بیع و تجارت کا بیان

ضمانت،کفالت،رہن،وکالت اور صلح کا بیان

٭ ضمانت کی تعریف: کسی دوسرے پر ثابت شدہ حق کی ذمہ داری قبول کرنا،مثلاً:ایک شخص کا کسی پر حق ہے،اس نے مطالبہ کیا تو ایک اور شخص جو بااختیار ہے،کہتا ہے یہ میرے ذمے ہے،میں تجھے دے دوں گا۔اس لفظ سے وہ ’’ضامن‘‘ ہوگا۔صاحب حق اس سے اپنے حق کا مطالبہ کر سکتا ہے اور اگر یہ نہ دے تو پھر اصل مقروض سے بھی مطالبہ کر سکتا ہے۔ ٭ ضمانت کا حکم: اس طرح کی ذمہ داری لینا جائز ہے۔اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿وَلِمَن جَاءَ بِهِ حِمْلُ بَعِيرٍ وَأَنَا بِهِ زَعِيمٌ﴾ ’’اور جو اس(پیالے)کو لائے گا اس کے لیے(حکومت کی طرف سے)ایک اونٹ کے بوجھ کا غلہ ہے اور میں اس کا ضامن ہوں۔‘‘[1] جب کوئی مقروض شخص فوت ہو جاتا اور قرض کی ادائیگی کے لیے اس کے متروکہ مال میں کچھ نہ ہوتا،آپ اس کا جنازہ پڑھنے سے رک جاتے اور فرماتے:’صَلُّوا عَلٰی صَاحِبِکُمْ‘ ’’اپنے ساتھی پر جنازہ پڑھو۔‘‘ لیکن اس کے بعد جب آپ پر فراخی ہوگئی،آپ صلی اللہ علیہ وسلم فوت شدہ شخص کا قرض اپنے ذمے لے کر اس کی نماز جنازہ پڑھاتے تھے۔[2] ٭ ضمانت کے احکام: 1: ’’ضمانت‘‘میں ضامن کا راضی ہونا معتبر ہے’’مضمون‘‘(جس شخص کی ضمانت دی جارہی ہے)کی رضا کی ضرورت نہیں ہے۔ 2: جس کی ذمہ داری دی جاری ہے وہ اس وقت بری قرار پائے گا،جب ضامن ذمہ داری پوری کرے گا اور ’’جس کی ذمہ داری دی جارہی ہے‘‘اگر بری ہو گیا تو ضامن بھی ضمانت سے بری ہو جائے گا۔ 3: ’’ضمانت‘‘میں ’’مضمون‘‘(جس کی ضمانت دی جارہی ہے)کی معرفت ضروری نہیں ہے۔بلکہ ضامن جس کو بالکل ہی نہیں جانتا ہے اس کی ضمانت بھی دے سکتا ہے،۔اس لیے کہ ’’ضمان‘‘نیکی اور احسان کا کام ہے۔ 4: ’’ضمانت‘‘اسی حق میں دی جا سکتی ہے جو کسی کے ذمہ ثابت شدہ ہو یا آئندہ ثابت ہونے والا ہو،جیسا کہ انعام وغیرہ میں ہوتا ہے۔ 5: ایک ہی چیز میں متعدد ضامن ہو سکتے ہیں،جبکہ ضامن پر ضامن ہو(ضامن کا بھی کوئی ضامن بن جائے)تو بھی کوئی حرج نہیں ہے۔ ٭ ضمانت کا تحریری نمونہ: بسم اللہ اور اللہ کی حمد و ثنا کے بعد،میرے پاس |اس ’’ضمان‘‘کے گواہ فلاں تاریخ کو آئے اور گواہی دی کہ یہ شخص فلاں کے ذمے اتنی مقدار کے واجبات کا ضامن ہے(اس موقع پر لکھنے یا لکھانے والا واضح کرے کہ قرض کی ادائیگی کا وقت آ گیا ہے یا قسطیں ہیں یا کہ مؤجل ہے)اور یہ ’’ضمان‘‘شرعی اصولوں کے مطابق ہے،ضامن نے اقرار کیا ہے کہ وہ مذکورہ واجبات کی ادائیگی پر قادر ہے اور ضمان کے عرفی و شرعی مفہوم سے واقف ہے،جبکہ’’جس کی ضمانت دی جارہی ہے اس‘‘نے بھی اس کی ’’ضمان‘‘کو تسلیم کیا ہے۔آج مؤرخہ ..کو یہ تحریر ہوئی۔ ٭ کفالت کی تعریف: ایک با اختیار شخص اپنے اوپر یہ لازم کر لے کہ اگر فلاں پر کسی حق کو ادا کرنا ثابت ہو گیا تو میں دوں گا یا وہ(با اختیار شخص)کسی کو عدالت میں حاضر کرنے کی ذمہ داری قبول کرے۔[1] ٭ کفالت کا حکم: مذکورہ’ ’کفالت‘‘شرعا جائز ہے،اس لیے کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:﴿لَنْ أُرْسِلَهُ مَعَكُمْ حَتَّىٰ تُؤْتُونِ مَوْثِقًا مِّنَ اللّٰهِ لَتَأْتُنَّنِي بِهِ إِلَّا أَن يُحَاطَ بِكُمْ﴾ ’’میں اسے تمھارے ساتھ ہرگز نہیں بھیجوں گا،الّا یہ کہ تم مجھ سے اللہ کی طرف سے پختہ عہد کرو کہ اسے ضرور میرے پاس واپس لاؤ گے،ا لّا یہ کہ تمھارا گھیراؤ کر لیا جائے۔‘‘[2] اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:’لَا کَفَالَۃَ فِي حَدٍّ‘ ’’حدوں میں کفالت نہیں ہے۔‘‘[3] اور فرمایا:’اَلزَّعِیمُ غَارِمٌ‘ ’’کفیل(نے جو حق اپنے ذمے لیا ہے وہ اسے)ادا کرے گا۔‘‘[4] ٭ یہ مطلب نہیں کہ بعینہ یہی الفاظ لکھے جائیں بلکہ بطور نمونہ یہ اظہار مقصود ہے کہ ضمانت نامہ میں کسی طرح فریقین،عقد اور گواہوں کا تذکرہ ہو جائے اور یہ تحریر قاضیِ محکمہ کی طرف سے ہو گی۔(مؤلف) ٭ کفالت کے احکام: 1: کفالت میں ’’مکفول‘‘(جس کی کفالت کی جائے)کی پہچان ضروری ہے،بالخصوص عدالت میں حاضر کرنے کی کفالت میں۔ 2: کفالت میں ’’کفیل‘‘کی رضا ضروری ہے۔ 3: مالی کفالت میں اگر ’’مکفول‘‘فوت ہو جائے تو کفیل مال کا ضامن ہے اور اگر کسی کو حاضر کرنے کی کفالت میں ’’مکفول‘‘مر جائے تو کفیل پر کچھ نہیں ہے۔ 4: کفیل،مکفول کو عدالت میں قاضی کے پاس پیش کر دے تو کفیل کی ذمہ داری ختم ہو جائے گی۔ 