بیع و تجارت کا بیان
مساقات اور مزارعت
٭مساقات کی تعریف:
کسی کام کرنے والے کو باغ وغیرہ کا قبضہ دینا اور کہنا کہ اس کی دیکھ بھال کر اور پانی لگا،اس کی آمدنی میں سے اتنا حصہ تیرا ہو گا ’’مساقات‘‘ کہلاتا ہے۔
٭ مساقات کا حکم:
معاہدہ مذکور شرعاً جائز ہے اور اس کی دلیل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے بعد خلفائے راشدین رضی اللہ عنہم کا تعامل ہے۔امام بخاری رحمہ اللہ ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں:((أَنَّ النَّبِيَّ صلی اللّٰه علیہ وسلم عَامَلَ خَیْبَرَ بِشَطْرِ مَا یَخْرُجُ مِنْھَا مِنْ ثَمَرٍ أَوْزَرْعٍ))
’’نبیٔ کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل خیبر سے طے کیا تھا کہ جو کچھ ان کے باغات یا کھیتوں سے حاصل ہو گا،نصف نصف تقسیم کیا جائے گا۔‘‘ [1]
٭ مساقات کے احکام:
1: ’’عقد‘‘پختہ کرتے وقت کھجور یا درخت معلوم ہونے چاہئیں،یہی وجہ ہے کہ مجہول درختوں میں(جن کی نشاندہی نہ کی گئی ہو)’’مساقات‘‘جائز نہیں ہے،اس لیے کہ اس میں غرر(خطر اور جہالت)ہے جو کہ حرام ہے۔
2: عامل کو پیداوار کا جو حصہ دیا جائے وہ بھی متعین اور معلوم ہو بلکہ تمام درختوں میں سے مُشاعاً حصے کا تعین کیا
٭ اصل سرمائے کا خسارہ مالک کو برداشت کرنا پڑے گا اور عامل کی محنت رائیگاں جائے گی۔(ع،ر)
جائے۔کیونکہ اگر ایک کھجور یا درخت کا تعین کیا گیا تو ہو سکتا ہے کہ اس سال وہ پھل نہ دے اور عامل سے غرر(مخاطرہ اور دھوکا)ہو جائے جو کہ اسلام میں حرام ہے۔
3: عامل کے ذمے وہ سب کام ہیں جو عرف عام میں کھجوروں اور دیگر درختوں کی درستی و آبادی کے لیے ضروری ہوتے ہیں۔
4: اگر اس رقبہ پر کوئی سرکاری خراج یا ٹیکس لاگو ہے تو اس کی ادائیگی رقبے کا مالک کرے گا،اس لیے کہ خراج اور ٹیکس اصل رقبے سے متعلق ہیں۔دلیل یہ ہے کہ اگر عامل اس رقبے کو آباد نہ کرے تو بھی اس کی ادائیگی ضروری ہے۔البتہ زکاۃ ہر ایک اپنے حصے کی ادا کرے گا،اگر اس کا حصہ اسے نصاب کے برابر حاصل ہوا،اس لیے کہ زکاۃ کا تعلق پھل کی پیداوار کے ساتھ ہے۔
5: ایک شخص کسی کو زمین دیتا ہے کہ اس میں باغ اور درخت لگا،اسے پانی دے اور دیکھ بھال کر یہاں تک کہ پھل آور ہو جائے تو اس میں سے1/3 یا1/4 حصہ تجھے دے دوں گا۔تو یہ ’’مساقات‘‘بھی جائز ہے،بشرطیکہ معاہدہ پھل دینے کی مدت تک کا ہو(معاہدے کی مدت اس سے پہلے ختم نہ ہوتی ہو)اور عامل اپنا حصہ پھل اور درخت دونوں میں سے حاصل کرے گا۔
6: اگر عامل کام کرنے سے عاجز ہو گیا ہو اور اپنی جگہ کسی اور کو یہ کام سپرد کر دے تو یہ جائز ہے اور’ ’عقد‘‘کے مطابق یہ کام کرنے والا(نیا کارکن)پھل کے اسی حصے کا مستحق ہے جو عقد میں طے ہوا ہے۔
