بیع و تجارت کا بیان

بیع سلم

٭ بیع سلم کی تعریف: اسے ’’بیع سلف‘‘بھی کہا جاتا ہے جس میں ایک شخص سامان خریدتا ہے،جس کی صفت معلوم اور متعین کردی جاتی ہے،بائع سے سامان وصول کرنے کا وقت بھی معلوم اور طے ہوجاتا ہے اور وہ سودا طے ہوتے ہی ’’بائع‘‘کو پوری رقم پیشگی دے دیتا ہے اور معین میعاد آنے پر اس سے سامان وصول کر لیتا ہے۔ ٭ بیع سلم کا حکم: اس کا حکم یہ ہے کہ یہ بیع جائز ہے،اس لیے کہ یہ بھی بیع(خرید و فروخت)ہے اور یہاں عدم جواز کی کوئی دلیل نہیں ہے اور اس لیے بھی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:((مَنْ أَسْلَفَ فِي تَمْرٍ فَلْیُسْلِفْ فِي کَیْلٍ مَّعْلُومٍ وَّوَزْنٍ مَّعْلُومٍ إِلٰی أَجَلٍ مَّعْلُومٍ)) ’’جو شخص کھجوروں میں بیع سلم(کرکے رقم پیشگی ادا)کرتا ہے تو وہ معین ناپ(یا)مقررہ وزن میں ایک معین مدت تک کے لیے سودا کرے۔‘‘[3] اور ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ تشریف لائے تھے تو صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم سال دو سال کی میعاد پر ’’بیع سلم‘‘کرتے تھے۔[4] ٭ بیع سلم کی شرائط: 1: قیمت نقدہو،مثلاً:سونا یا چاندی یا نوٹ۔اس طرح سودی چیز اپنی مثل کے ساتھ ادھار پر فروخت نہ ہو سکے گی۔ 2: ’’مبیع‘‘کا تعین صفت کے ساتھ اس طرح ہو کہ اس کی جنس،نوع اور مقدار معلوم ہو جائے تاکہ بعد میں فریقین کے مابین کسی قسم کا جھگڑا اور نزاع وقوع پذیر نہ ہو کہ جس سے ان کے مابین عداوت و دشمنی واقع ہو جائے۔ ٭ اگر ایک فریق نے ادائیگی کر دی تھی تو وہ دوسرے فریق سے اپنی کرنسی واپس لے لے اور جب دونوں کے پاس کرنسی(سونا چاندی اور جوان کے حکم میں ہے)موجود ہو گی تو اس وقت وہ نئے سرے سے دست بہ دست تبادلہ کریں گے۔(ع،ر) 3: وقتِ ادائیگی معلوم ہو اور واضح طور پر اس کا تعین کر دیا جائے،مثلاً:ایک ماہ یا دو ماہ۔٭ 4: قیمت اسی مجلس میں ’ ’بائع‘‘ وصول کر لے تاکہ ادھار کی بیع ادھار کے ساتھ نہ ہو جائے جو کہ شرعاً ممنوع ہے۔ ان شرطوں کی دلیل یہ فرمان نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے:’مَنْ أَسْلَفَ فِي تَمْرٍ فَلْیُسْلِفْ فِي کَیْلٍ مَّعْلُومٍ وَّوَزْنٍ مَّعْلُومٍ إِلٰی أَجَلٍ مَّعْلُومٍ‘ ’’جو شخص کھجوروں میں بیع سلم(کر کے رقم پیشگی ادا)کرتاہے تو وہ معین ناپ اور مقررہ وزن میں ایک معین وقت تک کے لیے ایسا کرے۔‘‘[1] ٭ بیع سلم کے احکام: 1 :میعادِ ادائیگی اتنی ہو کہ اس مدت میں قیمت کا اتار چڑھاؤ ہو سکتا ہو،مثلاً:ایک ماہ یا دو ماہ،اس لیے کہ دو چار دن کی مدت کا حکم عام ’’بیع‘‘والا ہے جبکہ اس عام’ ’بیع‘‘میں یہ شرط ہے کہ مبیع کو اچھی طرح دیکھ لے اور اس کی معرفت حاصل کر لے(بیع سلم میں مبیع کو نہیں دیکھا جاتا،اس کے اوصاف ذکر کیے جاتے ہیں۔) 