یومِ آخرت پر ایمان

قرآن وسنت سے دلائل

ہر مسلمان یہ عقیدہ رکھتا ہے کہ دنیا کی یہ زندگی بالآخر ختم ہو جائے گی اور ایک آخری دن ہے جس کے بعد کوئی دن نہیں ہوگا۔پھر دوسری زندگی شروع ہو جائے گی اور وہ آخرت کا گھر ہو گا۔اللہ سبحانہ وتعالیٰ مخلوق کو پھر سے اٹھائے گا تاکہ ان کا محاسبہ کرے،اللہ تعالیٰ نیک لوگوں کو جنت میں ہمیشہ کی نعمتوں سے نوازے گا اور نافرمانوں کو جہنم میں ذلیل کرنے والے عذاب میں مبتلا کر دے گا۔ مگر اس سے پہلے قیامت کی نشانیاں ظاہر ہوں گی،مثلاً:مسیح دجال اور یاجوج ماجوج کا خروج،نزولِ عیسیٰ علیہ السلام،خروجِ دابہ اور سورج کا مغرب سے طلوع ہونا وغیرہ۔ پھر انسانوں کو بے ہوش اور فنا کرنے کے لیے صور پھونکا جائے گا،پھر دوبارہ زندہ کرکے اٹھانے اور جمع کرنے کے لیے صور پھونکا جائے گا۔ہر کوئی ربِ کائنات کے آگے کھڑا ہو گا اور اعمال نامے ہاتھوں میں پکڑا دیے جائیں گے۔کوئی دائیں ہاتھ سے پکڑنے والا ہوگا اور کوئی بائیں ہاتھ سے،ترازو لگے گی،حساب شروع ہو جائے گا،پل صراط نصب کردیا جائے گا اور بالآخر پھر سارا معاملہ جنتیوں کے جنت میں قیام پذیر ہونے اور جہنمیوں کے جہنم میں گرنے پر اختتام پذیر ہو گا۔ان باتوں کی تصدیق کے لیے درج ذیل دلائل ملاحظہ فرمایئے: کتاب وسنت سے دلائل: 1 :اللہ تعالیٰ نے قیامت کے بارے میں ہمیں خبر دی ہے۔ارشادِ باری ہے: ﴿كُلُّ مَنْ عَلَيْهَا فَانٍ﴿٢٦﴾وَيَبْقَىٰ وَجْهُ رَبِّكَ ذُو الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ﴾ ’’ہر وہ(مخلوق)جو اس(زمین)پر ہے،فنا ہونے والی ہے اور صرف تیرے رب کی ذات باقی رہے گی جو عظمت اور بزرگی والی ہے۔‘‘[1] ارشادِ الٰہی ہے:﴿وَمَا جَعَلْنَا لِبَشَرٍ مِّن قَبْلِكَ الْخُلْدَ ۖ أَفَإِن مِّتَّ فَهُمُ الْخَالِدُونَ﴿٣٤﴾كُلُّ نَفْسٍ ذَائِقَةُ الْمَوْتِ ۗ وَنَبْلُوكُم بِالشَّرِّ وَالْخَيْرِ فِتْنَةً ۖ وَإِلَيْنَا تُرْجَعُونَ﴾ ’’اور ہم نے تجھ سے پہلے کسی انسان کو دوام نہیں بخشا(ہمیشہ کی زندگی نہیں دی)،بھلا اگر تو مر جائے گا تو کیا یہ لوگ ہمیشہ رہیں گے؟ ہر نفس کو موت کا مزہ چکھنا ہے اور ہم تمھیں برائی اور اچھائی سے آزماتے ہیں اورتم ہماری طرف ہی لوٹائے جاؤ گے۔‘‘[2] ارشادِ ربانی ہے:﴿زَعَمَ الَّذِينَ كَفَرُوا أَن لَّن يُبْعَثُوا ۚ قُلْ بَلَىٰ وَرَبِّي لَتُبْعَثُنَّ ثُمَّ لَتُنَبَّؤُنَّ بِمَا عَمِلْتُمْ ۚ وَذَٰلِكَ عَلَى اللّٰهِ يَسِيرٌ﴾ ’’کافروں کا اعتقاد ہے کہ وہ ہرگز نہیں اٹھائے جائیں گے،آپ کہہ دیجیے:’’ہاں!‘‘ کیوں نہیں،میرے پروردگار کی قسم!تم ضرور اٹھائے جاؤ گے،پھر جو کچھ تم نے کیا ہے اس سے تمھیں آگاہ کیا جائے گا اور یہ اللہ کے لیے آسان ہے۔‘‘[3] ارشادِ عالی ہے:﴿أَلَا يَظُنُّ أُولَـٰئِكَ أَنَّهُم مَّبْعُوثُونَ﴿٤﴾لِيَوْمٍ عَظِيمٍ﴿٥﴾يَوْمَ يَقُومُ النَّاسُ لِرَبِّ الْعَالَمِينَ﴾ ’’کیا یہ لوگ خیال نہیں کرتے کہ یہ ایک بڑے دن کے لیے اٹھائے جائیں گے،جس دن لوگ رب العالمین کے سامنے کھڑے ہوں گے۔