رسالت ِ محمدیہ پر ایمان
قرآن وسنت سے دلائل
ہر مسلمان یہ عقیدہ رکھتا ہے کہ محمد بن عبداللہ بن عبد المطلب الہاشمی القرشی صلی اللہ علیہ وسلم،جن کا لقب ’’النبی الامی‘‘ ہے،اسماعیل بن ابراہیم خلیل اللہ علیہما السلام کی نسل سے ہیں۔آپ اللہ تعالیٰ کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔آپ کی بعثت گورے اور کالے تمام انسانوں کی طرف ہوئی۔آپ کی آمد سے سلسلۂ نبوت ختم ہوا اور آپ کے بعد آسمان سے وحی کا آنا موقوف ہو گیا۔آپ کے بعد کوئی نیا نبی نہیں آئے گا اور نہ کوئی رسول مقرر کیا جائے گا۔معجزات کے ساتھ آپ کی تائید ہوئی ہے اور سب انبیاء علیہم السلام پر آپ کو فضیلت اور برتری حاصل ہے اور آپ کی امت سب امتوں سے زیادہ شان اور مرتبے والی ہے۔اللہ تعالیٰ نے آپ کی محبت لازم اور آپ کی اتباع وپیروی فرض قرار دی ہے اور آپ کو ایسی خصوصیات عطا ہوئی ہیں جو کسی اور کو حاصل نہیں ہوئیں۔جیسے وسیلہ(ایک مقام)،حوضِ کوثر اور مقام محمود وغیرہ۔
درج ذیل عقلی ونقلی دلائل سے یہ عقیدہ ثابت شدہ ہے۔
قرآن وسنت سے دلائل:
1: اللہ سبحانہ وتعالیٰ اور فرشتوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی اترنے کی شہادت دی ہے۔ارشادِ الٰہی ہے:﴿لَّـٰكِنِ اللّٰهُ يَشْهَدُ بِمَا أَنزَلَ إِلَيْكَ ۖ أَنزَلَهُ بِعِلْمِهِ ۖ وَالْمَلَائِكَةُ يَشْهَدُونَ ۚ وَكَفَىٰ بِاللّٰهِ شَهِيدًا﴿١٦٦﴾
’’لیکن اللہ نے جو(کتاب)آپ پر نازل کی ہے،اللہ اس کے متعلق گواہی دیتا ہے کہ اس نے اسے اپنے علم سے نازل کیا ہے اور فرشتے بھی گواہی دیتے ہیں اور گواہ کے طور پر تو اللہ ہی کافی ہے۔‘‘[2]
2: اللہ تعالیٰ نے آپ کی رسالتِ عامہ،اطاعت ومحبت کی فرضیت اور آپ کے خاتم النبیین ہونے کا ان آیات میں ذکر کیا ہے۔ارشادِ باری ہے:﴿يَا أَيُّهَا النَّاسُ قَدْ جَاءَكُمُ الرَّسُولُ بِالْحَقِّ مِن رَّبِّكُمْ فَآمِنُوا خَيْرًا لَّكُمْ﴾
’’اے لوگو!یقینا تمھارے پاس تمھارے رب کی طرف سے حق کے ساتھ رسول آگیا ہے،پس تم(اس پر)ایمان لاؤ(اسی میں)تمھاری بھلائی ہے۔‘‘[3]ارشاد ہے:﴿يَا أَهْلَ الْكِتَابِ قَدْ جَاءَكُمْ رَسُولُنَا يُبَيِّنُ لَكُمْ عَلَىٰ فَتْرَةٍ مِّنَ الرُّسُلِ أَن تَقُولُوا مَا جَاءَنَا مِن بَشِيرٍ وَلَا نَذِيرٍ ۖ فَقَدْ جَاءَكُم بَشِيرٌ وَنَذِيرٌ﴾
’’اے اہل کتاب!تمھارے پاس رسولوں کے ایک طویل وقفے کے بعد ہمارا(آخری)رسول آگیا ہے جو تمھارے لیے(ہمارے احکام)واضح کر رہا ہے،مبادا یہ کہو کہ ہمارے پاس خوشخبری دینے والا اور ڈرانے والا کوئی نہیں آیا۔سو(اب)تمھارے پاس خوشخبری دینے والا اور ڈرانے والا آگیا ہے۔‘‘[1]
ارشادِ عالی ہے:﴿وَمَا أَرْسَلْنَاكَ إِلَّا رَحْمَةً لِّلْعَالَمِينَ﴿١٠٧﴾