7: اگر عامل فوت ہو جائے تو ورثاء اس کی جگہ کام کرنے کے لیے کسی کو مقرر کریں اور اگر دونوں ’’عقد‘‘ فسخ کرنا چاہیں تو انھیں یہ بھی اختیار ہے۔
٭ مزارعت کی تعریف:
ایک شخص اپنا ’’رقبہ زمین‘‘دوسرے کو دیتا ہے کہ وہ اس میں کاشت کرے اور وہ آمدنی میں سے اتنے معین(مُشاعاً)حصے کا مستحق ہو گا۔
٭ مزارعت کا حکم:
جمہور صحابہ،تابعین اور ائمہ اسے جائز قرار دیتے ہیں،جبکہ بعض ناجائز کہتے ہیں۔جواز کی دلیل یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر والوں سے نصف حصہ بٹائی پر معاملہ طے کیا تھا۔٭ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں:((أَنَّ النَّبِيَّ صلی اللّٰه علیہ وسلم عَامَلَ خَیْبَرَ بِشَطْرِ مَا یَخْرُجُ مِنْھَا مِنْ ثَمَرٍ أَوْ زَرْعٍ،فَکَانَ یُعْطِي أَزْوَاجَہُ مِائَۃَ وَسْقٍ))
’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل خیبر کے ساتھ طے کیا کہ جو کچھ پھلوں اور کھیتی کی آمدنی میں سے حاصل ہو گا،وہ اس
٭ خیبر کی کچھ زمین بطور ’’فے‘‘ اسلامی حکومت کی تحویل میں آئی تھی جس کے متعلق یہ طے ہوا کہ اہل خیبر کاشتکاری کریں گے اور حاصل شدہ پیداوار کا نصف حصہ انھیں دیا جائے گا اور باقی نصف حکومت لے گی۔(عبدالرحمن کیلانی رحمہ اللہ)
کا نصف(نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو)ادا کریں گے اور آپ اس آمدنی سے اپنی بیویوں کو ایک سو وسق دیتے تھے۔‘‘[1]
’’مزارعت‘‘کی ممانعت میں جو احادیث مروی ہیں انھیں علماء اس صورت پر محمول کرتے ہیں کہ مالک زمین کاشتکار سے کہے کہ فلاں حصہ زمین کی پیداوار میری اوراس کے علاوہ تمھارے لیے ہوگی۔رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کی یہ حدیث اس توجیہ کی تائید کرتی ہے:
((کُنَّا أَکْثَرَ الْأَنْصَارِ حَقْلًا،فَکُنَّا نُکْرِي الْأَرْضَ(عَلٰی أَنَّ لَنَا ھٰذِہِ وَلَھُمْ ھٰذِہِ)فَرُبَّمَا أَخْرَجَتْ ھٰذِہِ وَلَمْ تُخْرِجْ زِہْ،فَنُھِینَا عَنْ ذٰلِکَ))
’’انصار میں سے ہمارے کھیت زیادہ تھے اور ہم زمین کرائے پر دیتے تھے۔اس طرح کہ ہم اس قطعے کی آمدنی لیں گے اور کاشتکار فلاں قطعے کی،پھر بسا اوقات اس قطعے میں تو آمدنی ہوتی اور دوسرے میں نہ ہوتی،چنانچہ نبیٔ کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اس سے منع کر دیا۔‘‘[2]
جمہوریہ بھی کہتے ہیں کہ ہو سکتا ہے آپ نے محض کراہت(تنزیہی)کے طور پر منع کیا ہو(حرمت مراد نہ ہو،)جیسا کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں:
