بیع و تجارت کا بیان

جملہ عقود و معاہدات

شراکت کے احکام: ٭ شراکت کی دلیل: اللہ کے اس فرمان کی رو سے کسی چیز میں اشتراک کرنا ثابت ہے۔﴿فَهُمْ شُرَكَاءُ فِي الثُّلُثِ﴾’’تو وہ تہائی میں شریک ہیں۔‘‘[2] اور فرمایا:﴿وَإِنَّ كَثِيرًا مِّنَ الْخُلَطَاءِ لَيَبْغِي بَعْضُهُمْ عَلَىٰ بَعْضٍ﴾’’اور یقینا بہت سے حصہ دار ایک دوسرے پر زیادتی کرتے ہیں۔‘‘[3] اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’یَقُولُ اللّٰہُ:أَنَا ثَالِثُ الشَّرِیکَیْنِ مَالَمْ یَخُنْ أَحَدُھُمَا صَاحِبَہُ‘ ’’اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:میں دو حصہ داروں میں تیسرا ہوں(میری مدد ان کے شامل حال ہوتی ہے)،جب تک ان میں سے ایک،دوسرے کی خیانت نہ کرے۔‘‘[1] ٭ شراکت کی تعریف: دو یا زیادہ اشخاص کسی مال میں حصہ دار بن جائیں جو وراثت یا کسی اور(جائز)طریقے سے انھیں حاصل ہوا یا اقساط میں انھوں نے اسے اکٹھا کیا اور پھر مشترکہ طور پر اسے صنعت اور زراعت میں لگائیں۔اس کو عرف میں شراکت کا نام دیا جاتا ہے اور اس کی درج ذیل اقسام ہیں: ٭ شرکۃ العنان: دو یا زیادہ اشخاص مشترکہ مال میں منافع حاصل کرنے کے لیے کاروبار کرتے ہیں،اس طریقے پر کہ ہر ایک کو اس کے اصل حصے کی نسبت سے منافع ملے گا اور اگر خسارہ ہوا تو وہ بھی اسی نسبت سے حصہ داروں پر تقسیم ہو گا اور ہر ایک کو اس مال میں تصرف کرنے کا حق حاصل ہے،اپنی طرف سے بذات خود بھی اور اپنے شرکاء کی طرف سے نمائندہ ہونے کی صورت میں بھی۔اسی طرح خرید و فروخت،اور لین دین میں بھی سب مجاز ہوں گے اور ہر ایک اسی مشترکہ مال کے قرضہ جات کا مطالبہ کر سکے گا۔مال میں اگر کوئی عیب پایا گیا تو ہر ایک اسے رد کرنے کا مجاز ہو گا۔مختصر یہ کہ کمپنی کے فائدے میں جو بھی معاملہ ہو گا،ہر شریک اسے سرانجام دے سکے گا۔ ٭ شرکۃ العنان کی شرائطِ صحت: 1: مذکورہ اشتراک صرف مسلمانوں کے درمیان ہو،اس لیے کہ ہو سکتا ہے کہ کافر سودی کاروبار کرے یا اس میں حرام مال شامل کر دے ہاں،اگر کمپنی کے اموال میں خرید و فروخت کی ذمہ داری مسلمان کے ہاتھ میں ہے تو غیر مسلم کے حصہ دار ہونے میں کوئی حرج نہیں ہے،اس لیے کہ اس صورت میں حرام مال کے شامل ہونے کا اندیشہ نہیں ہے۔ 2: اصل مال معلوم ہو اور اسی طرح حصہ داروں کے اموال کے حصے بھی معلوم ہوں،اس لیے کہ نفع و نقصان کی تقسیم اسی بنیاد پر ہو گی۔اگر اصل مال یا حصہ داروں کے حصص کا تعین نہ ہو تو اس طرح ایک دوسرے کے اموال حرام ذرائع سے کھانے کے امکانات پیدا ہو جائیں گے،جبکہ یہ حرام ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿وَلَا تَأْكُلُوا أَمْوَالَكُم بَيْنَكُم بِالْبَاطِلِ﴾’’اپنے مال آپس میں باطل ذریعے سے نہ کھاؤ۔‘‘[2] 3: منافع کی تقسیم معروف(اورحصص کے)انداز پر ہو،اس طرح نہ ہو کہ بھیڑ کے کاروبار کا منافع فلاں کا اور اون کا منافع دوسرے کا،اس لیے کہ اس میں غرر(جہالت اور مخاطرہ)ہے جو کہ حرام ہے۔ 