اللہ تعالیٰ کی ربوبیت پر ایمان

قرآن وسنت سے دلائل

مومن اس بات پر کامل ایمان رکھتا ہے کہ اس کائنات کی ہر چیز کا رب،،یعنی پالنے والا اللہ تعالیٰ ہے۔اس میں 1. ’’الربُّ‘‘ اللہ تعالیٰ کے صفاتی ناموں میں سے ہے،اضافت کے بغیر اس کا اطلاق غیر اللہ پر نہیں ہوتا،یہ مالک،معبود،مصلح،(اس کا کوئی شریک نہیں ہے۔یہ بات أَوَّلًا:اللہ رب کریم نے ہماری فطرتِ سلیمہ میں رکھی ہے۔ثَانِیاً:نقلی اور عقلی دلائل کا تقاضا بھی یہی ہے۔ قرآن وسنت سے دلائل: 1: اپنی ربوبیت کی خبر خود اللہ تعالیٰ نے دی ہے،ایک جگہ اپنی تعریف میں فرمایا:﴿الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ﴿٢﴾ ’’سب تعریف اللہ ہی کے لیے ہے جو سارے جہانوں کا رب ہے۔‘‘[1] اور اپنی ربوبیت کے اثبات میں فرمایا:﴿قُلْ مَن رَّبُّ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ قُلِ اللّٰهُ﴾ ’’کہہ دو کہ آسمانوں اور زمین کا رب کون ہے؟ کہہ دو کہ اللہ(ہی)ہے۔‘‘[2] اور اپنے رب اور معبودِ حقیقی ہونے کا یوں اظہار کیا:﴿رَبِّ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَمَا بَيْنَهُمَا ۖ إِن كُنتُم مُّوقِنِينَ﴿٧﴾لَا إِلَـٰهَ إِلَّا هُوَ يُحْيِي وَيُمِيتُ ۖ رَبُّكُمْ وَرَبُّ آبَائِكُمُ الْأَوَّلِينَ﴿٨﴾ ’’آسمانوں،زمین اور جو کچھ ان کے درمیان ہے،(سب)کا رب(وہی)ہے،اگر تم یقین کرتے ہو۔اس کے سوا کوئی معبود(برحق)نہیں،وہی زندہ کرتا اور مارتا ہے۔(وہی)تمھارا اور تمھارے پہلے آباء و اجداد کا رب ہے۔‘‘[3] اس میثاق کے تذکرے میں،جو اولادِ آدم سے اس وقت لیا گیا جب وہ اپنے آباء کی پشتوں میں تھے کہ اس کی ربوبیت کا اقرار کریں،اسی کی عبادت کریں اور اس میں اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ بنائیں۔ارشادِ ربانی ہے:﴿وَإِذْ أَخَذَ رَبُّكَ مِن بَنِي آدَمَ مِن ظُهُورِهِمْ ذُرِّيَّتَهُمْ وَأَشْهَدَهُمْ عَلَىٰ أَنفُسِهِمْ أَلَسْتُ بِرَبِّكُمْ ۖ قَالُوا بَلَىٰ ۛ شَهِدْنَا﴾ ’’اور جب تیرے رب نے بنی آدم کی پیٹھوں سے ان کی اولاد نکالی اور انھیں ان کے اوپر گواہ بنایا،کیا میں تمھارا رب نہیں ہوں ؟ سب نے کہا:کیوں نہیں!(تو ہمارا رب ہے)ہم گواہی دیتے ہیں۔‘‘[4] مشرکین پر حجت قائم کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿قُلْ مَن رَّبُّ السَّمَاوَاتِ السَّبْعِ وَرَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ﴿٨٦﴾سَيَقُولُونَ لِلّٰهِ ۚ قُلْ أَفَلَا تَتَّقُونَ﴿٨٧﴾ ’’(ان سے سوال کرتے ہوئے)کہہ دیجیے کہ ساتوں آسمانوں اور عرشِ عظیم کا مالک کون ہے؟تو کہیں گے:اللہ۔آپ فرما دیجیے:پھر تم کیوں نہیں ڈرتے؟ ‘‘[5] 2: انبیاء و مرسلین علیہم السلام نے بھی رب کائنات کی ربوبیت کی شہادت دی ہے،اس کا اقرار کیا ہے اور عام لوگوں کو یہ پیغام پہنچایا ہے۔چنانچہ آدم علیہ السلام نے اپنی دعا میں کہا: ( سید،مربی،تدبیر کرنے والے اور منتظم وغیرہ کے معنوں میں استعمال ہوتا ہے۔