جہاد کا بیان
گھوڑ دوڑ،تیر اندازی اور بدنی و عقلی ورزشیں
ورزشوں کے اغراض و مقاصد:
ابتدائے اسلام میں جملہ ورزشوں،جو ’’الفروسیہ‘‘کے نام سے معروف تھیں،کا بنیادی مقصد حق ثابت کرنا،حق کی مدد اور حق کا دفاع تھا۔ان کا مقصد مال و دولت کی کثرت اور شہرت حاصل کرنا نہیں تھا،یہی وجہ ہے کہ اس کے نتیجہ میں ذہن میں فساد و تکبر پیدا نہیں ہوتا تھا،جیسا کہ آج کل اس قسم کے مقابلوں میں حصہ لینے والوں کا اصل مطمحِ نظر یہی چیزیں ہوتی ہیں۔اس سے واضح ہوا کہ تمام مشقوں اور ورزشوں میں اصل غرض نیکی،تقویٰ اوراللہ کی راہ میں جہادی قوت کی استعداد حاصل کرنا ہے۔اسلام میں ورزشوں کے جواز کا صرف یہی مقصد ہے اور جو اسے کسی اور انداز پر سمجھ رہا ہے،وہ اسے اچھے مقصد سے ہٹا کر برے مقصد،مثلاً:بے فائدہ کھیل اور جوئے وغیرہ میں لا رہا ہے جو کہ حرام ہے۔اسلامی ورزشوں کی مشروعیت کی دلیل یہ فرمان الٰہی ہے:﴿وَأَعِدُّوا لَهُم مَّا اسْتَطَعْتُم مِّن قُوَّةٍ﴾
’’اور جہاں تک تم سے ہو سکے ان(دشمنوں)کے لیے قوت تیار کرو۔‘‘[4]
اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:((اَلْمُؤْمِنُ الْقَوِيُّ خَیْرٌ وَّ أَحَبُّ إِلَی اللّٰہِ مِنَ الْمُؤْمِنِ الضَّعِیفِ))
’’طاقتور مومن اللہ کے نزدیک کمزور مومن سے زیادہ بہتر اور محبوب ہے۔‘‘[5]
اسلام میں قوت سے مراد،شمشیر زنی،نیزہ بازی،دلیل اور برہان ہے۔
کن مشقوں میں انعام مقرر کیا جا سکتا ہے؟:
گھوڑوں اور اونٹوں کی دوڑ کے مقابلے اور تیر اندازی میں شرط لگانا اور وصول کرنا،علمائے اسلام کے نزدیک جائز ہے،اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:
((لَا سَبَقَ إِلَّا فِي خُفٍّ أَوْ حَافِرٍ أَوْ نَصْلٍ))’’انعام صرف اونٹ،گھوڑے اور تیر اندازی میں ہے۔‘‘[6]
’ ’سبق‘‘اس شرط کردہ انعام کو کہتے ہیں جو مقابلے میں حصہ لینے والے ایک دوسرے کے لیے طے کرتے ہیں اور پھر ان میں سے فائز اور کامیاب کو دیا جاتا ہے۔
مذکورہ مشقوں کے علاوہ کُشتی،تیراکی،دوڑ،سائیکل دوڑ،گاڑی دوڑ اور بوجھ اٹھانے کا مقابلہ اسی طرح خچروں اور گدھوں کا دوڑانا یا سمندری کشتیوں کے مقابلے اور اسی طرح علمی مسائل کے حل اوراظہار معلومات کے مقابلے،یہ سب اگرچہ جائز مقابلے ہیں مگر ان میں شرط لگانا اور جیتنے والے کا اسے وصول کرنا،صحیح قول کے مطابق درست نہیں ہے۔[1]
