جنازے کا بیان

میت کے ساتھ چلتے وقت کیا کچھ مکروہ ہے

جنازے کے ساتھ عورتوں کا جانا ناجائز ہے۔ام عطیہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں:’نُھِینَا عَنِ اتِّبَاعِ الْجَنَائِزِ وَلَمْ یُعْزَمْ عَلَیْنَا‘ ’’ہمیں جنازے کے ساتھ جانے سے منع کیا جاتا تھا مگر اسے ہم پر لازم اور ضروری قرار نہیں دیا گیا۔‘‘[2] اسی طرح جنازہ کے پاس اونچی آواز سے ذکر وقراء ت کرنا یا اسی طرح کا کوئی اور کام کرنا ناپسندیدہ اور مکروہ ہے،اس لیے کہ صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم تین اوقات میں آوازیں اونچی کرنا پسند نہیں کرتے تھے:جنازے کے ساتھ،ذکر کے لیے اور لڑائی کے وقت۔یہ حدیث ابن منذر نے قیس بن عبادہ رضی اللہ عنہ کے واسطہ سے ذکر کی ہے۔ اسی طرح جنازہ نیچے رکھنے سے پہلے بیٹھ جانا بھی ناپسندیدہ فعل ہے،اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کاارشاد ہے: ’إِذَا اتَّبَعْتُمْ جَنَازَۃً فَلَا تَجْلِسُوا حَتّٰی تُوضَعَ‘’’جب تم جنازے کے ساتھ جاؤ تو اسے زمین پر رکھنے سے پہلے نہ بیٹھو۔‘‘[3]