’’اور ہم نے آپ کو تمام جہانوں کے لیے رحمت بنا کر بھیجا ہے۔‘‘[2] ارشادِ گرامی ہے:﴿هُوَ الَّذِي بَعَثَ فِي الْأُمِّيِّينَ رَسُولًا مِّنْهُمْ يَتْلُو عَلَيْهِمْ آيَاتِهِ وَيُزَكِّيهِمْ وَيُعَلِّمُهُمُ الْكِتَابَ وَالْحِكْمَةَ وَإِن كَانُوا مِن قَبْلُ لَفِي ضَلَالٍ مُّبِينٍ﴿٢﴾
’’اسی نے ان پڑھوں میں انھی میں سے ایک رسول بھیجا جو ان کے رو برو اس کی آیات پڑھتا ہے اور انھیں(گناہوں سے)پاک کرتا اور انھیں کتاب وحکمت کی تعلیم دیتا ہے اور یقینا وہ اس سے پہلے کھلی گمراہی میں تھے۔‘‘[3] نیز فرمایا:﴿مُّحَمَّدٌ رَّسُولُ اللّٰهِ﴾’’محمد(صلی اللہ علیہ وسلم)اللہ کے رسول ہیں۔‘‘[4]
مزید فرمایا:﴿تَبَارَكَ الَّذِي نَزَّلَ الْفُرْقَانَ عَلَىٰ عَبْدِهِ لِيَكُونَ لِلْعَالَمِينَ نَذِيرًا﴿١﴾
’’بابرکت ہے وہ ذات جس نے اپنے بندے پر(حق وباطل میں)فرق کرنے والی کتاب نازل کی تاکہ وہ جہان والوں کے لیے ڈرانے والا ہو۔‘‘[5]
اور فرمایا:﴿مَّا كَانَ مُحَمَّدٌ أَبَا أَحَدٍ مِّن رِّجَالِكُمْ وَلَـٰكِن رَّسُولَ اللّٰهِ وَخَاتَمَ النَّبِيِّينَ﴾
’’محمد(صلی اللہ علیہ وسلم)تمھارے مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں ہیں لیکن وہ اللہ کے رسول ہیں اور نبیوں(کے سلسلے)کو ختم کرنے والے ہیں۔‘‘[6]
یہ بھی فرمایا:﴿اقْتَرَبَتِ السَّاعَةُ وَانشَقَّ الْقَمَرُ﴾’’قیامت قریب آگئی اور چاند(دو)ٹکڑے ہو گیا۔‘‘[7]
فرمانِ باری ہے:﴿إِنَّا أَعْطَيْنَاكَ الْكَوْثَرَ﴾’’بے شک ہم نے تجھے کوثر عطا کی۔‘‘[8] فرمانِ ربانی ہے:﴿وَلَسَوْفَ يُعْطِيكَ رَبُّكَ فَتَرْضَىٰ﴾’’اورعنقریب تجھے تیرا پروردگار وہ کچھ دے گا کہ تو راضی ہو جائے گا۔‘‘[9] فرمانِ الٰہی ہے:﴿عَسَىٰ أَن يَبْعَثَكَ رَبُّكَ مَقَامًا مَّحْمُودًا﴾’’قریب ہے کہ تیرا رب تجھے مقامِ محمود پر فائز کر دے۔‘‘[10]
ارشادِ گرامی ہے:﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَطِيعُوا اللّٰهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ﴾
’’اے ایمان والو!اللہ اور اس کے رسول(صلی اللہ علیہ وسلم)کی اطاعت کرو۔‘‘[1] فرمانِ عالی شان ہے:﴿قُلْ إِن كَانَ آبَاؤُكُمْ وَأَبْنَاؤُكُمْ وَإِخْوَانُكُمْ وَأَزْوَاجُكُمْ وَعَشِيرَتُكُمْ وَأَمْوَالٌ اقْتَرَفْتُمُوهَا وَتِجَارَةٌ تَخْشَوْنَ كَسَادَهَا وَمَسَاكِنُ تَرْضَوْنَهَا أَحَبَّ إِلَيْكُم مِّنَ اللّٰهِ وَرَسُولِهِ وَجِهَادٍ فِي سَبِيلِهِ فَتَرَبَّصُوا حَتَّىٰ يَأْتِيَ اللّٰهُ بِأَمْرِهِ﴾