4: اصل مال نقدی کی صورت میں جمع ہو گا،اگر کسی کے پاس سامان ہے اور وہ اشتراک کرنا چاہتا ہے تو سامان بیچ کر نقدی کی صورت میں مال جمع کرو ا کے کمپنی میں حصہ دار بنے،اس لیے کہ سامان کی قیمت مجہول ہے(معلوم نہیں ہے)اور معاملات میں جہل شرعاً ممنوع ہے،اس لیے کہ اس میں حقوق کے ضائع ہونے کا اندیشہ ہے اور باطل ذریعے سے مال کھانے کا امکان بھی۔ 5: ہر حصہ دار اپنے حصے کے تناسب سے کام کرے،جس کا 1/4(چوتھائی)حصہ ہو،وہ چار دنوں میں ایک دن کام کرے اور اگر کام کرنے کے لیے مزدور رکھنے ہوں تو اس کی مزدوری حصہ داروں کے حصص کی نسبت سے دی جائے گی۔ 6: اگر کوئی حصہ دار فوت ہو جائے یا پاگل ہو جائے تو شرکت ختم ہو جاتی ہے،اس کے بعد ’’اولیائے میت‘‘اور’ ’اولیائے مجنون‘‘ کو اختیار ہے،چاہیں تو سابق شرطوں پر اشتراک بحال رکھیں یا ختم کر دیں۔ ٭ شرکۃ الابدان: اس میں دو یا زیادہ اشخاص باہمی سمجھوتہ کرتے ہیں کہ کسی کام کرنے میں،مثلاً:سلائی کرنے یا کپڑے وغیرہ دھونے میں ہر ایک جو بھی مزدوری کرے گا،سب اس میں برابر کے حصہ دار ہوں گے یا جس نسبت سے طے کریں۔اس کے جواز کی دلیل یہ حدیث ہے کہ عبداللہ،سعد اور عمار رضی اللہ عنہم نے بدر کے دن سمجھوتہ کیا کہ آج جو ہمیں مال غنیمت حاصل ہو گا،اس میں سب برابر کے حصہ دار ہوں گے۔چنانچہ عمار اور عبداللہ رضی اللہ عنہما کوئی چیز نہ لائے اور سعد رضی اللہ عنہ دو قیدی لے آئے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی مشارکت کو بحال رکھا۔[1] ٭ شرکۃ الابدان کے احکام: 1: کسی ٹھیکیدار یا صاحب اجرت سے اجرت طلب کرنے اور لینے کا دونوں حصہ داروں کو اختیار ہے۔ 2: اگر ایک بیمار ہو جائے یا کسی عذر کی بنا پر کام پر نہ آ سکے تو جو ایک کمائے گا،اس میں دونوں حصہ دار ہوں گے۔ 3: اگر غیر حاضری کی مدت یا بیماری طویل ہو جائے تو تندرست حصہ دار اس کے بجائے ایک مزدور رکھ لے جس کی مزدوری وہ بیمار یا غائب کے حصے میں سے دے گا۔ 4: اگر ان میں سے ایک حصہ دار کام کے لیے آنے سے معذرت کر لے تو دوسرے کو اس کی شرکت فسخ کر دینے کا اختیار ہوگا۔ ٭ شرکۃ الوجوہ: دو یا زیادہ اشخاص ایک چیز اکٹھے خریدتے ہیں اور پھراسے فروخت کر دیتے ہیں،اس میں جو منافع ہو گا،وہ دونوں برابر برابر لیں گے،اگر نقصان ہوا تو وہ بھی اسی طرح۔ ٭ شرکۃ المفاوضہ: یہ ’’شرکت عنان‘‘’’وجوہ‘‘اور ’’ابدان‘‘کے علاوہ’ ’مضاربت‘‘کو بھی شامل ہے۔اس میں ہر حصہ دار اپنے ساتھی کو مالی اور بدنی اشتراک کے جملہ اختیارات تفویض(سپرد)کر دیتا ہے بلکہ ہر شریک خرید و فروخت اور مضاربت کے اختیارات کا حامل ہوتا ہے،اسی طرح ایک دوسرے سے ’’وکالت‘‘’’اس کی طرف سے خصومت‘‘اور’ ’رہن رکھنے‘‘ میں بھی دونوں حصہ دار کلی اختیار کے مالک ہوتے ہیں۔نفع و نقصان کی جو شرح وہ باہم طے کر لیں گے،اسی کے مطابق اس کا نفاذ ہو گا۔