نکاح،طلاق اور اس کے متعلقہ مسائل کا بیان

طلاق کے ارکان

طلاق میں تین رکن ہوتے ہیں: 1: مکلف خاوند:جبکہ غیر خاوند طلاق نہیں دے سکتا،اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: ’إِنَّمَا الطَّلَاقُ لِمَنْ أَخَذَ بِالسَّاقِ‘ ’’طلاق وہی دے سکتا ہے،جس کے قبضے میں پنڈلی ہے۔‘‘[3] اسی طرح عاقل و بالغ خاوند طلاق دے سکتا ہے اور وہ بھی اپنے آزاد اختیار کے تحت،اگر اس پر اکراہ و جبر کیا گیا ہے یا خاوند عاقل اور بالغ نہیں ہے تو طلاق واقع نہیں ہو گی،اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: ((رُفِعَ الْقَلَمُ عَنْ ثَلَاثَۃٍ:عَنِ النَّائِمِ حَتّٰی یَسْتَیْقِظَ،وَعَنِ الصَّغِیرِ حَتّٰی یَکْبُرَ،وَعَنِ الْمَجْنُونِ حَتّٰی یَعْقِلَ أَوْ یُفِیقَ)) ’’تین شخص مرفوع القلم ہیں،سویا ہوا جاگنے تک،نابالغ لڑکا بالغ ہونے تک اور مجنون ذی شعور ہونے تک۔‘‘[4] اور اس لیے بھی کہ آپ کا فرمان ہے:’وُضِعَ عَنْ أُمَّتِي الْخَطَأُ وَالنِّسْیَانُ وَمَا اسْتُکْرِھُوا عَلَیْہِ‘ ’’میری امت سے خطا،نسیان اور جس پر اکراہ(جبر)کیا جائے،معاف ہیں(ایسی صورت میں بازپرس نہیں ہوگی۔)‘‘[5] 2: طلاق اس بیوی پر واقع ہوتی ہے،جو حقیقتاً رشتۂ ازدواج میں منسلک ہو،مثلاً:اس سے پہلے فسخ یا طلاق کے ذریعے سے وہ خاوند سے کبھی جدا نہیں ہوئی یا حکمی طور پر اس کی بیوی شمار ہو،مثلاً:وہ بیوی جسے صرف طلاق رجعی ہوئی اور اب عدت گزار رہی ہے یا وہ عورت جو بینونت صُغریٰ کے ساتھ الگ ہوگئی(ایک طلاق دی گئی اور عدت گزرنے کے بعد بائنہ ہوگئی)عدت کے بعد پھر اسی خاوند سے نکاح کر لیا اور اب پھر اس سے طلاق لینے کے بعد عدت میں ہے لیکن جو عورت سرے سے اس کی بیوی ہی نہیں ہے یا اس پر تین طلاقیں واقع ہو چکی ہیں،اس کو طلاق دینا لغو ہے،اس لیے کہ وہ ’’محل طلاق‘‘ میں نہیں ہے کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: ((لَا نَذْرَ لِابْنِ آدَمَ فِیمَا لَا یَمْلِکُ،وَلَا عِتْقَ لَہُ فِیمَا لَا یَمْلِکُ،وَلَا طَلَاقَ لَہُ فِیمَا لَا یَمْلِکُ)) ’’جس چیز کا انسان مالک نہیں،اس میں سے نذرماننا،اس کو آزاد کرنا اور طلاق دینا(معتبر)نہیں ہے۔‘‘٭[1] 3: تیسرا رکن طلاق کے صریح الفاظ ہیں یا کنائی الفاظ جب ان سے طلاق کا ارادہ ہو۔بنا بریں محض دل کے ارادے سے ’’الفاظ طلاق‘‘ زبان سے کہے بغیر طلاق واقع نہیں ہو گی۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:((إِنَّ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ تَجَاوَزَ لِأُمَّتِي عَمَّا حَدَّثَتْ بِہِ أَنْفُسَھَا مَا لَمْ تَعْمَلْ أَوْتَتَکَلَّمْ بِہِ)) ’’ اللہ تعالیٰ نے میری امت کے لیے دل میں پیدا ہونے والے خیالات کو معاف کر دیا ہے جب تک کہ ان پر عمل یا کلام نہ کی جائے۔‘‘[2]