نماز کا بیان
اذان واقامت کا بیان
1 اذان کی تعریف:
مخصوص الفاظ کے ساتھ نماز کے اوقات کی اطلاع دینے کا نام ’’اذان‘‘ ہے۔
2 اذان کا حکم:
شہر وقصبہ جات والوں پر نماز کی اذان کہنا فرض کفایہ ہے،اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:
((إِذَا حَضَرَتِ الصَّلَاۃُ فَلْیُؤَذِّنْ لَّکُمْ أَحَدُکُمْ وَلْیَؤُمَّکُمْ أَکْبَرُکُمْ))
’’جب نماز کا وقت ہو جائے تو تم میں سے ایک اذان کہے اور تمھیں تمھارا بڑا امامت کرائے۔‘‘[4]
جبکہ یہ مسافروں،جنگلوں اور صحراؤں میں رہنے والوں کے لیے مسنون ہے(فرض نہیں)،کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:’فَإِذَا کُنْتَ فِي غَنَمِکَ أَوْ بَادِیَتِکَ فَأَذَّنْتَ لِلصَّلَاۃِ فَارْفَعْ صَوْتَکَ بِالنِّدَائِ،فَإِنَّہُ لَا یَسْمَعُ مَدٰی صَوْتِ الْمُؤَذِّنِ جِنٌّ وَّلَا إِنْسٌ وَّلَا شَيْئٌ إِلَّا شَھِدَ لَہُ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ‘
’’جب تو بھیڑ بکریوں میں ہے یا دیہات میں تو اونچی آواز سے نماز کے لیے اذان کہہ،اس لیے کہ جنوں،انسانوں اور دیگر مخلوق میں سے جو بھی مؤذن کی آواز سنے گا،قیامت کے دن اس کے لیے گواہی دے گا۔‘‘[5]
3 اذان کے الفاظ:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابو مخدورہ رضی اللہ عنہ کو اذان کے یہ الفاظ سکھائے،شہادتین قدرے پست آواز سے ادا کیے جائیں:
((اَللّٰہُ أَکْبَرُ،اَللّٰہُ أَکْبَرُ،اَللّٰہُ أَکْبَرُ،اَللّٰہُ أَکْبَرُ،أَشْھَدُ أَنْ لَّا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ،أَشْھَدُ أَنْ لَّا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ،أَشْھَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُولُ اللّٰہِ،أَشْھَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُولُ اللّٰہِ))
(شہادتین کے الفاظ بلند آواز سے دہرائے جائیں،اسی کو ترجیع کہتے ہیں)
((أَشْھَدُ أَنْ لَّا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ،أَشْھَدُ أَنْ لَّا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ،أَشْھَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُولُ اللّٰہِ،أَشْھَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُولُ اللّٰہِ حَيَّ عَلَی الصَّلَاۃِ،حَيَّ عَلَی الصَّلَاۃِ،حَيَّ عَلَی الْفَلَاحِ،حَيَّ عَلَی الْفَلَاحِ،اَللّٰہُ أَکْبَرُ،اَللّٰہُ أَکْبَرُ،لَا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ))
اذان کا ترجمہ:
اللہ سب سے بڑا ہے،اللہ سب سے بڑا ہے۔اللہ سب سے بڑا ہے،اللہ سب سے بڑا ہے،میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی(حقیقی)معبود نہیں ہے۔میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود(حقیقی)نہیں ہے۔میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ کے رسول ہیں۔میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ کے رسول ہیں۔نماز کے لیے آؤ،نماز کے لیے آؤ۔کامیابی کی طرف آؤ،کامیابی کی طرف آؤ۔اللہ سب سے بڑا ہے،اللہ سب سے بڑا ہے۔اللہ کے سوا کوئی معبود(حقیقی)نہیں ہے۔‘‘[1]