(لسان العرب،تفسیر القرطبي)ع۔و ﴿رَبَّنَا ظَلَمْنَا أَنفُسَنَا وَإِن لَّمْ تَغْفِرْ لَنَا وَتَرْحَمْنَا لَنَكُونَنَّ مِنَ الْخَاسِرِينَ﴿٢٣﴾ ’’اے ہمارے پالنے والے!ہم نے اپنی جانوں پر ظلم کیا اور اگر تونے ہمیں نہ بخشا اور ہم پر رحم نہ کیا تو یقینا ہم خسارہ پانے والوں میں سے ہو جائیں گے۔‘‘[1] حضرت نوح علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ سے فریاد کی: ﴿رَّبِّ إِنَّهُمْ عَصَوْنِي وَاتَّبَعُوا مَن لَّمْ يَزِدْهُ مَالُهُ وَوَلَدُهُ إِلَّا خَسَارًا﴿٢١﴾ ’’اے میرے رب!بے شک انھوں نے میری نافرمانی کی ہے اور ان(بڑوں اور مال داروں)کی پیروی کی ہے جنھیں ان کے مال واولاد نے نقصان ہی پہنچایا ہے۔‘‘[2] حضرت نوح علیہ السلام کی ایک اور دعا میں ہے:﴿رَبِّ إِنَّ قَوْمِي كَذَّبُونِ﴿١١٧﴾فَافْتَحْ بَيْنِي وَبَيْنَهُمْ فَتْحًا وَنَجِّنِي وَمَن مَّعِيَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ﴿١١٨﴾ ’’اے میرے رب!بے شک میری قوم نے میری تکذیب کر دی ہے،پس میرے اور ان کے درمیان فیصلہ کر دے،اور مجھے اور میرے مومن ساتھیوں کو نجات دے۔‘‘[3] حضرت ابراہیم علیہ السلام نے حرمِ مکہ مکرمہ میں،اپنے اوراپنی اولاد کے لیے ان الفاظ میں دعا کی:﴿رَبِّ اجْعَلْ هَـٰذَا الْبَلَدَ آمِنًا وَاجْنُبْنِي وَبَنِيَّ أَن نَّعْبُدَ الْأَصْنَامَ﴿٣٥﴾ ’’اے میرے پالنے والے!اس شہر کو امن والا بنا اور مجھے اور میری اولاد کو بتوں کی عبادت سے بچا۔‘‘[4] حضرت یوسف علیہ السلام نے اللہ سبحانہ وتعالیٰ کی ثنا کرتے ہوئے اپنی دعا میں فرمایا:﴿رَبِّ قَدْ آتَيْتَنِي مِنَ الْمُلْكِ وَعَلَّمْتَنِي مِن تَأْوِيلِ الْأَحَادِيثِ ۚ فَاطِرَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ أَنتَ وَلِيِّي فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ ۖ تَوَفَّنِي مُسْلِمًا وَأَلْحِقْنِي بِالصَّالِحِينَ﴿١٠١﴾ ’’اے میرے پالنہار!یقینا تو نے مجھے سلطنت عطا کی اور مجھے خوابوں کی تعبیر سکھائی۔آسمانوں اور زمین کے پیدا کرنے والے!دنیا وآخرت میں تو ہی میرا کار ساز ہے۔مجھے اسلام پر موت دے اور صالحین میں شامل فرما۔‘‘[5] حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اپنی ایک دعا میں اللہ کی ربوبیت کا یوں اظہار کیا:﴿رَبِّ اشْرَحْ لِي صَدْرِي﴿٢٥﴾وَيَسِّرْ لِي أَمْرِي﴿٢٦﴾وَاحْلُلْ عُقْدَةً مِّن لِّسَانِي﴿٢٧﴾يَفْقَهُوا قَوْلِي﴿٢٨﴾وَاجْعَل لِّي وَزِيرًا مِّنْ أَهْلِي﴿٢٩﴾ ’’اے میرے پالنے والے!میرا سینہ کھول دے اور میرے معاملات میں آسانی پیدا فرما اور میری زبان کی گرہ کھول دے،(تاکہ)یہ(لوگ)میری بات سمجھ لیں اور میرے اہل میں سے ایک میرا وزیر مقرر کر دے۔‘‘[6] حضرت ہارون علیہ السلام نے بنی اسرائیل سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا:﴿وَإِنَّ رَبَّكُمُ الرَّحْمَـٰنُ فَاتَّبِعُونِي وَأَطِيعُوا أَمْرِي﴿٩٠﴾ ’’اور یقینا تمھارا رب رحمان ہے،پس میری پیروی کرو اور میرا حکم مانو۔