‘‘[4] نیز فرمایا:﴿وَتُنذِرَ يَوْمَ الْجَمْعِ لَا رَيْبَ فِيهِ ۚ فَرِيقٌ فِي الْجَنَّةِ وَفَرِيقٌ فِي السَّعِيرِ﴾ ’’اور آپ(ان لوگوں کو)اکٹھے ہونے کے دن سے،جس میں کوئی شک نہیں،خوف دلائیں(اس روز)ایک فریق جنت میں اور ایک فریق جہنم میں جائے گا۔‘‘[5] مزید فرمایا:﴿إِذَا زُلْزِلَتِ الْأَرْضُ زِلْزَالَهَا﴿١﴾وَأَخْرَجَتِ الْأَرْضُ أَثْقَالَهَا﴿٢﴾وَقَالَ الْإِنسَانُ مَا لَهَا﴿٣﴾يَوْمَئِذٍ تُحَدِّثُ أَخْبَارَهَا﴿٤﴾بِأَنَّ رَبَّكَ أَوْحَىٰ لَهَا﴿٥﴾يَوْمَئِذٍ يَصْدُرُ النَّاسُ أَشْتَاتًا لِّيُرَوْا أَعْمَالَهُمْ﴿٦﴾فَمَن يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَيْرًا يَرَهُ﴿٧﴾وَمَن يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ شَرًّا يَرَهُ﴿٨﴾ ’’جب زمین بھونچال سے ہلا دی جائے گی اور زمین اپنے(اندر کے)بوجھ(مردے اور خزانے وغیرہ)نکال دے گی اور انسان کہے گا:’’اسے کیا ہو گیا ہے؟‘‘ اس دن یہ زمین اپنی خبریں بتائے گی،کیونکہ تیرے رب نے اسے وحی کی ہے۔اس دن لوگ مختلف گروہوں میں نکلیں گے،تاکہ انھیں ان کے اعمال دکھا دیے جائیں۔پس جس نے ایک ذرہ بھر نیکی کی ہوگی،وہ اسے دیکھ لے گا اور جس نے ایک ذرہ بھر برائی کی ہو گی،وہ بھی اسے دیکھ لے گا۔‘‘[1] اور فرمایا:﴿هَلْ يَنظُرُونَ إِلَّا أَن تَأْتِيَهُمُ الْمَلَائِكَةُ أَوْ يَأْتِيَ رَبُّكَ أَوْ يَأْتِيَ بَعْضُ آيَاتِ رَبِّكَ ۗ يَوْمَ يَأْتِي بَعْضُ آيَاتِ رَبِّكَ لَا يَنفَعُ نَفْسًا إِيمَانُهَا لَمْ تَكُنْ آمَنَتْ مِن قَبْلُ أَوْ كَسَبَتْ فِي إِيمَانِهَا خَيْرًا﴾ ’’یہ لوگ صرف اس بات کا انتظار کر رہے ہیں کہ ان کے پاس فرشتے آئیں یا تیرا رب آئے یا تیرے رب کی کچھ نشانیاں آجائیں۔جس دن تیرے رب کی کچھ نشانیاں آجائیں گی تو کسی ایسے شخص کا ایمان لانا اُسے کوئی فائدہ نہیں دے گا جو اس سے پہلے ایمان نہیں لایا تھا یا اس نے اپنے ایمان میں کوئی نیک عمل نہیں کیا تھا۔‘‘[2] ارشادِ رحمن ہے:﴿وَإِذَا وَقَعَ الْقَوْلُ عَلَيْهِمْ أَخْرَجْنَا لَهُمْ دَابَّةً مِّنَ الْأَرْضِ تُكَلِّمُهُمْ أَنَّ النَّاسَ كَانُوا بِآيَاتِنَا لَا يُوقِنُونَ﴾ ’’اور جب ان پر بات ثابت ہو جائے گی تو ہم ان کے لیے زمین سے ایک جانور(دَابَّۃُ الْأَرْض)نکالیں گے،جو ان سے کلام کرے گا کہ بے شک یہ لوگ ہماری آیتوں پر یقین نہیں رکھتے تھے۔‘‘[3] ارشادِ عالی شان ہے:﴿حَتَّىٰ إِذَا فُتِحَتْ يَأْجُوجُ وَمَأْجُوجُ وَهُم مِّن كُلِّ حَدَبٍ يَنسِلُونَ﴿٩٦﴾وَاقْتَرَبَ الْوَعْدُ الْحَقُّ فَإِذَا هِيَ شَاخِصَةٌ أَبْصَارُ الَّذِينَ كَفَرُوا﴾ ’’یہاں تک کہ جب یاجوج ماجوج چھوڑ دیے جائیں گے اور وہ ہر اونچے ٹیلے سے تیزی سے دوڑتے آرہے ہوں گے۔