5: کفالت ان حقوق میں ہی ہوتی ہے جو کسی کے ذمے ہوں اور ان میں شرعًا نیابت جائز ہو،مثلاً:مالی امور وغیرہ اور جن امور میں ایک انسان دوسرے کا نائب نہیں بن سکتا،جیسے:حدود و قصاص وغیرہ تو ان میں ’’کفالت‘‘ بھی نہیں ہے،اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:’لَا کَفَالَۃَ فِي حَدٍّ‘ ’’حدود میں کفالت نہیں ہے۔‘‘[1] ٭ رہن کی تعریف: مقروض قرض کے تحفظ کے لیے کوئی چیز قرض دینے والے کے پاس رکھتا ہے تاکہ وہ عدم ادائیگی کی صورت میں یہ چیز یا اس کی قیمت سے قرض منہا کر لے(کاٹ کر وصول کر لے)،مثلاً:ایک شخص نے کسی سے قرض طلب کیا،قرض دینے والا مطالبہ کرتا ہے کہ قرض کے تحفظ(دوسرے لفظوں میں میری تسلی)کے لیے تو میرے پاس(اپنی کوئی چیز)جانور یا زمین وغیرہ گروی رکھ،جب ’’ادائیگی ٔ قرض‘‘ کا وقت آئے گا اور مقروض قرض ادا کر سکے گا تو قرض دینے والا(یا تو قرض وصول کر کے گروی چیز مقروض کو واپس کر دے گا یا اسی)گروی چیز میں سے اپنا قرض وصول کرلے گا۔اس معاملے میں قرض دینے والے کو ’’مرتہن‘‘،مقروض کو ’’راہن‘‘اور گروی رکھی ہوئی چیز کو ’’رہن‘‘یا ’’مرہون‘‘کہتے ہیں۔ ٭ رہن کا حکم: قرض میں کوئی بھی چیز گروی رکھنا جائز ہے،اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿وَإِن كُنتُمْ عَلَىٰ سَفَرٍ وَلَمْ تَجِدُوا كَاتِبًا فَرِهَانٌ مَّقْبُوضَةٌ﴾ ’’اگر تم سفر میں ہو اور(قرضے کی دستاویز)لکھنے والا نہ پاؤ تو گروی چیز قبضہ میں کر لی جائے۔‘‘[2] اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں:((لَا یُغْلَقُ الرَّھْنُ(مِنْ صَاحِبِہِ الَّذِي رَھَنَہُ)لَہُ غُنْمُہُ وَعَلَیْہِ غُرْمُہُ)) ’’رہن اس کے مالک ’’راہن‘‘سے نہ روکی جائے۔اس کی بڑھوتری اس کی ہے اور اسی پر اس کا تاوان ہے۔[3] انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:((رَھَنَ رَسُولُ اللّٰہِ صلی اللّٰه علیہ وسلم دِرْعًا لَّہُ عِنْدَ یَھُودِيٍّ بِالْمَدِینَۃِ فَأَخَذَ مِنْہُ شَعِیرًا لِّأَھْلِہِ)) ’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ منورہ میں ایک یہودی کے پاس اپنی زرہ ’’رہن‘‘ رکھی اور اس سے اپنے گھر کے لیے جَو(بطورِ قرض)حاصل کیے۔‘‘[1] ٭ رہن کے احکام: 1:’’مرتہن‘‘کا ’’گروی رکھی گئی چیز‘‘ پر قبضہ کرتے ہی عقد رہن منعقد ہوکر راہن پر لازم ہے کہ اسے مرتہن کے پاس رہنے دے،بنا بریں ’’راہن‘‘ اگر واپس لینا چاہے تو نہیں لے سکتا مگر ’’مرتہن‘‘اسے واپس کرنا چاہے تو کر سکتا ہے،اس لیے کہ رہن سے اس کا حق وابستہ ہے۔ 2:جو چیزیں فروخت کرنا درست نہیں ان کا ’’رہن‘‘ رکھنا بھی صحیح نہیں ہے۔البتہ کھیتی اور پھل جو ابھی پکے نہیں ہیں ان کی ’’بیع‘‘ درست نہیں مگر گروی رکھے جا سکتے ہیں،اس لیے کہ اس میں مرتہن کو کوئی غرر،خطرہ اور دھوکا نہیں لگے گا۔جبکہ کھیتی یا پھل تباہ بھی ہو جائے تو قرض ’’راہن‘‘ کے ذمے ثابت ہے۔ 3:’’رہن‘‘ کی میعاد ختم ہونے پر ’’مرتہن‘‘ قرض کا مطالبہ کرے۔اگر’’راہن‘‘ادائیگی کر دے تو ’’رہن‘‘ واپس کر دے،ورنہ اس میں سے اپنا حق وصول کر لے۔اگر کاروبار کی وجہ سے ’’گروی‘‘ میں آمدنی اور اضافہ حاصل ہوا ہے تو اسے فروخت کر کے اپنا حق رکھ لے اور زائد واپس کر دے۔لیکن اگر ’’رہن‘‘ کی فروخت سے پورے حق کی ادائیگی نہیں ہوتی تو بقیہ قرض ’’راہن‘‘ کے ذمے ہے۔ 4:’’رہن‘‘ ’’مرتہن‘‘کے ہاتھ میں امانت ہے،اگر اس کی کوتاہی یا زیادتی سے تلف ہو جائے تو وہ ’’ضامن‘‘ ہو گا،ورنہ ’’ضامن‘‘ نہیں ہے اور قرض’’راہن‘‘ کے ذمے باقی رہے گا۔ 5:’’رہن‘‘کو’ ’مرتہن‘‘ کے علاوہ کسی امین شخص کے پاس بھی رکھا جا سکتا ہے،اس لیے کہ ’’رہن‘‘ کا اصل مقصد قرض کا تحفظ ہے اور امین شخص کے پاس اس کو رکھنے سے یہ مقصد حاصل ہو جاتا ہے۔ 6:اگر’’راہن‘‘ یہ شرط لگائے کہ قرض کی ادائیگی کی میعاد آنے پر رہن کو فروخت نہیں کیا جا سکے گا تو ’’رہن‘‘ باطل ہے۔اسی طرح اگر’ ’مرتہن‘‘ یہ شرط لگائے کہ میعاد آنے پر قرض کی عدم ادائیگی کی صورت میں ’’رہن‘‘ کا مالک ’’مرتہن‘‘ ہو گا تو اس سے بھی ’’رہن‘‘ باطل ہو جائے گا،اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:((لَا یُغْلَقُ الرَّھْنُ وَالرَّھْنُ لِمَنْ رَّھَنَہُ،لَہُ غُنْمُہُ وَعَلَیْہِ غُرْمُہُ)) ’’گروی رکھی گئی چیز کو روکا نہ جائے،یہ ’’رہن‘‘ رکھنے والے کی ملکیت ہے اور اسی کے لیے اس کا نفع ہے اور اسی پر اس کا تاوان ہے۔