نکاح،طلاق اور اس کے متعلقہ مسائل کا بیان
مردوں اور عورتوں میں سے کون کون وارث ہیں
٭ مرد ورثاء:
مردوں میں تین قسم کے لوگ وارث ہوتے ہیں:
1: خاوند:عورت فوت ہو جائے تو اس کا خاوند اس کا وارث ہو گا اگرچہ عورت طلاق رجعی کی عدت میں فوت ہوئی ہو،تاہم اگر وہ عدت گزرنے کے بعد فوت ہوئی تو وہ اس کا وارث نہیں ہو گا کیونکہ وراثت پانے کا سبب،یعنی ازدواجی رشتہ ہی ختم ہو گیا۔
2: آزاد کرنے والا اور اس کی وفات کی صورت میں اس کے مذکر عصبہ آزاد کردہ غلام کی وفات پر اس کے وارث ہوں گے۔
3: قرابت دار:ان کی تین قسمیں ہیں:اصول،فروع اور حواشی۔
اصول میں باپ،دادا،اوپر تک(پڑدادا وغیرہ)اور فروع میں بیٹا،پوتا،نیچے تک(پڑ پوتا وغیرہ)سب شامل ہیں،اسی طرح حواشی قریبہ میں بھائی اور ان کے بیٹے اور ان کے بیٹے نیچے تک اور مادری ٭بھائی سب داخل ہیں اور حواشی بعیدہ میں چچا اور چچا کے بیٹے اور ان کے بیٹے نیچے تک سب داخل ہیں،چاہے وہ(چچے)حقیقی(اعیانی)ہوں یا پدری(باپ کے حقیقی اعیانی بھائی ہوں یا پدری)اور یہ تمام مرد وارث ہوتے ہیں مگر اس کا مقصد یہ نہ سمجھا جائے کہ ایک ہی ترکہ میں سب وارث ہیں،اس لیے کہ بعض ورثاء بعض وارثوں کے لیے حاجب(رکاوٹ)ہوتے ہیں،مثلاً:باپ کے ہوتے ہوئے
٭ بہن بھائی تین قسم کے ہوتے ہیں:(ا)حقیقی:جن کے والدین ایک ہوں۔(ب)پدری:جن کا والد ایک اور مائیں مختلف ہوں۔(ج):مادری:جن کی ماں ایک اور باپ مختلف ہوں۔(ع،ر)
دادا اور مادری بھائی وارث نہیں ہوتے اور بیٹا بھائی کے لیے حاجب ہے اور بھائی چچا کو محروم کر دیتا ہے،وغیرہ وغیرہ۔
اگر مذکورہ بالا تمام رشتہ دار ایک ہی ترکہ میں اکٹھے ہو جائیں تو ان میں سے صرف تین وارث ہوں گے:
(۱)خاوند۔ (۲)بیٹا۔(۳)باپ(باقی ان تینوں کی وجہ سے محروم ہوں گے)
٭ وارث خواتین:
خواتین میں تین قسم کی عورتیں وارث ہوتی ہیں:
(۱)یوی۔ (۲)آزاد کرنے والی مالکہ۔(۳)قرابت دار عورتیں اور ان کی تین قسمیں ہیں:
اصول:یعنی ماں،دادی اور نانی۔
فروع:یعنی بیٹی،پوتی اور نیچے تک(پڑپوتی وغیرہ۔)
حاشیہ قریبہ:بہن مطلقا حاشیہ قریبہ ہے خواہ حقیقی ہو،پدری ہو یا مادری۔
تنبیہ:پھوپھی،خالہ،نواسی اور اس کی اولاد،بھتیجی اور چچا زاد بہن ذوی الفروض اور عصبہ نہ ہونے کی و جہ وارث نہیں ہوتیں البتہ جب ذوی الفروض اور عصبہ میں سے کوئی بھی نہ ہوں تو یہ لوگ ذوی الارحام ہونے کی وجہ سے وارث قرار پائیں گے۔
مقررہ حصے کا بیان:
قرآن مجید کی سورئہ نساء میں چھ مقررہ حصوں کا ذکر ہوا ہے،جو کہ یہ ہیں:٭ نصف 1/2کل مال کے دو حصوں میں ایک۔پانچ افراد اس کے مستحق ہوتے ہیں:
1 خاوند:اگر مرنے والی بیوی کی اولاد یااولاد کی اولاد نہ ہو،برابر ہے کہ یہ اولادمرد ہوں یا خواتین۔
