مسجد نبوی کی زیارت کا حکم

مدینہ منورہ کی فضیلت

مدینہ کو حرم نبوی صلی اللہ علیہ وسلم،دار الہجرت اور مقام نزول وحی ہونے کا شرف حاصل ہے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے حرم قرار دیا،جیسا کہ ابراہیم علیہ السلام نے مکہ مکرمہ کو حرم قرار دیا تھا،آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے: ((اَللَّھُمَّ!إِنَّ إِبْرَاھِیمَ حَرَّمَ مَکَّۃَ فَجَعَلَھَا حَرَمًا وَّإِنِّي حَرَّمْتُ الْمَدِینَۃَ،حَرَامًا مَّا بَیْنَ مَأْزِمَیْھَا)) ’’اے اللہ!ابراہیم(علیہ السلام)نے مکہ کو حرام قرار دے کر اسے حرم بنایا اور میں اس شہر کے دو پتھریلی اطراف کے مابین(علاقے)کو حرم قرار دے رہا ہوں۔‘‘ [1] اور فرمایا: ((اَلْمَدِینَۃُ حَرَمٌ مَّا بَیْنَ عَیْرٍ إِلٰی ثَوْرٍ،فَمَنْ أَحْدَثَ فِیھَا حَدَثًا،أَوْ آوٰی مُحْدِثًا،فَعَلَیْہِ لَعْنَۃُ اللّٰہِ وَالْمَلَائِکَۃِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِینَ،لَا یَقْبَلُ اللّٰہُ مِنْہُ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ صَرْفًا وَّلَا عَدْلًا)) ’’عیر‘‘ سے ’’ثور‘‘ تک مدینہ حرم ہے،جو کوئی اس میں نیا کام(بدعت)نکالے یا نئے کام نکالنے والے کو جگہ دے،اس پر اللہ،فرشتوں اور سب انسانوں کی لعنت ہے،قیامت کے دن اللہ اس کی نفل اور فرض عبادات قبول نہیں فرمائے گا۔‘‘[2] عدی بن زید رضی اللہ عنہ کی روایت ہے:((حَمٰی رَسُولُ اللّٰہِ صلی اللّٰه علیہ وسلم کُلَّ نَاحِیَۃٍ مِّنَ الْمَدِینَۃِ بَرِیدًا بَرِیدًا،لَا یُخْبَطُ شَجَرَۃٌ وَّلَا یُعْضَدُ إِلَّا مَا یُسَاقُ بِہِ الْجَمَلُ)) ’’مدینہ منورہ کے چاروں سمت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ایک برید تک کا علاقہ محفوظ قرار دیا ہے،نہ اس میں درخت کے پتے جھاڑے جائیں اور نہ ہی اسے کاٹا جائے،البتہ اونٹ کو چلانے کے لیے چھڑی کاٹی جاسکتی ہے۔‘‘ [3] اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:((إِنَّ الإِْیمَانَ لَیَأْرِزُ إِلَی الْمَدِینَۃِ کَمَا تَأْرِزُ الْحَیَّۃُ إِلٰی جُحْرِھَا)) ’’ایمان مدینہ میں اس طرح پناہ لے گا،جس طرح سانپ اپنے بل میں پناہ لیتا ہے۔‘‘[4] نیز فرمایا:((وَلَا یَثْبُتُ أَحَدٌ عَلٰی لَأْوَائِھَا وَجَھْدِھَا إِلَّا کُنْتُ لَہُ شَفِیعًا أَوْ شَھِیدًا یَّوْمَ الْقِیَامَۃِ)) ’’جو کوئی اس کی شدتوں اور مصائب پر صبر کرے گا،میں قیامت کے دن اس کے لیے سفارشی یا گواہ بنوں گا۔‘‘[1] اور فرمایا:((مَنِ اسْتَطَاعَ مِنْکُمْ أَنْ یَّمُوتَ بِالْمَدِینَۃِ فَلْیَفْعَلْ،فَإِنِّي أَشْھَدُ لِمَنْ مَّاتَ بِھَا)) ’’تم میں سے جو کوئی مدینہ میں فوت ہونے کی استطاعت رکھتا ہے تو وہ یہ کرے،اس لیے کہ میں اس شہر میں مرنے والوں کے لیے گواہی دوں گا۔‘‘[2] نیز فرمایا:((إِنَّمَا الْمَدِینَۃُ کَالْکِیرِ تَنْفِي خَبَثَھَا وَیَنْصَعُ طَیِّبُھَا)) ’’مدینہ بھٹی کی طرح ہے یہ اپنے(باسیوں کی)میل کھوٹ کو دور کرتا ہے اور اس کے اچھے(لوگ اور زیادہ)خالص ہو جاتے ہیں۔‘‘ [3] مزید فرمایا:((اَلْمَدِینَۃُ خَیْرٌ لَّھُمْ لَوْ کَانُوا یَعْلَمُونَ،لَا یَدَعُھَا أَحَدٌ رَّغْبَۃً عَنْھَا إِلَّا أَبْدَلَ اللّٰہُ فِیھَا مَنْ ھُوَ خَیْرٌ مِّنْہُ،وَلَا یَثْبُتُ أَحَدٌ عَلٰی لَأْوَائِ ھَا وَجَھْدِھَا إِلَّا کُنْتُ لَہُ شَفِیعًا أَوْشَھِیدًا یَّوْمَ الْقِیَامَۃِ)) ’’مدینہ ان(لوگوں)کے لیے بہتر ہے،کاش کہ وہ جانتے ہوں،جو کوئی اس سے بے نیازی کرکے چلا جائے گا،اللہ سبحانہ وتعالیٰ اس میں اس سے بہتر کسی اور کو آباد کرے گا اور جو کوئی اس کی شدتوں اور مصائب پر ثابت قدم رہے گا،میں اس کے لیے قیامت کے دن سفارش کرنے والا اور گواہ ہوں گا۔‘‘ [4]