‘‘[1] 7: قرض کی مقدار میں اگر’ ’راہن‘‘ اور’ ’مرتہن‘‘ کے مابین اختلاف ہو جائے تو حلف کے ساتھ ’’راہن‘‘ کی بات معتبر ہو گی،ا لّا یہ کہ’ ’مرتہن‘‘ اس کے خلاف ثبوت پیش کر دے اور اگر ’’رہن‘‘ میں اختلاف ہو جائے،مثلاً ’’راہن‘‘ کہتا ہے کہ میں نے تیرے پاس جانور اور اس کا بچہ گروی رکھا تھا اور’ ’مرتہن‘‘ کہتا ہے صرف جانور تھا تو حلف کے ساتھ ’’مرتہن‘‘ کی بات معتبر ہو گی۔ا لّا یہ کہ’’راہن‘‘ اس کے خلاف ثبوت پیش کر دے،اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: ((اَلْبَیِّنَۃُ عَلَی الْمُدَّعِي وَالْیَمِینُ عَلَی الْمُدَّعٰی عَلَیْہِ))’’ثبوت مدعی پیش کرے اور قسم اس مدعیٰ علیہ پر ہے(جو انکار کرے۔)‘‘[2] 8: اگر ’’مرتہن‘‘ دعویٰ کرے کہ میں نے ’’مرہون‘‘چیز واپس کر دی ہے اور’ ’راہن‘‘ انکار کرے تو راہن کی حلفیہ بات تسلیم کی جائے گی،ا لّا یہ کہ’ ’مرتہن‘‘ اپنے دعوے میں ثبوت پیش کر دے۔ 9: ’’مرتہن‘‘ اخراجات(چارہ وغیرہ)کے بدلے میں گروی رکھی ہوئی سواری پر سوار ہو سکتا ہے اور اس کا دودھ پی سکتا ہے۔اس بارے میں عدل و انصاف کو ملحوظ رکھے،اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: ((اَلظَّھْرُ یُرْکَبُ بِنَفَقَتِہِ إِذَا کَانَ مَرْھُونًا،وَلَبَنُ الدَّرِّ یُشْرَبُ بِنَفَقَتِہِ إِذَا کَانَ مَرْھُونًا،وَعَلَی الَّذِي یَرْکَبُ وَیَشْرَبُ النَّفَقَۃُ)) ’’مرہون جانور پر خرچ کے عوض سواری کی جا سکتی ہے اور اس کا دودھ پیا جا سکتا ہے اور جو سوار ہو گا اور دودھ پیے گا،وہ(جانور کی ضروریات کے لیے)خرچ ادا کرے گا۔‘‘[3] 10: گروی چیز کی آمدنی،اجرت،محصول،نسل وغیرہ سب ’’راہن‘‘کی ملکیت ہے اوراسی کے ذمے ان تمام چیزوں کے اخراجات ہیں جن سے گروی چیز کی بقا ہے،مثلاً:باغ کو پانی پلانا وغیرہ،اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:((اَلرَّھْنُ لِمَنْ رَّھَنَہُ،لَہُ غُنْمُہُ وَعَلَیْہِ غُرْمُہُ)) ’’مرہون چیز ’’راہن‘‘کی ملکیت ہے،وہی اس کے نفع کا مالک ہے اور اسی پر اس کا تاوان ہے۔‘‘[4] 11: اگر ’’مرتہن‘‘ نے ’’راہن‘‘ کی اجازت کے بغیر حیوان وغیرہ پر خرچ کر دیا ہے تو وہ ’’راہن‘‘ سے مطالبہ نہیں کر سکتا،ہاں اگر اس کے لیے دور کی مسافت کی وجہ سے فوری طور پر اجازت لینا ممکن نہیں ہے تو پھر وہ اس کا مطالبہ کر سکتا ہے،بشرطیکہ اس نے ’’راہن‘‘ سے وصول کرنے کی نیت سے خرچ کیا ہو،ورنہ نہیں،اس لیے کہ جس نے نیکی سمجھ کر خرچ کیا ہے وہ وصول نہیں کر سکتا۔ 12: شکستہ اور ویران مکان کو اگر ’’مرتہن‘‘ نے ’’راہن‘‘ کی اجازت کے بغیر مرمت اور آباد کر دیا ہے تو وہ ’’راہن‘‘ سے کچھ نہیں لے سکتا۔ہاں،لکڑی،پتھر وغیرہ،جن کا اتارنا انتہائی مشکل ہوتا ہے،کا حساب ’’راہن‘‘ سے لے سکتا ہے۔ 13: ’’راہن‘‘ کے فوت یا مفلس ہونے کی صورت میں ’’مرتہن‘‘ کا استحقاق دوسرے قرض خواہوں سے زیادہ ہے۔چنانچہ ’’میعاد ادائیگی‘‘ آنے پر وہی رہن فروخت کر کے اپنا قرض وصول کرے گا اور جو زائد ہے اسے واپس کرے گا اور اگر اس کی فروخت سے قرض پورا نہیں ہوا تو وہ باقی قرض میں دوسرے قرض خواہوں کے برابر ہے۔ ٭ تحریری نمونہ: اللہ کی حمد وثنا کے بعد: (رو برو مسمی بہ...قاضی عدالت،اوتھ کمشنر...)۔فلاں ... نے اقرار کیا کہ اس کے ذمے فلاں ...کا ...قرض ہے۔اور اس قرض کی مدت:::ہے۔تو بطور ثوثیق مذکوربالا مقروض نے قرض خواہ مذکور بالا کے ہاتھ میں اپنا گھر واقع ...(کہ جس کا رقبہ ...اور محل وقوع ... اور مالیت ...ہے)جو کہ اقرار کرنے والے کی ذاتی ملکیت ہے،مذکور بالا قرض کے عوض رہن رکھا ہے۔یا فلاں چیز ساری کی ساری ... اس حالت میں کہ یہ رہن مرتہن(قرض خواہ)کے اختیار میں شرعاً تسلیم شدہ بالکل صحیح حالت میں ہو گا،لہٰذا مرتہن مذکور بالا(قرض خواہ)نے مذکور رہن کو شرعاً قبول کر لیا ہے۔ تاریخ تحریر ... المقر ... المرتہن ... القاضی ... ٭ وکالت کی تعریف: کسی ایسے معاملے میں جس میں شرعًا نیابت ہو سکتی ہے،کسی شخص کا دوسرے کی جگہ مقرر ہونا،جیسے خریداری،بیع اور مخاصمت وغیرہ میں۔ ٭ وکالت کی شرائط: ’’وکیل’’اور ’’مؤکل‘‘(کسی کو اپنا وکیل بنانے والا)دونوں میں شرط یہ ہے کہ ان میں ’’مکلف‘‘ ہونے کی صفات پائی جائیں،یعنی عاقل بالغ اور صاحب اختیار ہوں۔ ٭ وکالت کا حکم: کتاب و سنت سے وکالت کا جواز ثابت ہے۔اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:﴿وَالْعَامِلِينَ عَلَيْهَا﴾’’صدقات وصول کرنے والوں کے لیے۔‘‘[1] جو کہ زکاۃ جمع کرنے میں امام وقت کے وکیل ہوتے ہیں۔ اور فرمایا:﴿فَابْعَثُوا أَحَدَكُم بِوَرِقِكُمْ هَـٰذِهِ إِلَى الْمَدِينَةِ فَلْيَنظُرْ أَيُّهَا أَزْكَىٰ طَعَامًا فَلْيَأْتِكُم بِرِزْقٍ مِّنْهُ﴾ ’’تم اپنے میں سے ایک کو یہ چاندی دے کر شہر بھیجو،وہ اچھا طعام دیکھے اور اس میں سے تمھارے پاس کھانا لائے۔‘‘[2] یعنی اصحاب کہف نے اپنے میں سے ایک کو طعام خریدنے لیے وکیل بنایا۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انیس رضی اللہ عنہ کو حکم دیا:’اُغْدُ یَا أُنَیْسُ!إِلَی امْرَأَۃِ ھٰذَا،فَإِنِ اعْتَرَفَتْ فَارْجُمْھَا‘ ’’انیس!اس شخص کی عورت کے پاس جاؤ،اگر اعتراف کر لے تو اس کو رجم کر دو۔‘‘[3] اس واقعے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابی انیس رضی اللہ عنہ کو دعوے کی تحقیق اور حد قائم کرنے میں اپنا وکیل مقرر کیا۔اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں:’وَکَّلَنِي رَسُولُ اللّٰہِ صلی اللّٰه علیہ وسلم بَحِفْظِ زَکَاۃِ رَمَضَانَ‘ ’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے رمضان المبارک کی زکاۃ(فطرانے)کی حفاظت کے لیے وکیل بنایا۔‘‘[4] اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جابر رضی اللہ عنہ کو کہا:((إِذَا أَتَیْتَ وَکِیلِي فَخُذْ مِنْہُ خَمْسَۃَ عَشَرَ وَسْقًا،فَإِنِ ابْتَغٰی مِنْکَ آیَۃً فَضَعْ یَدَکَ عَلٰی تَرْقُوَتِہِ)) ’’جب تو میرے وکیل کے پاس جائے تو اس سے پندرہ وسق لے لینا،اگر وہ تجھ سے کوئی نشانی طلب کرے تو اپنا ہاتھ اس کی ہنسلی پر رکھ دینا۔‘‘[5] اور آپ نے اپنے غلام رافع اور ایک انصاری رضی اللہ عنہما کو بھیجا تو انھوں نے آپ کا نکاح میمونہ بنت الحارث رضی اللہ عنہا کے ساتھ کیا۔تو اس طرح ان دونوں کو عقد نکاح کے لیے وکیل بنایا۔[6] ٭ وکالت کے احکام: 1: جس لفظ سے کسی کام کے کرنے کی اجازت معلوم ہو،اس سے ’’وکالت‘‘ کا اثبات ہو جاتا ہے،بنابریں اس کے لیے کسی مخصوص لفظ کی ضرورت نہیں ہے۔ 2: شخصی حقوق میں کسی بھی ’’عقد‘‘ کے لیے وکالت صحیح ہے،مثلاً:خرید و فروخت،نکاح،طلاق،رجوع(بیوی کو رجوع کی اطلاع بھیجنا)اور خلع وغیرہ،اسی طرح حقوق اللہ میں بھی جن میں نیابت ہو سکتی ہے،وکالت درست ہے،جیسا کہ زکاۃ تقسیم کرنا،میت یا عاجز کی طرف سے حج اور عمرے کی ادائیگی کرنا۔ 3: حدود ثابت کرنے(جرم کی تحقیق کرنے)اور حدود کے نفاذ میں بھی وکالت صحیح ہے،اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انیس رضی اللہ عنہ کو حکم دیا:’أُغْدُ یَا أُنَیْسُ!إِلَی امْرَأَۃِ ھٰذَا،فَإِنِ اعْتَرَفَتْ فَارْجُمْھَا‘ ’’انیس!اس شخص کی عورت کے پاس جاؤ اگر وہ اعتراف جرم کر لے تو اسے سنگسار کر دینا۔‘‘[1] 4: جن عبادتوں میں ایک آدمی دوسرے کا نائب نہیں بن سکتا،جیسا کہ نماز اور روزہ،ان میں کوئی شخص اپنا وکیل مقرر نہیں کر سکتا۔اسی طرح لعان،ظہار،امان،نذریں اور شہادات وغیرہ ان میں بھی وکالت نہیں ہے اور اسی طرح حرام اور ناجائز کاموں میں بھی کوئی دوسرے کا وکیل نہیں بن سکتا۔ 5: وکیل اور مؤکل میں سے جو بھی ’’وکالت‘‘ فسخ کرنا چاہے،کر سکتا ہے اور دونوں میں سے ایک کی موت اور جنون سے بھی وکالت ختم ہو جاتی ہے اور اسی طرح ’’مؤکل‘‘ کے(وکیل کو)معزول کرنے سے بھی۔ 6:خرید و فروخت کا وکیل درج ذیل افراد سے خرید و فروخت نہیں کر سکتا: اپنے آپ سے،اپنی اولاد سے،اپنی بیوی سے اور ان قرابت داروں سے جن کی شہادت اس کے حق میں معتبر نہیں ہے،اس لیے کہ ایسا کرنے میں اس پر قرابت داروں کو نوازنے کا الزام ہو سکتا ہے اور وقتی حصہ دار،صاحب وصیت(جسے قریب المرگ نے وصیت کی،)مستقل شریک،قاضی اور ناظم اوقاف اس بات میں وکیل ہی کی طرح ہیں۔ 7: وکیل سے اگر کوئی نقصان ہو جائے اور اس نے کوتاہی نہیں کی تھی تو وہ ’’ضامن‘‘ نہیں ہے لیکن اگر نقصان میں اس کی کوتاہی یا زیادتی کا دخل ہو تو وہ ضامن ہو گا۔ 8: علی الاطلاق وکیل مقرر کرنا بھی ممکن ہے جس میں مؤکل اپنے تمام حقوق میں کسی کو وکیل بناتا ہے،اور طلاق جیسے امور،جن میں ارادے اور عزم کو دخل ہوتا ہے،کے علاوہ دیگر شخصی حقوق میں یہ وکیل مؤکل کے لیے تصرف کر سکتا ہے۔ 