بیع و تجارت کا بیان

بیع خیار کا حکم

بیع کے چند مسائل میں اختیار حاصل ہوتا ہے: 1: ’’بائع‘‘اور’ ’مشتری‘‘جب تک ’’مجلس بیع‘‘میں ہیں اور جدا نہیں ہوئے دونوں کو اختیار حاصل ہے کہ بیع کو پختہ کریں یا فسخ(منسوخ)کر دیں،اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے: ((اَلْبَیِّعَانِ بِالْخِیَارِ مَالَمْ یَتَفَرَّقَا،فَإِنْ صَدَقَا وَبَیَّنَا بُورِکَ لَھُمَا فِي بَیْعِھِمَا،وَإِنْ کَذَبَا وَکَتَمَا مُحِقَتْ بَرَکَۃُ بَیْعِھِمَا)) ’’خرید و فروخت کرنے والے دونوں کو جدا ہونے سے پہلے تک(سودا فسخ کرنے کا)اختیار ہے،اگر وہ سچ کہیں ٭ حالانکہ غلام کی ولاء اس خریدار کو ملتی ہے جو اسے خرید کر آزاد کرتا ہے۔یاد رہے کہ ولاء ایک ایسا تعلق ہے جس کی بنیاد پر آزاد کردہ غلام کی میراث،اس کی وفات کے بعد اس کے دیگر وارثوں کے نہ ہونے کی صورت میں آزاد کرنے والے مالک کو ملتی ہے۔(ع،ر) گے اور(نقوص و عیوب)بیان کریں گے تو ان کی’ ’بیع‘‘میں برکت ہو گی اور اگر چھپائیں گے اور جھوٹ بولیں گے تو ان کی ’’بیع‘‘میں برکت ختم ہو جائے گی۔‘‘[1] 2: ’’بائع‘‘یا ’’مشتری‘‘میں سے کوئی ایک،اپنے لیے ایک مدت تک اختیار کی شرط عائد کر لیتا ہے تو مدت گزرنے تک دونوں اس کے پابند ہوں گے۔مدت گزرنے کے بعد ’’بیع‘‘پختہ ہو جائے گی،اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:’اَلْمُسْلِمُونَ عَلٰی شُرُوطِھِمْ‘ ’’مسلمان طے شدہ شرطوں کی پابندی کریں گے۔‘‘[2] 3: ایک شخص دوسرے کو ’’بیع‘‘میں تہائی یا زیادہ کا دھوکا دیتا ہے،مثلاً:دس روپے کی چیز پندرہ یا بیس روپے میں فروخت کر دیتا ہے تو خریدار کو اختیار ہے،خواہ ’’بیع‘‘فسخ کر دے،یا اسے نافذ رکھے۔کسی شخص کو بیع کرتے وقت دھوکا ہو جاتا ہو تو اسے چاہیے کہ بیع کرتے وقت لَاخِلَابَۃَ(کوئی دھوکا قبول نہیں)کہے،اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو جسے خرید و فروخت میں عقل کمزور ہونے کی وجہ سے دھوکا ہو جاتا تھا،فرمایا:’مَنْ بَایَعْتَ فَقُلْ:لَا خِلَابَۃَ‘ ’’جس سے تو خرید و فروخت کرے تو یہ شرط لگا کہ دھوکا نہیں ہو گا۔‘‘[3] 4: اگر ’’بائع‘‘ مبیع(سودے)کی خوبیاں ظاہر کرے اور اس کے نقائص کو چھپائے یا اس میں سے اچھی چیز دکھا دے اور جو خراب ہے اسے چھپا لے یا بکری کا دودھ روک کر بکری بیچے تو ایسی صورتوں میں ’’مشتری‘‘کو سودا منسوخ یا نافذ و جاری رکھنے کا اختیار٭ حاصل ہے کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: ((لَاتُصِرُّوا الإِْبِلَ وَالْغَنَمَ،فَمَنِ ابْتَاعَھَا بَعْدُ فَإِنَّہُ بِخَیْرِ النَّظَرَیْنِ بَعْدَ أَنْ یَّحْتَلِبَھَا،إِنْ شَائَ أَمْسَکَ،وَإِنْ شَائَ رَدَّھَا وَصَاعَ تَمْرٍ)) ’’اونٹ اور بکری کا دودھ نہ روکو،اگر کوئی اس(روکے ہوئے دودھ والے جانور)کو(اس کے بھرے بھرے تھن دیکھ کر)خرید لیتا ہے تو اسے دودھ دوہنے کے بعد اختیار ہے،چاہے تو اسے اپنے پاس رکھے اور چاہے تو بیچنے ٭ مسلم کی روایت میں ہے کہ یہ اختیار تین دن تک ہے باقی ایک صاع کھجور،دو یا تین دن دودھ دوہنے کا عوضانہ نہیں ہے بلکہ دودھ کے عوض تو اس نے چارہ بھی ڈالا ہو گا یہ ایک صاع کھجور از راہ احسان یا تالیف قلب ہے اور ضروری نہیں کہ یہ ایک صاع کھجور ہی ہو بلکہ ہر دور میں اپنے اپنے ملکی رواج کے مطابق ایک صاع کھجور کی قیمت کے برابر خوردنی غلہ یا نقد رقم بھی دی جا سکتی ہے-(تجارت اور لین دین کے مسائل و احکام:از مولانا عبدالرحمن کیلانی رحمہ اللہ) والے کو واپس کر دے اور اس کے ساتھ ایک صاع(تقریباً دو کلو)کھجور بھی دے۔‘‘[1] 5: مبیع(سودے)میں اگر عیب ہے جس سے اس کی قیمت کم بنتی ہے اور’ ’مشتری‘‘کو اس عیب کا علم نہیں تھا تو اسے ’’بیع‘‘(سودا)نافذ(جاری)رکھنے یا فسخ کرنے کا اختیار ہے،اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:’لَا یَحِلُّ لِمُسْلِمٍ بَاعَ مِنْ أَخِیہِ بَیْعًا فِیہِ عَیْبٌ إِلَّا بَیَّنَہُ لَہُ‘ ’’کسی مسلمان کے لیے جائز نہیں کہ عیب دار چیز اپنے بھائی کو فروخت کرے،ا لّا یہ کہ اسے بتا دے۔‘‘[2] نیز فرمایا:’مَنْ غَشَّنَا فَلَیْسَ مِنَّا‘ ’’جس نے ہمیں دھوکا دیا،وہ ہم سے نہیں ہے۔‘‘[3] 6: اگر ’’بائع‘‘اور’’مشتری‘‘قیمت یا سامان کے اوصاف کے بارے میں اختلاف کریں تو ہر ایک قسم کھائے،پھر دونوں کو اختیار ہے کہ ’’بیع‘‘نافذ رکھیں یا فسخ کریں،اس لیے کہ مروی ہے:’إِذَا اخْتَلَفَ الْمُتَبَایِعَانِ وَالسِّلْعَۃُ قَائِمَۃٌ،وَلَا بَیِّنَۃَ لِأَحَدِھِمَا تَحَالَفَا‘ ’’بائع اور مشتری جب اختلاف کریں اور سامان موجود ہو اور گواہ کسی کے پاس نہ ہوں تو دونوں قسم کھائیں گے۔‘‘[4] ممنوع تجارتوں کی اقسام:رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کئی قسم کی بیوع(سَودوں)سے منع فرمایا ہے کیونکہ ان میں یا تو فریب اور دھوکا ہوتا ہے جس سے لوگوں کا مال باطل ذریعے سے کھانا لازم آتا ہے یا خیانت ہوتی ہے جو مسلمانوں میں دشمنی،کینہ اور جھگڑے پیدا کرنے کا باعث بنتی ہے۔چند ایک کی تفصیل یہ ہے: 1 قبضے میں لانے سے پہلے ہی فروخت کر دینا: کسی مسلمان کے لیے جائز نہیں کہ سامان خرید کر اسے اپنے قبضے میں لینے سے پہلے فروخت کر دے،اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: ’إِذَا اشْتَرَیْتَ بَیْعًا فَلَا تَبِعْہُ حَتّٰی تَقْبِضَہُ‘’’جب تو کسی چیز کو خریدے تو اسے قبضے میں لینے سے پہلے نہ بیچ‘‘[5] اور فرمایا:’مَنِ ابْتَاعَ طَعَامًا فَلَا یَبِعْہُ حَتّٰی یَسْتَوْفِیَہُ‘ ’’جو طعام خریدتا ہے،اسے مکمل وصولی سے پہلے فروخت نہ کرے۔