(قیامت کا)سچا وعدہ قریب ہو جائے گا تو کفر کرنے والوں کی آنکھیں اچانک کھلی کی کھلی رہ جائیں گی۔‘‘[4] ارشادِ مقدس ہے:﴿وَلَمَّا ضُرِبَ ابْنُ مَرْيَمَ مَثَلًا إِذَا قَوْمُكَ مِنْهُ يَصِدُّونَ﴿٥٧﴾وَقَالُوا أَآلِهَتُنَا خَيْرٌ أَمْ هُوَ ۚ مَا ضَرَبُوهُ لَكَ إِلَّا جَدَلًا ۚ بَلْ هُمْ قَوْمٌ خَصِمُونَ﴿٥٨﴾إِنْ هُوَ إِلَّا عَبْدٌ أَنْعَمْنَا عَلَيْهِ وَجَعَلْنَاهُ مَثَلًا لِّبَنِي إِسْرَائِيلَ﴿٥٩﴾وَلَوْ نَشَاءُ لَجَعَلْنَا مِنكُم مَّلَائِكَةً فِي الْأَرْضِ يَخْلُفُونَ﴿٦٠﴾وَإِنَّهُ لَعِلْمٌ لِّلسَّاعَةِ فَلَا تَمْتَرُنَّ بِهَا﴾ ’’اور جب ابن مریم کی مثال بیان کی گئی تو اس سے تیری قوم کے افراد(خوشی سے)چلانے لگے اور کہنے لگے کہ بھلا ہمارے معبود بہتر ہیں یا یہ(عیسیٰ)؟[5] انھوں نے عیسیٰ کی مثال صرف جھگڑنے کے لیے دی،بلکہ یہ لوگ ہی جھگڑالو ہیں۔[1] وہ تو(ہمارا)ایسا بندہ تھا،جس پر ہم نے انعام کیا،اور اسے بنی اسرائیل کے لیے(اپنی قدرت کی)مثال بنایا اور اگر ہم چاہتے تو تم میں سے فرشتے بناتے،جو زمین میں(تمھاری جگہ)رہتے۔اور یہ(عیسیٰ علیہ السلام)قیامت کا علم(یا علامت)ہے،پس تم اس(قیامت کی آمد)میں شک نہ کرو۔‘‘[2] فرمانِ الٰہی ہے:﴿وَنُفِخَ فِي الصُّورِ فَصَعِقَ مَن فِي السَّمَاوَاتِ وَمَن فِي الْأَرْضِ إِلَّا مَن شَاءَ اللّٰهُ ۖ ثُمَّ نُفِخَ فِيهِ أُخْرَىٰ فَإِذَا هُمْ قِيَامٌ يَنظُرُونَ﴿٦٨﴾وَأَشْرَقَتِ الْأَرْضُ بِنُورِ رَبِّهَا وَوُضِعَ الْكِتَابُ وَجِيءَ بِالنَّبِيِّينَ وَالشُّهَدَاءِ وَقُضِيَ بَيْنَهُم بِالْحَقِّ وَهُمْ لَا يُظْلَمُونَ﴿٦٩﴾وَوُفِّيَتْ كُلُّ نَفْسٍ مَّا عَمِلَتْ وَهُوَ أَعْلَمُ بِمَا يَفْعَلُونَ﴾ ’’اور جب صور پھونکا جائے گا تو آسمانوں اور زمین والے بے ہوش ہو جائیں گے مگر جسے اللہ چاہے گا(وہ اس سے مستثنیٰ ہے،مثلاً:حوریں)،پھر دوسری بار پھونکا جائے گا تو فورًا سب کھڑے ہو کر دیکھنے لگیں گے اور زمین اپنے رب کے نور سے روشن ہو جائے گی،کتاب رکھ دی جائے گی،انبیاء(علیہم السلام)اور گواہوں کو لایا جائے گا اور لوگوں کے مابین حق کے مطابق فیصلہ کر دیا جائے گا اور ان پر ظلم نہیں کیا جائے گا۔اور ہر نفس کو اس کا کیا،پورا مل جائے گا اور جو کچھ یہ کرتے ہیں وہ(اللہ)خوب جانتا ہے۔‘‘[3] ارشادِ باری ہے:﴿وَنَضَعُ الْمَوَازِينَ الْقِسْطَ لِيَوْمِ الْقِيَامَةِ فَلَا تُظْلَمُ نَفْسٌ شَيْئًا ۖ وَإِن كَانَ مِثْقَالَ حَبَّةٍ مِّنْ خَرْدَلٍ أَتَيْنَا بِهَا ۗ وَكَفَىٰ بِنَا حَاسِبِينَ﴾ ’’اور ہم قیامت کے دن انصاف کے ترازو رکھیں گے،کسی شخص پر کوئی ظلم نہیں کیا جائے گا۔اگر رائی کے دانے کے برابر بھی(کسی کا عمل)ہو گا تو ہم اسے(سامنے)لائیں گے اور ہم حساب لینے کو کافی ہیں۔