9: اگر مؤکل نے وکیل کو ایک متعین چیز خریدنے کا کہا ہے تو وہ اس کے بجائے کوئی دوسری چیز نہیں خرید سکتا،اگر وہ ایسا کرتا ہے تو مؤکل کو اختیار ہے کہ اسے قبول کرے یا رد کر دے۔ 10: وکیل اجرت بھی لے سکتا ہے،البتہ کام اور اجرت کا تعین ضروری ہے۔ ٭ وکالت کا تحریری نمونہ: نمونہ شرعی وکالت نامہ: اللہ کی حمد وثنا کے بعد: (رو برو مسمیٰ بہ ... قاضی عدالت ...)فلاں ...بن فلاں ... نے فلاں ... بن فلاں ... کو اپنا وکیل مقرر کیا ہے۔اس حالت میں کہ دونوں بقائمی ٔ ہوش وحواس اپنے معاملے کو سمجھنے والے ہیں۔یہ کہ وکیل مذکور مؤکل مذکور کے فلاں کام... کو سر انجام دینے کا اختیار رکھتا ہے۔چنانچہ وکیل مذکور نے روبرو گواہان درج ذیل اس وکالت نامے کو قبول کیا ہے اور اس کا اقرار بھی کیا ہے۔ تاریخ تحریر ... ؍ ... ؍ ... المؤکل ... الوکیل... القاضی... صلح کا بیان: ٭صلح کیا ہے؟: دو جھگڑنے والے افراد کے مابین اختلافات ختم کرنے کی تجویز عقد صلح ہے،مثلاً:ایک شخص نے دوسرے پر اپنے ایک حق کا دعویٰ کیا،’’مدعیٰ علیہ‘‘ جھگڑا ختم کرنے کے لیے یا اسے دعویٰ کی صحت سے انکار ہے تو حلف سے بچنے کے لیے دعوے کے کچھ حصہ پر مصالحت کر لیتا ہے۔ ٭ صلح کا حکم: صلح جائز ہے اللہ سبحانہ و تعالیٰ کا فرمان ہے:﴿فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِمَا أَن يُصْلِحَا بَيْنَهُمَا صُلْحًا ۚ وَالصُّلْحُ خَيْرٌ﴾ ’’ان پر باہمی صلح کر لینے میں کوئی حرج نہیں ہے اور صلح بہتر ہے۔‘‘[1] اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’اَلصُّلْحُ جَائِزٌ بَیْنَ الْمُسْلِمِینَ إِلَّا صُلْحًا أَحَلَّ حَرَامًا أَوْ حَرَّمَ حَلَالًا‘ ’’مسلمانوں میں صلح جائز ہے،سوائے اس صلح کے جو حرام کو حلال کر دے یا حلال کو حرام بنا دے۔‘‘[2] ٭ صلح کی اقسام 1: اقرار پر مبنی صلح:ایک شخص نے دوسرے پر اپنے حق کا دعویٰ کیا،دوسرا شخص(مدعیٰ علیہ)اقرار کر لے تو ’’مدعی‘‘ اس کے عدم انکار(اقرار)کے صلے میں اپنے دعوے میں سے اگر قرض کا تھا تو کچھ وضع(کمی)کر دے،سامان کا تھا تو کچھ ہبہ کر دے یا اس کے علاوہ کوئی اور چیز دے کر اس سے صلح کر لے،مثلاً:دعویٰ مکان کا تھا اور ’’مدعی‘‘ اسے کچھ نقد رقم دے دے یا جانور کا دعویٰ تھا تو اسے کپڑا دے دے وغیرہ۔ 2: انکار پر مبنی صلح:ایک شخص نے اپنے حق کا دعویٰ کیا اور ’’مدعیٰ علیہ‘‘ اس کے تسلیم کرنے سے انکاری ہے مگر بعدازاں کچھ دے دیتا ہے تاکہ ’’مدعی‘‘ دعوی ترک کر دے اور’ ’مدعیٰ علیہ‘‘ خصومت اور حلف سے بچ جائے،جو انکار کی وجہ سے اس پر لازم آتی تھی۔ 3: سکوت پر مبنی صلح:اس طرح کہ ایک شخص دوسرے پر ایک حق کا دعویٰ کرتا ہے اور ’’مدعیٰ علیہ‘‘ خاموش رہتا ہے، اقرار کرتا ہے نہ انکار مگر ’’مدعی‘‘ کو کچھ دے کر دعویٰ ساقط کراتا ہے اور خصومت ختم کرتا ہے۔ ٭ صلح کے احکام: 1: صلح میں جو چیز دی جاتی ہے،اس کے احکام جواز اور عدم جواز میں ’’بیع‘‘کی طرح ہیں،اس میں اگر عیب ہے تو رد ہو سکتی ہے،بڑے غبن کی صورت میں(مدعی کو)اختیار حاصل ہے(کہ اسے قبول یا رد کرے)اور اگر غیر منقسم حصہ ہے تو مدعیٰ علیہ کے دوسرے ’’شرکاء‘‘ شفعہ کر سکیں گے،مثلاً:ایک شخص نے دوسرے پر مکان کا دعویٰ کیا،وہ اسے کپڑا دے کر صلح کر لیتا ہے اور شرط لگاتا ہے کہ وہ کپڑا فلاں شخص کو نہ دینا تو یہ صلح صحیح نہیں ہے،اس لیے کہ ’’بیع‘‘ میں اگر ایسی شرط ہو جائے تو بیع درست نہیں رہتی۔اسی طرح ایک شخص نقد دیناروں کا دعویٰ کرتا ہے لیکن دوسرا اسے ادھار دراہم پر صلح کے لیے کہتا ہے تو ’’صلح ‘‘صحیح نہیں ہے،اس لیے کہ کرنسی کی ’بیع’’میں مجلس میں قبضہ ضروری ہے۔اسی طرح ایک شخص دوسرے پر باغ کا دعویٰ کرتا ہے اور وہ اس سے نصف مکان پر صلح کرتا ہے تو مکان کے شریک کے لیے حق شفعہ ہو گا اور اگر جانور دے کر صلح کرتا ہے اور وہ جانور عیب دار ثابت ہوا تو رد و قبول کا اختیار دوسرے فریق کو حاصل ہے اور اسی طرح دعویٰ کے برعکس کسی جنس پر،صلح کی جملہ صورتوں،میں ’’بیع‘‘کے احکام نافذ ہوں گے۔ 2: اگر ایک فریق(مدعی)جانتا ہے کہ وہ جھوٹا ہے تو اس کے حق میں ’’صلح‘‘باطل ہے اور جو کچھ ’’صلح‘‘کے طور پر لے رہا ہے،اس کے لیے حرام ہے۔ 