قربانی اور عقیقہ کے احکام و مسائل

قربانی کے احکام ومسائل

قربانی کے احکام ومسائل: ٭ قربانی کی تعریف: قربانی سے مراد وہ جانور ہے جو عید کے دن اور قربانی کے دیگر دنوں میں اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کرنے کے لیے ذبح کیا جائے۔ ٭ قربانی کا حکم: ہر مسلمان گھرانہ پر جو جانور ذبح کرنے کی قدرت رکھتا ہے،اس کے لیے قربانی کرنا سنت واجبہ ہے،اس لیے کہ اللہ کا فرمان ہے:’’اپنے رب کے لیے نماز پڑھ اور قربانی کر۔‘‘[3] اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:’مَنْ کَانَ ذَبَحَ قَبْلَ الصَّلَاۃِ فَلْیُعِدْ‘ ’’جس نے نماز سے پہلے ذبح کیا،وہ دوبارہ قربانی کرے۔‘‘ [4] حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ایک انسان اپنے اور اپنے گھر والوں کی طرف سے بکری ذبح کرتا تھا۔‘‘[5] ٭ قربانی کی فضیلت: سنت قربانی کی فضیلت پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد شاہد ہے:((مَا عَمِلَ ابْنُ آدَمَ یَوْمَ النَّحْرِ عَمَلًا أَحَبَّ إِلَی اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ مِنْ ھِرَاقَۃِ دَمٍ،وَإِنَّہُ لَیَأْتِي یَوْمَ الْقِیَامَۃِ بِقُرُونِھَا وَأَظْلَافِھَا وَأَشْعَارِھَا،وَإِنَّ الدَّمَ لَیَقَعُ مِنَ اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ بِمَکَانٍ قَبْلَ أَنْ یَّقَعَ عَلَی الْأَرْضِ،فَطِیبُوا بِھَا نَفْسًا)) ’’دس ذوالحجہ کو خون بہانے سے بڑھ کر ابن آدم اللہ تعالیٰ کے ہاں کوئی بہتر عمل نہیں کرتا،یہ جانور قیامت کے دن اپنے سینگوں،کھروں اور بالوں سمیت آئیں گے اور خون کے زمین پر گرنے سے پہلے اللہ کے ہاں اس کا ایک مقام ہوتا ہے سو تم یہ قربانی خوش دلی سے دیا کرو۔‘‘[1]