2: وقتِ ادائیگی کے لیے ضروری ہے کہ اس وقت مطلوبہ جنس کا پایا جانا ممکن ہو،لہٰذا بہار کے موسم کو تازہ کھجور کی ادائیگی کا وقت یا سردیوں میں انگور کی ادائیگی کا وقت مقرر نہ کیا جائے،اس لیے کہ اس صورت میں مسلمانوں میں اختلاف واقع ہو گا۔ 3: اگر ’’معاہدئہ بیع‘‘میں ادائیگی کی جگہ کا تعین نہیں کیا گیا تو ’’مقام معاہدہ‘‘ہی ادائیگی کی جگہ طے پائے گا،اگر جگہ کا تعین کیا گیا ہے تو اس پر عمل کیا جائے گا اور اس بارے میں جس جگہ ادائیگی پر دونوں متفق ہوں،اس کے مطابق عمل کیا جائے،اس لیے کہ مسلمان معاملات میں جو شرطیں طے کر لیں ان کی پابندی ضروری ہے۔ ٭ عام بیع کا تحریری نمونہ: بسم اللہ الرحمن الرحیم کے بعد لکھے:’فلاں نے اپنے لیے فلاں سے بقائمیٔ صحت اور ہوش و حواس اپنے اختیار سے ایک مکان جو فلاں شہر یا فلاں بستی میں واقع ہے اس کا رقبہ،عمارت اوپر نیچے سمیت خریدا ہے،مکان اس پوزیشن میں ہے جو مشاہدہ کے مطابق ہے اور مکان کے بارے میں صفات مذکورہ پر دونوں کا اتفاق ہے۔جس کے مشرق میں مکان مملوکہ فلاں ہے اور مغرب و شمال اور جنوب میں فلاں فلاں چیزیں ہیں۔ مکان کے اندر جو چیزیں ہیں،مثلاً:دروازے،چوکھٹیں،لکڑیاں،اینٹیں،وغیرہ،سب اس ’’بیع‘‘میں داخل ہیں۔مکان کی جملہ منفعتیں،راستے،اوپر نیچے کے حصے اور اندرون و بیرون منافع شرعی طریقہ سے فروخت ہو رہے ہیں،جن میں ٭ بیع سلم کے سودے میں چار چیزوں کا تعین ضروری ہے جنس،قیمت،مقدار اور مدت اور اس کی یہ بھی شرط ہے کہ مشتری جب تک بائع سے مطلوبہ جنس خود وصول نہ کر لے یہ سودا کسی دوسرے خریدار کی طرف منتقل نہیں کر سکتا۔(عبدالرحمن کیلانی) سے کوئی چیز بھی مستثنیٰ نہیں ہے اور نہ ہی کوئی اور شرط ہے جس سے بیع فاسد اور باطل ہو جائے۔مکان کی قیمت اتنی طے ہوئی ہے کہ جو ’مشتری’’نے ’’بائع‘‘کے سپرد کر دی ہے اور اس پر قبضہ کر لیا ہے،مزید یہ کہ ’’بائع‘‘نے مکان مذکورہ مکمل طور پر مع مشمولات جن کا تذکرہ اوپر تحریر ہے اور جس کا حدود اربعہ اوپر بیان ہوا ہے ’’مشتری‘‘کے سپرد کر دیا ہے اور اس نے اس پر قبضہ بھی کر لیا ہے۔خرید و فروخت کرنے والے دونوں افراد نے ایک دوسرے کو اس بیع میں اختیار دیا تھا جسے دونوں نے اپنا اپنا اختیار و مرضی استعمال کرتے ہوئے رد کر کے ’’عقد‘‘کو پختہ کر لیا ہے۔ پھر دونوں کے جاننے والے گواہوں کے دستخط اور تصدیق کے بعد ’’بائع‘‘ و’’مشتری‘‘ایک دوسرے سے جدا ہو گئے ہیں۔’ ’مشتری‘‘فلاں،’’بائع‘‘فلاں اور تحریر مؤرخہ فلاں۔ ٭ بیع سلم کا تحریری نمونہ: اللہ کی تعریف و حمد کے بعد لکھے:میں فلاں اقرار کرتا ہوں اور لکھ دیتا ہوں کہ میں نے فلاں شخص سے اتنی رقم وصول کر لی ہے اور اس کے عوض میں فلاں شہر کے ماپ سے فلاں قسم کی گندم کی اتنی مقدار پورے دو ماہ بعد بمقام فلاں ادا کر دوں گا۔میں اس ادائیگی کی قدرت کا اعتراف کرتا ہوں اور’ ’مجلس عقد‘‘میں شرعی طریقے کے مطابق میں نے رقم وصول کر لی ہے جو کہ اتنی ہے۔یہ معاہدہ مورخہ::کو طے پایا۔ نام،دستخط اور تاریخ