‘‘[4] اور اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان احوالِ آخرت کی کیسی خوبصورت عکاسی کرتا ہے:﴿فَإِذَا نُفِخَ فِي الصُّورِ نَفْخَةٌ وَاحِدَةٌ﴿١٣﴾وَحُمِلَتِ الْأَرْضُ وَالْجِبَالُ فَدُكَّتَا دَكَّةً وَاحِدَةً﴿١٤﴾فَيَوْمَئِذٍ وَقَعَتِ الْوَاقِعَةُ﴿١٥﴾وَانشَقَّتِ السَّمَاءُ فَهِيَ يَوْمَئِذٍ وَاهِيَةٌ﴿١٦﴾وَالْمَلَكُ عَلَىٰ أَرْجَائِهَا ۚ وَيَحْمِلُ عَرْشَ رَبِّكَ فَوْقَهُمْ يَوْمَئِذٍ ثَمَانِيَةٌ﴿١٧﴾يَوْمَئِذٍ تُعْرَضُونَ لَا تَخْفَىٰ مِنكُمْ خَافِيَةٌ﴿١٨﴾فَأَمَّا مَنْ أُوتِيَ كِتَابَهُ بِيَمِينِهِ﴾ ﴿فَيَقُولُ هَاؤُمُ اقْرَءُوا كِتَابِيَهْ﴿١٩﴾إِنِّي ظَنَنتُ أَنِّي مُلَاقٍ حِسَابِيَهْ﴿٢٠﴾فَهُوَ فِي عِيشَةٍ رَّاضِيَةٍ﴿٢١﴾فِي جَنَّةٍ عَالِيَةٍ﴿٢٢﴾قُطُوفُهَا دَانِيَةٌ﴿٢٣﴾كُلُوا وَاشْرَبُوا هَنِيئًا بِمَا أَسْلَفْتُمْ فِي الْأَيَّامِ الْخَالِيَةِ﴿٢٤﴾وَأَمَّا مَنْ أُوتِيَ كِتَابَهُ بِشِمَالِهِ فَيَقُولُ يَا لَيْتَنِي لَمْ أُوتَ كِتَابِيَهْ﴿٢٥﴾وَلَمْ أَدْرِ مَا حِسَابِيَهْ﴿٢٦﴾يَا لَيْتَهَا كَانَتِ الْقَاضِيَةَ﴿٢٧﴾مَا أَغْنَىٰ عَنِّي مَالِيَهْ ۜ﴿٢٨﴾هَلَكَ عَنِّي سُلْطَانِيَهْ﴿٢٩﴾خُذُوهُ فَغُلُّوهُ﴿٣٠﴾ثُمَّ الْجَحِيمَ صَلُّوهُ﴿٣١﴾ثُمَّ فِي سِلْسِلَةٍ ذَرْعُهَا سَبْعُونَ ذِرَاعًا فَاسْلُكُوهُ﴿٣٢﴾إِنَّهُ كَانَ لَا يُؤْمِنُ بِاللّٰهِ الْعَظِيمِ﴿٣٣﴾وَلَا يَحُضُّ عَلَىٰ طَعَامِ الْمِسْكِينِ﴿٣٤﴾ ’’پس جب ایک بار صور پھونکا جائے گا تو زمین اور پہاڑ دونوں اٹھا کر توڑ دیے جائیں گے۔اس دن واقع ہونے والی(قیامت)واقع ہو جائے گی اور آسمان پھٹ جائے گا تو وہ اس دن بودا ہو گا،فرشتے اس کے کناروں پر ہوں گے۔اور اس دن تیرے رب کا عرش آٹھ فرشتے اپنے اوپر اٹھائیں گے۔اس دن تم پیش کیے جاؤ گے،تمھاری کوئی چیز مخفی نہیں رہے گی،پھر جسے دائیں ہاتھ میں نامۂ اعمال دیا جائے گا،وہ(دوسروں سے)کہے گا:آؤ میرا نامۂ اعمال پڑھو۔میں یقین رکھتا تھا کہ مجھے میرا حساب ضرور ملے گا۔پس وہ پسندیدہ زندگی میں ہو گا،(یعنی)اونچی بہشت میں،جس کے پھل قریب ہوں گے۔(ارشاد ہو گا):’’مزے سے کھاؤ اور پیو کہ تم گزشتہ دنوں میں اچھے عمل آگے بھیج چکے ہو۔‘‘ لیکن جسے اس کا نامۂ اعمال بائیں ہاتھ میں دیا جائے گا،وہ کہے گا:اے کاش!مجھے میرا اعمال نامہ نہ دیا جاتا اور میں اپنا حساب نہ جانتا!اے کاش!پہلی موت ہی فیصلہ کن ہوجاتی،میرے مال نے مجھے کوئی فائدہ نہ دیا۔میرا رعب ودبدبہ بھی جاتا رہا۔(حکم ہو گا):’’اسے پکڑو اور اس کے گلے میں طوق ڈال دو،پھر جہنم میں داخل کر دو،پھر ستر ہاتھ لمبی زنجیر میں اسے جکڑ دو۔یہ اللہ بزرگ و برترپر یقین نہیں رکھتا تھا،نہ مسکین کو کھانا کھلانے کی ترغیب دیتا تھا۔