‘‘[6] حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ’’طعام کے علاوہ بھی ہر چیز کا یہی حکم ہے۔‘‘[1] 2 ایک مسلمان کی بیع پر دوسرے مسلمان کی بیع: ایک مسلمان نے ایک چیز پانچ روپے میں خریدی ہے،دوسرا اسے کہے تو یہ چیز واپس کر دے،میں تجھے یہ چیز چار روپے میں دیتا ہوں یا ’’بائع‘‘ کو کہے کہ یہ بیع فسخ کر دے،میں یہ چیز تجھ سے چھ روپے میں خریدتا ہوں،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’لَا یَبِعْ بَعْضُکُمْ عَلٰی بَیْعِ بَعْضٍ‘ ’’تم میں سے کوئی کسی کی بیع پر بیع نہ کرے۔‘‘[2] 3 بیع نجش: جس میں ایک شخص خود سامان خریدنا نہیں چاہتا لیکن(اپنے آپ کو خریدار ظاہر کرتے ہوئے بائع کا طرف دار بن کر بولی کے دوران میں)قیمت بڑھاتا ہے تا کہ دوسرے لوگ(اصل قیمت سے)زیادہ قیمت دیں،ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں:’نَھَی النَّبِيُّ صلی اللّٰه علیہ وسلم عَنِ النَّجْشِ‘ ’’نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بیع نجش سے منع کیا ہے۔‘‘[3] اسی طرح آپ نے فرمایا:’لَا تَنَاجَشُوا‘ ’’بیع میں تنا جش نہ کرو(بلا ارادئہ خرید ایک دوسرے سے بڑھ کر بولی نہ دو)۔‘‘ [4] 4 حرام اور ناپاک چیزوں کی تجارت: مسلمان کے لیے جائز نہیں ہے کہ وہ حرام اور پلید چیز فروخت کرے اور اسی طرح وہ چیز جو حرام تک پہنچا دے،بیچنی بھی ناجائز ہے۔اسی وجہ سے شراب،خنزیر،تصویر،مردار،اوربت فروخت کرنا جائز نہیں،اسی طرح اس شخص کے ہاتھ انگورفروخت کرنا جس سے وہ شراب بناتا ہے،جائز نہیں ہے۔اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:’إِنَّ اللّٰہَ وَرَسُولَہُ حَرَّمَ بَیْعَ الْخَمْرِ وَالْمَیْتَۃِ وَالْخِنْزِیرِ وَالْأَصْنَامِ‘ ’’بے شک اللہ اور اس کے رسول نے شراب،مردار،خنزیر اور بتوں کی ’’بیع‘‘حرام قرار دی ہے۔‘‘[5] اور فرمایا:’وَلَعَنَ الْمُصَوِّرَ‘ ’’اللہ تعالیٰ نے تصویر بنانے والے پر لعنت کی ہے۔‘‘[6] 5 جہالت والی بیع: جس میں جہالت ہے،وہ ’’بیع‘‘ناجائز ہے۔اسی لیے پانی میں موجود مچھلی،بھیڑ کی پیٹھ پر اون،جانور کے پیٹ میں بچہ،تھن میں موجود دودھ،پکنے سے پہلے پھل،سخت ہونے سے پہلے دانہ اور حاضر سامان دیکھے اور الٹے پلٹے بغیر،نہیں بیچنا چاہیے اور اسی طرح غائب سامان کی صفت،نوعیت اور مقدار معین کا معلوم ہونا جواز بیع کے لیے ضروری ہے،اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:’لَا تَشْتَرُوا السَّمَکَ فِي الْمَائِ،فَإِنَّہُ غَرَرٌ‘’’پانی میں موجود مچھلی نہ خریدو کیونکہ اس میں جہالت ہے۔