’’کہہ دیجیے کہ اگر تمھارے باپ،بیٹے،بھائی،بیویاں،قبیلہ اور اموال جنھیں تم کماتے ہو اور تجارت جس کے نقصان کا تمھیں خطرہ ہے اور رہائش گاہیں جنھیں تم پسند کرتے ہو،(اگر)یہ سب تمھیں اللہ،اس کے رسول(صلی اللہ علیہ وسلم)اور اس کے راستے میں جہاد کرنے سے زیادہ محبوب وپسندیدہ ہیں تو انتظار کرو،یہاں تک کہ اللہ اپنا فیصلہ(عذاب)لے آئے۔‘‘[2]
ارشادِ مقدس ہے:﴿كُنتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ﴾’’تم ایک بہترین جماعت ہو جو انسانوں(کی اصلاح)کے لیے پیدا کی گئی ہے۔‘‘[3]
فرمانِ الٰہی ہے:﴿وَكَذَٰلِكَ جَعَلْنَاكُمْ أُمَّةً وَسَطًا لِّتَكُونُوا شُهَدَاءَ عَلَى النَّاسِ وَيَكُونَ الرَّسُولُ عَلَيْكُمْ شَهِيدًا﴾
’’اور اسی طرح ہم نے تم کو افضل امت بنایا تاکہ تم لوگوں پر گواہ ہو جاؤ اور رسول تم پر گواہ ہو جائے۔‘‘[4]
فرمانِ باری ہے:﴿قُلْ إِن كُنتُمْ تُحِبُّونَ اللّٰهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ اللّٰهُ وَيَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوبَكُمْ﴾
’’کہہ دیجیے:اگر تم اللہ سے محبت کرتے ہو تو میری اطاعت کرو،اللہ تمھیں محبوب بنالے گا اور تمھارے گناہ معاف کر دے گا۔‘‘[5]
3:خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خبردی ہے کہ آپ اللہ کے نبی ہیں،آپ پر سلسلۂ نبوت ختم کر دیا گیا ہے،اب قیامت تک آپ کی اطاعت لازم ہے اور آپ کا پیغام سب انسانوں کے لیے ہے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:((أَنَا النَّبِيُّ لَا کَذِبْ،أَنَا ابْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبْ))
’’میں نبی ہوں،یہ سچ ہے جھوٹ نہیں،اور میں عبد المطلب(کے بیٹے)کا بیٹا ہوں۔‘‘[6]
فرمانِ نبوی ہے:’إِنِّي عِنْدَ اللّٰہِ مَکْتُوبٌ بِخَاتَمِ النَّبِیِّینَ،وَ إِنَّ آدَمَ لَمُنْجَدِلٌ فِي طِینَتِہِ‘
’’میں اللہ کے ہاں نبیوں(کے سلسلۂ نبوت)کو ختم کرنے والا لکھا ہوا ہوں۔یہ فیصلہ اس وقت سے صادر شدہ ہے،جب آدم(علیہ السلام)اپنی مٹی میں پڑے ہوئے تھے۔‘‘[7]
مزید فرمایا:((إِنَّ مَثَلِي وَ مَثَلَ الْأَنْبِیَائِ مِنْ قَبْلِي کَمَثَلِ رَجُلٍ بَنٰی بَیْتًا فَأَحْسَنَہٗ وَ أَجْمَلَہٗ إِلَّا مَوْضِعَ لَبِنَۃٍ مِّنْ زَاوِیَۃٍ،فَجَعَلَ النَّاسُ یَطُوفُونَ بِہِ وَ یَعْجَبُونَ لَہُ وَ یَقُولُونَ:ہَلَّا وُضِعَتْ ہٰذِہِ اللَّبِنَۃُ،قَالَ فَأَنَا اللَّبِنَۃُ،وَ أَنَا خَاتَمُ النَّبِیِّینَ))
[1]’’میری اور پہلے انبیاء علیہم السلام کی مثال اس طرح ہے جیسا کہ وہ شخص جس نے خوبصورت محل تیار کیا اورایک کنارے پر ایک اینٹ کی جگہ خالی رہنے دی۔لوگ گھوم پھر کر اس محل کو دیکھتے اور پسند کرتے ہیں اور کہتے ہیں:یہ اینٹ کیوں نہیں رکھی گئی ہے؟ آپ نے فرمایا:سو وہ اینٹ میں ہی ہوں اور میں خاتم النبیین ہوں۔‘‘[2]
