اولیاء الرحمن کی کرامات اور اولیاء الشیطان کی گمراہیاں
اولیاء ا لشیطان
ہر مسلمان کا عقیدہ ہے کہ شیطان نے انسانوں میں سے بھی کچھ اپنے ساتھی بنا رکھے ہیں،جن پر وہ غالب آچکا ہے اور انھیں اللہ کی یاد سے غافل کیے ہوئے ہے،برائی کو خوبصورت انداز میں ان کے سامنے پیش کرتے ہوئے باطل کو ان کے دل میں ڈالتا رہتا ہے۔ایسے لوگ حق بات سننے سے بہرے ہیں اور حق دیکھنے سے ان کی آنکھیں اندھی ہیں،یہ لوگ کلی طور پر شیطان کے تابع ہو چکے ہیں،اس کے وسوسوں اور احکام کی تعمیل کرتے ہیں،انھیں برائی،اچھائی کے روپ میں نظر آتی ہے،چنانچہ انھوں نے منکر کو معروف بنا دیا ہے اور معروف کو منکر۔یہ لوگ ہر بات میں اولیاء اللہ کی ضد اور الٹ ہیں۔وہ اللہ کے دوست ہیں اور یہ اللہ کے دشمن،انھیں اللہ کی محبت حاصل ہے اور وہ اسے راضی کرنے کی سعی کرتے ہیں جبکہ یہ اللہ کو ناراض کر رہے ہیں اور ان پر اللہ کی لعنت اور غضب ہے۔اگر اللہ تعالیٰ کے یہ دشمن کبھی فضا میں اڑتے ہیں یا پانی کی سطح پر چل کر دکھا دیتے ہیں تو یہ اللہ کے ان دشمنوں کے لیے ’’استدراج‘‘ یعنی مہلت برائے آزمائش ہے یا پھر شیاطین اپنے ان دوستوں کے ساتھ حق دوستی ادا کرتے ہیں۔اس عقیدے کی بنیاد درج ذیل دلائل ہیں:
1:اللہ تعالیٰ نے ہمیں اولیائے شیطان کے متعلق خبر دی ہے۔ارشادِ ربانی ہے:﴿وَالَّذِينَ كَفَرُوا أَوْلِيَاؤُهُمُ الطَّاغُوتُ يُخْرِجُونَهُم مِّنَ النُّورِ إِلَى الظُّلُمَاتِ ۗ أُولَـٰئِكَ أَصْحَابُ النَّارِ ۖ هُمْ فِيهَا خَالِدُونَ﴾
’’اور جو لوگ کفر کرتے ہیں،ان کے ولی اور دوست طاغوت(شیطان)ہیں۔وہ انھیں روشنی سے نکال کر اندھیروں میں لے جاتے ہیں۔یہ لوگ جہنم والے ہیں،(اور)ہمیشہ اسی میں رہیں گے۔‘‘[2]
ارشادِ الٰہی ہے:﴿وَإِنَّ الشَّيَاطِينَ لَيُوحُونَ إِلَىٰ أَوْلِيَائِهِمْ لِيُجَادِلُوكُمْ ۖ وَإِنْ أَطَعْتُمُوهُمْ إِنَّكُمْ لَمُشْرِكُونَ﴾
’’اور بے شک شیاطین اپنے ساتھیوں کے دل میں(پوشیدہ گمراہ کن باتیں)ڈالتے ہیں تاکہ وہ تمھارے ساتھ بحث و جھگڑا کریں اور اگر تم نے ان کی اطاعت کی تو تم بھی مشرک ہو جاؤ گے۔‘‘[3]
ارشادِ عالی ہے:﴿وَيَوْمَ يَحْشُرُهُمْ جَمِيعًا يَا مَعْشَرَ الْجِنِّ قَدِ اسْتَكْثَرْتُم مِّنَ الْإِنسِ ۖ وَقَالَ أَوْلِيَاؤُهُم مِّنَ الْإِنسِ رَبَّنَا اسْتَمْتَعَ بَعْضُنَا بِبَعْضٍ وَبَلَغْنَا أَجَلَنَا الَّذِي أَجَّلْتَ لَنَا ۚ قَالَ النَّارُ مَثْوَاكُمْ خَالِدِينَ فِيهَا إِلَّا مَا شَاءَ اللّٰهُ﴾
’’اور جس دن وہ ان سب(جن و انس)کو اکٹھا کر ے گا(اورکہے گا:)’’اے جنوں کے گروہ!تم نے انسانوں سے بہت(فائدے)حاصل کیے۔‘‘ اور ان(جنوں)کے ساتھی انسان کہیں گے:اے ہمارے رب!ہم نے ایک دوسرے سے نفع حاصل کیا[1] اور(بالآخر)ہم اپنی اس میعاد کو پہنچ گئے جو تو نے ہمارے لیے مقرر کی۔اللہ تعالیٰ فرمائے گا:’’تمھارا ٹھکانہ جہنم ہے،تم اس میں ہمیشہ رہو گے مگرجو اللہ چاہے۔‘‘[2]