‘‘ [1] ابن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں:((نَھٰی رَسُولُ اللّٰہِ صلی اللّٰه علیہ وسلم أَنْ تُبَاعَ ثَمَرَۃٌ حَتّٰی یُطْعَمَ،أَوْصُوفٌ عَلٰی ظَھْرٍ،أَوْلَبَنٌ فِي ضَرْعٍ أَوْ سَمَنٌ فِي لَبَنٍ)) ’’کھانے کے قابل ہونے سے پہلے پھل بیچنے سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا ہے،اسی طرح پیٹھ پر اون،تھن میں دودھ یا دودھ میں گھی کی بیع(بھی ممنوع ہے۔‘‘)[2] نیز انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: ((أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ صلی اللّٰه علیہ وسلم نَھٰی عَنْ بَیْعِ الثَّمَرَۃِ حَتّٰی تُزْھِيَ،قَالُوا:وَمَا تُزْھِيَ؟ قَالَ:تَحْمَرُّ)) ’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھلوں کے پکنے سے پہلے ان کی بیع سے منع فرمایا(صحابہ نے)پوچھا:پکنے سے کیا مراد ہے؟ تو آپ نے فرمایا:’’اس کا سرخ ہونا(اور زرد ہونا)۔‘‘ [3] ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں:’نَھَی النَّبِيُّ صلی اللّٰه علیہ وسلم عَنِ الْمُلَامَسَۃِ وَالْمُنَابَذَۃِ‘ ’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیع ملامسہ اور منابذہ سے منع کیا ہے۔‘‘[4] ’’ملامسہ‘‘ یہ ہے کہ ایک شخص دوسرے کے کپڑے کو ہاتھ لگا دے،اسے الٹ پلٹ کر نہ دیکھے(اور سودا پکا ہو جائے)اور ’’منابذہ‘‘یہ ہے کہ ایک شخص اپنا کپڑا دوسرے کی طرف پھینکتا ہے اور دوسرا اس کی طرف،اور یہی ان کے مابین بیع قرار پائے،جبکہ دونوں صورتوں میں چیز کو غور سے نہیں دیکھا گیا اور نہ ہی پوری جانچ پڑتال کی گئی ہے۔ 6 ایک بیع میں دو بیع: مسلمان کے لیے جائز نہیں ہے کہ ایک ’’بیع‘‘ میں دو بیع(دوہرا سودا)کرے بلکہ ہر سودا الگ الگ ہونا چاہیے،اس لیے کہ اس میں ابہام ہوتا ہے،جو ایذا کا سبب بنتا ہے اور پھر اس میں دوسرے کا ناحق مال کھایا جاتا ہے۔ایک سودے میں دو سودوں کی کئی صورتیں بن سکتی ہیں،مثلاً: ٭ ایک شخص دوسرے کو کہتا ہے کہ یہ چیز نقد میں لے تو دس روپے میں اور اگر ادھار لے تو پندرہ روپے میں اور پھر اسی پر بات ختم ہو جائے اور یہ تعین نہ کیا جائے کہ کون سی ’’بیع‘‘ ’’پختہ ہوئی ہے،نقد یا ادھار پر۔ ٭ ایک شخص دوسرے کو کہتا ہے کہ میں تجھے یہ مکان فروخت کرتا ہوں لیکن اس شرط پر کہ تو مجھے فلاں فلاں چیز فروخت کرے۔ ٭ ایک دینار کے عوض دو مختلف چیزوں میں سے ایک فروخت کرتا ہے،جبکہ اس کا تعین نہ کیا جائے کہ ’’مشتری‘‘نے ان میں سے کون سی چیز خریدی ہے،اس لیے کہ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے:((نَھٰی رَسُولُ اللّٰہِ صلی اللّٰه علیہ وسلم عَنْ بَیْعَتَیْنِ فِي بَیْعَۃٍ)) ’’آپ نے ایک’ ’بیع‘‘میں دو بیوع(ڈبل سودے)سے منع کیا ہے۔