اگر صبح کی اذان ہو تو ’حَيَّ عَلَی الْفَلَاحِ‘ کے بعد یہ اضافہ کرے۔
((اَلصَّلَاۃُ خَیْرٌ مِّنَ النَّوْمِ،اَلصَّلَاۃُ خَیْرٌ مِّنَ النَّوْمِ))’’نماز نیند سے بہتر ہے،نماز نیند سے بہتر ہے۔‘‘٭[2]
اقامت:
1 اقامت کا حکم:
پانچوں نمازوں کے لیے تکبیر(اقامت)کہنا سنت واجبہ ہے،خواہ وقتی نماز ہو یا فوت شدہ،اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
((مَا مِنْ ثَلَاثَۃٍ فِي قَرْیَۃٍ وَّلَا بَدْوٍ لَّا تُقَامُ فِیھِمُ الصَّلَاۃُ إِلَّا قَدِ اسْتَحْوَذَ عَلَیْھِمُ الشَّیْطَانُ،فَعَلَیْکَ بِالْجَمَاعَۃِ،فَإِنَّمَا یَأْکُلُ الذِّئْبُ الْقَاصِیَۃَ))
٭ ’اَلصَّلَاۃُ خَیْرٌ مِّنَ النَّوْمِ‘کواصطلاحًا تثویب بھی کہتے ہیں،یعنی دو بارہ نماز کی طرف بلانا۔ابو محذورہ رضی اللہ عنہ کی اذان میں بھی اس کا حکم ہے اور بلال رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صبح کی نماز میں ’اَلصَّلَاۃُ خَیْرٌ مِّنَ النَّوْمِ‘ کہنے کا حکم دیا تھا۔سنن ابن ماجہ،الأذان والسنۃ فیھا،باب السنۃ في الأذان،حدیث:716,715،ومسند أحمد:15,14/6،وجامع الترمذي،الصلاۃ،باب ماجاء في التثویب في الفجر،حدیث:198۔ان اسانید میں کلام ہے تاہم یہ مسئلہ دیگر روایات سے ثابت ہے۔یاد رہے کہ بلال رضی اللہ عنہ کی اذان میں ترجیع نہیں ہے(الاثری)بارش کی صورت میں ’أَلَا!صَلُّوا فِي الرِّحَالِ‘ ’’گھروں میں نماز پڑھ لو‘‘ کہنا بھی مشروع ہے۔(صحیح البخاري الأذان،باب الأذان للمسافرین:،حدیث:632)۔
’’کسی شہر یا دیہات میں تین آدمی ہوں اور ان میں نماز کی اقامت نہ ہو تو ان پر شیطان غالب آجاتا ہے،لہٰذا تم جماعت کو لازم پکڑو کیونکہ بھیڑیا بکریوں میں سے الگ رہنے والی بکری کو کھا جاتا ہے۔‘‘[1]
اور انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا گیا تھا کہ وہ اذان دہری کہیں اور اقامت اکہری۔[2]
2 اقامت کے الفاظ:
اذان کو خواب میں سننے والے صحابی عبد اللہ بن زید رضی اللہ عنہ کی حدیث کے مطابق اقامت کے الفاظ یہ ہیں:٭
((اَللّٰہُ أَکْبَرُ،اَللّٰہُ أَکْبَرُ،أَشْھَدُ أَنْ لَّا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ،أَشْھَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُولُ اللّٰہِ،حَيَّ عَلَی الصَّلَاۃِ،حَيَّ عَلَی الْفَلَاحِ،قَدْقَامَتِ الصَّلَاۃُ،قَدْقَامَتِ الصَّلَاۃُ،اَللّٰہُ أَکْبَرُ،اَللّٰہُ أَکْبَرُ،لَا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ))[3]
((اَلْمُؤَذِّنُ أَمْلَکُ بِالْأَذَانِ وَالإِْمَامُ أَمْلَکُ بِالإِْقَامَۃِ))’’مؤذن اذان کا زیادہ اختیار رکھتا ہے اور امام تکبیر(کہلانے)کا۔‘‘[4]
اس کی سند میں اگرچہ مجہول راوی ہے،تاہم فقہاء کا تعامل اسی پر ہے اور ایک شاہد جو علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے[5] وہ بھی اس کی تائید کرتا ہے۔ہاں اذان کہنے میں مؤذن کو اختیار ہے،جب بھی وقت ہو جائے کسی کا انتظار کیے بغیر اذان کہہ دے۔
