حدود کا بیان
اہل محاربت کی حد کا بیان
٭ اہل محاربت کی تعریف:
مسلمانوں میں سے ایک گروہ طاقت اور قوت حاصل کر کے عام لوگوں کے خلاف ہتھیار اٹھائے،ان کے راستے مسدود کر دے،لوگوں کو قتل کرے اور ان کے اموال لوٹ لے تو وہ’ ’محاربین‘‘ ہیں۔
٭ محارب لوگوں کے احکام:
1: انھیں پہلے سمجھایا جائے اور توبہ کی ترغیب دلائی جائے،اگر توبہ کر لیں تو ان کی توبہ قبول کی جائے،اگر انکار کریں تو ان سے اعلان جنگ کیا جائے اور ان کے ساتھ لڑنا جہاد فی سبیل اللہ ہے۔ان کے مقتولین کا خون ضائع ہے اور ان پر حملہ آور مسلمانوں کے مقتولین شہید ہیں،اس لیے کہ ارشاد ربانی ہے:
﴿فَقَاتِلُوا الَّتِي تَبْغِي حَتَّىٰ تَفِيءَ إِلَىٰ أَمْرِ اللّٰهِ﴾’’اس گروہ سے لڑو جو زیادتی کرتا ہے یہاں تک کہ وہ اللہ کے حکم کی طرف لوٹ آئے۔‘‘[3]
2: جو محارب توبہ سے پہلے گرفتار ہو جائے،اس پر حد نافذ ہو گی،یعنی قتل،پھانسی یا ایک ہاتھ اور مخالف سمت کا پاؤں کاٹنا یا جلاوطنی،جیسا کہ ارشاد الٰہی ہے:
﴿إِنَّمَا جَزَاءُ الَّذِينَ يُحَارِبُونَ اللّٰهَ وَرَسُولَهُ وَيَسْعَوْنَ فِي الْأَرْضِ فَسَادًا أَن يُقَتَّلُوا أَوْ يُصَلَّبُوا أَوْ تُقَطَّعَ أَيْدِيهِمْ وَأَرْجُلُهُم مِّنْ خِلَافٍ أَوْ يُنفَوْا مِنَ الْأَرْضِ﴾
’’ان لوگوں کی سزا،جو اللہ اور اس کے رسول(صلی اللہ علیہ وسلم)کے ساتھ ’’محاربت‘‘ کرتے ہیں اور زمین میں فساد پھیلاتے ہیں،یہ ہے کہ وہ قتل کیے جائیں یا سولی پر لٹکائے جائیں یا مختلف اطراف سے ان کے ہاتھ پاؤں کاٹ دیے جائیں یا انھیں علاقہ بدر کر دیا جائے۔‘‘[4]
جب قبیلہ عرینہ کے کچھ افراد نے صدقہ کے اونٹ لوٹ لیے،چرواہے کو قتل کر دیا اور بھاگ گئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں اسی انداز کی سزا دی تھی۔[1]
مذکورہ سزاؤں میں سے امام کو اختیار ہے کہ جو چاہے نافذ کرے۔بعض علماء کہتے ہیں کہ ’’محاربین’’نے اگر قتل کیا ہے تو انھیں قتل کیا جائے،مال لوٹا ہے تو ہاتھ پاؤں کاٹے جائیں اور علاقہ بدر کیا جائے اور اگر خون نہیں کیا اور مال نہیں لوٹا تو لوگوں کو ہراساں کرنے پر انھیں قید کی سزا دی جائے۔
3: محاربین گرفتاری سے پہلے اگر محاربہ ترک کر کے تائب ہو جائیں اور خود کو حکومت کے سپرد کر دیں تو ان سے اللہ سبحانہ و تعالیٰ کا حق ساقط ہو جاتا ہے،البتہ حقوق العبادان پر باقی رہیں گے۔قتل کیے ہیں تو قصاص لیا جائے گا اور اموال لوٹے ہیں تو ان کے ضامن ہوں گے،الّا یہ کہ ان سے دیت لی جائے یا معاف کر دیا جائے۔یہ سب احکام اللہ کے دین میں نافذ ہیں۔ارشاد ربانی ہے:﴿إِلَّا الَّذِينَ تَابُوا مِن قَبْلِ أَن تَقْدِرُوا عَلَيْهِمْ ۖ فَاعْلَمُوا أَنَّ اللّٰهَ غَفُورٌ رَّحِيمٌ﴾
’’مگر تمھارے ان پر قدرت پانے(انھیں گرفتار کرنے)سے پہلے اگر وہ توبہ کر لیں تو جان لو کہ بے شک اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔‘‘[2]
یہ بھی جائز ہے کہ امام ان کی طرف سے دیت ادا کر دے یا لوگوں کو ان کے اموال کی ادائیگی کر دے اگر ان تائب شدہ محاربین کے پاس کچھ بھی نہیں ہے۔