‘‘[1] 7 بیع العربون: کسی بھی حال میں مسلمان کے لیے عربون والی بیع کرنا جائز نہیں ہے،اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیع عربون سے منع فرمایا ہے۔[2]امام مالک رحمہ اللہ نے ’’بیع العربون‘‘کی توضیح میں لکھا ہے کہ ایک شخص کوئی چیز خریدتا ہے یا جانور کرایہ پر لیتا ہے اور ایک دینار پیشگی دے کر کہتا ہے کہ اگر میں نے بقیہ رقم ادا کر کے سامان نہ لیا یا جانور کرایہ پر حاصل نہ کیا تو یہ دینار تیرا ہو جائے گا۔٭ 8 جو ملکیت میں نہیں ان چیزوں کی بیع: مسلمان کے لیے وہی چیز بیچنا جائز ہے جو اس کے پاس ہے،اس کی ملکیت میں ہے،کسی چیز کی عدم موجودگی اور ملکیت میں آنے سے پہلے فروخت کرنے میں دونوں کو تکلیف دہ صورت کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے،یعنی جب وہ چیز دستیاب نہ ہو سکے،اس لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے:’لَا تَبِعْ مَا لَیْسَ عِنْدَکَ‘ ’’وہ چیز نہ بیچ جو تیرے پاس نہیں ہے،(تیری ملکیت نہیں ہے)۔‘‘ [3] اور ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا:’نَھٰی عَنْہُ النَّبِيُّ صلی اللّٰه علیہ وسلم فَھُوَ الطَّعَامُ أَنْ یُّبَاعَ حَتّٰی یُقْبَضَ‘ ’’نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے قبضہ میں لینے سے پہلے طعام(کھانے پینے کی چیزوں)کی ’’بیع‘‘سے منع کیا ہے۔‘‘[4] ٭ بیع العربون کی تعریف یہ کی گئی ہے:مایدفعہ المشتري للبائع علی أنہ إن أخذ السلعۃ احتسب بہ من الثمن و إن لم یأخذھا کان للبائع’’وہ رقم جو مشتری بائع کو اس شرط پر دیتا ہے کہ اگر اس نے مبیعہ(فروخت شدہ چیز)لے لی تو یہ رقم اس کی قیمت میں حساب ہوگئی اور اگر مبیعہ نہیں لیا تو ادا شدہ رقم بائع کی ہوگی۔معجم لغۃ الفقہاء(ع،و) 9 قرض کے بدلے قرض کی بیع: مسلمان کے لیے جائز نہیں کہ ایسی ’’بیع‘‘کرے جس میں ’’سامان‘‘اور اس کی قیمت دونوں ادھار ہوں کیونکہ یہ معدوم چیز کی’ ’بیع‘‘معدوم کے ساتھ ہے اور اسلام اسے ناجائز قرار دیتا ہے،اس کی ایک مثال اس طرح ہے کہ ایک شخص نے دوسرے سے ایک کلو ’’گندم‘‘ادھار لینی ہے اور لینے سے پہلے ہی اس ’’گندم‘‘ کو کسی دوسرے آدمی کے پاس ایک سو روپے میں ادھار پر فروخت کر دے۔ایک اور مثال یہ ہے کہ مثلاً:ایک شخص نے ایک آدمی سے بکری لینی ہے اور ادائیگی کا وقت آنے پر وہ بکری نہیں دے سکا تو کہتا ہے وہی بکری ادھار پر مجھے فروخت کر دے۔یہ ادھار چیز کو ادھار پر بیچنا ہے۔عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے: ((أَنَّ النَّبِيَّ صلی اللّٰه علیہ وسلم نَھٰي عَنْ بَیْعِ الْکَالِیئِ بِالْکَالِیئِ))’’بے شک نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے قرض کے ساتھ قرض کی بیع کو ممنوع قرار دیا ہے۔‘‘[1] 10 بیع العینہ: کسی مسلمان کے لیے یہ جائز نہیں ہے کہ ایک چیز ادھار پر بیچ کر،پھر ’’مشتری‘‘سے نقدی میں کم قیمت پر خرید لے،مثلاً:گاڑی دس لاکھ روپے میں ادھار بیچ کر مشتری سے سات لاکھ روپے نقد میں خرید لے،یہ ادھار والا سودا سود ہے،جو اللہ کی کتاب،سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور اجماع امت کی رو سے حرام ہے۔جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:((إِذَا یَعْنِي ضَنَّ النَّاسُ بِالدِّینَارِ وَالدِّرْھَمِ وَتَبَایَعُوا بِالْعَینِ وَاتَّبَعُوا أَذْنَابَ الْبَقَرِ وَتَرَکُوا الْجِھَادَ فِي سَبِیلِ اللّٰہِ،أَنْزَلَ اللّٰہُ بِھِمْ بَلَائً فَلَمْ یَرْفَعْہُ عَنْھُمْ حَتّٰی یُرَاجِعُوا دِینَھُمْ)) ’’جب لوگ دینار و درہم کے معاملہ میں کنجوس ہو جائیں گے،’ ’بیع عینہ‘‘کرنے لگ جائیں گے،بیلوں کی دموں کے پیچھے لگ جائیں گے اور جہاد چھوڑ دیں گے تو اللہ ان پر مصیبتیں ڈال دے گا اور اس وقت تک انھیں دور نہیں کرے گا،جب تک کہ وہ اپنے دین میں واپس نہ آ جائیں۔‘‘[2] ایک عورت نے عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے کہا:میں نے ایک غلام،زید بن ارقم رضی اللہ عنہ کے پاس آٹھ سو درہم میں ادھار پر فروخت کر دیا اور چھ سو درہم نقد میں خرید لیا ہے۔‘‘ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا:’’تیری یہ خریدوفروخت بہت بری ہے،جبکہ زید رضی اللہ عنہ کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی معیت میں کیا ہوا جہاد باطل ہے،الّا یہ کہ وہ توبہ کرے۔‘‘[3] 11 شہری کا صحرا سے آنے والے کے سامان کو فروخت کرنا: صحرا(بادیہ)،یعنی شہر سے دور کسی بادیہ میں رہنے والا بازار میں سامان لائے تو شہری کے لیے جائز نہیں کہ وہ اس کے لیے فروخت کرے،اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: ((لَا یَبِعْ حَاضِرٌ لِّبَادٍ،دَعُوا النَّاسَ یَرْزُقِ اللّٰہُ بَعْضَھُمْ مِنْ بَعْضٍ)) ’’شہری صحرائی کے لیے نہ بیچے،لوگوں کو چھوڑ دو،اللہ ان کو ایک دوسرے کے ذریعے سے روزی دیتاہے۔