نکاح،طلاق اور اس کے متعلقہ مسائل کا بیان
حضانت یعنی نابالغ کی تربیت کا بیان
٭ حضانت کی تعریف:
بلوغت کی عمر کو پہنچنے تک چھوٹے بچے کو اپنے پاس رکھنا اور اس کی تربیت کرنا ’’حضانت‘‘ کہلاتا ہے۔
٭ حضانت کا حکم:
چھوٹے بچے کے جسم،عقل اور دین کی حفاظت کے لیے حضانت لازم ہے۔
حضانت کس پر واجب ہے؟ اس کی ذمہ داری ماں باپ پر ہے اگر وہ موجود نہیں ہیں تو رشتہ داروں میں سے جو زیادہ قریب ہے،اس کی ذمہ داری ہے،اگر کوئی قرابت دار بھی نہیں ہے تو یہ حکومت یا عام مسلمانوں کا فریضہ ہے۔
حضانت میں کس کا حق زیادہ ہے؟ بچے کے ماں باپ کے مابین طلاق یا وفات کی وجہ سے جدائی ہو گئی ہو تو ماں کا حق تربیت سب سے مقدم ہے،جب تک وہ نکاح نہیں کرتی۔ایک عورت نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس شکایت کی کہ میرا بچہ اس کے باپ نے چھین لیا ہے تو آپ نے فرمایا:
’أَنْتِ أَحَقُّ بِہِ مَالَمْ تَنْکِحِي‘ ’’جب تک تو نکاح نہ کرے،اس کی زیادہ حق دار تو ہے۔‘‘[2]
اگر ماں موجود نہیں تو اس کے بعد نانی حق دار ہے۔اگر وہ بھی نہیں تو خالہ،اس لیے کہ نانی ماں سمجھی جاتی ہے اور خالہ ماں کے مرتبے میں ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’اَلْخَالَۃُ بِمَنْزِلَۃِ الْأُمِّ‘ ’’خالہ ماں کی جگہ پر ہے۔‘‘[3]
اگر یہ بھی نہیں ہیں تو دادی تربیت کرے گی،وہ بھی نہیں تو بہن اور اگر یہ بھی نہیں ہے تو پھوپھی اور اگر ان میں سے کوئی تربیت کے لیے موجود نہیں ہے تو بچے کی ’’حضانت‘‘ باپ کی طرف منتقل ہو گی،پھر دادا،پھر بھائی،پھر بھائی کا بیٹا اور پھر چچا اور اسی طرح قریب ترین عصبہ اور حقیقی بھائی پدری بھائی(جو صرف باپ کی طرف سے ہو)پر ’’حق فائق‘‘ رکھتا ہے،جس طرح کہ حقیقی بہن،پدری بہن پر مقدم ہے۔٭
حضانت کب ساقط ہوتی ہے؟ حضانت میں چونکہ بچے کی نگہداشت اصل مقصود ہے،جس سے اس کی جسمانی،عقلی اور روحانی تربیت ہو اور جس شخص کے ذریعے یہ اغراض حاصل نہ ہو سکتے ہوں تو اس کا ’’حق حضانت‘‘ ختم ہو جاتا ہے،جیسا کہ ماں،اگر اس نے دوسری جگہ نکاح کر لیا ہے تو اس کا حق ختم ہو جائے گا،اس لیے کہ آپ کا فرمان ہے:
((أَنْتِ أَحَقُّ بِہِ مَا لَمْ تَنْکِحِي))’’جب تک تو(نئے خاوند سے)نکاح نہ کرے،اس کی(پرورش کرنے کی تو)زیادہ حق دار ہے۔‘‘[1]
اور اس لیے بھی کہ اجنبی کے ساتھ نکاح کی صورت میں،وہ اپنے بچے کی نگہداشت اور حفاظت نہیں کر سکے گی۔اسی طرح درج ذیل صورتوں میں ’ ’حضانت‘‘ کا استحقاق ختم ہو جاتا ہے:عورت مجنون یا کم عقل ہے۔متعدی امراض جذام وغیرہ میں مبتلا ہے۔بچے کی حفاظت اور اس کے جسم و عقل کی تربیت کرنے سے عاجز ہے۔وہ کافرہ ہے جس سے بچے کے دین و عقائد خراب ہونے کا خطرہ ہے۔
٭ حضانت کی مدت:
بچے کے بالغ ہونے تک حق حضانت باقی رہتا ہے اور اسی طرح لڑکی کی شادی،رخصتی اور خاوند کے اس سے جماع کرنے تک اس کی حضانت کا حق باقی رہتا ہے۔ہاں بیوی اگر اپنے خاوند سے الگ ہو گئی ہے اور اکیلی اپنی اولاد کی تربیت کر رہی ہے تو اگر لڑکی زیر تربیت ہے تو اسے سات سال تک اپنے پاس رکھ سکے گی،اس کے بعد وہ والد کی طرف منتقل ہو گی کیونکہ سات سال کے بعد والد تمام پرورش کرنے والیوں سے زیادہ حق رکھتا ہے کہ اپنی بچی کی پرورش کرے،البتہ لڑکا سات سا ل کا ہو جائے تو اسے ماں اور باپ کے مابین اختیار دیا جائے گا،چنانچہ وہ جس کے ساتھ جانا چاہے جا سکتا ہے اور اگر وہ کسی ایک کو اختیار نہ کرے اور دونوں اسے لینے کا مطالبہ کرتے ہوں تو ان کے مابین قرعہ اندازی کی جائے گی۔
