فریضۂ امر بالمعروف و نہی عن المنکر
آدابِ امر و نہی
1: داعی یہ بخوبی جانتا ہو کہ جس بات کا وہ حکم دے رہا ہے،وہ فی الواقع شریعت میں معروف اور نیکی ہے اوراس پر عمل متروک ہوچکا ہے،اسی طرح جس برائی سے وہ منع کرتا ہے اور جسے مٹانے کی وہ کوشش کر رہا ہے اس کی حقیقت بھی سمجھتا ہو اوراُسے معلوم ہو کہ اس کا ارتکاب بھی ہورہا ہے،نیز وہ کام فی الواقع شریعت میں گناہ اور حرام قرار دیا گیا ہو۔
2: اصلاح کرنے والا خود اس نیکی کا عامل ہو اور جس بات سے منع کر رہا ہے،یہ خود اس کے قریب بھی نہ پھٹکے۔اللہ سبحانہ و تعالیٰ کا ارشادِ گرامی ہے:﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لِمَ تَقُولُونَ مَا لَا تَفْعَلُونَ﴿٢﴾كَبُرَ مَقْتًا عِندَ اللّٰهِ أَن تَقُولُوا مَا لَا تَفْعَلُونَ﴾
’’اے ایمان والو!وہ بات کیوں کہتے ہو جو تم نہیں کرتے ہو؟ اللہ کے نزدیک یہ بڑی ناراضی کا باعث ہے کہ تم وہ کہو جو کرتے نہیں ہو۔‘‘[3]
فرمانِ الٰہی ہے:﴿أَتَأْمُرُونَ النَّاسَ بِالْبِرِّ وَتَنسَوْنَ أَنفُسَكُمْ وَأَنتُمْ تَتْلُونَ الْكِتَابَ ۚ أَفَلَا تَعْقِلُونَ﴾
’’کیا تم لوگوں کو نیکی کا حکم دیتے ہو اور خود اپنے آپ کو بھول جاتے ہو،حالانکہ تم کتاب پڑھتے ہو۔کیا تم سمجھتے نہیں ؟‘‘[4]
3: ایک مبلغ کو اچھے اخلاق کا مالک ہونا چاہیے،اُسے اچھی باتوں کا حکم نرمی سے دینا چاہیے اور بُری باتوں سے حکمت کے ساتھ روکنا چاہیے اگر امر بالمعروف اور نہی عن المنکرکی وجہ سے کوئی تکلیف پہنچے تو اسے دل میں محسوس کرے نہ غصے کا اظہار کرے،بلکہ اس بارے میں درگزر،عفو اور اعراض سے کام لے۔
ارشادِ عالی ہے:﴿وَأْمُرْ بِالْمَعْرُوفِ وَانْهَ عَنِ الْمُنكَرِ وَاصْبِرْ عَلَىٰ مَا أَصَابَكَ ۖ إِنَّ ذَٰلِكَ مِنْ عَزْمِ الْأُمُورِ﴾
’’اور اچھائی کا حکم دے،برائی سے منع کر اور تجھے جو تکلیف پہنچے اس پر صبر کر۔یہ ہمت کے کاموں میں سے ہے۔‘‘[1]
4: برے کام جاننے کے لیے لوگوں کی جاسوسی نہ کرے۔یہ بات نا مناسب ہے کہ منکرات جاننے کے لیے لوگوں کے گھروں میں جھانکا جائے،یا کسی کا پردہ اٹھا کر دیکھا جائے کہ اندر کیا ہے یا برتن کا ڈھکنا اُٹھا کر معلوم کیا جائے کہ اس میں کیا ہے کیونکہ شارع نے لوگوں کے عیوب چھپانے کا حکم دیا ہے۔ان کے عیوب کی ٹوہ لگانے اور جاسوسی کرنے سے منع فرمایا ہے۔قرآنِ پاک میں ہے:وَلَا تَجَسَّسُوا ’’اور تم خفیہ طور پر ٹوہ نہ لگاؤ۔‘‘[2]
اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’وَلَا تَجَسَّسُوا‘ ’’اورجاسوسی نہ کرو۔‘‘[3]
نیز فرمایا:’مَنْ سَتَرَ مُسْلِمًا سَتَرَہُ اللّٰہُ فِي الدُّنْیَا وَالْآخِرَۃِ‘’’جو شخص ایک مسلمان کی پردہ پوشی کرتا ہے،اللہ تعالیٰ دنیا و آخرت میں اس کی پردہ پوشی فرمائے گا۔‘‘[4]
5: مبلغ جسے وعظ و تبلیغ کرنا چاہتا ہے،اسے پہلے نیکی اور برائی کی پہچان کرائے کیونکہ ہو سکتا ہے کہ وہ نیکی اور برائی کو جانتا ہی نہ ہو،جبھی تو وہ اس کی خلاف ورزی کر رہا ہے،اس لیے سب سے پہلے برائی اور نیکی کی وضاحت ضرور کرنی چاہیے۔
6: اچھائی کے حکم اور برائی سے منع کرنے کے بعد بھی اگر کوئی نیکی پر عمل نہیں کرتا یا برائی نہیں چھوڑتا تو شریعت کے مطابق ترغیب و ترہیب سے کام لے۔اس کے باوجود وہ عمل پیرا ہونے سے گریزاں رہے تو ڈانٹ پلائی جائے اور سختی اپنائی جائے اگریہ طریقہ بھی کارگر نہ ہو تو اسے اپنے ہاتھ سے تبدیل کرنے کی سعی کرے ورنہ حکومت یا برادرانِ اسلام کا تعاون حاصل کرے۔
7: اگر اپنے ہاتھ اور زبان سے برائی کو ختم نہ کر سکے بلکہ اس صورت میں اسے اپنی جان و مال اور عزت کے ضائع ہونے کا ڈر ہے اور وہ مصائب پر صبر کی طاقت نہیں رکھتا تو پھر دل سے اسے برا جانے،اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاہے:((مَنْ رَّأَی مِنْکُمْ مُّنْکَرًا فَلْیُغَیِّرْہُ بِیَدِہِ،فَإِنْ لَّمْ یَسْتَطِعْ فَبِلِسَانِہِ،فَإِنْ لَّمْ یَسْتَطِعْ فَبِقَلْبِہِ،وَ ذٰلِکَ أَضْعَفُ الإِْیمَانِ))
’’تم میں سے جو برا کام دیکھے،اسے اپنے ہاتھ سے روکے،اگر اس کی طاقت نہیں تو زبان سے روکے،ورنہ دل سے(ضرور برا جانے)اور یہ ایمان کا کمزور ترین درجہ ہے۔‘‘[1]