روزے کا بیان

رمضان المبارک کے روزوں کی فرضیت

کتاب وسنت اور اجماع امت سے ماہِ رمضان کے روزوں کا فرض ہونا ثابت ہے۔اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿شَهْرُ رَمَضَانَ الَّذِي أُنزِلَ فِيهِ الْقُرْآنُ هُدًى لِّلنَّاسِ وَبَيِّنَاتٍ مِّنَ الْهُدَىٰ وَالْفُرْقَانِ ۚ فَمَن شَهِدَ مِنكُمُ الشَّهْرَ فَلْيَصُمْهُ﴾ ’’ماہ رمضان وہ ہے جس میں قرآن اتارا گیا ہے،جو لوگوں کے لیے ہدایت ہے اور(جس میں)ہدایت کی کھلی نشانیاں ہیں اور(جو حق وباطل کو)الگ الگ کرنے والا ہے،پس جو تم میں سے رمضان کو پالے وہ اس کے روزے رکھے۔‘‘[5] اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:((بُنِيَ الإِْسْلَامُ عَلٰی خَمْسٍ:شَھَادَۃِ أَنْ لَّا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُولُ اللّٰہِ،وَإِقَامِ الصَّلَاۃِ،وَإِیتَائِ الزَّکَاۃِ،وَحَجِّ الْبَیْتِ،وَصَوْمِ رَمَضَانَ))’’اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر ہے،اس بات کی گواہی کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد(صلی اللہ علیہ وسلم)اللہ تعالیٰ کے رسول ہیں،نماز قائم کرنا،زکاۃ ادا کرنا،بیت اللہ کا حج کرنا اور رمضان کے روزے رکھنا۔‘‘[6] اور فرمایا:((عُرَی الإِْسْلَامِ وَقَوَاعِدُ الدِّینِ ثَلَاثَۃٌ،عَلَیْھِنَّ أُسِّسَ الإِْسْلَامَ مَنْ تَرَکَ وَاحِدَۃً مِّنْھُنَّ فَھُوَ بِھَا کَافِرٌ حَلَالُ الدَّمِ:شَھَادَۃُ أَنْ لَّا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ،وَالصَّلَاۃُ الْمَکْتُوبَۃُ،وَصَوْمُ رَمَضَانَ)) ’’اسلام کے قواعد وبنیادیں تین ہیں جن پر اسلام کی عمارت تعمیر کی گئی ہے،جو کسی ایک کو چھوڑ دیتا ہے وہ کافر ہے اور اس کا خون حلال ہے۔اس بات کی شہادت کہ اللہ کے سوا کوئی معبود(برحق)نہیں،فرض نماز اور رمضان کے روزے۔‘‘[1] ٭ رمضان المبارک کی فضیلت: رمضان المبارک کی بڑی فضیلت ہے اور اسے دوسرے مہینوں پر بہت ساری باتوں میں برتری حاصل ہے،جیسا کہ احادیث مبارکہ سے ثابت ہے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:’اَلصَّلَوَاتُ الْخَمْسُ،وَالْجُمُعَۃُ إِلَی الْجُمُعَۃِ،وَرَمَضَانُ إِلٰی رَمَضَانَ مُکَفِّرَاتٌ مَّا بَیْنَھُنَّ،إِذَا اجْتُنِبَ الْکَبَائِرُ‘ ’’پانچ نمازیں،ایک جمعہ دوسرے جمعہ تک اور ایک رمضان دوسرے رمضان تک،اگر بڑے گناہوں سےاجتناب کیا جائے تو(یہ تینوں)درمیانی عرصہ کے گناہوں کو ختم کر دیتے ہیں۔‘‘ [2] اور فرمایا:’مَنْ صَامَ رَمَضَانَ إِیمَانًا وَّاحْتِسَابًا غُفِرَ لَہُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِہِ‘ ’’جو شخص ایمان کے ساتھ اور طلب ثواب کے لیے رمضان کے روزے رکھتا ہے،اس کے پہلے گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں۔