3: ایک شخص دوسرے کے لیے حق کا اعتراف کرتا ہے مگر کہتا ہے کہ میں کچھ لے کر ہی اس کی ادائیگی کروں گا تو یہ اس کے لیے حلال نہیں ہے،مثلاً:اقرار کرتا ہے کہ میں نے فلاں کے ایک ہزار دینار دینے ہیں مگر اس کی ادائیگی تب ہو گی جب اس میں سے نصف یا کم و بیش چھوڑ دے۔ہاں،اگر وہ چھوڑنے کی شرط نہیں لگاتا اور مدعی اپنے طور پر نیکی کرتے ہوئے یا کسی کی سفارش کی وجہ سے کچھ چھوڑ دیتا ہے تو اقرار کرنے والا اسے لے سکتا ہے،اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جابر رضی اللہ عنہ کے قرض خواہوں سے بات کی تھی کہ وہ قرض میں سے کچھ حصہ چھوڑ دیں۔[1] اسی طرح ابن ابی حدرد رضی اللہ عنہ سے کعب بن مالک رضی اللہ عنہ نے اپنے قرض کا مطالبہ کیا اور اس نزاع میں ان کی آوازیں اونچی ہو گئیں،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سنا تو باہر تشریف لائے اور کعب رضی اللہ عنہ کو آواز دے کر اشارہ فرمایا کہ آدھا قرض معاف کر دے،انھوں نے آپ کے فرمان کی تعمیل کی تو نبیٔ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ابن ابی حدرد رضی اللہ عنہ سے فرمایا:’’اٹھو!بقیہ کی ادائیگی کردو۔‘‘[2] 4: اگر ایک شخص شریکِ دیوار کو کچھ دے کرروشن دان یا دروازہ لگانے کے لیے صلح کرتا ہے تو صلح درست ہے،اس لیے کہ یہ ’’بیع‘‘ کے حکم میں ہے۔ ٭ صلح نامہ کا تحریری نمونہ: بسم اللہ،اللہ کی حمد و ثنا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر درود لکھنے کے بعد تحریر کریں: ’’فلاں اور فلاں نے اپنے متنازعہ مکان کے بارے میں صلح کر لی ہے،جس کا حدود اربعہ یہ ہے جو ’’مدعیٰ علیہ‘‘ کے زیر قبضہ تھا،اس کا مالک فلاں ہے۔اس دعویٰ میں دونوں متنازع تھے،مصالحت کنندہ اعتراف کرتا ہے کہ مصالحت شرعیہ کے عوض اتنی رقم(روپیہ)یا فلاں چیز دوسرے فریق کو ادا کرے گا اور دونوں اس پر متفق ہیں اور مصالحت کنندہ نے دوسرے کو مکمل طور پر اس کی ادائیگی کر دی ہے اور دوسرے نے اس پر قبضہ کر لیا ہے اور دوسرا فریق بھی اقرار کرتا ہے کہ اس مکان میں صلح کا عوضانہ لینے کے بعد اس کا کوئی استحقاق نہیں ہے اور نہ کوئی دعویٰ اور مطالبہ باقی ہے اور اس میں اس کی ملک،نفع اور کسی بھی انداز میں استحقاق نفع کم نہیں ہے۔پھر دونوں اس پر شرعی طریق پر تصدیق ثبت کرتے ہیں۔ ویران اراضی کی آبادی،فاضل پانی،الاٹ منٹ اور چراگاہ کا بیان: ٭ غیر آباد زمین کو آباد کرنا:ویران زمین آباد کرنے کا مطلب یہ ہے کہ ایک مسلمان ایسی زمینوں کو جو کسی کی ملکیت میں نہیں ہیں،درخت لگا کر یا مکان تعمیر کر کے یا کنواں کھود کر آباد کرے اور اس طرح وہ اس کا مستحق اور مالک بن جائے۔ ٭ غیر آباد زمین کو آباد کرنے کا حکم: اس کا حکم جواز اور اباحت کا ہے،اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:’مَنْ أَحْیَا أَرْضًا مَّیْتَۃً فَھِيَ لَہُ‘ ’’جو ویران زمین کو آباد کرتا ہے،وہ اسی کی ہے۔‘‘[1] ٭ غیر آباد زمین آباد کرنے کے احکام: 1: ویران زمین کی آبادی سے آباد کار کی ملکیت کا اثبات دو شرطوں پر مبنی ہے،اولاً یہ کہ اس نے واقعتا اس کو آباد کیا ہے،درخت لگائے ہیں یامکانات تعمیر کیے ہیں یا پانی کے لیے کنویں کھودے ہیں،اس کی آبادی صرف کھیت کاشت کرنے،ظاہری علامات لگانے اور خاردار باڑھ لگانے سے ثابت نہیں ہو گی،البتہ اس سے اس کا حق دوسروں سے فائق ضرور ہو گا۔ثانیاً وہ زمین کسی اور کی ملکیت میں نہ ہو،اس کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:((مَنْ أَعْمَرَ أَرْضًا لَّیْسَتْ لِأَحَدٍ فَھُوَ أَحَقُّ)) ’’جو شخص ایسی زمین آباد کرتا ہے،جو کسی کی نہیں ہے،وہ اس کا زیادہ حقدار ہے۔‘‘[2] 2: اگر زمین آبادی کے قریب یا اندر ہے تو حاکم کی اجازت کے بغیر اس کو آباد نہ کیا جائے،اس لیے کہ وہ مسلمانوں کی منفعت عامہ کے لیے مختص ہو سکتی ہے،جبکہ شخصی ملکیت کی وجہ سے عام لوگوں کا نقصان ہو سکتا ہے۔ 3: آباد کرنے سے کان(معدن)کسی کی ملکیت نہیں ہو سکتی،چاہے نمک کی کان ہے یا تیل وغیرہ کی،اس لیے کہ ان سے عام مسلمانوں کا مفاد وابستہ ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نمک کی کان ایک شخص کو دے دی تھی مگر اسے واپس لے لیا گیا تھا۔