اس بات کے جواز میں رکانہ بن زید رضی اللہ عنہ کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو انعام دینا،جب آپ نے اس کو مقابلۂ کشتی میں پچھاڑ دیا تھا،بطور دلیل پیش کرنا صحیح نہیں ہے،اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ انعام اسے واپس کر دیا تھا۔اسی طرح رومیوں کے غالب آنے کی پیش گوئی کے مقابلے میں ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا قریش سے انعام وصول کرنے کو بھی اس کا جواز نہیں بنایا جا سکتا،اس لیے کہ یہ واقعہ ابتدائے اسلام کا ہے،جبکہ ابھی تشریعی احکام کا نزول نہیں ہوا تھا۔حدیث میں مذکورہ بالا تین مقابلوں میں انعام مقرر کرنے اور وصول کرنے کے جواز میں حکمت یہ ہے کہ ان تینوں امور کا تعلق جہاد سے ہے لیکن ان کے علاوہ ریاضات(ورزشوں)کا تعلق جہاد سے نہیں ہے،اس لیے کہ جہاد میں گھوڑے،اونٹ اور تیراندازی پر اعتماد کیا جاتا ہے۔ہاں اس دور کے ٹینک اور ہوائی جہاز کو اگر اونٹ اور گھوڑے پر قیاس کر لیا جائے تو ان کے مقابلے بھی درست ہیں اور انعام لینا بھی جائز ہے،اس لیے کہ اس دور میں ان کا جہادی مہمات میں بہت بڑا کردار ہے،جو بدنی ریاضت میں اصل مقصود ہے۔
ان کے علاوہ دیگر مقابلوں میں شارع اگر انعام لینے کی اجازت دے دے تو پھر بعض لوگ ان مقابلوں کو ہی ذریعہ معاش بنا لیں گے اور یہ روزی کمانے کا ایک واسطہ بن کر رہ جائیں گے۔
اس طرح ایک اچھی غرض جس کے لیے یہ مقابلے مشروع تھے،یعنی جہادی قوت و استعداد حاصل کرنا ختم ہو کر رہ جائے گی،حالانکہ ان سے اصل مقصد ایک اللہ کی عبادت اور اس کی شریعت پر قائم رہنا ہے تاکہ لوگ دنیا و آخرت کی سعادت حاصل کر سکیں اور بدبختی و شقاوت سے بچیں۔
دوڑ اور تیز اندازی کے مقابلوں میں انعام لگانا:
جہادی مقابلوں میں بہتر یہ ہے کہ خود حکومت انعام مقرر کرے یا کوئی خیراتی ادارہ یا نیکی کا شوق رکھنے والے مقابلے سے باہر کے بعض افراد۔اس طرح اس میں کسی انداز(مثلاً:جوئے وغیرہ)کا شبہ باقی نہیں رہے گا اور اس میں مدنظر محض جرأت و بہادری کا اظہار ہو گا جو جہادی تیاری کے لیے ہی ہو گی۔ہاں،اگر مقابلہ کرنے والوں میں سے کوئی ایک فرد یا فریق انعام کی شرط صرف اپنی طرف سے لگا دے اور دوسرے کی طرف سے کچھ بھی طے نہ ہو،مثلاً:ایک ساتھی دوسرے کو کہتا ہے کہ اس مقابلے میں اگر تو مجھ پرغالب آ گیا تو میں تجھے دس یا 20 دینار دوں گا اور اگر میں غالب آگیا تو تیرے ذمہ کچھ لازم نہیں تو یہ جائز ہے،اگر دونوں فریق انعام کی شرط لگاتے ہیں تو جمہور علماء اس کے جواز کے لیے یہ شرط لگاتے ہیں کہ پھر ان کے ساتھ ایک تیسرا فرد یا فریق بھی مقابلہ میں آئے،جبکہ وہ انعام دینے والوں میں شامل نہ ہو،البتہ اگر غالب آ جائے تو انعام کا مستحق ہو۔سعید بن مسیب رحمہ اللہ کی رائے یہی ہے۔امام مالک رحمہ اللہ نے اسے پسند نہیں کیا،جبکہ دوسرے اس کو درست قرار دیتے ہیں۔