‘‘[1] اور ایک جگہ فرمایا:﴿فَوَرَبِّكَ لَنَحْشُرَنَّهُمْ وَالشَّيَاطِينَ ثُمَّ لَنُحْضِرَنَّهُمْ حَوْلَ جَهَنَّمَ جِثِيًّا﴿٦٨﴾ثُمَّ لَنَنزِعَنَّ مِن كُلِّ شِيعَةٍ أَيُّهُمْ أَشَدُّ عَلَى الرَّحْمَـٰنِ عِتِيًّا﴿٦٩﴾ثُمَّ لَنَحْنُ أَعْلَمُ بِالَّذِينَ هُمْ أَوْلَىٰ بِهَا صِلِيًّا﴿٧٠﴾وَإِن مِّنكُمْ إِلَّا وَارِدُهَا ۚ كَانَ عَلَىٰ رَبِّكَ حَتْمًا مَّقْضِيًّا﴿٧١﴾ثُمَّ نُنَجِّي الَّذِينَ اتَّقَوا وَّنَذَرُ الظَّالِمِينَ فِيهَا جِثِيًّا﴾ ’’پس تیرے رب کی قسم!ہم انھیں اور شیاطین کو ضرور جمع کریں گے،پھر جہنم کے گرد گھٹنوں کے بل حاضر کریں گے،پھر ہر گروہ میں سے جو لوگ رحمن پر زیادہ سرکشی کرتے تھے،(انھیں چھانٹ کر)الگ کریں گے۔ہم ان لوگوں سے خوب واقف ہیں،جو اس(جہنم)میں داخل ہونے کے زیادہ لائق ہیں اور تم میں سے ہر ایک اس پر ضرور وارد ہو گا۔یہ تیرے رب کی حتمی فیصلہ شدہ بات ہے۔پھر ہم پرہیزگاروں کو بچالیں گے اور ظالموں کو اس میں گھٹنوں کے بل گرا کر چھوڑیں گے۔‘‘[2] ٭ احادیث مبارکہ سے احوال قیامت کی ایک جھلک۔فرمانِ نبوی ہے: ’لَا تَقُومُ السَّاعَۃُ حَتّٰی یَمُرَّ الرَّجُلُ بِقَبْرِ الرَّجُلِ فَیَقُولُ:یَا لَیْتَنِي!مَکَانَہُ‘ ’’اس وقت تک قیامت قائم نہ ہو گی جب تک کہ کوئی شخص دوسرے شخص کی قبر کے پاس سے گزر کر یہ خواہش نہ کرے کہ اے کاش!اس کی جگہ میں ہوتا۔‘‘[1] مزید فرمایا: ’إِنَّ السَّاعَۃَ لَا تَکُونُ حَتّٰی تَکُونَ عَشْرُ آیَاتٍ:خَسْفٌ بِالْمَشْرِقِ،وَخَسْفٌ بِالْمَغْرِبِ،وَ خَسْفٌ فِي جَزِیرَۃِ الْعَرَبِ،وَالدُّخَانُ،وَالدَّجَّالُ،وَ دَآبَّۃُ الْأَرْضِ،وَ یَأْجُوجُ وَ مَأْجُوجُ،وَ طُلُوعُ الشَّمْسِ مِنْ مَّغْرِبِہَا،وَ نَارٌ تَخْرُجُ مِنْ قَعْرِ عَدْنٍ تُرَحِّلُ النَّاسَ،(وَنُزُولُ عِیسَی ابْنِ مَرْیَمَ)‘ ’’دس نشانیوں(کے ظہور)سے پہلے قیامت بپا نہ ہو گی۔مشرق میں خسف(زمین میں دھنسنا)،مغرب میں خسف اور جزیرۂ عرب میں بھی خسف،دھواں،دجال،دابّۃالارض،(زمین کا بہت بڑا جانور)یاجوج وماجوج،سورج کا مغرب سے طلوع ہونا،آگ جو قعرِ عدن سے نمودار ہو گی اور لوگوں کو چلائے گی اور عیسیٰ ابن مریم(علیہ السلام)کا(آسمان سے)اترنا۔‘‘[2] نیز فرمایا:((یَخْرُجُ الدَّجَّالُ فِي أُمَّتِي فَیَمْکُثُ أَرْبَعِینَ،فَیَبْعَثُ اللّٰہُ عِیسَی ابْنَ مَرْیَمَ کَأَنَّہُ عُرْوَۃُ بْنُ مَسْعُودٍ فَیَطْلُبُہُ فَیُہْلِکُہُ،ثُمَّ یَمْکُثُ النَّاسُ سَبْعَ سِنِینَ،لَیْسَ بَیْنَ اثْنَیْنِ عَدَاوَۃٌ،ثُمَّ یُرْسِلُ اللّٰہُ رِیحًا بَارِدَۃً مِّنْ قِبَلِ الشَّامِ فَلَا یبْقٰی عَلٰی وَجْہِ الْأَرْضِ أَحَدٌ فِي قَلْبِہِ مِثْقَالُ ذَرَّۃٍ مِّنْ خَیْرٍ أَوْ إِیمَانٍ إِلَّا قَبَضَتْہُ،حَتّٰی لَوْ أَنَّ أَحَدَکُمْ دَخَلَ فِي کَبِدِ جَبَلٍ لَدَخَلَتْہُ عَلَیْہِ حَتّٰی تَقْبِضَہُ،فَیَبْقٰی شِرَارُ النَّاسِ فِي خِفَّۃِ الطَّیْرِ وَ أَحْلَامِ السِّبَاعِ،لَا یَعْرِفُونَ مَعْرُوفًا وَّلَا یُنْکِرُونَ مُنْکَرًا،فَیَتَمَثَّلُ لَہُمُ الشَّیْطَانُ فَیَقُولُ:أَلَا تَسْتَجِیبُونَ؟ فَیَقُولُونَ:فَمَا تَأْمُرُنَا؟ فَیَأْمُرُہُمْ بِعِبَادَۃِ الْأَوْثَانِ،وَ ہُمْ فِي ذٰلِکَ دَارٌّ رِّزْقُہُمْ،حَسَنٌ عَیْشُہُمْ،ثُمَّ یُنْفَخُ فِي الصُّورِ فَلَا یَسْمَعُہُ أَحَدٌ إِلَّا أَصْغٰی لِیتًا وَّرَفَعَ لِیتًا،قَالَ:وَ أَوَّلُ مَنْ یَّسْمَعُہُ رَجُلٌ یَّلُوطُ حَوْضَ إِبِلِہِ،قَالَ:فَیَصْعَقُ وَ یَصْعَقُ النَّاسُ،ثُمَّ یُنْزِلُ اللّٰہُ مَطَرًا کَأَنَّہُ الطَّلُّ۔فَتَنْبُتُ مِنْہُ أَجْسَادُ النَّاسِ ثُمَّ یُنْفَخُ فِیہِ أُخْرٰی،فَإِذَا ہُمْ قِیَامٌ یَّنْظُرُونَ،ثُمَّ یُقَالُ:یَا أَیُّہَا النَّاسُ!ہَلُمُّوا إِلٰی رَبِّکُمْ ثُمَّ یُقَالُ:أَخْرِجُوا بَعْثَ النَّارِ،فَیُقَالُ:مِنْ کَمْ؟ فَیُقَالُ:مِنْ کُلِّ أَلْفٍ،تِسْعَ مِائَۃٍ وَّ تِسْعَۃً وَّ تِسْعِینَ،قَالَ فَذٰلِکَ:یَوْمَ یَجْعَلُ الْوِلْدَانَ شِیبًا،وَ ذٰلِکَ یَوْمَ یُکْشَفُ عَنْ سَاقٍ)) ’’میری امت میں دجال آئے گا اور چالیس رہے گا،پھر اللہ تعالیٰ عیسیٰ ابن مریم کو بھیجے گا وہ شکل وصورت میں عروہ بن مسعود رضی اللہ عنہ جیسے ہیں۔عیسیٰ علیہ السلام دجال کو تلاش کرکے قتل کریں گے۔پھر سات سال لوگ اس طرح بسر کریں گے کہ دو آدمیوں میں بھی باہمی عداوت نہیں ہو گی۔پھر اللہ تعالیٰ شام کی طرف سے ٹھنڈی ہوا بھیجے گا جو روئے زمین پر کسی بھی ایسے شخص کو ختم کیے بغیر نہیں چھوڑے گی،جس کے دل میں ایک رائی کے دانے کے برابر بھی خیر یا ایمان ہو گا،حتی کہ تم میں سے کوئی اگر پہاڑ کے جگر میں بھی داخل ہو جائے گا تو ہوا اسے بھی جالے گی اور ختم کردے گی۔پھر انسانوں میں بدتر لوگ ہی باقی رہ جائیں گے جو پرندوں کی طرح بے عقل اور درندوں کی طرح پھاڑ کھانے والے ہوں گے،جنھیں نیکی اور بدی کی کوئی تمیز نہیں ہو گی۔شیطان ان کے پاس آکر کہے گا:کیاتم میری بات نہیں مانتے؟ وہ کہیں گے:کیا حکم ہے؟ وہ انھیں بتوں کی عبادت کا حکم دے گا،پھر ان کی روزی میں فراوانی ہو جائے گی اور زندگی بہتر ہو جائے گی۔پھر صور پھونکا جائے گا(اس کی آواز)جو بھی سنے گا،وہ اپنی گردن ایک جانب جھکائے گا اور دوسری بار اوپر اٹھائے گا۔اور آپ نے فرمایا:وہ آواز سب سے پہلے اپنے اونٹوں کے لیے حوض درست کرنے والا سنے گا۔فرمایا:وہ بے ہوش ہو جائے گا اور باقی سب لوگ بھی بے ہوش ہو جائیں گے۔پھر اللہ تعالیٰ شبنم کی طرح بارش کی پھوار بھیجے گا جس سے انسانی جسم اگیں گے۔پھر دوبارہ صور پھونکا جائے گا تو سب اٹھ کر دیکھنے لگیں گے،پھر کہا جائے گا:اے لوگو!اپنے رب کی طرف چلو اور(غالباً فرشتوں سے کہا جائے گا:)انھیں ٹھہراؤ کیونکہ ابھی ان سے پوچھا جائے گا،پھر آواز آئے گی:’’جہنم کی جماعت الگ کر دو۔‘‘ عرض کی جائے گی:’’کتنوں میں سے کتنے؟‘‘ ارشاد ہو گا:’’ہزار میں سے نو سو ننانوے۔‘‘ یہی وہ دن ہے جس میں بچے بوڑھے ہو جائیں گے اور اسی دن پنڈلی سے پردے ہٹا دیے جائیں گے۔‘‘[1] اور فرمایا:’لَا تَقُومُ السَّاعَۃُ إِلَّا عَلٰی شِرَارِ النَّاسِ‘ ’’قیامت برے انسانوں ہی پر قائم ہو گی۔