سلف صالحین سے محبت اور مسلمان حکام کی اطاعت
حکام وقت کا مقام
٭ مسلمان اللہ تعالیٰ کے درج ذیل فرمان کی بنا پر ان کی اطاعت کو واجب سمجھتا ہے۔﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَطِيعُوا اللّٰهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ وَأُولِي الْأَمْرِ مِنكُمْ﴾
’’اے ایمان والو!اللہ کی اطاعت کرو اور رسول(صلی اللہ علیہ وسلم)کی اطاعت کرو اور جو تم میں سے حکم والے ہوں ان کی بھی(اطاعت کرو۔)‘‘[1]
اور اس لیے بھی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے:’اِسْمَعُوا وَأَطِیعُوا،وَإِنِ اسْتُعْمِلَ عَلَیْکُمْ عَبْدٌ حَبَشِيٌّ کَأَنَّ رَأْسَہُ زَبِیبَۃٌ‘
’’سنو اور اطاعت کرو،چاہے تم پر حبشی غلام،جس کا سر منقیٰ کی طرح پچکا ہوا ہو،امیر بنا دیا جائے۔‘‘[2]
نیز فرمایا:’مَنْ أَطَاعَنِي فَقَدْ أَطَاعَ اللّٰہَ،وَ مَنْ عَصَانِي فَقَدْ عَصَی اللّٰہَ،وَ مَنْ أَطَاعَ أَمِیرِي فَقَدْ أَطَاعَنِي وَ مَنْ عَصٰی أَمِیرِي فَقَدْ عَصَانِي‘
’’جس نے میری اطاعت کی،اس نے اللہ کی اطاعت کی اور جس نے میری نافرمانی کی اس نے اللہ کی نافرمانی کی اور جس نے میرے امیر کی اطاعت کی،اس نے میری اطاعت کی،اور جس نے میرے امیر کی نافرمانی کی،اس نے میری نافرمانی کی۔‘‘[3]
مگر ان امراء و حکام کی اطاعت کو اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی میں جائز نہ جانے،اس لیے کہ اللہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت تو سب کی اطاعت پر مقدم ہے۔ارشادِ ربانی ہے:﴿وَلَا يَعْصِينَكَ فِي مَعْرُوفٍ﴾’’اور نیکی میں تیری نافرمانی نہ کریں۔‘‘[1]
ارشادِ نبوی ہے:’إِنَّمَا الطَّاعَۃُ فِي الْمَعْرُوفِ‘ ’’(مخلوق کی)اطاعت صرف نیکی میں ہے۔‘‘[2]
فرمانِ نبوی ہے:’لَا طَاعَۃَ فِي مَعْصِیَۃِ اللّٰہِ‘ ’’اللہ کی نافرمانی میں کسی اور کی فرماں برداری نہیں ہے۔‘‘[3]
ارشادِ نبوی ہے:’اَلسَّمْعُ وَالطَّاعَۃُ عَلَی الْمَرْئِ الْمُسْلِمِ فِیمَا أَحَبَّ وَ کَرِہَ،مَا لَمْ یُؤْمَرْ بِمَعْصِیَۃٍ،فَإِذَا أُمِرَ بِمَعْصِیَۃٍ فَلَا سَمْعَ وَلَا طَاعَۃَ‘
’’سننا اور اطاعت کرنا پسند آئے یا نہ آئے،اس وقت تک مسلمان شخص پر واجب ہے،جب تک گناہ کا حکم نہ دیا جائے،اگر اسے گناہ اور نافرمانی کا حکم دیا جائے تو پھر سمع و اطاعت نہیں ہے۔‘‘[4]
٭ حکامِ وقت کے خلاف بغاوت اور ان کے مقابلے میں نافرمانی کا اعلان حرام جانے،اس لیے کہ مسلمانوں کے سربراہ کی اطاعت سے انکار کرنا غلط اور ناروا بات ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے:’مَنْ کَرِہَ مِنْ أَمِیرِہِ شَیْئًا فَلْیَصْبِرْ،فَإِنَّہُ مَنْ خَرَجَ مِنَ السُّلْطَانِ شِبْرًا مَّاتَ مِیتَۃً جَاہِلِیَّۃً‘