‘‘[1] 12 تجارتی قافلوں کے منڈی پہنچنے سے پہلے راستے ہی میں ان سے مال خرید لینا: جب ایک شخص سنتا ہے کہ ایک قافلہ سامان لے کر شہر آ رہا ہے تو اس کے لیے جائز نہیں ہے کہ وہ قافلے والوں سے راستے میں مل کر شہر سے باہر ہی وہ سامان ان سے خرید لے،پھر شہر میں لا کر اپنی مرضی کے مطابق بیچے،اس لیے کہ اس میں قافلے کے تاجروں کو نقصان اورگھاٹے کا اندیشہ ہے اور ساتھ ہی شہر کے تاجروں اور صارفین کا بھی نقصان ہے،اسی لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’لَا تَلَقَّوُا الرُّکْبَانَ وَلَا یَبِعْ حَاضِرٌ لِّبَادٍ‘ ’’تجارتی قافلے کو(مارکیٹ سے باہر)نہ ملو اور کوئی شہری دیہاتی(صحرائی)کے لیے(کوئی مال)فروخت نہ کرے۔‘‘[2] 13 دودھ روکے ہوئے جانوروں کی تجارت: کسی مسلمان کے لیے جائز نہیں کہ بکری،گائے یا اونٹنی کا دودھ چند دن تک ان کے تھنوں میں اس مقصد کے لیے روکے رکھے کہ وہ دودھ سے بھرے ہوئے معلوم ہوں اور خریدار ان کی زیادہ قیمت دے،اس لیے کہ یہ دھوکا دہی کا ایک انداز ہے(کیونکہ وہ اسے زیادہ دودھ والی سمجھے گا،حالانکہ درحقیقت وہ ایسی نہیں ہوگی)اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: ((لَا تُصَرُّوا الإِْبِلَ وَالْغَنَمَ،فَمَنِ ابْتَاعَھَا بَعْدَ ذٰلِکَ فَھُوَ بِخَیْرِ النَّظْرَینِ بَعْدَ أَنْ یَّحْلِبَھَا،فَإِنْ رَّضِیَھَا أَمْسَکَھَا،إِنْ سَخِطَھَا رَدَّھَا وَصَاعًا مِّنْ تَمْرٍ)) ’’اونٹنی اور بکری کا دودھ نہ روکو،اگر کوئی ایسا جانور خرید لیتا ہے تو دودھ دوہنے کے بعد اسے اختیار ہے کہ اپنے پاس رکھے اور اگر چاہے تو واپس کر دے اور ایک صاع کھجور(یا غلہ)بھی اس کے ساتھ دے۔‘‘[3] 14 جمعۃ المبارک کی دوسری اذان کے بعد تجارت کرنا: مسلمان جمعے کی اذان(اذان محمدی جس کے بعد امام منبر پر کھڑا ہو کر خطبہ دیتا ہے)کے بعد خرید و فروخت نہیں کر سکتا،اس لیے کہ اللہ تعالیٰ کا حکم ہے: ﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا نُودِيَ لِلصَّلَاةِ مِن يَوْمِ الْجُمُعَةِ فَاسْعَوْا إِلَىٰ ذِكْرِ اللّٰهِ وَذَرُوا الْبَيْعَ﴾ ’’اے ایمان والو!جب جمعہ کے دن نماز کی اذان دی جائے تو اللہ کے ذکر کے لیے جلدی کرو اور خرید و فروخت چھوڑ دو۔‘‘[1] 15 درختوں پر پھلوں یا کھڑی فصل کی تجارت: کوئی شخص بیل پر لگے انگوروں کے وزن کا اندازہ کر کے انھیں کشمش(کی معین مقدار)کے عوض فروخت نہیں کر سکتا اور نہ ہی کھڑے کھیت کی متوقع آمدن کا اندازہ لگا کر اسے متعین کردہ غلے کے عوض فروخت کر سکتا ہے اور نہ ہی درخت پر لگی کھجور کو اتری ہوئی خشک کھجور کے عوض اندازے سے فروخت کر سکتا ہے۔ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: ((نَھٰی رَسُولُ اللّٰہِ صلی اللّٰه علیہ وسلم عَنِ الْمُزَابَنَۃِ:أَنْ یَّبِیعَ ثَمَرَ حَائِطِہِ،إِنْ کَانَ نَخْلًا بِتَمْرٍ کَیْلًا،وَإِنْ کَانَ کَرْمًا أَنْ یَّبِیعَہُ بِزَبِیبٍ کَیْلًا،وَإِنْ کَانَ زَرْعًا أَنْ یَّبِیعَہُ بِکَیْلِ طَعَامٍ،وَنَھٰی عَنْ ذٰلِکَ کُلِّہِ)) ’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ’’مزابنہ‘‘یعنی باغ کا پھل فروخت کرنا،اگر کھجور ہے تو(اتری ہوئی)خشک کھجور کے ماپ کے حساب سے،اگر انگور ہے تو کشمش کے ماپ کے حساب سے اور اگر کھیت ہے تو غلے کے وزن کے حساب سے،آپ نے ان تمام صورتوں سے منع کیا ہے۔