حج اور عمرے کا بیان
سعی کا بیان
عبادت کی نیت سے ’’صفا ومروہ‘‘ کے درمیان آنا اور جانا سعی کہلاتا ہے،یہ حج اور عمرہ دونوں کا رکن ہے،اس لیے کہ اللہ عزوجل نے فرمایا:
﴿إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِن شَعَائِرِ اللّٰهِ﴾’’بے شک صفا اور مروہ اللہ کی نشانیوں میں سے ہیں۔‘‘[2]
اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:’اِسْعَوْا فَإِنَّ اللّٰہَ کَتَبَ عَلَیْکُمُ السَّعْيَ‘ ’’سعی‘‘ کرو،بے شک اللہ عزوجل نے تم پر سعی فرض کر دی ہے۔‘‘ [3]
سعی کی شرطیں،سنن اور آداب درج ذیل ہیں:
٭ سعی کی شرائط:
1: صفا ومروہ کے درمیان سعی سے اللہ سبحانہ وتعالیٰ کی عبادت کا ارادہ کرے کہ یہ اللہ کی اطاعت وفرماں برداری کے تحت ’’سعی‘‘ ہے،اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’إِنَّمَا الْأَعْمَالُ بِالنِّیَّاتِ‘ ’’عملوں کا دارومدار نیتوں پر ہے۔‘‘ [4]
2: طواف وسعی میں ترتیب ہونی چاہیے،وہ یہ کہ طواف پہلے کرے اور پھر صفا ومروہ کی سعی۔
3: لگاتار سعی کرے،البتہ ضرورت کے تحت معمولی وقفہ درمیان میں کیا جاسکتا ہے۔
4: صفا ومروہ کے درمیان سات چکر دوڑے،اگر ایک چکر یا اس کا کچھ حصہ باقی رہ گیا تو ’’سعی‘‘ نہیں ہوگی،اس لیے کہ مکمل سات چکروں کا نام ہی سعی ہے۔
5: طواف کے بعد ہی سعی ہونی چاہیے،چاہے طواف قدوم کے بعد ہو جو واجب ہے(اور مکہ میں پہلی آمد کے بعد کیا جاتا ہے،)یا طواف افاضہ کے بعد جو حج کا رکن ہے(اور 10 ذی الحجہ کو کیا جاتا ہے)۔
٭ سعی کی سنتیں:
1: سبز نشان کے درمیان جو قدیم وادی کے دونوں اطراف پر لگائے گئے ہیں،دوڑنا،اس لیے کہ ان کے مابین اسماعیل کی والدہ ہاجرہ رضی اللہ عنہا دوڑی تھیں۔البتہ یہ سنت صرف ان مردوں کے لیے ہے جو دوڑ سکتے ہیں،کمزوروں اور عورتوں کے لیے نہیں ہے۔[1]
2: صفا اور مروہ پر ٹھہرنا اور دعا کرنا۔
3: ہر چکر میں صفا ومروہ دونوں پر ٹھہر کر دعائیں کرنا۔
4: ’’صفا ومروہ‘‘کی طرف چڑھائی کے وقت تین بار اللہ اکبر کہنا اور پھر یہ دعا پڑھنا:
((لَا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہُ لَا شَرِیکَ لَہُ،لَہُ الْمُلْکُ وَلَہُ الْحَمْدُ،وَھُوَ عَلٰی کُلِّ شَيْئٍ قَدِیرٌ،لَا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہُ،أَنْجَزَ وَعْدَہُ وَنَصَرَ عَبْدَہُ وَھَزَمَ الْأَحْزَابَ وَحْدَہُ))
’’ایک اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں،اس کا کوئی شریک نہیں۔بادشاہی اسی کی ہے اور اسی کے لیے تعریف ہے اور وہ ہر چیز پر خوب قادر ہے،ایک اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے،اس نے اپنا وعدہ پورا کر دیا اور اپنے بندے کی مدد کی،اس اکیلے نے سب گروہوں کو شکست دے دی۔‘‘ [2]
5: طواف اور سعی میں وقفہ نہ ہو،الّا یہ کہ کوئی شرعی عذر حائل ہو جائے۔
٭ سعی کے آداب:
1: آیت مبارکہ کی تلاوت کرتے ہوئے باب الصفا سے کوہ صفا کی طرف جانا۔وہ آیت مبارکہ یہ ہے:
﴿إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِن شَعَائِرِ اللّٰهِ ۖ فَمَنْ حَجَّ الْبَيْتَ أَوِ اعْتَمَرَ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِ أَن يَطَّوَّفَ بِهِمَا ۚ وَمَن تَطَوَّعَ خَيْرًا فَإِنَّ اللّٰهَ شَاكِرٌ عَلِيمٌ﴾
’’بے شک صفا اور مروہ اللہ کی نشانیوں میں سے ہیں،جو شخص بیت اللہ کا حج یا عمرہ کرتا ہے،اس پر ان کا طواف(سعی)کرنے میں کوئی گناہ نہیں اور جو خوشی سے نیکی کرتا ہے تو اللہ قدر دان(اور)جاننے والا ہے۔‘‘[3]
2: سعی کرنے والا باوضو ہو۔
3: مشقت کے بغیر اگر پیدل چل سکتا ہے توپیدل چلے۔
4: دوران سعی کثرت سے ذکر ودعا [1] میں مشغول رہے اور دوسری باتوں سے احتراز کرے۔[2]
5: اجنبی عورتوں پر نظر ڈالنے سے بچے اور اپنی زبان کو ناجائز باتوں سے محفوظ رکھے۔
6: اپنے قول وفعل سے کسی سعی کرنے والوں یا دوسروں کو ایذا نہ دے۔
7: اپنے دل کو سمجھانے،تزکیۂ نفس اور اپنی اصلاح کے لیے اپنی کمزوری،فقر اور اللہ کے آگے اپنے محتاج ہونے کا اعتراف واحساس کرے۔