار کسی چیز کی طرف ہاتھ بڑھانا،اس سے نماز باطل نہیں ہوتی۔اس لیے کہ صحیح سند سے ثابت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز کی امامت کراتے ہوئے امامہ بنت زینب رضی اللہ عنہا کو اٹھایا اور نیچے اتارا تھا۔[1]
٭نماز میں نمازی کے لیے کون سی چیزیں جائز ہیں ؟:
1: کوئی معمولی ضروری عمل:اس لیے کہ صحیح حدیث میں اس کا ثبوت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ہے۔[2]
2: اضطراری حالت میں کھانسنا۔
3: صف بندی میں درستی کرنا،یعنی امام کی جہت میں دوسرے مقتدی کو کھینچنا یا آگے پیچھے کرنا،جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابن عباس رضی اللہ عنہا کو بائیں طرف سے دائیں طرف کر دیا تھا،جبکہ وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پہلو میں رات کو نماز تہجد پڑھ رہے تھے۔[3]
4: جمائی لینا اور منہ پر ہاتھ رکھنا۔
5: امام قراء ت بھول جائے تو اسے بتانا یا ’’سہو‘‘ کی صورت میں ’سُبْحَانَ اللّٰہِ‘ کہنا۔اس لیے کہ آپ نے فرمایا:
((مَنْ نَّابَہُ شَيْئٌ فِي صَلاَتِہِ فَلْیَقُلْ:سُبْحَانَ اللّٰہِ))’’جس کو نماز میں کوئی عارضہ لاحق ہو جائے(بھول وغیرہ ہو جائے)تو وہ کہے۔‘‘[4]
6: آگے سے گزرنے والے کو ہٹانا،روکنا،اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:
((إِذَا صَلّٰی أَحَدُکُمْ إِلٰی شَيْئٍ یَّسْتُرُہُ مِنَ النَّاسِ،فَأَرَادَ أَحَدٌ أَنْ یَّجْتَازَ بَیْنَ یَدَیْہِ فَلْیَدْفَعْہُ،فَإِنْ أَبٰی فَلْیُقَاتِلْہُ،فَإِنَّمَا ھُوَ شَیْطَانٌ))
’’تم میں سے کوئی جب ’’سترہ‘‘ کی طرف منہ کر کے نماز پڑھ رہا ہو اور کوئی اس کے آگے سے گزرنا چاہے تو وہ اسے روک دے،اگر انکار کرے تو وہ اس سے لڑائی کرے،اس لیے کہ وہ شیطان ہے۔‘‘[1]
7: دورانِ نماز اگر سانپ یا بچھو آجائے تو اسے قتل کر دے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:’اُقْتُلُوا الْأَسْوَدَیْنِ فِي الصَّلَاۃِ،اَلْحَیَّۃَ،وَالْعَقْرَبَ‘
’’نماز میں دو سیاہ چیزوں،سانپ اور بچھو کو قتل کر دو۔‘‘[2]
8: اپنے ہاتھ کے ساتھ نمازی(حسب ضرورت)خارش کر سکتا ہے،اس لیے کہ یہ قابل معافی معمولی عمل ہے۔
9: اگر کوئی سلام کہے تو نمازی ہتھیلی سے اشارہ کر دے۔اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس طرح کیا تھا۔[3]