‘‘[2] البتہ اس میں سے ایک صورت مستثنیٰ ہے جس کی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رخصت دی ہے کہ ایک شخص نے کسی کو اپنے باغ میں سے کھجور کا ایک یا زیادہ درخت ہبہ کر دیے ان کی متوقع آمدنی پانچ وسق(تقریباً چھ سو 30کلو)خشک کھجور سے زائد نہیں ہے،اب جسے درخت ہبہ کیے گئے ہیں وہ ان سے تازہ کھجور حاصل کرنے کے لیے وقتًا فوقتًا آتا ہے،اس کے بار بار آنے سے ہبہ کرنے والے کے لیے کسی قسم کی تنگی پیدا ہوتی ہے،چنانچہ وہ اس تنگی سے بچنے کے لیے اس آدمی کو اس بات پر آمادہ کر لیتا ہے کہ وہ ہبہ شدہ درختوں کی متوقع آمدن کا اندازہ لگا کر اس کے برابر اتری ہوئی خشک کھجور لے لے تو یہ ’’بیع عریہ‘‘ہے اور جائز ہے۔[3] 16 بیع استثنا: مسلمان اس انداز کی ’’بیع‘‘بھی نہیں کر سکتے کہ ایک چیز بیچ دیں اور اس میں سے کچھ مجہول چیز مستثنیٰ کر لیں۔ہاں،اگر مستثنیٰ کی ہوئی چیز معلوم و متعین ہو تو استثنا جائز ہے،مثلاً:ایک شخص باغ فروخت کرتا ہے اور کہتا ہے کہ میں اس باغ میں سے ایک یا دو درخت مستثنیٰ کرتا ہوں،یعنی انھیں چھوڑ کر باقی درخت فروخت کرتا ہوں،اب اگر مستثنیٰ کیے ہوئے درخت متعین ہوں تو بیع صحیح ہے ورنہ نہیں،اس لیے کہ اس میں جہالت ہے جو کہ جائز نہیں اور جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:((نَھٰی رَسُولُ اللّٰہِ صلی اللّٰه علیہ وسلم عَنِ الْمُحَاقَلَۃِ وَالْمُزَابَنَۃِ وَالْمُخَابَرَۃِ وَالثُّنْیَا إِلَّا أَنْ تُعْلَمَ)) ’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے محاقلہ،مزابنہ،مخابرہ اور استثنا سے منع کیا ہے،ا لّا یہ کہ معلوم ہو۔‘‘[1] پھل دار درختوں کی بیع: ایک شخص کھجور یا کوئی اور درخت فروخت کرے اور کھجور کی تابیر٭ ہو چکی ہے اور درخت کا پھل ظاہر بھی ہو گیا ہے تو اس سال کا پھل ’’بائع‘‘کے لیے ہے،الّا یہ کہ ’’مشتری‘‘بیع میں شرط لگا لے کہ پھل وہی لے گا اور اگر ’’تابیر‘‘ نہیں ہوئی اور پھل بھی ظاہر نہیں ہوا تو پھل ’’مشتری‘‘کا ہے،اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:’مَنْ بَاعَ نَخْلًا قَدْ أُبِّرَتْ فَثَمَرَتُھَا لِلْبَائِعِ إِلَّا أَنْ یَّشْتَرِطَ الْمُبْتَاعُ‘ ’’جو شخص کھجور کا درخت فروخت کرتا ہے اور اس کی تابیر ہو چکی ہے تو پھل ’’بائع‘‘کا ہے،الّا یہ کہ ’’مشتری‘‘ شرط کرے۔‘‘[2]