دوڑ اور تیر اندازی کا طریقہ:
دوڑ میں درج ذیل امور کو ملحوظ رکھنا چاہیے:
٭ گھوڑا یا اونٹ یا ٹینک یا ہوائی جہاز متعین ہو۔
٭ جن چیزوں کے ذریعے سے مقابلہ کیا جا رہا ہے وہ ایک ہی جنس کے ہوں،اسی و جہ سے ہی اونٹ اور گھوڑے کا مقابلہ درست نہیں ہو گا۔
٭ مسافت،جہاں تک دوڑنا ہے،محدود اور متعین ہو۔
٭ اگر مقابلہ شرطیہ انعامی ہے تو انعام کا تعین ہو۔
مقابلے میں شریک سواروں کے گھوڑے ایک صف میں کھڑے ہو جائیں،اس طرح کہ ان کے پاؤں ایک دوسرے کے برابر ہوں،پہلے منصف انھیں تیار ہونے کی آواز لگائے اور پھر تین بار اللہ اکبر کہے اور تیسری تکبیر پر دوڑ پڑیں اور مسافت کے اختتام پر دو منصف موجود ہونے چاہئیں اور وہ دیکھیں کہ کس گھوڑے کا ’’سم‘‘مقررہ لکیر پر پہلے ٹکا ہے تو اس کو کامیاب قرار دیں۔اگر بڑے چھوٹے کئی انعامات مقرر کیے گئے ہیں تو پہلا انعام ’’مجلی‘‘کو دیا جائے،دوسرا انعام ’’مصلی‘‘ کو،پھر ’’تالی‘‘ کو،پھر ’’بارع‘‘کو،پھر ’’مرتاح‘‘کو،پھر ’’خطی‘‘،پھر ’’عاطف‘‘کو،پھر ’’مؤمل‘‘ کو،پھر ’’لطیم‘‘کو،پھر ’’ سکیت‘‘کو،پھر ’’غسکل‘‘ کو۔اس کے بعد کے گھوڑے انعام کے مستحق نہیں ہیں۔| رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:
’لَا جَلَبَ وَلَا جَنَبَ وَلَا شِغَارَ فِي الإِْسْلَامِ‘ ’’اسلام میں جلب،جنب اور شغار جائز نہیں ہیں۔‘‘[1]
٭ جلب:
مقابلہ میں شریک شخص اپنے کسی ساتھی کو کہے کہ راستہ میں میرے گھوڑے کو آواز لگا دینا،جس سے یہ اور تیز دوڑے گا۔یا مقابلہ کے وقت اپنے گھوڑے کو ڈانٹنا،زور زور سے آوازیں نکال کر اسے مزید تیز دوڑنے پر مجبور کرنا۔[2]
٭ مجلی،مصلی وغیرہ درجہ بندی کے لحاظ سے گھوڑوں کے نام ہیں،یعنی سب سے اول آنے والے گھوڑے کو مجلی دوسرے نمبر پر آنے والے کو مصلی،تا آخر کہتے ہیں۔(ع،و)
٭ جنب:
مقابلے میں شریک آدمی اپنے گھوڑے کے پہلو میں دوسرا گھوڑا رکھے،جب مرکوب گھوڑا تھک جائے تو یہ اس دوسرے خالی گھوڑے پر سوار ہو جائے۔[1]
گھوڑ دوڑ سے ’’مناضلہ‘‘افضل ہے،یعنی تیر اندازی یا جدید آلات سے گولی پھینکنے کے مقابلے،اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:
((اِرْمُوا وَارْکَبُوا،وَأَنْ تَرْمُوا أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ تَرْکَبُوا))’’تیر اندازی اور سواری کرو،اور تیر پھینکنا مجھے سواری سے زیادہ پسند ہے۔‘‘[2]
اس کی و جہ یہ ہے کہ جہاد میں تیر اندازی سواری سے زیادہ مؤثر ہوتی ہے۔