ارشادِ ربانی ہے:﴿وَمَن يَعْشُ عَن ذِكْرِ الرَّحْمَـٰنِ نُقَيِّضْ لَهُ شَيْطَانًا فَهُوَ لَهُ قَرِينٌ﴿٣٦﴾وَإِنَّهُمْ لَيَصُدُّونَهُمْ عَنِ السَّبِيلِ وَيَحْسَبُونَ أَنَّهُم مُّهْتَدُونَ﴾
’’اور جو رحمن کی یاد سے غافل ہو جائے ہم اس پر شیطان مقرر کر دیتے ہیں،پس وہ اس کا ساتھی ہو جاتا ہے۔اور یہ شیاطین انھیں(سیدھے)راستے سے روکتے رہتے ہیں اور وہ سمجھتے ہیں کہ ہم راہِ ہدایت پر جا رہے ہیں۔‘‘[3]
ارشادِ گرامی ہے:﴿إِنَّا جَعَلْنَا الشَّيَاطِينَ أَوْلِيَاءَ لِلَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ﴾
’’یقینا ہم نے شیاطین کو ایمان نہ لانے والوں کا ساتھی اور دوست بنا دیا ہے۔‘‘[4]
نیز فرمایا:﴿إِنَّهُمُ اتَّخَذُوا الشَّيَاطِينَ أَوْلِيَاءَ مِن دُونِ اللّٰهِ وَيَحْسَبُونَ أَنَّهُم مُّهْتَدُونَ﴾
’’بے شک انھوں نے اللہ کے سوا شیاطین کو دوست بنا لیا ہے اور سمجھتے ہیں کہ وہ صحیح راہ پر چل رہے ہیں۔‘‘[5]
مزید فرمایا:﴿وَقَيَّضْنَا لَهُمْ قُرَنَاءَ فَزَيَّنُوا لَهُم مَّا بَيْنَ أَيْدِيهِمْ وَمَا خَلْفَهُمْ﴾
’’اور ہم نے(شیطانوں کو)ان کا ہم نشین مقرر کر دیا تھا،پس انھوں نے ان کے لیے ان کے آگے اور پیچھے(کی بدکاریوں)کو مزین کر دکھایا۔‘‘[6] اور فرمایا:
﴿وَإِذْ قُلْنَا لِلْمَلَائِكَةِ اسْجُدُوا لِآدَمَ فَسَجَدُوا إِلَّا إِبْلِيسَ كَانَ مِنَ الْجِنِّ فَفَسَقَ عَنْ أَمْرِ رَبِّهِ ۗ أَفَتَتَّخِذُونَهُ وَذُرِّيَّتَهُ أَوْلِيَاءَ مِن دُونِي وَهُمْ لَكُمْ عَدُوٌّ﴾
’’اور جب ہم نے فرشتوں سے کہا کہ آدم کو سجدہ کرو تو سب نے سجدہ کیا ماسوائے ابلیس کے۔یہ جنوں میں سے تھا،پس وہ اپنے رب کے حکم سے نکل گیا(تو اے لوگو!)کیا تم مجھے چھوڑ کر اسے اور اس کی اولاد کو دوست بناتے ہو،حالانکہ وہ تمھارے دشمن ہیں۔‘‘[7]
2: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اس طرح کی معلومات بہم پہنچائی ہیں۔
مثلاً:ایک دن ایک ستارہ پھینکا گیا،پھر وہ روشن ہوگیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ساتھیوں سے دریافت فرمایا:’’ دورِ جاہلیت میں تم اس بارے میں کیا کہتے تھے؟‘‘ ساتھیوں نے جواب دیا:ہم کہتے تھے کوئی بڑا آدمی مر گیا ہے اور کوئی بڑا آدمی پیدا ہوا ہے۔آپ نے فرمایا:’’اسے کسی کی موت پر نہیں پھینکا جاتا اور نہ ہی کسی کی پیدائش پر۔ہمارا رب تعالیٰ جب کسی بات کا فیصلہ کرتا ہے تو حاملینِ عرش تسبیح کرتے ہیں،پھر ان سے قریبی آسمان والے تسبیح کہتے ہیں اور اسی طرح ان سے متصل نیچے(آسمان)والے حتیٰ کہ آسمانِ دنیا پر تسبیح کا غلغلہ پہنچتا ہے،پھر آسمان والے(فرشتے)،حاملینِ عرش فرشتوں سے پوچھتے ہیں کہ ہمارے رب تعالیٰ نے کیا فیصلہ صادر فرمایا ہے؟ وہ ایک دوسرے کو بتاتے ہیں حتی کہ یہ بات آسمانِ دنیا تک پہنچ جاتی ہے،شیاطین وہاں سے بات(سن کر)چراتے ہیں اور نیچے زمین پر اپنے ساتھیوں(کاہنوں،نجومیوں اور جعلی پیروں)کی طرف پھینکتے ہیں جو بات وہ اصلی حالت میں لاتے ہیں وہ تو حق ہوتی ہے مگر وہ اس میں(اپنی طرف سے سو جھوٹ کا)اضافہ(کرکے پیش گوئی)کر دیتے ہیں۔‘‘[1]