نیز فرمایا:’وَالَّذِي نَفْسِي بِیَدِہِ!لَا یُؤْمِنُ أَحَدُکُمْ حَتّٰی أَکُونَ أَحَبَّ إِلَیْہِ مِنْ وَّالِدِہِ وَ وَلَدِہِ [وَالنَّاسِ أَجْمَعِینَ] ‘
’’مجھے اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے!تم میں سے کوئی اس وقت تک مومن نہیں ہو سکتا جب تک کہ وہ اپنے والدین،اولاد اور سب لوگوں سے زیادہ مجھے محبوب نہ سمجھے۔‘‘[3]
اور فرمایا:’کُلُّ أُمَّتِي یَدْخُلُونَ الْجَنَّۃَ إِلَّا مَنْ أَبٰی،قَالُوا:یَا رَسُولَ اللّٰہِ!وَ مَنْ یَّأْبٰی؟ قَالَ:مَنْ أَطَاعَنِي دَخَلَ الْجَنَّۃَ،وَ مَنْ عَصَانِي فَقَدْ أَبٰی‘
’’میری ساری امت جنت میں داخل ہو گی مگر جو انکار کر دے۔‘‘ صحابہ نے کہا:اے اللہ کے رسول!کون انکار کرتا ہے؟ آپ نے فرمایا:’’جس نے میری فرمانبرداری کی وہ بہشت میں داخل ہو گا اور جس نے میری نافرمانی کی،یقینا اس نے انکار کیا۔‘‘[4]
یہ بھی فرمایا:’إِنَّ الرِّسَالَۃَ وَالنُّبُوَّۃَ قَدِانْقَطَعَتْ فَلَا رَسُولَ بَعْدِي وَلَا نَبِيَّ‘
’’بے شک رسالت و نبوت کا سلسلہ منقطع ہو چکا ہے۔چنانچہ میرے بعد کوئی رسول ہے نہ نبی۔‘‘[5] ارشادِ نبوی ہے:
((فُضِّلْتُ عَلَی الْأَنْبِیَائِ بِسِتٍّ:أُعْطِیتُ جَوَامِعَ الْکَلِمِ،وَ نُصِرْتُ بِالرُّعْبِ،وَ أُحِلَّتْ لِيَ الْغَنَائِمُ،وَ جُعِلَتْ لِيَ الْأَرْضُ طَہُورًا وَّ مَسْجِدًا،وَ اُرْسِلْتُ إِلَی الْخَلْقِ کَافَّۃً،وَخُتِمَ بِيَ النَّبِیُّونَ))
’’مجھے دیگر انبیاء علیہم السلام پر چھ چیزوں میں فضیلت اور فوقیت دی گئی ہے:مجھے جوامع الکلم[1]عطا کیے گئے ہیں،میری رعب کے ساتھ مدد کی گئی ہے۔[2] میرے لیے غنیمتیں حلال کی گئی ہیں(لڑائی میں حاصل ہونے والا مالِ غنیمت)،میرے لیے زمین پاک کرنے والی چیز اور مسجد بنا دی گئی ہے،میں تمام مخلوق کی طرف رسول بنا کر بھیجا گیا ہوں اور میری آمد سے نبیوں کا سلسلہ ختم کر دیا گیا ہے۔‘‘[3]
فرمانِ نبوی ہے:’مَنْ أَطَاعَنِي فَقَدْ أَطَاعَ اللّٰہَ،وَ مَنْ عَصَانِي فَقَدْ عَصَی اللّٰہَ،وَ مَنْ أَطَاعَ أَمِیرِي فَقَدْ أَطَاعَنِي،وَ مَنْ عَصٰی أَمِیرِي فَقَدْ عَصَانِي‘
’’جس نے میری اطاعت کی،اس نے اللہ کی اطاعت کی اور جس نے میری نافرمانی کی،اس نے اللہ کی نافرمانی کی اور جس نے میرے امیر کی اطاعت کی،اس نے میری اطاعت کی اور جس نے میرے امیر کی حکم عدولی کی،اس نے میری حکم عدولی کی۔‘‘[4] حدیث نبوی ہے:
’إِنَّ الْجَنَّۃَ حُرِّمَتْ عَلَی الْأَنْبِیَائِ کُلِّہِمْ حَتّٰی أَدْخُلَہَا،وَ حُرِّمَتْ عَلَی الْأُمَمِ حَتّٰی تَدْخُلَہَا أُمَّتِي‘
