اولیاء الرحمن کی کرامات اور اولیاء الشیطان کی گمراہیاں
اولیاء الرحمن
بندوں میں اللہ تعالیٰ کے ولی بھی ہیں جنھیں اللہ نے اپنی عبادت کے لیے چن لیا ہے۔ان سے وہ اپنی اطاعت کے کام کراتا ہے اور انھیں شرف،محبت اور کرامت سے نوازتا ہے،اللہ ان کا دوست ہے وہ ان سے محبت کرتا اور انھیں اپنے قریب کرتا ہے اور یہ لوگ اللہ کے ولی ہیں،یہ اس سے محبت کرتے اور اس کی تعظیم بجا لاتے ہیں،اس کے حکم کی تعمیل کرتے اوراسی کا پرچار کرتے ہیں۔اس کے منع کیے ہوئے کاموں سے خود بھی اجتناب کرتے اور دوسروں کو بھی روکتے ہیں۔اللہ کی پسند ان کی پسند ہے اور اللہ کا بغض ان کا بغض ہے۔جب وہ اللہ سے مانگتے ہیں تو وہ انھیں دیتا ہے،جب مدد طلب کرتے ہیں تو وہ مدد کرتا ہے،جب وہ اس کی پناہ کے طلب گار ہوتے ہیں تو وہ انھیں پناہ دیتا ہے۔وہی ایمان و تقویٰ کے حامل ہیں،دنیاوی و اخروی کرامت وبشارت انھی کے لیے ہے۔ہر متقی مومن اللہ کا ولی ہے،البتہ ایمان و تقویٰ کی بنیاد پر ان کے درجات مختلف ہیں۔جسے ایمان و تقویٰ میں وافر حصہ ملا،اللہ کے ہاں وہ بلند مرتبہ ہے اور اس کی کرامت و عزت بہت زیادہ ہے۔سب سے بڑے اولیاء،اللہ کے رسول اور نبی ہیں اوران کے بعد ایمان والے۔اللہ تعالیٰ نے ان کے ہاتھوں جو کرامات ظاہر کی ہیں،مثلاً:تھوڑے کھانے کو زیادہ کر دینا،تکالیف اور بیماریوں کو دور کرنا،سمندروں میں سے گزر جانا یا جلتی آگ میں بھی نہ جلنا وغیرہ،یہ سب معجزات کے ہی قبیل سے ہیں،تاہم معجزہ اور کرامت میں فرق یہ ہے کہ معجزہ میں ایک قسم کا چیلنج ہوتا ہے جو کرامت میں نہیں ہوتا۔[1]