بیع و تجارت کا بیان
تمام ربویات(جن میں سود ممکن ہے)میں تین وجوہات کی بنا پر سود ہوتا ہے
1: جنس کو جنس کے ساتھ کم و بیش کر کے فروخت کیا جائے،جیسا کہ سونا سونے کے ساتھ تبادلے میں اور گندم گندم کے ساتھ اور کھجور کھجور کے ساتھ کم و بیش کی صورت میں۔امام بخاری اور مسلم رحمہم اللہ روایت کرتے ہیں کہ بلال رضی اللہ عنہ نبیٔ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس برنی کھجور لائے تو آپ نے فرمایا:’’بلال!یہ کھجور کہاں سے لائے ہو۔‘‘بلال رضی اللہ عنہ نے عرض کی:ہمارے پاس ردی کھجور تھی،اس کے دو صاع دے کر ایک صاع لایا ہوں تاکہ آپ اسے کھائیں،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:((أَوَّہْ!عَیْنُ الرِّبَا،عَیْنُ الرِّبَا،لَا تَفْعَلْ،وَلٰکِنْ إِذَا أَرَدْتَّ أَنْ تَشْتَرِيَ فَبِعِ التَّمْرَ بِبَیْعٍ آخَرَ ثُمَّ اشْتَرِ بِہِ))
’’اوہو!اوہو!یہ تو عین سود ہے،یہ تو عین سود ہے،ایسے نہ کر،اگر تیرا ارادہ اچھی کھجور خریدنے کا ہو تو گھٹیا بیچ دے اور پھر(اس قیمت سے)اچھی کھجور الگ خرید لے۔‘‘٭
٭ صحیح البخاري،الوکالۃ،باب:إذا باع الوکیل شیئًا فاسدًا:،حدیث:2312،وصحیح مسلم،المساقاۃ،باب بیع الطعام مثلاً بمثل،حدیث:1594۔یہاں چند امور قابل غور ہیں:
٭ اگر ایک ہی جنس کے لین دین میں ادھار اور کمی بیشی دونوں باتوں کو جائز قرار دیا جائے تو لین دین کی بیسیوں شکلیں پیدا ہو سکتی ہیں۔اور ان سب میں کسی نہ کسی طرح سود کا عنصر شامل ہوگا،لہٰذا آپ نے ایک نہایت جامع قسم کا ارشاد فرمایا اس میں سواء بسواء کے الفاظ ربا الفضل کی نہی کے لیے ہیں اور یدا بید کے الفاظ ربا النسیئہ کی نہی کے لیے آئے ہیں۔(’’تجارت اور لین دین کے مسائل و احکام‘‘از مولانا عبدالرحمن کیلانی رحمہ اللہ)
2: دو مختلف چیزوں کی ’’بیع‘‘:مثلاً:سونا چاندی کے ساتھ اور گندم کھجور کے ساتھ،جبکہ ایک حاضر اور دوسری ادھار ہو،اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:’لَا تَبِیعُوا مِنْھَا غَائِبًا بِنَاجِزٍ‘ ’’ان میں سے غائب کو حاضر کے بدلے نہ بیچو۔‘‘[1]
اور فرمایا:’اَلْوَرِقُ بِالذَّھَبِ رِبًا إِلَّا ھَائَ وَھَائَ‘’’چاندی سونے کے عوض فروخت کرنا سود ہے مگر یہ کہ لین دین اسی وقت ہو۔‘‘[2]
3: ایک چیز کا تبادلہ اپنی جنس کے ساتھ ہے اور مقدار میں دونوں برابر ہیں مگر ان میں سے ایک حاضر اور دوسری ادھار ہے،مثلاً:سونے کی بیع سونے کے ساتھ برابر ہے یا کھجور کی بیع کھجور کے ساتھ برابر برابر ہے۔مگر ایک کا سونا یا کھجور ادھار ہے،اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:’اَلْبُرُّ بِالْبُرِّ رِبًا إِلَّا ھَائَ وَھَائَ‘
’’گندم گندم کے ساتھ سود ہے مگر یہ کہ لین دین اسی وقت ہو جائے۔‘‘[3]