‘‘[2] ارشادِ نبوی ہے: ((مَا بَیْنَ النَّفْخَتَیْنِ أَرْبَعُونَ،ثُمَّ یُنْزِلُ اللّٰہُ مِنَ السَّمَائِ مَائً فَیَنْبُتُونَ کَمَا یَنْبُتُ الْبَقْلُ،وَ لَیْسَ مِنَ الإِْنْسَانِ شَيْئٌ إِلَّا یَبْلٰی إِلَّا عَظْمًا وَّاحِدًا وَّ ہُوَ عَجْبُ الذَّنَبِ،وَ مِنْہُ یُرَکَّبُ الْخَلْقُ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ)) ’’دونوں صور پھونکے جانے کے درمیان چالیس(سال)کا وقفہ ہے۔پھر اللہ تعالیٰ آسمان سے پانی اتارے گا اور لوگ سبزی کی طرح اگیں گے،(اس سے قبل)انسان کے جسم کی ہر چیز بوسیدہ ہو جائے گی،صرف ریڑھ کی ہڈی کا منکا باقی رہے گا اور قیامت کے دن اسی سے(انسان کی)تخلیق ہو گی۔‘‘[1] ایک خطبہ دیتے ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:((یٰأَیُّہَا النَّاسُ!إِنَّکُمْ مَّحْشُورُونَ إِلَی اللّٰہِ حُفَاۃً عُرَاۃً غُرْلًا،﴿كَمَا بَدَأْنَا أَوَّلَ خَلْقٍ نُّعِيدُهُ ۚ وَعْدًا عَلَيْنَا ۚ إِنَّا كُنَّا فَاعِلِينَ﴾أَلَا!وَ إِنَّ أَوَّلَ الْخَلَائِقِ یُکْسٰی یَوْمَ الْقِیَامَۃِ إِبْرَاہِیمُ عَلَیْہِ السَّلَامُ،أَلَا!وَ إِنَّہُ سَیُجَائُ بِرِجَالٍ مِّنْ أُمَّتِي فَیُؤْخَذُ بِہِمْ ذَاتَ الشِّمَالِ فَأَقُولُ:یَا رَبِّ!أَصْحَابِي،فَیُقَالُ:إِنَّکَ لَا تَدْرِي مَا أَحْدَثُوا بَعْدَکَ)) ’’اے لوگو!تم اللہ کی طرف ننگے پاؤں،ننگے جسم اور بغیر ختنہ کے اکٹھے کیے جاؤ گے۔فرمان الٰہی ہے:’’ جس طرح ہم نے پہلی پیدائش کی ابتدا کی(اسی طرح)اسے لوٹائیں گے یہ ہمارے ذمے وعدہ ہے،یقینا ہم ہمیشہ پورا کرنے والے ہیں۔‘‘ سنو!قیامت کے دن مخلوق میں سب سے پہلے ابراہیم علیہ السلام کو کپڑے پہنائے جائیں گے۔اور سنو!میری امت کے کچھ مردوں کو لایا جائے گا اور انھیں بائیں راستے کی طرف ڈال دیا جائے گا۔میں کہوں گا:’’میرے رب!یہ میرے ساتھی ہیں۔‘‘ مجھے کہا جائے گا:’’تو نہیں جانتا انھوں نے تیرے بعد دین میں کیا کیا بدعتیں ایجاد کیں۔‘‘[2] حدیث نبوی ہے:((لَا تَزُولُ قَدَمَا عَبْدٍ یَّوْمَ الْقِیَامَۃِ حَتّٰی یُسْأَلَ عَنْ أَرْبَعٍ:عَنْ عُمُرِہِ فِیمَا أَفْنَاہُ،وَ عَنْ عِلْمِہِ مَا عَمِلَ بِہِ،وَ عَنْ مَّالِہِ مِنْ أَیْنَ اکْتَسَبَہُ وَ فِیمَا أَنْفَقَہُ،وَ عَنْ جَسَدِہِ فِیمَا أَبْلَاہُ)) ’’قیامت کے دن کسی بندے کے قدم اپنی جگہ سے ہل نہیں سکیں گے،جب تک وہ چار چیزوں کا حساب نہ دے لے گا:عمر کن کاموں میں صرف کی،علم پر کتنا عمل کیا،مال کہاں سے کمایا اور کس جگہ خرچ کیا اور اپنے جسم کو کہاں کہاں استعمال کیا؟‘‘ [3] فرمانِ نبوی ہے:((حَوْضِي مَسِیرَۃُ شَہْرٍ،مَاؤُہُ أَبْیَضُ مِنَ اللَّبَنِ،وَرِیحُہُ أَطْیَبُ مِنَ الْمِسْکِ،وَ کِیزَانُہُ کَنُجُومِ السَّمَائِ،مَنْ شَرِبَ مِنْہَا فَلَا یَظْمَأُ أَبَدًا)) ’’میرے حوض کا حجم ایک ماہ کی مسافت جتنا ہے،اس کا پانی دودھ سے زیادہ سفید اور اس کی مہک کستوری سے زیادہ پاکیزہ ہو گی،اس کے آب خورے آسمان کے ستاروں کی مثل ہوں گے،جو ایک بار اس سے(پانی)پی لے گا اسے کبھی پیاس نہیں لگے گی۔