بیع و تجارت کا بیان
بیمہ پالیسی
اگر کچھ لوگ ایک مشترکہ سرمایہ(فنڈ)قائم کریں جس میں ماہانہ یا جس مدت پر اتفاق ہو جائے ایک مخصوص شرح سے رقم جمع کریں اور جس میں بنیادی غرض یہ ہو کہ اگر مشارکت کے کاروبار میں اتفاقیہ کوئی حادثہ ہو جائے،مثلاً:آگ لگنا،جہاز کا ڈوبنا،گاڑیوں کا ٹکرانا وغیرہ تو پالیسی میں شریک شخص اتنی رقم لے سکے جس سے وہ اپنا نقصان پورا کر لے(اگر اپنی جمع کردہ دولت سے زیادہ لے رہا ہے تو زائد حصہ قرض ہو گا جس کی ادائیگی اس کے ذمے ہو گی)البتہ اس میں درج ذیل باتوں کو ملحوظ رکھنا ضروری ہے:
1 حصہ داری میں اصل غرض اللہ کی رضا ہونی چاہیے تاکہ اس پر اسے اجروثواب ملے۔
2 مصیبت زدہ حصہ داروں کوان کے حصے کے مطابق مساویانہ انداز پر رقوم دی جائیں گی،جس کا تعین اس پالیسی میں کر دیا جائے جس پر یہ متفق ہوئے تھے۔
3 حصہ داروں کی جمع شدہ دولت کو تجارت میں مضاربت٭ کی شکل میں تعمیرات اور صنعت کے اداروں میں منافع حاصل کرنے کے لیے لگانا جائز ہے اور اس میں کوئی امر مانع نہیں ہے۔