نکاح،طلاق اور اس کے متعلقہ مسائل کا بیان
بیوی کی خاوند سے سرکشی اور ناچاقی
اگر عورت خاوند کی نافرمان ہو جائے اور اس کے حقوق ادا نہ کرے تو اسے زبانی سمجھائے،اگر اطاعت میں آ جائے تو بہتر،ورنہ مخصوص مدت تک خاوند الگ بستر بنا لے،تاہم ترک کلام تین دن سے زیادہ نہ کرے،اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:
((لَا یَحِلُّ لِلْمُؤْمِنِ أَنْ یَّھْجُرَ أَخَاہُ فَوْقَ ثَلَاثَۃِ أَیَّامٍ))’’کسی مومن کے لیے حلال نہیں کہ اپنے بھائی کے ساتھ تین دنوں سے زیادہ کلام کرنا ترک کرے۔‘‘[3]
اگر اس طرح وہ اطاعت قبول کر لے تو بہتر،ورنہ معمولی انداز سے مارے اور چہرے پر مارنے سے احتراز کرے۔اس کے بعد اطاعت قبول کر لے تو ٹھیک،ورنہ دو فیصل(فیصلہ کرنے والے)ایک مرد کے کنبے سے اور ایک عورت کے کنبے سے مقرر کریں،وہ الگ الگ ان سے مل کر اصلاح حال اور ان میں موافقت پیدا کرنے کی کوشش کریں،اگر ان کی کوشش اس کے باوجود بار آور نہیں ہوتی تو ان کے مابین ’’طلاق بائن‘‘ mکے ذریعے تفریق کرا دیں۔اللہ سبحانہ و تعالیٰ فرماتا ہے:
﴿وَاللَّاتِي تَخَافُونَ نُشُوزَهُنَّ فَعِظُوهُنَّ وَاهْجُرُوهُنَّ فِي الْمَضَاجِعِ وَاضْرِبُوهُنَّ ۖ فَإِنْ أَطَعْنَكُمْ فَلَا تَبْغُوا عَلَيْهِنَّ سَبِيلًا ۗ إِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَلِيًّا كَبِيرًا﴿٣٤﴾وَإِنْ خِفْتُمْ شِقَاقَ بَيْنِهِمَا فَابْعَثُوا حَكَمًا مِّنْ أَهْلِهِ وَحَكَمًا مِّنْ أَهْلِهَا إِن يُرِيدَا إِصْلَاحًا يُوَفِّقِ اللّٰهُ بَيْنَهُمَا ۗ إِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَلِيمًا خَبِيرًا﴾
٭ اپنی ضرورت کے سفر میں تو اس کے ساتھ جائے گی مگر اس کے سفر میں اس کے ساتھ نہیں جائے گی۔(محمد عبدالجبار)
٭ طلاق بائن:یعنی میاں بیوی کے درمیان جدائی پیدا کرنے والی طلاق جس کے بعد رجوع ناممکن ہو۔مذکورہ پنچایت کے کہنے پر خاوند جو طلاق دے گا وہ ’’بائن‘‘ متصور ہو گی۔واللہ اعلم۔(ع،ر)
’’اور تم جن عورتوں کی سرکشی اور نافرمانی معلوم کرو ان کو سمجھاؤ اور شب باشی میں ان کو علیحدہ کر دو اور ان کو مارو،پھر اگر تمھاری فرمانبرداری کریں تو ان پر کوئی راستہ تلاش نہ کرو،یقینا اللہ سب سے بلند اور بڑا ہے اور اگر دونوں میں(سخت)مخالفت پاؤ تو ایک منصف مرد کے کنبہ سے اور ایک عورت کے کنبہ سے مقرر کرو،اگر وہ دونوں صلح کی کوشش کریں گے تو اللہ ان کو صلح کی توفیق دے گا۔یقینا اللہ جاننے والا،خبر رکھنے والا ہے۔‘‘[1]