تیر اندازی میں درج ذیل امور کو ملحوظ رکھنا مناسب ہے:
٭ مقابلہ ان لوگوں کے درمیان ہو جو اس تیر اندازی کے فن کو خوب جانتے ہوں۔
٭ ’’ ہدف‘‘کو لگانا شمار کیا جائے گا کہ اگر اتنی بار ’’ہدف‘‘کو لگا تو وہ کامیاب ہے۔
٭ رمایہ(تیر اندازی)میں تعین ہو جائے کہ وہ ’’مبادرہ‘‘کے انداز کی ہے یا ’’مفاضلہ‘‘کے انداز کی۔’ ’مبادرہ‘‘یہ ہے کہ بیس دفعہ تیر چلانے میں پانچ بار کون پہلے ہدف کو صحیح نشانہ لگاتا ہے،جبکہ ’’مفاضلہ ‘‘یہ ہے کہ بیس میں سے پانچ نشانے زیادہ صحیح کس کے ہیں ؟
٭ ’ ’ہدف‘‘جس کو تیر مارنا ہے متعین ہو اور قربت یا دوری میں مناسب مسافت پر ہو۔
اندازِ رمایہ پر اتفاق کے بعد کوئی ایک فرد تیر پھینکے،اگر جھگڑا ہو جائے اور ہر فرد کہے:میں پہلے پھینکتا ہوں تو قرعہ اندازی کر لی جائے۔جس کے نام کا قرعہ نکلے وہی پہلے تیر چلائے۔اس مقابلے میں آخر تک کسی پر ظلم و زیادتی نہیں ہونی چاہیے اور جو جیت گیا وہی انعام وصول کرے گا۔
تنبیہ:گھوڑے اور اونٹ دوڑانا اور تیر اندازی کرنا،صرف جائز ہیں،فرض اور لازم نہیں ہیں۔لہٰذا مقابلہ شروع ہونے سے پہلے مقابلے میں شریک ہر فریق جب چاہے اس معاہدے کو منسوخ کر سکتا ہے۔
انعامی اور غیر انعامی،ناجائز مقابلے:
نرد و شطرنج اور ہمارے دور کے اسی انداز کے دیگر کھیل جائز نہیں ہیں،،مثلاً:کیرم،تاش،ڈیمنو،بلیئرڈ گیم اور ٹیبل ٹینس وغیرہ بھی اس میں شامل ہیں،البتہ فٹ بال میں اس نیت سے مشارکت کی جائے کہ وہ بدنی قوت کی حفاظت میں ممدومعاون بنتی ہے،بشرطیکہ رانیں ننگی نہ ہونے پائیں اور کھیل میں مصروفیت نماز میں تاخیر کا باعث نہ بن جائے اور بے ہودہ گوئی،ایک دوسرے پر آوازیں کسنا،گالی گلوچ اور اسی طرح کی فحش باتوں سے بھی اجتناب کیا جائے۔٭
تنبیہ:نیک ارادے سے اگر کوئی شخص یہ کہتا ہے کہ جو کوئی اللہ کی کتاب کے اتنے پارے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث میں سے اتنی احادیث حفظ کر لے یا اتنے مسائل میراث یا حساب کے حل کر لے تو اسے اتنے روپے یا فلاں سامان انعام میں دیا جائے گا جس سے اس کا مقصد اللہ کی کتاب اور سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حفظ کی ترغیب اور مسائل علم سے آگہی و دریافت تھی تو شرعًا یہ جائز ہے اور اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔مقابلے میں حصہ لینے والا جو شخص فائز و کامیاب قرار دیا گیا،اس کے لیے انعام لینا اور نہ لینا دونوں طرح جائز ہے،البتہ مقرر کرنے والا حسب وعدہ انعام اس کے سپرد کر دے۔