‘‘ [3] اور فرمایا:’وَرَأَیْتُ رَجُلًا مِّنْ أُمَّتِي یَلْھَثُ عَطَشًا،کُلَّمَا وَرَدَ حَوْضًا مُّنِعَ مِنْہُ،فَجَائَ ہُ صِیَامُہُ فَسَقَاہُ وَأَرْوَاہُ‘ ’’میں نے اپنی امت کے ایک آدمی کو(خواب میں)دیکھا کہ وہ پیاس سے ہانپ رہا تھا،جب بھی وہ حوض پر وارد ہوتا،اسے روک دیا جاتا،پس اس کے پاس اس کا روزہ آیا تو اس نے اسے پانی پلایا اور سیراب کر دیا۔‘‘[4] اور فرمایا:’إذَا کَانَ أَوَّلُ لَیْلَۃٍ مِّنْ شَھْرِ رَمَضَانَ صُفِّدَتِ الشَّیَاطِینُ وَمَرَدَۃُ الْجِنِّ،وَغُلِّقَتْ أَبْوَابُ النِّیرَانِ فَلَمْ یُفْتَحْ مِنْھَا بَابٌ،وَفُتِّحَتْ أَبْوَابُ الْجَنَّۃِ فَلَمْ یُغْلَقْ مِنْھَا بَابٌ،وَیُنَادِي مُنَادٍ:یَابَاغِيَ الْخَیْرِ أَقْبِلْ وَیَابَاغِيَ الشَّرِّ أَقْصِرْ،وَلِلّٰہِ عُتَقَائُ مِنَ النَّارِ،وَذٰلِکَ کُلَّ لَیْلَۃٍ‘ ’’رمضان کی پہلی رات شیاطین اور سرکش جنات باندھ دیے جاتے ہیں اور جہنم کے دروازے بند کر دیے جاتے ہیں،ان میں سے کوئی دروازہ نہیں کھلتا اور بہشت کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں اور ان میں سے کوئی دروازہ بند نہیں ہوتا اور اعلان کرنے والا اعلان کرتا ہے:’’اے اچھائی کے متلاشی!آگے بڑھ اور اے شر کے متلاشی!رک جا اور(بہت سے لوگوں کو)اللہ جہنم سے آزاد کرتا ہے اور یہ ہر رات ہوتا ہے۔‘‘[1] رمضان میں نیکی اور احسان کرنے کی فضیلت: رمضان المبارک کی فضیلت کی وجہ سے اس میں نیکی،خیرات اور احسان کے کاموں کی بہت فضیلت ہے۔ذیل میں ان میں سے چند ایک کا تذکرہ کیا جاتا ہے: 1 صدقہ وخیرات: رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا کہ کون سی خیرات افضل ہے تو آپ نے فرمایا: ’أَفْضَلُ الصَّدَقَۃِ فِي رَمَضَانَ‘ ’’رمضان میں خیرات افضل(خیرات)ہے۔‘‘ [2] اور فرمایا:’مَنْ فَطَّرَ صَائِمًا کَانَ لَہُ مِثْلُ أَجْرِہِ غَیْرَ أَنَّہُ لَا یَنْقُصُ مِنْ أَجْرِ الصَّائِمِ شَیْئًا‘ ’’جو شخص کسی روزے دار کو افطار کراتا ہے تو وہ روزے دار کا ثواب کم کیے بغیر اس کے برابر ثواب کا مستحق ہو گا۔‘‘ [3] اور فرمایا:’مَنْ فَطَّرَ صَائِمًا عَلٰی طَعَامٍ وَّشَرَابٍ مِّنْ حَلَالٍ صَلَّتْ عَلَیْہِ الْمَلَائِکَۃُ فِي سَاعَاتِ شَھْرِ رَمَضَانَ،وَصَلّٰی عَلَیْہِ جِبرِیلُ عَلَیْہِ السَّلَامُ فِي لَیْلَۃِ الْقَدْرِ‘ ’’جو شخص کھانے پینے کی کسی حلال چیز کے ساتھ کسی روزے دار کا روزہ افطار کراتا ہے تو سارا رمضان فرشتے اس کے لیے دعائیں کرتے رہتے ہیں اور جبرائیل علیہ السلام لیلۃالقدر میں اس کے لیے دعا کرتے ہیں۔