((أَنَّ النَّبِيَّ صلی اللّٰه علیہ وسلم لَمْ یَنْہَ عَنْہُ،وَلٰکِنْ قَالَ:أَنْ یَّمْنَحَ أَحَدُکُمْ أَخَاہُ خَیْرٌ لَّہُ مِنْ أَنْ یَّأْخُذَ عَلَیْہِ خَرْجًا مَّعْلُومًا))
’’نبیٔ کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ’’عقدِ مزارعت‘‘سے منع نہیں کیا،البتہ یہ فرمایا ہے کہ تم میں سے ایک شخص اپنے(کاشتکار)بھائی کو(ضرورت سے زائد)رقبہ(کاشتکاری کے لیے)دے دے،یہ اس کے لیے اس سے بہتر ہے کہ وہ اس سے پیداوار کا معلوم حصہ وصول کرے۔‘‘[3]
٭ مزارعت کے احکام:
1: مزارعت کی مدت معلوم اور متعین ہوجیسا کہ ایک سال یا دو سال۔
2: جس حصے پر اتفاق ہوا ہے،اس کی مقدار معلوم ہو،مثلاً:آدھا یا تیسرا یا چوتھائی حصہ وغیرہ اور وہ حصہ حاصل شدہ کل آمدنی میں سے نکالا جائے گا۔اگر یہ کہا گیا کہ صرف فلاں قطعے کی آمدنی تیری ہے تو یہ درست نہیں ہے۔
3: بیج زمین کا مالک دے گا۔اگر بیج عامل مہیا کرے توبھی درست ہے۔٭
٭ فتح الباری میں ہے کہ’ ’مخابرہ‘‘میں بیج عامل کے ذمہ ہوتا ہے اور’ ’مزارعہ‘‘میں بیج مالک زمین دیتا ہے۔(مؤلف)اور دونوں صورتیں بلاشبہ جائز ہیں۔دیکھیے:حاشیۃ الروض المربع:289,288/5(عبدالولی)
4: مزارعت(بٹائی پر رقبہ دینا)سے زمین نقد کرایے(اجارے)پر دینا بہتر ہے۔رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
’أَمَّا بِالذَّھَبِ وَالْوَرِقِ فَلَا بَأْسَ بِہِ‘’’سونے یا چاندی کے ساتھ کرایے پر دینے میں کوئی حرج نہیں ہے۔‘‘٭
5: اور اس سے بھی بہتر یہ ہے کہ جس کے پاس اپنی ضرورت سے زیادہ’ ’رقبہ زمین‘‘ہے تو وہ اپنے بھائی مسلمان کو عطیے کے طور پر دے دے،٭تاکہ وہ اس کی آمدنی سے فائدہ اٹھائے،اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:((مَنْ کَانَتْ لَہُ أَرْضٌ فَلْیَزْرَعْھَا أَوْ لِیَمْنَحْھَا أَخَاہُ))
’’جس کے پاس زمین ہے وہ اسے خود کاشت کرے یا اپنے بھائی کو(خواہ صرف فائدہ حاصل کرنے کے لیے)دے دے۔‘‘[1]
اور فرمایا:((أَنْ یَّمْنَحَ أَحَدُکُمْ أَخَاہُ خَیْرٌ لَّہُ مِنْ أَنْ یَّأْخُذَ عَلَیْہِ خَرْجًا مَّعْلُومًا))
’’اپنے بھائی کو(فائدہ حاصل کرنے کے لیے)دے دے،یہ اس سے بہتر ہے کہ وہ اس پر پیداوار کا متعین حصہ وصول کرے۔‘‘[2]
6: جمہور کے نزدیک غلے کے عوض زمین کرایے پر دینا منع ہے(جیسا کہ تین من گندم فی بیگھہ وغیرہ)اس لیے کہ اس میں غلے کو غلے کے ساتھ ادھار اور کمی و بیشی میں فروخت کرنا لازم آتا ہے،جو کہ ممنوع ہے۔
امام احمد رحمہ اللہ سے اس کا جواز مروی ہے مگر اس سے مراد’ ’مزارعت‘‘ہے،نہ کہ متعین گندم وغیرہ کے بدلے میں زمین اجرت پر دینا۔