اذان وتکبیر میں مستحب امور:
1: اذان ٹھہر ٹھہر کر کہنا اور تکبیر(اقامت)میں جلدی کرنا مستحب ہے۔اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بلال رضی اللہ عنہ کو فرمایا تھا:’إِذَا أَذَّنْتَ فَتَرَسَّلْ فِي أَذَانِکَ،وَإِذَا أَقَمْتَ فَاحْدُرْ‘
’’جب تو اذان کہے تو اپنی اذان میں ٹھہر ٹھہر کر(کلمات)کہہ اور جب اقامت کہے تو جلدی کر۔‘‘[6]
2: سننے والا وہی الفاظ آہستہ آہستہ دہرائے جو مؤذن یا تکبیر کہنے والا کہہ رہا ہے۔البتہ ’حَيَّ عَلَی الصَّلَاۃِ،
٭ تنبیہ:اقامت(تکبیر)امام کی مرضی کے وقت کہنی چاہیے۔امام کی موجودگی اور اجازت کے بغیر مؤذن تکبیر نہ کہے۔امام ترمذی نے بعض اہل علم سے نقل کیا ہے۔
حَيَّ عَلَی الفَلَاحِ‘ کے جواب میں ’لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ إِلَّا بِاللّٰہِ‘ کہے اور ’قَدْ قَامَتِ الصَّلَاۃُ‘ کے جواب میں بھی ’قَدْ قَامَتِ الصَّلَاۃُ‘ ہی کہے اور جو روایت سنن ابو داود میں ہے کہ بلال رضی اللہ عنہ نے اقامت میں ’قَدْ قَامَتِ الصَّلَاۃُ‘ کہا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ’أَقَامَھَا اللّٰہُ وَأَدَامَھَا‘ کہا۔وہ ضعیف ہے،ثابت نہیں۔[1]
اور صحیح مسلم میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
((إذَا سَمِعْتُمُ الْمُؤَذِّنَ فَقُولُوا:مِثْلَ مَا یَقُولُ،ثُمَّ صَلُّوا عَلَيَّ،فَإِنَّہُ مَنْ صَلّٰی عَلَيَّ صَلَاۃً صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ بِھَا عَشْرًا،ثُمَّ سَلُوا اللّٰہَ لِيَ الْوَسِیلَۃَ،فَإِنَّھَا مَنْزِلَۃٌ فِي الْجَنَّۃِ لَا تَنْبَغِي إِلَّا لِعَبْدٍ مِّنْ عِبَادِ اللّٰہِ،وَأَرْجُو أَنْ أَکُونَ أَنَا ھُوَ،فَمَنْ سَأَلَ لِيَ الْوَسِیلَۃَ حَلَّتْ عَلَیْہِ الشَّفَاعَۃُ))
’’جب تم اذان سنو تو مؤذن کی طرح کہو،پھر مجھ پر درود پڑھو،جو ایک بار مجھ پر درود پڑھتا ہے،اللہ اس پر دس رحمتیں نازل کرتا ہے۔پھر میرے لیے ’’وسیلہ‘‘ کا سوال کرو،یہ جنت میں ایک مقام ہے،جواللہ کے بندوں میں سے صرف ایک بندے ہی کو ملے گا اور مجھے امید ہے کہ میں ہی وہ بندہ ہوں،لہٰذا جو اللہ سے میرے لیے وسیلہ کا سوال کرتا ہے اس کے لیے میری سفارش حلال ہو گئی۔‘‘[2]
3: اذان اور اقامت کے درمیان دعائے خیر کرنی چاہیے،جامع ترمذی میں حسن سند کے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے
مروی ہے:’اَلدُّعَائُ لَا یُرَدُّ بَیْنَ الْأَذَانِ وَالإِْقَامَۃِ‘ ’’اذان اور اقامت کے درمیان دعا رد نہیں کی جاتی۔‘‘[3]
مغرب کی اذان کے وقت یہ دعا بھی مروی ہے:((اَللَّھُمَّ!إِنَّ ھٰذَا إِقْبَالُ لَیْلِکَ وَإِدْبَارُ نَھَارِکَ وَأَصْوَاتُ دُعَاتِکَ فَاغْفِرْلِي))
’’اے اللہ!یہ تیری رات کے آنے،تیرے دن کے جانے اور تجھے پکارنے والوں کا وقت ہے،پس مجھے بخش دے۔‘‘[4]