‘‘ [4] اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خیرات کرنے میں سب سے زیادہ سخی تھے اور رمضان المبارک میں جب جبرائیل علیہ السلام آپ کو ملتے تو آپ بہت ہی سخاوت کرتے۔[5] 2 رات کا قیام: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: ’مَنْ قَامَ رَمَضَانَ إِیمَانًا وَّاحْتِسَابًا غُفِرَلَہُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِہِ‘ ’’جو شخص ایمان کے ساتھ اور طلب ثواب کے لیے رمضان کا قیام کرتا ہے،اس کے پہلے گناہ بخش دیے جائیں گے۔‘‘[1] اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رمضان المبارک کی راتوں میں جاگتے تھے اور آخری دس راتوں میں اپنے اہل اور ہر چھوٹے بڑے کو جو نماز پڑھ سکتا تھا،بیدار کرتے تھے۔[2] 3 تلاوتِ قرآن کریم: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رمضان المبارک میں کثرت سے تلاوت کرتے تھے اور جبرائیل علیہ السلام بھی رمضان المبارک میں آپ کے ساتھ قرآن پاک کا دور کرتے تھے۔‘‘[3] رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قیام رمضان میں قراء ت دوسرے ایام کے مقابلہ میں لمبی کرتے تھے۔ایک رات حذیفہ رضی اللہ عنہ نے آپ کے ساتھ قیام کیا تو آپ نے سورئہ بقرہ پڑھی،پھر آل عمران اور پھر سورئہ نساء۔جب آپ آیتِ تخویف پڑھتے تو ٹھہرجاتے اور سوال(دعا)کرتے ابھی دو رکعتیں نہیں پڑھی تھیں کہ بلال رضی اللہ عنہ آگئے اور صبح کی نماز کی اطلاع دی۔[4] اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:’اَلصِّیَامُ وَالْقُرْآنُ یَشْفَعَانِ لِلْعَبْدِ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ،یَقُولُ الصِّیَامُ:رَبِّ مَنَعَتُہُ الطَّعَامَ وَالشَّھْوَاتِ بِالنَّھَارِ فَشَفِّعْنِي فِیہِ،وَیَقُولُ الْقُرْآنُ:مَنَعْتُہُ النَّوْمَ بِاللَّیْلِ فَشَفِّعْنِي فِیہِ،قَالَ:فَیُشَفَّعَانِ‘ ’’روزہ اور قرآن بندے کے لیے قیامت کے دن سفارش کریں گے،روزہ کہے گا:’’اے رب!میں نے اسے دن میں کھانے اور پینے سے روکا تھا‘‘ اور قرآن کہے گا:’’میں نے اسے رات کے وقت سونے سے روکا تھا تو اس کے حق میں ہماری سفارش قبول فرما‘‘ آپ نے فرمایا:’’ان کی سفارش قبول کی جائے گی۔‘‘[5] 4 اعتکاف: اللہ عزوجل کا تقرب حاصل کرنے کے لیے برائے عبادت مسجد میں رہنا اعتکاف کہلاتا ہے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اعتکاف بیٹھتے تھے اور وفات تک ہر سال رمضان المبارک کی آخری دس راتوں میں مسجد میں اعتکاف آپ کا معمول رہا۔[6] جیسا کہ صحیح حدیث میں وارد ہے کہ آپ نے فرمایا: ’اَلْمَسْجِدُ بَیْتُ کُلِّ تَقِيٍّ،وَتَکَفَّلَ اللّٰہُ لِمَنْ کَانَ الْمَسْجِدُ بَیْتَہُ بِالرَّوْحِ وَالرَّحْمَۃِ وَالْجَوَازِ عَلَی الْصِّرَاطِ إِلٰی رِضْوَانِ اللّٰہِ إِلَی الْجَنَّۃِ‘ ’’مسجد ہر متقی کا گھر ہے اور اللہ تعالیٰ نے اس شخص کے لیے جس کا گھر مسجد ہے خوشی،رحمت اور پل صراط سے گزر کر اپنی رضا،یعنی بہشت کی ضمانت دی ہے۔