حج اور عمرے کا بیان
حج وعمرہ کرنے کی ترغیب اور انھیں چھوڑنے پر وعید
شارع علیہ السلام نے ان دونوں عبادتوں کی ترغیب دلائی ہے،ان کی ادائیگی کا شوق دلایا ہے اور اس مقصد کے لیے متنوع اسالیب اور اظہار کی مختلف صورتیں اپنائی ہیں۔
جیسا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا کہ افضل عمل کون سا ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
((إِیمَانٌ بِاللّٰہِ وَرَسُولِہِ‘،قِیلَ:ثُمَّ مَاذَا؟ قَالَ:’اَلْجِھَادُ فِي سَبِیلِ اللّٰہِ‘ قِیلَ:ثُمَّ مَاذَا؟ قَالَ:ثُمَّ حَجٌّ مَّبْرُورٌ))
’’(اعمال میں افضل عمل)اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانا ہے۔‘‘ پوچھا گیا کہ پھر کون سا؟ آپ نے فرمایا:اللہ کے راستہ میں جہاد کرنا۔‘‘ پوچھا گیا کہ پھر کون سا ہے؟ تو آپ نے فرمایا:’’پھر گناہوں کی آلودگی سے پاک اور اچھائیوں سے بھرپور حج کا درجہ ہے۔‘‘ [1]
اور فرمایا:((مَنْ حَجَّ ھٰذَا الْبَیْتَ فَلَمْ یَرْفُثْ وَلَمْ یَفْسُقْ خَرَجَ مِنْ ذُنُوبِہِ کَیَوْمٍ وَلَدَتْہُ أُمُّہُ))
’’جس شخص نے اس گھر کا حج کیا اور جنسی باتوں میں انہماک اور نافرمانی سے اجتناب کیا،وہ اپنے گناہوں سے اس دن کی طرح پاک ہو گیا،جس دن اسے اس کی ماں نے جنم دیا تھا۔‘‘ [2] اور ارشاد فرمایا:’اَلْحَجُّ الْمَبْرُورُ لَیْسَ لَہُ جَزَائٌ إِلَّا الْجَنَّۃَ‘
’’گناہوں کی آلودگی سے پاک اور اچھائیوں سے بھرپور حج کی جزا بہشت ہی ہے۔‘‘ [3]
نیز فرمایا:’جِھَادُ الْکَبِیرِ وَالضَّعِیفِ وَالْمَرْأَۃِ الْحَجُّ وَالْعُمْرَۃُ‘’’بوڑھے،کمزور اور عورت کا جہاد ’’حج اور عمرہ‘‘ ہے۔‘‘[4]
مزید فرمایا:’اَلْعُمْرَۃُ إِلَی الْعُمْرَۃِ کَفَّارَۃٌ لِّمَا بَیْنَھُمَا،وَالْحَجُّ الْمَبْرُورُ لَیْسَ لَہُ جَزَائٌ إِلَّا الْجَنَّۃَ‘
’’ایک عمرہ کے بعد دوسرا عمرہ درمیانی کوتاہیوں کے لیے کفارہ ہے اور ’’حج مبرور‘‘(مقبول حج)کی جزا صرف بہشت ہے۔‘‘ [5]
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حج اور عمرہ نہ کرنے اور اس بارے میں سستی روا رکھنے سے ڈرایا بھی ہے،فرمایا:((مَنْ لَّمْ یَحْبِسْہُ مَرَضٌ أَوْ حَاجَۃٌ ظَاھِرَۃٌ،أَوْ سُلْطَانٌ جَائِرٌ،وَلَمْ یَحُجَّ فَلْیَمُتْ إِنْ شَائَ یَھُودِیًّا أَوْ نَصْرَانِیًّا))
’’جو شخص حج نہیں کرتا اور اسے ضروری کام،بیماری یا ظالم حکومت کی رکاوٹ بھی نہیں،وہ چاہے تو یہودی ہو کر مرے یا نصرانی۔‘‘ [6]
حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا’’:جس شخص کے پاس بیت اللہ تک جانے کا زاد راہ اور سواری ہے اور وہ حج نہ کرے تو چاہے وہ یہودی ہو کر مرے یا نصرانی[7] اور اس لیے کہ اللہ عزوجل کا فرمان ہے:
﴿وَلِلّٰهِ عَلَى النَّاسِ حِجُّ الْبَيْتِ مَنِ اسْتَطَاعَ إِلَيْهِ سَبِيلًا ۚ وَمَن كَفَرَ فَإِنَّ اللّٰهَ غَنِيٌّ عَنِ الْعَالَمِينَ﴾
’’اور اللہ کے لیے لوگوں پر حج کرنا(فرض)ہے،جو اس کے لیے راستہ کی استطاعت رکھتا ہے اور جو انکار کرے تو(جان لینا چاہیے کہ)اللہ جہان والوں سے بے نیاز ہے۔‘‘[1]
حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا:’’میں نے ارادہ کیا ہے کہ شہروں میں اپنے آدمی بھیجوں کہ وہ ان لوگوں کو دیکھیں جن کے پاس وسعت ہے مگر انھوں نے حج نہیں کیا تاکہ ان پر جزیہ لاگو کر دیں،اس لیے کہ یہ مسلمان نہیں،مسلمان نہیں۔‘‘ [2]