جنازے کا بیان

میت کے لیے مغفرت کی دعا کرنا

دفن میں شریک ہونے والوں کے لیے مستحب ہے کہ وہ میت کے لیے استغفار کریں اور اس کے لیے سوال میں ثابت قدمی کی دعا کریں کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدایت ہے:’اِسْتَغْفِرُوا لِأَخِیکُمْ وَسَلُوا اللّٰہَ لَہُ التَّثْبِیتَ،فَإِنَّہُ الْآنَ یُسْأَلُ‘ ’’اپنے بھائی کے لیے مغفرت کی دعا کرو اور اس کے لیے اللہ سے ثابت قدمی کا سوال کرو،اس لیے کہ اب اس سے پوچھا جائے گا۔‘‘[1] آپ دفن سے فارغ ہو کر یہ حکم فرمایا کرتے تھے اور بعض سلف صالحین رحمۃ اللہ علیہم یہ دعا بھی پڑھتے تھے: ((اَللَّھُمَّ!ھٰذَا عَبْدُکَ نَزَلَ بِکَ وَأَنْتَ خَیْرُ مَنْزُولٍ بِہِ فَاغْفِرْلَہُ وَوَسِّعْ مُدْخَلَہُ)) ’’اے اللہ!یہ تیرا بندہ ہے،تیرے پاس آ گیا ہے اور تیرے پاس اچھا مقام نزول ہے،پس اس کی مغفرت کر اور اس کے داخل ہونے کی جگہ وسیع بنا۔‘‘[2]