’’جو اپنے امیر میں کوئی ناپسندیدہ بات دیکھے تو اس پر صبر کرے کیونکہ جو شخص سلطان اور خلیفہ(کی اطاعت)سے ایک بالشت دور نکل جائے،وہ جاہلیت کی موت مرا۔‘‘[5]
نیز آپ نے فرمایا:’مَنْ أَہَانَ سُلْطَانَ اللّٰہِ فِي الْأَرْضِ أَہَانَہُ اللّٰہُ‘ ’’جو زمین میں اللہ تعالیٰ کے سلطانِ وقت کی اہانت کرے گا،اللہ جل شانہ اس کی اہانت کرے گا۔‘‘[6]
٭ اس کے برعکس ان کے حق میں نیکی اور درستی کی توفیق،شر سے بچاؤ اور غلطی میں پڑنے سے تحفظ کی دعا کرتا رہے،اس لیے کہ ان کی درستی امت کی درستی ہے اور ان کی تباہی قوم کی بربادی ہے،توہین کیے بغیر ان کے لیے خیر خواہی کے جذبات رکھے کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے:’اَلدِّینُ النَّصِیحَۃُ‘ ’’دین خیر خواہی کا نام ہے۔‘‘
صحابہ فرماتے ہیں کہ ہم نے عرض کی:کس کے لیے خیر خواہی؟ تو آپ نے فرمایا:’لِلّٰہِ وَلِکِتَابِہِ وَلِرَسُولِہِ وَ لِأَئِمَّۃِ الْمُسْلِمِینَ وَعَامَّتِہِمْ‘
’’اللہ سبحانہ و تعالیٰ،اس کی کتاب،اس کے پیغمبر،سربراہانِ امتِ مسلمہ اور عام مسلمانوں کے لیے۔‘‘[1]
٭ مسلم سربراہ خلیفہ اور سلطان کے ساتھ مل کر جہاد کرے،ان کے پیچھے نماز پڑھے،خواہ ان سے حدِّ کفر سے نیچے نیچے فسق و محرمات کا ارتکاب بھی ہو چکا ہوکیونکہ برے امراء کی اطاعت کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’اِسْمَعُوا وَ أَطِیعُوا،فَإِنَّمَا عَلَیْہِمْ مَّا حُمِّلُوا وَ عَلَیْکُمْ مَّا حُمِّلْتُمْ‘
’’سنو اور اطاعت کرو،وہ اپنی ذمہ داری کے جواب دہ ہیں اور تم اپنی ذمہ داری نبھاؤ۔‘‘[2]
سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:((بَایَعْنَا رَسُولَ اللّٰہِ صلی اللّٰه علیہ وسلم عَلَی السَّمْعِ وَالطَّاعَۃِ فِي مَنْشَطِنَا وَمَکْرَہِنَا وَ عُسْرِنَا وَ یُسْرِنَا،وَ أَثَرَۃٍ عَلَیْنَا،وَ أَنْ لَّا نُنَازِعَ الْأَمْرَ أَہْلَہُ،قَالَ:إِلَّا أَنْ تَرَوْا کُفْرًا بَوَاحًا عِنْدَکُمْ مِّنَ اللّٰہِ فِیہِ بُرْہَانٌ))
’’ہم نے رسول اللہ(صلی اللہ علیہ وسلم)کے ہاتھ پر سمع و اطاعت کی بیعت کی،خوشی ہو یا ناخوشی،مشکل ہو یا آسانی حتیٰ کہ اگر حاکم ہم پر دوسرے لوگوں کو ترجیح دے،پھر بھی(ہم اس کی بات سنیں اور مانیں گے)اور یہ کہ حکومت والوں کی مخالفت اور ان سے جھگڑا نہیں کریں گے۔فرمایا:’’اِلاَّ یہ کہ تم ان میں صریح کفر دیکھو،جس(کے کفر ہونے)میں اللہ کی طرف سے تمھارے پاس کوئی ٹھوس دلیل اورحجت ہو(ایسی صورت میں تم پر ان کی اطاعت واجب نہیں۔)‘‘[3]