’’میرے داخل ہونے سے پہلے جنت تمام انبیاء پر حرام کر دی گئی ہے اور میری امت کے داخل ہونے سے پہلے جنت تمام امتوں پر حرام کر دی گئی ہے۔‘‘[5]
اور فرمایا:((إِذَا کَانَ یَوْمُ الْقِیَامَۃِ کُنْتُ إِمَامَ النَّبِیِّینَ وَ خَطِیبَہُمْ وَ صَاحِبَ شَفَاعَتِہِمْ غَیْرَ فَخْرٍ))
’’قیامت کے دن میں انبیاء علیہم السلام کا امام اور خطیب ہوں گا اور ان(کی امتوں)کی سفارش کرنے والا ہوں گا اور اس میں کوئی فخر نہیں۔‘‘[6] ارشادِ نبوی ہے:
((أَنَا سَیِّدُ وُلْدِ آدَمَ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ،وَ أَوَّلُ مَنْ یَّنْشَقُّ عَنْہُ الْقَبْرُ،وَ أَوَّلُ شَافِعٍ وَّ أَوَّلُ مُشَفَّعٍ))
’’میں قیامت کے دن اولادِ آدم کا سردار ہوں گا اور سب سے پہلے میں قبر سے اٹھوں گا اور سب سے پہلے سفارش کروں گا اور سب سے پہلے میری سفارش قبول ہوگی۔‘‘[7]
4: پہلی آسمانی کتابیں تورات اور انجیل بھی آپ کی رسالت ونبوت کی شہادت دیتی ہیں بلکہ خود موسیٰ و عیسیٰ علیہما السلام نے بھی آپ کی آمد کی خوشخبری سنائی اور پیشین گوئی کی ہے۔ارشادِ ربانی ہے:﴿وَإِذْ قَالَ عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ يَا بَنِي إِسْرَائِيلَ إِنِّي رَسُولُ اللّٰهِ إِلَيْكُم مُّصَدِّقًا لِّمَا بَيْنَ يَدَيَّ مِنَ التَّوْرَاةِ وَمُبَشِّرًا بِرَسُولٍ يَأْتِي مِن بَعْدِي اسْمُهُ أَحْمَدُ﴾
’’اور جب عیسیٰ ابن مریم(علیہ السلام)نے کہا:’’اے بنی اسرائیل!میں تمھاری طرف اللہ کا رسول ہوں،میں تورات کی تصدیق کرنے والا ہوں جو مجھ سے پہلے تھی اور تمھیں ایک رسول کی بشارت دینے والاہوں،جو میرے بعد آئے گا،جس کا نام احمد ہو گا۔‘‘[1] ارشادِ باری ہے:﴿الَّذِينَ يَتَّبِعُونَ الرَّسُولَ النَّبِيَّ الْأُمِّيَّ الَّذِي يَجِدُونَهُ مَكْتُوبًا عِندَهُمْ فِي التَّوْرَاةِ وَالْإِنجِيلِ يَأْمُرُهُم بِالْمَعْرُوفِ وَيَنْهَاهُمْ عَنِ الْمُنكَرِ وَيُحِلُّ لَهُمُ الطَّيِّبَاتِ وَيُحَرِّمُ عَلَيْهِمُ الْخَبَائِثَ﴾
’’وہ اس رسول کی اتباع کرتے ہیں جو اُمّی نبی ہے،جس(کے اوصاف)کو وہ اپنے ہاں تورات وانجیل میں لکھا ہوا پاتے ہیں،وہ انھیں اچھائی کا حکم کرتا ہے اور برائی سے روکتا ہے اور ان کے لیے پاک چیزیں حلال اور ناپاک چیزیں حرام قرار دیتا ہے۔‘‘[2]
1: تورات میں لکھا ہے:’’میں ان کے بھائیوں میں تیرے جیسا نبی بھیجوں گا۔اپنا کلام اس کے منہ میں ڈالوں گا۔وہ ہر اس چیز کا حکم دے گا جو میں اسے حکم کروں گا اور میرے نام سے جو باتیں وہ کہے گا،اس کی اطاعت نہ کرنے والے سے میں انتقام لوں گا۔‘‘[3]
ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت و رسالت کی یہ بشارت تورات میں آج بھی موجود ہے جو آپ کی اتباع اور اطاعت کو لازم قرار دیتی ہے اور یہ بشارت قومِ یہود پر حجت ہے۔وہ اس کی تاویل کرتے رہیں،انکار کرتے رہیں مگر اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان کہ ’’میں ان کے بھائیوں میں تیرے جیسا نبی بھیجوں گا۔‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت ورسالت کی حقانیت کی شہادت دیتا رہے گا،اس لیے کہ اس الہام میں مخاطب موسیٰ علیہ السلام ہیں اور وہ نبی اور رسول تھے تو ان کی مثل جو آئے گا وہ بھی نبی اور رسول ہوگا اور یہ فرمان کہ ’’ان کے بھائیوں میں نبی بھیجوں گا‘‘ کتنا واضح جملہ ہے کہ اس سے مراد محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں اور فرمانِ ایزدی کہ ’’میں اپنا کلام اس کے منہ میں ڈالوں گا‘‘ آپ کے سوا اور کس پر منطبق ہوسکتا ہے۔جبکہ آپ ہی اللہ کا کلام،قرآن سناتے ہیں اور اس کے حافظ ہیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے تعین کے لیے یہ بھی ایک واضح ثبوت ہے کہ آپ نے(وحی کے ذریعے سے)قیامت تک آنے والے بعض اہم غیبی امور کی خبر دی ہے جبکہ کسی اور نبی کے کلام میں یہ باتیں نہیں ملتیں۔
2: تورات میں یہ بھی ہے:’’اے نبی!ہم نے آپ کو خوشخبری دینے والا اور ڈرانے والا مبعوث کیا ہے۔تو ان پڑھوں کا محافظ ہے اور میرا بندہ اور رسول ہے۔میں نے تیرا نام ’’توکل کرنے والا‘‘ رکھا ہے،تو بدخلق،درشت گفتار نہیں ہے اور نہ بازاروں میں اونچی آوازیں لگانے والا ہے،برائی کو برائی سے نہیں مٹاتا،بلکہ عفو ودرگزر سے کام لیتا ہے:اور انھیں اس وقت موت آئے گی جب گمراہ قوم ٹھیک ہو جائے گی اور وہ کہیں گے:’’اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں ‘‘ ان کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ اندھی آنکھیں،بہرے کان اور بند شدہ دل کھول دے گا۔‘‘
3: نیز تورات میں لکھا ہے:
’’ان لوگوں نے اپنے معبودانِ باطلہ کی پرستش کر کے مجھے غضب ناک کر دیا ہے،میں انھیں ایک اور گروہ کے ذریعے سے تبدیل کروں گا اور جاہل گروہ(شعب جاہل)کے ذریعے سے میں انھیں غصہ دلاؤں گا۔‘‘
’’شعب جاہل‘‘ سے واضح طور پر عرب مراد ہیں کیونکہ آپ کی آمد سے پہلے یہ محض جاہل تھے،اسی لیے یہودی،عربوں کو ’’ان پڑھ‘‘ کہتے تھے۔
4: اسی طرح تورات میں یہ بھی تحریر ہے:’’یہودا سے چھڑی زائل نہیں ہوگی اور مدبر اسی کی نسل میں رہیں گے،یہاں تک کہ وہ آجائے جس کے لیے سب کچھ ہے اور اقوام اسی کے انتظار میں ہوں گی۔‘‘
اقوام وملل ہمارے نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے سوا کس کے انتظار میں تھیں ؟ حقیقت یہ ہے کہ یہود تو بالخصوص شدت سے آپ کا انتظار کر رہے تھے۔البتہ حسد نے انھیں ایمان واتباع کی دولت سے محروم کر دیا۔سورئہ بقرہ میں ارشادِ باری ہے:
﴿وَكَانُوا مِن قَبْلُ يَسْتَفْتِحُونَ عَلَى الَّذِينَ كَفَرُوا فَلَمَّا جَاءَهُم مَّا عَرَفُوا كَفَرُوا بِهِ ۚ فَلَعْنَةُ اللّٰهِ عَلَى الْكَافِرِينَ﴾
’’وہ(یہودی)اس سے پہلے کافروں کے خلاف فتح کی دعائیں مانگتے تھے۔پھر جب ان کے پاس وہ(آخری رسول)آ گیا،جسے انھوں نے پہچان بھی لیا تو اس کا انکار کر دیا،پس ان انکار کرنے والوں پر اللہ کی لعنت ہے۔‘‘[1]
اور انجیل میں درج ذیل خوشخبر یاں موجود ہیں:
1: ’’انھی دنوں یوحنا یہود میں وعظ کرنے آیا اور کہا:’’توبہ کرو،آسمانوں کی بادشاہت(کی آمد)کا وقت قریب آگیا ہے۔‘‘ ’’آسمانی بادشاہت‘‘ کا اشارہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف ہے۔
2: ایک اور مثال میں ارشاد فرمایا:’’آسمانی بادشاہت کی مثال رائی کے دانے کی ہے،جسے انسان اپنے کھیت میں کاشت کرتا ہے جبکہ یہ چھوٹا سا بیج ہوتا ہے،لیکن جب بڑھتا ہے تو بڑی سبزی بن جاتا ہے۔‘‘
انجیل کی یہ عبارت قرآنِ پاک کی اس مثال کی عکاسی کر رہی ہے:
﴿وَمَثَلُهُمْ فِي الْإِنجِيلِ كَزَرْعٍ أَخْرَجَ شَطْأَهُ فَآزَرَهُ فَاسْتَغْلَظَ فَاسْتَوَىٰ عَلَىٰ سُوقِهِ يُعْجِبُ الزُّرَّاعَ لِيَغِيظَ بِهِمُ الْكُفَّارَ﴾
’’اوران کی مثال انجیل میں اس کھیتی کی طرح ہے جس سے ایک کونپل نکلی،پھر وہ مضبوط ہوئی،پھر موٹی ہوئی،پھر وہ تنے پر اس طرح کھڑی ہوئی کہ کسانوں کو بھلی لگی،تاکہ کفار ان کی و جہ سے جلیں اور غضب ناک ہوں۔‘‘[1]
اس سے مراد محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اصحاب رضی اللہ عنہم ہیں۔
3: ’’میں اب جارہا ہوں،اگر میں نہیں جاؤں گا تو وہ فارقلیط(بہت تعریف والا)نہیں آئے گا۔میں چلا گیا تو اسے تمھاری طرف ضرور بھیجوں گا۔جب وہ آئے گا تو سب جہان والوں کو گناہ پر تنبیہ کرے گا۔‘‘
انجیل کے اس جملہ میں کس قدر واضح انداز سے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد کی خوش خبری دی گئی ہے۔اگر اس سے آپ مراد نہ ہوں(تو پھر)فارقلیط(بہت حمد کرنے والایا بہت تعریف کیا ہوا،یعنی محمد یا احمد)کون ہے؟ اور کس نے اقوامِ عالم کو معصیت وگناہ پر ڈانٹ دی ہے؟ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت ہوئی،اس وقت دنیا والے شروفساد کے سمندر میں تیر رہے تھے اور ان میں بت پرستی خیمہ زن تھی اور اہلِ کتاب بھی اس سے مستثنیٰ نہیں تھے۔عیسیٰ علیہ السلام کے بعدحضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے علاوہ وہ کون ہے جس نے آسمانوں اور زمین کے مالک،اللہ جل شانہ،کی طرف دعوت دی؟