٭ اولاد کا نفقہ اور حضانت کی اجرت:
بچے اور تربیت کرنے والی کا ’’نفقہ ‘‘بچے کے باپ پر،اس کے مالی حالات کے مطابق ہے،اس لیے کہ تربیت کرنے والی دودھ پلانے والی کی طرح ہے جو کہ دودھ پلانے کی اجرت لے سکتی ہے۔قرآن پاک میں ہے:﴿فَإِنْ أَرْضَعْنَ لَكُمْ فَآتُوهُنَّ أُجُورَهُنَّ ۖ﴾
’’اگر وہ تمھارے لیے دودھ پلاتی ہیں تو ان کی مزدوری دو۔‘‘[2]
٭ یعنی حقیقی بہن کا زیادہ حق ہے کہ وہ اپنے نابالغ بھائی کی تربیت کرے۔واللہ اعلم(ع،ر)
ا لّا یہ کہ تربیت کرنے والی خود ہی ’’حق حضانت‘‘ نہ لینا چاہے۔یاد رہے کہ بچے کا نفقہ اور تربیت کرنے والی کی اجرت کا معیار بچے کے والد کے مالی حالات اور استعداد کے مطابق ہو گا،اس لیے کہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ کا فرمان ہے:﴿لِيُنفِقْ ذُو سَعَةٍ مِّن سَعَتِهِ ۖ وَمَن قُدِرَ عَلَيْهِ رِزْقُهُ فَلْيُنفِقْ مِمَّا آتَاهُ اللّٰهُ ۚ لَا يُكَلِّفُ اللّٰهُ نَفْسًا إِلَّا مَا آتَاهَا﴾
’’وسعت والا اپنی وسعت کے مطابق خرچ کرے اور جسے روزی کی تنگی ہے تو جو اللہ نے اس کو دیا ہے،اس کے مطابق خرچ کرے۔اللہ ہر نفس کو اسی کا پابند کرتا ہے،جو اس نے اس کو دیا۔‘‘[1]
زیر پرورش بچے کا ماں کے پاس آنا جانا:
سات سال کی عمر میں بچے کو اگر اختیار دیا گیا اور اس نے ماں کا انتخاب کرلیا تو رات کے وقت اس کے پاس رہے گا اور دن کے وقت باپ کے پاس اور اگر اس نے باپ کو اختیار کیا ہے تو دن رات اس کے پاس ہی رہے گا،اس لیے کہ دن میں باپ کے پاس رہنے سے اکثر حالات میں اس کی تعلیم و تربیت بہتر طریق سے ہو گی،جبکہ ماں کے پاس رہنے میں اس کا امکان عام حالات میں کم ہے۔مگر اس صورت میں جبکہ اس نے باپ کو اختیار کیا ہے،وہ جس وقت بھی ماں کو ملنے جانا چاہے تو اسے نہیں روکا جائے گا،اس لیے کہ صلہ رحمی واجب ہے اور نافرمانی حرام ہے۔
٭ بچے کے ساتھ سفر کرنا:
اگر والدین میں سے کوئی ایک سفر پر جانا چاہتا ہے جس کے بعد وہ اپنے شہر واپس آجائے گا تو نابالغ بچہ ان میں سے مقیم کے پاس رہے گا اور اگر سفر پر جانے والا واپسی کا ارادہ نہیں رکھتا تو پھر بچے کی مصلحت کو دیکھا جائے،اگر اس کے لیے سفر پر جانا بہتر ہے تو چلا جائے ورنہ مقیم کے پاس رہے،اس لیے کہ اس بارے میں اصل ہدف زیر تربیت بچے کی مصلحت ہے۔
٭ زیر پرورش بچہ پرورش کنندہ کے پاس امانت ہے:
تربیت کرنے والی کو معلوم ہونا چاہیے کہ اس کے زیر تربیت بچہ اس کے پاس امانت ہے جس کی نگہداشت اور حفاظت اس کی ذمہ داری قرار پائی ہے،اگر وہ محسوس کرتی ہے کہ وہ اس کام سے عاجز ہے اور بھرپور انداز میں اس کی تربیت نہیں کر سکتی تو اس پر لازم ہے کہ وہ اس سے دست بردار ہو جائے اور بچہ کسی دوسرے کے حوالے کر دے جو اس کی صحیح تربیت و حفاظت کر سکے۔باپ سے’ ’اجرت حضانت‘‘ وصول کرنا ہی اس کا اصل مقصد نہیں ہونا چاہیے جس کی وجہ سے وہ نااہلی کے باوجود بچے کو اپنے پاس رکھنے پر بضد رہے بلکہ بچے کے متولی کی طرح اس کے پیش نظر بھی محض بچے کی مصلحت ہونی چاہیے،یعنی اس کی جسمانی،عقلی اور روحانی تربیت۔قاضی پر بھی لازم ہے کہ وہ ہمیشہ اس بارے میں بچے کی مصلحت کو ہی مدنظر رکھے،اس لیے کہ’’حضانت‘‘ میں شارع علیہ السلام کا اصل مقصودصرف اور صرف بچے کی حفاظت ہے۔