[1] 4: اگر کسی کی آباد کردہ زمین میں پانی کا جاری چشمہ نکل آیا تو وہی اس کا مستحق ہے،پہلے اپنی زمین سیراب کرے گا اور پھر فاضل پانی دوسرے مسلمانوں کے لیے ہو گا،اس لیے کہ آپ کا فرمان ہے:’اَلْمُسْلِمُونَ شُرَکَائُ فِي ثَلَاثٍ:فِي الْمَائِ وَالْکَلَأِ وَالنَّارِ‘ ’’سب مسلمان تین چیزوں میں حصہ دار ہیں۔پانی،گھاس اور آگ میں۔‘‘[2] ٭ چند ضروری باتیں: اگر قدیم کنویں کی نئی کھدائی کی جا رہی ہے تو اس کے اردگرد ضروریات عامہ کے لیے پچاس ہاتھ جگہ مختص کریں اور اگر کنواں نیا کھودا جا رہا ہے تو اس کے اردگرد پچیس ہاتھ جگہ مختص کر دیں۔اس پیمائش کا مالک کنویں والا ہو گا۔بعض سلف رحمہ اللہ سے یہ معمول ثابت ہے اور ایک روایت میں ہے: ’حَرِیمُ الْبِئْرِ مَدُّ رِشَائِ ھَا‘ ’’کنویں کا محفوظ حصہ اس کے رسے کی لمبائی کے برابر ہے۔‘‘[3] درخت یا کھجور کا ’’حریم‘‘(محفوظ حصہ)اس کی شاخوں یا ٹہنیوں کی لمبائی کے مطابق ہو گا۔بنا بریں ویران زمین میں اگر کوئی شخص درخت کا مالک بن گیا تو اس کی ٹہنیوں کے بقدر زمین کا وہ مالک قرار پائے گا،اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:’حَرِیمُ النَّخْلَۃِ مَدُّ جَرِیدِھَا‘ ’’کھجور کا محفوظ حصہ،اس کی چھڑیوں کی لمبائی کے برابر ہے۔‘‘[4] مکان کا حریم(محفوظ حصہ)اتنی جگہ ہونی چاہیے جس میں کوڑا ڈالا جا سکے یا اونٹ بیٹھ سکیں یا گاڑی پارک کی جا سکے۔بنا بریں جو شخص ویران علاقے میں مکان بناتا ہے،اس کے ارگرد عرف کے مطابق مذکورہ ضروریات کے لیے جگہ مختص کی جائے گی۔ ضرورت سے زائد پانی: ٭ زائد پانی کی تعریف: اس سے مراد یہ ہے کہ ایک مسلمان کے پاس کنواں ہے یا نہر ہے اور اس کا پانی اس کی اپنی ضروریات،کھیت اور درختوں کو سیراب کرنے سے زائد ہے۔ ٭ زائد پانی کا حکم: اس کا حکم یہ ہے کہ ضرورت مند مسلمانوں کو معاوضہ وصول کیے بغیر وہ پانی مہیا کیا جائے،اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:’لَا یُبَاعُ فَضْلُ الْمَائِ لِیُبَاعَ بِہِ الْکَلَأُ‘ ’’زائد پانی کو فروخت نہ کیا جائے تاکہ اس کے ذریعے سے(آس پاس کی)گھاس فروخت کی جائے۔‘‘[1] اور فرمایا:’لَا یُمْنَعُ فَضْلُ الْمَائِ لِیُمْنَعَ بِہِ الْکَلَأُ‘ ’’ضرورت سے زائد پانی کو نہ روکا جائے تا کہ اس کے ذریعے(جانوروں کا)چارہ روکا جائے۔‘‘[2] ٭ ضرورت سے زائد پانی کے احکام: 1: ضرورت سے زائد پانی کسی دوسرے کو دینا اسی وقت متعین ہو گا جب پانی کا مالک اس سے مستغنی ہو،یعنی اس کی ضرورت سے زائد ہو۔ 2: اور جسے دیا جا رہا ہے وہ ضرورت مند ہے۔ 3: اور اس کے مالک کو کسی بھی انداز میں نقصان نہیں ہو رہا۔ زمین کی الاٹمنٹ: زمین کی الاٹمنٹ کا مطلب یہ ہے کہ غیر مملوکہ زمین میں سے حاکم وقت کسی کو کھیت کاشت کرنے یا باغ لگانے یا عمارت بنانے یا آمدنی حاصل کرنے یا اسے اس کا مالک بنا کر قطعۂ زمین دے۔ زمین کی الاٹمنٹ کا حکم: کسی کو رقبہ الاٹ کرنا صرف بادشاہ وقت کا کام ہے۔اس لیے کہ نبیٔ کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اور اسی طرح ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما نے آپ کے بعد جاگیر کے طور پر رقبے دیے تھے۔ ٭ زمین کی الاٹمنٹ کے احکام: 1: امام کے علاوہ دوسرا کوئی نہیں دے سکتا،اس لیے کہ یہ املاک عامہ ہیں،لہٰذا اس کے علاوہ دوسرا کوئی بھی تصرف نہیں کر سکتا۔ 2: اور اتنا رقبہ دینا چاہیے جتنا وہ آباد کر سکے اور تعمیر کر سکے۔ 3: امام نے کسی کو آباد کاری کے لیے رقبہ دیا مگر وہ اسے آباد نہیں کر سکا تو مصلحت عامہ کے مفاد میں امام اسے واپس لے لے۔ 4: امام کو یہ بھی اختیار ہے کہ بازار،کھلے میدان اور وسیع راستوں میں کسی کو فائدہ حاصل کرنے کے لیے کوئی جگہ مختص کر دے اگر عام لوگوں کا اس سے نقصان نہ ہوتا ہو،اس طرح وہ شخص فائدہ حاصل کرنے میں دوسروں سے فائق ہو گا مگر مالک نہیں قرار پائے گا۔اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: ’مَنْ سَبَقَ إِلٰی مَالَمْ یَسْبِقْہُ إِلَیْہِ مُسْلِمٌ فَھُوَ لَہُ‘ ’’جو شخص کسی ایسی جگہ پہلے پہنچے،جہاں کوئی دوسرا مسلمان نہیں پہنچا تو وہ اس کا زیادہ مستحق ہے۔‘‘[1] 5: امام نے جس کو کوئی جگہ دی ہے یا امام کے دیے بغیر وہ اس پر قابض ہو گیا ہے تو وہ کسی کو نقصان نہ پہنچائے،یعنی دوسروں کے لیے بھی رکاوٹ نہ پیدا کرے،اس لیے کہ آپ کا فرمان ہے:’لَا ضَرَرَ وَلَا ضِرَارَ فِي الإِْسْلَامِ‘ ’’اسلام میں نقصان کرنا یا کرانا درست نہیں ہے۔