2 بیٹی:جب اکیلی ہو،اس کے ساتھ کوئی اور بیٹا یا بیٹی نہ ہو۔
3 پوتی:یہ صرف اسی صورت میں نصف حصہ لے گی جب یہ اکیلی ہو۔
4 حقیقی بہن:جبکہ اس کے ساتھ میت کا بھائی،باپ،بیٹا اور پوتا نہ ہو۔
5 پدری بہن:جبکہ وہ اکیلی ہو اور اس کے ساتھ،بھائی،باپ،بیٹا اور پوتا نہ ہو۔
٭ ربع(چوتھائی1/4)مال کے کل چار حصوں میں کوئی ایک حصہ:
دو افراد اس کے مستحق ہیں:
1: خاوند:اگر مرنے والی بیوی کی اولاد یا اولاد کی اولاد ہو،برابر ہے کہ وہ بچے ہوں یا بچیاں،پوتے ہوں یا پوتیاں۔بیوی کی اولاد اس خاوند سے ہو یا سابقہ خاوند سے۔
2: بیوی:اگر مرنے والے خاوند کی کسی بھی بیوی سے اولاد یا اولاد کی اولاد نہ ہو،برابر ہے کہ وہ مرد ہوں یا خواتین۔
٭ ثمن(آٹھواں حصہ1/8)مال کے کل آٹھ حصوں میں سے ایک:
اس کا صرف ایک فرد مستحق ہوتا ہے اور وہ بیوی ہے،تاہم یہ اس وقت ثمن لیتی ہے جب خاوند کی اولاد ہو،چاہے اس بیوی سے ہو یا کسی اور بیوی سے یا اولاد کی اولاد ہو،برابر ہے کہ وہ مرد ہوں یا خواتین۔
واضح ہو کہ اس صورت میں اگر مرنے والے(خاوند)کی کئی بیویاں ہوں تو وہ سب ثمن،یعنی آٹھویں حصے کو آپس میں برابر تقسیم کر لیں گی۔
٭ ثلثان(دو تہائی2/3)مال کے کل تین حصوں میں سے دو حصے:
اس کے درج ذیل چار قسم کے وارث ہوتے ہیں:
1: دو یا دو سے زیادہ بیٹیاں::جب ان کے ساتھ میت کا بیٹا،یعنی ان کا بھائی نہ ہو۔
2: دو یا دو سے زیادہ پوتیاں::یہ اس وقت 2/3کی وارث ہوتی ہیں،جب میت کی صلبی(حقیقی)اولاد:بیٹے،بیٹیاں یا پوتا،یعنی ان کا بھائی نہ ہو۔
3: دو یا دو سے زیادہ حقیقی بہنیں::یہ اس وقت 2/3 کی مستحق ہوں گی،جب میت کا باپ،مذکر و مؤنث حقیقی اولاد اور حقیقی بھائی موجود نہ ہو۔
4: دو یا دو سے زیادہ پدری بہنیں:جب ان کے ساتھ میت کا باپ،مذکر و مؤنث صلبی اولاد اور حقیقی بہن بھائی یا پدری بھائی موجود نہ ہوں۔
٭ ثلث(ایک تہائی1/3)کل تین حصوں میں سے ایک:
درج ذیل تین افراد اس(حصے)کے وارث ہیں:
1: ماں:اگر مرنے والے بیٹے،بیٹی کی اپنی مذکر و مؤنث اولاد نہ ہو یا مذکر اولاد کی اولاد نہ ہو اور نہ اس کے دو یا دو سے زیادہ مطلقاً بھائی بہنیں ہوں۔
2: دو یا دو سے زیادہ مادری بہن بھائی خواہ وہ صرف بہنیں ہوں یا صرف بھائی۔بشرطیکہ مرنے والے کا باپ،دادا اور اولاد یا بیٹے کی اولاد نہ ہو،یعنی میت کلالہ ہو۔٭
3: دادا:اگر میت کے بہن بھائی موجود ہوں اور ایک تہائی(1/3)اس کے لیے بڑا(کافی اور)وافر حصہ ہو،تاہم یہ اس صورت میں ہو گا جب دو سے زیادہ بھائی یا چار سے زیادہ بہنیں ہوں(ورنہ پھر مقاسمہ ہو گا)۔
