زکاۃ کا بیان

پھل اور غلہ جات

غلے سے مراد وہ اشیاء ہیں جو خوراک میں استعمال ہوتی ہیں اور ان کا ذخیرہ کیا جاسکتا ہے،مثلاً:گندم اور جو۔پھلوں میں کھجور،زیتون اور کشمش ہے جن میں زکاۃ ہے۔اللہ سبحانہ وتعالیٰ فرماتا ہے:﴿يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَنْفِقُوا مِنْ طَيِّبَاتِ مَا كَسَبْتُمْ وَمِمَّا أَخْرَجْنَا لَكُمْ مِنَ الْأَرْضِ﴾ ’’اے ایمان والو!اپنی پاک کمائی سے خرچ کرو اور اس سے بھی جو ہم نے تمھارے لیے زمین سے نکالا ہے۔‘‘[2] اور ارشاد عالی ہے:﴿وَآتُوا حَقَّهُ يَوْمَ حَصَادِهِ﴾’’اور اجناس کی کٹائی کے دن اس کا حق ادا کرو۔‘‘[3] اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’لَیْسَ فِیمَا دُونَ خَمْسَۃِ أَوْسُقٍ صَدَقَۃٌ‘’’پانچ وسق سے کم میں زکاۃ نہیں ہے۔‘‘ [4] اور فرمایا:’فِیمَا سَقَتِ السَّمَائُ وَالْعُیُونُ أَوْکَانَ عَثَرِیًّا الْعُشْرُ،وَمَا سُقِيَ بِالنَّضْحِ نِصْفُ الْعُشْرِ‘ ’’بارش،چشمے اور نیچے سے پانی حاصل کرنے والی اجناس اور پھلوں وغیرہ میں دسواں حصہ ہے اور اگر انھیں پانی کھینچ کر پلایا جائے تو بیسواں حصہ ہے۔‘‘ [5]