‘‘[1] جہنم کے تذکرہ پر سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا روپڑیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’کیوں روتی ہو؟‘‘ عرض کی:جہنم کے تذکرے سے رونا آگیا،پھر پوچھاکہ کیا آپ قیامت کے دن اپنے سب اہل و عیال کو یاد رکھیں گے؟ فرمایا:’أَمَّا فِي ثَلَاثَۃِ مَوَاطِنَ فَلَا یَذْکُرُ أَحَدٌ أَحَدًا:عِنْدَ الْمِیزَانِ حَتّٰی یَعْلَمَ أَیَخِفُّ مِیزَانُہُ أَمْ یَثْقُلُ؟ وَعِنْدَ تَطَائُرِ الصُّحُفِ حَتّٰی یَعْلَمَ أَیْنَ یَقَعُ کِتَابُہُ فِي یَمِینِہِ أَمْ فِي شِمَالِہِ،أَمْ وَرَائَ ظَہْرِہِ؟ وَ عِنْدَ الصِّرَاطِ إِذَا وُضِعَ بَیْنَ ظَہْرَيْ جَہَنَّمَ حَتّٰی یَجُوزَ‘ ’’تین مقامات میں کوئی کسی کو یاد نہیں رکھے گا:ترازو لگتے وقت یہاں تک کہ جان لے کہ ترازو میں اعمال ہلکے ہیں یا بھاری؟ اور نامۂ اعمال کی تقسیم کے وقت کہ دائیں ہاتھ میں آتا ہے یا بائیں میں یا پیٹھ کے پیچھے سے اور پل صراط کو جہنم پر رکھے جانے کے وقت یہاں تک کہ اسے پار کر لے۔‘‘[2] اسی طرح ارشاد فرمایا: ((لِکُلِّ نَبِيٍّ دَعْوَۃٌ دَعَاہَا لِأُمَّتِہِ،وَ إِنِّي اخْتَبَأْتُ دَعْوَتِي شَفَاعَۃً لِّأُمَّتِي یَوْمَ الْقِیَامَۃِ)) ’’ہر نبی کو ایک دعا ملی ہے جو اس نے اپنی امت کے لیے(دنیاہی میں)کرلی ہے اور میں نے اپنی دعا قیامت کے دن اپنی امت کی سفارش کے لیے محفوظ رکھی ہے۔‘‘[3] مزید فرمایا:((أَنَا سَیِّدُ وُلْدِ آدَمَ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ،وَ أَوَّلُ مَنْ یَّنْشَقُّ عَنْہُ الْقَبْرُ،وَ أَوَّلُ شَافِعٍ وَّ أَوَّلُ مُشَفَّعٍ)) ’’میں قیامت کے دن اولادِ آدم کا سردار ہوں گا،سب سے پہلے میری ہی قبر پھٹے گی،سب سے پہلے میں ہی سفارش کروں گا اور سب سے پہلے میری ہی سفارش قبول ہو گی۔‘‘[4] اور فرمایا:((مَنْ سَأَلَ اللّٰہَ الْجَنَّۃَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ،قَالَتِ الْجَنَّۃُ:اَللّٰہُمَّ!أَدْخِلْہُ الْجَنَّۃَ،وَ مَنِ اسْتَجَارَ مِنَ النَّارِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ،قَالَتِ النَّارُ:اَللّٰہُمَّ!أَجِرْہُ مِنَ النَّارِ)) ’’جو شخص اللہ تعالیٰ سے تین بار جنت کا سوال کرے،جنت کہتی ہے:اے اللہ!اسے جنت میں داخل کر اور جو شخص تین بار جہنم سے(اللہ کی)پناہ مانگے،جہنم کہتا ہے:اے اللہ!اسے جہنم سے بچا۔‘‘[5] 3: لاکھوں انبیاء ومرسلین،حکماء وعلماء اور اللہ تعالیٰ کے نیک بندوں کا آخرت اور جو کچھ اس کے متعلق کتاب و سنت میں وارد ہے،اس پر پختہ ایمان،مضبوط اعتقاد اور غیرمتزلزل یقین اس کی سچائی کی مزید دلیل ہے۔