تنبیہ:باقی مال کا ثلث::یہ دو صورتیں ہیں جن میں ماں کو کل ترکے کا ثلث(1/3)کے بجائے بیوی یا خاوند کو دے کرباقی مال کا ثلث ملتا ہے:
1: ایک عورت فوت ہوگئی اور اپنے پیچھے صرف خاوند،باپ اور ماں کو چھوڑ گئی،اس صورت کا مخرج(اصل مسئلہ)چھ سے بنے گا:نصف(چھ کا نصف تین)خاوند کے لیے اور باقی نصف(تین)میں سے ماں کے لیے تہائی،یعنی ایک ہو گا،جبکہ باقی دو حصے عصبہ ہونے کی وجہ سے باپ کو مل جائیں گے۔
2: ایک شخص فوت ہو گیا اور اپنے پیچھے صرف بیوی،ماں اور باپ کو چھوڑ گیا تو اس کا مسئلہ چار سے بنے گا،جس میں
٭ بہن بھائی حقیقی ہوں،پدری ہوں یا مادری ہوں،یہ صرف اس میت کے وارث ہوتے ہیں جو کلالہ ہو،یعنی اس کی اولاد ہو نہ باپ۔(ع،ر)
سے چوتھائی 1/4 یعنی ایک بیوی کا اور باقی تین حصوں میں سے ایک تہائی 1/3 یعنی ایک حصہ ماں کے لیے اور باقی دو عصبہ ہونے کی بنا پر باپ کے لیے ہوں گے۔
ان دونوں صورتوں میں ماں کو کل ترکہ کا ثلث نہیں بلکہ باقی کا ثلث ملتا ہے،یہی فیصلہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کیا تھا،اسی لیے یہ دونوں مسئلے ’’عمریتین‘‘ کے نام سے معروف ہیں۔
٭ سدس(چھٹا 1/6)ترکہ کے کل چھ حصوں میں ایک:
درج ذیل سات افراد اس کے مستحق ہیں:
1: ماں:اگر میت کی اولاد یا بیٹے کی اولاد ہو یا دو یا دو سے زیادہ حقیقی یا پدری یا مادری بھائی بہنیں ہوں،برابر ہے کہ وہ وارث ہوں یا محجوب۔٭
2: نانی جدہ:دادی یااگر میت کی ماں نہ ہو تو نانی اکیلی وارث ہو گی اور اگر اس کے ساتھ میت کی دادی بھی ہو تو وہ دونوں سدس(1/6)کو برابر تقسیم کریں گی۔
تنبیہ: وراثت میں اصل جدہ ام الام(نانی)ہے،جبکہ جدہ ام الاب(دادی)کو اس پر محمول کیا جاتا ہے۔
3: باپ:یہ علی الاطلاق چھٹے حصے کا وارث ہوتا ہے،چاہے مرنے والے بیٹے یا بیٹی کی اولاد ہو یا نہ ہو۔
4: دادا:یہ باپ کی عدم موجودگی میں سدس کا وارث ہوتا ہے کیونکہ یہ اس کا قائم مقام ہوتا ہے۔
5: مادری بھائی یا بہن:اگر مرنے والے کا باپ،دادا،اولاد اور بیٹے کی اولاد نہ ہو،یعنی میت کلالہ ہو،نیز یہ کہ صرف مادری بھائی یا صرف مادری بہن ہو،ان کے ساتھ میت کاکوئی اور بھائی یا بہن موجود نہ ہو۔
6: پوتی یا پوتیاں:اگر میت کی صرف ایک بیٹی ہو،نیز پوتی کا کوئی بھائی(پوتا)موجود نہ ہو اور نہ اس کے مساوی درجے میں اس کے چچے کا کوئی بیٹا ہو،یعنی پوتی کا چچا زاد یا تایا زاد بھائی بھی نہ ہو،برابر ہے کہ سدس(1/6)کی وارث ایک پوتی ہو یا زیادہ۔(زیادہ پوتیاں ہوں تو سدس سب پر برابر تقسیم ہو جائے گا۔)
7: پدری بہن:بشرطیکہ اس کے ساتھ ایک حقیقی بہن بھی موجود ہو،نیز اس کے ساتھ کوئی پدری بھائی،ماں،دادا اور اولاد یا بیٹے کی اولاد نہ ہو۔