‘‘[2] تنبیہ:وادی کا پانی بہہ کر آ جائے تو پہلے اوپر والا فائدہ حاصل کرے،پھر اس کے بعد والا۔کھیتوں کے اختتام تک اسی پر عمل کیا جائے،ا لّا یہ کہ پانی پہلے ختم ہو جائے۔ اگر سیلاب کے پہلے ریلے کے قریب قریب کھیت ہیں تو کھیتوں کے بڑے چھوٹے کے حساب سے پانی تقسیم کر لیا جائے۔اگر اس طرح سمجھوتہ نہ ہو سکے تو قرعہ اندازی کر لی جائے،اس لیے کہ امام ابن ما جہ رحمہ اللہ نے عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے: ((أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ صلی اللّٰه علیہ وسلم قَضٰی فِي شُرْبِ النَّخْلِ مِنَ السَّیْلِ أَنَّ الْأَعْلٰی فَالْأَعْلٰی یَشْرَبُ قَبْلَ الْأَسْفَلِ،وَیُتْرَکُ الْمَائُ إِلَی الْکَعْبَیْنِ،ثُمَّ یُرْسَلُ الْمَائُ إِلَی الْأَسْفَلِ الَّذِي یَلِیہِ،وَکَذٰلِکَ حَتّٰی تَنْقَضِيَ الْحَوَائِطُ أَوْ یَفْنَی الْمَائُ)) ’’نبیٔ کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیلاب کے پانی سے کھجوروں کی سیرابی کے بارے میں فیصلہ کیا کہ اوپر والا نیچے والے سے پہلے پانی پلائے اور ٹخنوں تک پانی بھرے،پھر نیچے کی طرف پانی چھوڑ دے،یہاں تک کہ باغ مکمل(سیراب)ہو جائیں یا پانی ختم ہو جائے۔‘‘[3] اور فرمایا:’اِسْقِ یَا زُبَیْرُ!ثُمَّ أَرْسِلِ الْمَائَ إِلٰی جَارِکَ‘ ’’زبیر پانی پلاؤ،پھر اپنے ہمسایے کی طرف چھوڑ دینا۔‘‘[1] چراہ گاہ کا بیان: ٭ چراگاہ کی تعریف: اس ویران ’’قطعۂ اراضی‘‘ کو کہتے ہیں جس کو مخصوص جانوروں کے چرنے کے لیے مخصوص کیا جائے اور عام لوگوں کو اس میں چرانے سے روکا جائے۔ ٭ چراگاہ کا حکم: مسلمانوں کی عام زمینوں میں سے ایک ہاتھ بھی کوئی شخص اپنے لیے چراگاہ کے طور پر محفوظ نہیں کر سکتا،البتہ مسلمانوں کی مصلحت کے لیے صرف امام ایسا کر سکتا ہے،اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے:’لَا حِمٰی إِلَّا لِلّٰہِ وَلِرَسُولِہِ‘ ’’حمی(چراگاہ)صرف اللہ اور اس کے رسول(صلی اللہ علیہ وسلم)کے لیے ہو سکتا ہے۔‘‘[2] اس حدیث سے یہ بات نکلتی ہے کہ اللہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کا خلیفہ ہی کسی جگہ کو حمی(چراگاہ)کے طور پر مقرر کر سکتا ہے۔اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ امام بھی مصلحت عامہ کے خلاف نہیں کر سکتا،اس لیے کہ جس چیز کو اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے قرار دیا گیا ہو،وہ ہمیشہ مصالح عامہ میں صرف ہوتی ہے،جیسا کہ غنیمتوں کا پانچواں حصہ،فَے(کا سارا مال)اور رکاز(مدفون خزانے)کا پانچواں حصہ وغیرہ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ’’نفیع‘‘ کا علاقہ اونٹوں اور جہاد کے گھوڑوں کے لیے مخصوص کر دیا تھااور حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے بھی ایک قطعۂ زمین کو اس مقصد کے لیے متعین کیا تھا۔[3] اور اس بارے میں جب ان سے کہا گیا تو فرمایا: ((وَالَّذِي نَفْسِي بِیَدِہِ!لَوْلَا الْمَالُ الَّذِي أَحْمِلُ عَلَیْہِ فِي سَبِیلِ اللّٰہِ مَا حَمَیْتُ عَلَیْھِمْ مِّنْ بِلَادِھِمْ شِبْرًا)) ’’اللہ کی قسم!اگر میرے پاس ایسے جانور نہ ہوں جن پر میں اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والوں کو سوار کرتا ہوں تو میں زمین کا ایک بالشت حصہ بھی چراگاہ نہ بناتا۔‘‘[4] ٭ چراگاہ کے احکام: 1: ’’چراگاہ‘‘کا تعین اہل اسلام کا خلیفۂ وقت یا امام ہی کر سکتا ہے،اس لیے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:’لَا حِمٰی إِلَّا لِلّٰہِ وَلِرَسُولِہِ‘ ’’چراگاہ(بنانے کا حق)صرف اللہ اور اس کے رسول(صلی اللہ علیہ وسلم)کے لیے ہے۔‘‘[5] 2: صرف ویران اراضی کو جس کا کوئی مالک نہ ہو،چراگاہ بنایا جائے گا۔ 3: ’’خلیفۂ اہل اسلام‘‘ اپنے ذاتی مقاصد کے لیے چراگاہ نہ بنائے بلکہ عام مسلمانوں کی مصلحتوں کے لیے ایسا کرے۔ 4: مذکورہ بالا پر قیاس کر کے ان پہاڑوں کو بھی اس میں داخل کیا جا سکتا ہے جنھیں حکومت درختوں کی افزائش کے لیے مختص کر لیتی ہے۔اگر یہ مسلمانوں کی عمومی مصلحت کے تحت ہے تو اس کو بحال رکھا جائے اور اگر اس سے عام لوگوں کا نقصان ہو رہا ہے اور کوئی فائدہ حاصل نہیں ہو رہا تو اس فیصلے کو تبدیل کر دیا جائے،اس لیے کہ چراگاہ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ہی ہوتی ہے۔