جنازے کا بیان

میت کے قرض کی ادائیگی

اگر میت مقروض ہے تو اس کے قرضہ جات کی ادائیگی جلدی کرنی چاہیے،اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مقروض میت کے قرض کی ادائیگی تک اس کی نماز جنازہ نہیں پڑھتے تھے،آپ نے فرمایا:((نَفْسُ الْمُؤْمِنِ مُعَلَّقَۃٌ بِدَیْنِہِ حَتّٰی یُقْضٰی عَنْہُ))’’مومن کی روح قرض کی ادائیگی تک قرض کے ساتھ معلق رہتی ہے۔‘‘[5]