تقدیر پر ایمان

عقلی دلائل

1: قضا و قدر،مشیت و حکمت اور ارادہ و تدبیر میں سے عقل کسی کا انکار نہیں کرتی بلکہ عقل سے ان کا اثبات ہوتا ہے کیونکہ اس کائنات میں اس کے واضح مظاہر موجود ہیں۔ 2: اللہ تعالیٰ اور اس کی قدرتِ کاملہ کا یقین،اس کی قضا و قدر اور حکمت و مشیت کا متقاضی بلکہ اسے مستلزم ہے۔ 3: ایک انجینئر چھوٹے سے کاغذ پر ایک محل کا نقشہ بنا کر اس کی تعمیر کا وقت متعین کرتا ہے اور اس پر کام شروع کر دیتا ہے تو متعینہ مدت ہی میں وہ محل بغیر کمی و بیشی کے صفحۂ ہستی پر نمودار ہو جاتا ہے۔تو پھر اس سے کیسے انکار کیا جا سکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے سارے جہان کی قیامت تک کے لیے تقدیر(پہلے سے)لکھ دی ہے اور اس کے کمال قدرت اور علمِ کامل سے اس کی تقدیر کے مطابق یہ عالم چل رہا ہے،مقدارو کیفیت اور زمان و مکان میں کوئی معمولی سا فرق بھی نہیں آ سکتا،اس لیے کہ وہ ہر چیز پرمکمل طور پر قادر ہے۔