‘‘[1] 5 عمرہ کرنا: رمضان المبارک میں اللہ کے گھر کی زیارت،طواف اور صفا ومروہ کی سعی کرنا عمرہ کہلاتا ہے،رمضان کے عمرہ کے بارے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:’عُمْرَۃٌ فِي رَمَضَانَ تَعْدِلُ حَجَّۃً مَّعِي‘ ’’رمضان میں عمرہ کرنا میرے ساتھ حج کرنے کے(ثواب کے)برابر ہے۔‘‘ [2] اور فرمایا:’اَلْعُمْرَۃُ إِلَی الْعُمْرَۃِ کَفَّارَۃٌ لِّمَا بَیْنَھُمَا‘ ’’ایک کے بعد دوسرا عمرہ درمیانے گناہوں کے لیے کفارہ ہے۔‘‘ [3] 6 رمضان المبارک کی آمد کے ثبوت کا ذریعہ: رمضان المبارک کی آمد کا ثبوت(صحیح علم)یا تو اس طرح ہو گا کہ اس سے پہلے مہینے شعبان کے تیس دن مکمل ہو چکے ہوں،اکتیسواں دن رمضان کی پہلی تاریخ ہوگی یا پھر چاند دیکھنے سے اس کی آمد کا فیصلہ ہو گا،یعنی شعبان کی تیسویں رات کو اگر چاند نظر آجائے تو رمضان المبارک شروع ہو جائے گا اور اس صورت میں اگلے دن کا روزہ رکھنا فرض ہے،اس لیے کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:﴿ۚ فَمَن شَهِدَ مِنكُمُ الشَّهْرَ فَلْيَصُمْهُ﴾’’تم میں سے جو رمضان کا مہینہ پالے،وہ اس کے روزے رکھے۔‘‘[4] اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:((إِذَا رَأَیْتُمُ الْھِلَالَ فَصُومُوا،وَإِذَا رَأَیْتُمُوہُ فَأَفْطِرُوا،فَإِنْ غُمَّ عَلَیْکُمْ فَصُومُوا ثَلَاثِینَ یَوْمًا)) ’’جب تم چاند دیکھ لو تو روزہ رکھو اور جب(شوال کا)چاند دیکھ لو تو افطار کرو،اگر بادل(وغیرہ)ہوں تو تیس دن روزے رکھو۔‘‘ [5] رمضان المبارک کے چاند کے لیے ایک یا دو عادل گواہوں کی گواہی کافی ہے،اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رمضان کے چاند کی رؤیت کے لیے ایک گواہ کی گواہی کو کافی قرار دیا ہے۔[1] البتہ افطار کے لیے شوال کے چاند کا اثبات(کم از کم)دو عادل گواہوں سے ہو گا،اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے افطار کے لیے ایک گواہ کی گواہی کو نافذ نہیں کیا ہے۔[2] تنبیہ:جو شخص رمضان کا چاند دیکھ لیتا ہے اور(کسی وجہ سے)اس کی گواہی مسترد ہو جاتی ہے تو وہ خود روزہ رکھے گا[3] لیکن اگر افطار کا چاند دیکھ لیتا ہے اور اس کی گواہی قبول نہیں ہوتی تو وہ افطار نہیں کرے گا،اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:’اَلصَّوْمُ یَوْمَ تَصُومُونَ،وَالْفِطْرُ یَوْمَ تُفْطِرُونَ،وَالْأَضْحٰی یَوْمَ تُضَحُّونَ‘ ’’روزہ اس دن ہے جب تم روزہ رکھو اور افطار اس دن ہے جب تم افطار کرو اور قربانی اس دن ہے جس دن تم قربانی کرو۔‘‘ [4]