‘‘[1] طلبِ رحم میں حضرت زکریا علیہ السلام کی درخواست اس انداز کی تھی:﴿رَبِّ إِنِّي وَهَنَ الْعَظْمُ مِنِّي وَاشْتَعَلَ الرَّأْسُ شَيْبًا وَلَمْ أَكُن بِدُعَائِكَ رَبِّ شَقِيًّا﴿٤﴾ ’’اے میرے رب!بے شک میری ہڈیاں بوسیدہ ہو گئی ہیں اور سر سفید ہو گیا ہے اور اے میرے رب!میں تجھے پکار کر کبھی محروم نہیں رہا۔‘‘[2] مزید یہ دعا کی:﴿رَبِّ لَا تَذَرْنِي فَرْدًا وَأَنتَ خَيْرُ الْوَارِثِينَ﴿٨٩﴾’’اے میرے رب!مجھے اکیلا نہ چھوڑ اور تو سب سے اچھا وارث ہے۔‘‘[3] قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے ایک استفسار کے جواب میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام عرض کریں گے:﴿مَا قُلْتُ لَهُمْ إِلَّا مَا أَمَرْتَنِي بِهِ أَنِ اعْبُدُوا اللّٰهَ رَبِّي وَرَبَّكُمْ﴾ ’’میں نے انھیں صرف وہی کہا جس کا تو نے مجھے حکم دیا کہ اللہ کی عبادت کرو،جو میرا اور تمھارا رب ہے۔‘‘[4] اور اپنی قوم سے گفتگو کرتے ہوئے فرمایا:﴿يَا بَنِي إِسْرَائِيلَ اعْبُدُوا اللّٰهَ رَبِّي وَرَبَّكُمْ ۖ إِنَّهُ مَن يُشْرِكْ بِاللّٰهِ فَقَدْ حَرَّمَ اللّٰهُ عَلَيْهِ الْجَنَّةَ وَمَأْوَاهُ النَّارُ ۖ وَمَا لِلظَّالِمِينَ مِنْ أَنصَارٍ﴿٧٢﴾ ’’اے بنی اسرائیل!اللہ کی عبادت کرو،جو میرا اور تمھارا رب ہے،جس نے اس کے ساتھ شرک کیا،یقینا اللہ نے اس پر جنت حرام کر دی ہے اور اس کا ٹھکانا جہنم ہے اور ظالموں کا کوئی مدد گار نہیں ہو گا۔‘‘[5] کرب وتکلیف کے وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کلماتِ طیبّہ کا ورد فرمایا کرتے تھے:((لَا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ الْعَظِیمُ الْحَلِیمُ،لَا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِیمِ،لَا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ رَبُّ السَّمٰوَاتِ وَ رَبُّ الْعَرْشِ الْکَرِیمِ)) ’’عظمت والے اور بردبار اللہ کے سوا کوئی(سچا)معبود نہیں۔اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں جو عرشِ عظیم کا مالک ہے۔اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں جو آسمانوں اور زمین کا رب اور عزت والے عرش کا مالک ہے۔‘‘[6] تمام انبیاء ورسل علیہم السلام اللہ تعالیٰ کی ربوبیت پر یقین رکھتے تھے،اسی کو مدد کے لیے پکارتے تھے۔اور یہ لوگوں میں سب سے زیادہ ذی شعور،معرفت میں کامل اور قول کے سچے تھے اور انھیں روئے زمین کی تمام مخلوقات سے بڑھ کر،اللہ تعالیٰ اور اس کی صفات کی معرفت حاصل تھی۔ 3:علم ودانش اور حکمت و فراست کے حامل کروڑوں انسانوں کا ربِ کائنات کی ربوبیت پر پختہ یقین اور اعتراف واعلان بھی اس عقیدے کی صداقت پر ایک دلیل ہے۔ 4:اسی طرح بے شمار عقل مند اور سلیم الفطرت انسانوں کا یہ یقین کامل ہے کہ اللہ ہی جملہ مخلوق کا مر بی اور پالنہار ہے۔