کاہنوں کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’یہ لوگ کچھ بھی نہیں۔‘‘ سائل نے کہا:بعض اوقات یہ مستقبل کی کوئی بات بتاتے ہیں تو وہ سچ ثابت ہوجاتی ہے۔آپ نے فرمایا:’’یہ سچی بات جنوں نے آسمان سے جھپٹی(چوری چھپے سنی)ہوتی ہے جو اپنے ساتھیوں کے کانوں میں ڈال دیتے ہیں اور وہ(اولیاء ا لشیطان)اس کے ساتھ سینکڑوں جھوٹ ملا(کر پھیلا)دیتے ہیں۔‘‘[2]
اور آپ نے فرمایا:’مَا مِنْکُمْ مِّنْ أَحَدٍ إِلَّا وَقَدْ وُکِّلَ بِہِ قَرِینُہُ مِنَ الْجِنِّ‘’’تم میں سے ہر ایک کے ساتھ جنوں میں سے ایک ساتھی مقرر ہے۔‘‘[3]
نیز فرمایا:’إِنَّ الشَّیْطَانَ یَجْرِي مِنَ الإِْنْسَانِ مَجْرَی الدَّمِ‘ ’’یقینا شیطان انسان(کے باطن)میں اس طرح چلتا ہے،جیسے(رگوں میں)خون دوڑتا ہے۔‘‘[4]
3: لاکھوں انسانوں نے مختلف مقامات اور مختلف اوقات میں اولیائے شیطان کے عجیب و غریب شیطانی احوال دیکھے ہیں۔بعض انسانوں کے پاس شیطان کھانے پینے کی مختلف چیزیں لاتا ہے اور بعض کے کچھ کام کر دیتا ہے اور بعض کو پوشیدہ باتیں بتاتا اور خفیہ امور سے آگاہ کردیتا ہے،اور بسا اوقات ایسا بھی ہوا کہ اپنے ساتھی پر ہتھیار نہ چلنے دیا اور ایسے لوگ بھی پائے گئے ہیں جنھوں نے کسی بزرگ سے مدد طلب کی تو شیطان ان کے پاس اسی نیک انسان کی شکل و صورت میں آگیاجس سے شیاطین کا مقصد انھیں گمراہ کرنا،شرک کی طرف لانا اور معصیتِ الٰہی پر آمادہ کرنا ہوتا ہے۔اور بعض لوگوں کو شیاطین دور دراز علاقوں میں لے گئے یا اس کے پاس آدمیوں کو لے آئے،یا اسی طرح کے دیگر اعمال کر دکھائے جن کے کرنے پر شیاطین اور سرکش جن ہی قدرت رکھتے ہیں۔
یہ شیطانی احوال اس وقت حاصل ہوتے ہیں،جب انسان شروفساد کرتا اور اللہ تعالیٰ اور اس کے احکام کے انکار اور نافرمانی میں بدمست ہو جاتا ہے،یہاں تک کہ بالآخر اس میں ایمان،تقویٰ اور نیکی باقی نہیں رہتی۔ایسی صورت میں اس کی روح شیطانی ارواحِ خبیثہ کے ساتھ متحد ہو جاتی ہے۔پھر دونوں کے درمیان دوستی کے رشتے قائم ہو جاتے ہیں حتی کہ وہ ایک دوسرے کی مدد کرتے اور معلومات کا باہم تبادلہ کرتے رہتے ہیں۔اسی لیے قیامت کے دن انھیں کہا جائے گا:﴿يَا مَعْشَرَ الْجِنِّ قَدِ اسْتَكْثَرْتُم مِّنَ الْإِنسِ﴾
’’اے جنوں کی جماعت!تم نے انسانوں سے بہت فائدہ حاصل کیا ہے۔‘‘[1]
ان کے انسانی دوست کہیں گے:﴿رَبَّنَا اسْتَمْتَعَ بَعْضُنَا بِبَعْضٍ﴾
’’اے ہمارے رب!ہم نے ایک دوسرے سے(بہت)فائدے حاصل کیے ہیں۔‘‘[2]
البتہ ربانی اولیاء کی کرامتوں اور شیطانی اولیاء کے کرتبوں میں واضح تر فرق یہ ہے کہ اگر ’’خرقِ عادت‘‘ بات ایک ایماندار،پرہیز گار اور اللہ تعالیٰ کی شریعت پر خلوت و جلوت میں چلنے والے شخص کے ہاتھوں سرزد ہو تو یہ اللہ کی طرف سے اعزاز اور اس کی ہمت افزائی ہے اور اگر ایسا کام ایک خبیث،اللہ کے نافرمان اور کفر و فساد میں منہمک شخص کے ہاتھ پر ظاہر ہو تو یہ استدراج(معصیت کے باوجود ڈھیل دینے)[3] کی قبیل سے ہے،یا پھر شیاطین کی کار فرمائی اور ان کی اپنے دوستوں کی غیبی مدد ہے۔(والعیاذ باللہ)