آداب و حقوق

اللہ تعالیٰ کا ادب

مسلمان جانتا ہے کہ رحمِ مادر میں بصورتِ نطفہ ٹھہرنے سے لے کر تدریجی مراحل طے کر تے ہوئے اللہ عزوجل کے ہاں چلے جانے تک اسے اللہ تعالیٰ کے بے شمار احسانات اورانعامات اپنے گھیرے میں لیے ہوئے ہیں۔ لہٰذا ہر مسلمان پر لازم ہے کہ وہ اپنی زبان سے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان کرے جو اس کے استحقاق وعُلُوِّشان کے مطابق ہو اور اپنے اعضاء اس کی اطاعت کے کاموں میں لگائے رکھے،یہ ہے اللہ جل شانہ کی جناب میں انسان کا ادب ملحوظ رکھنا۔منعمِ حقیقی کے فضل و کرم کا انکار اوراس کے احسانات کی ناشکری اس کے احترام کے منافی اور بے ادبی ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:﴿وَمَا بِكُم مِّن نِّعْمَةٍ فَمِنَ اللّٰهِ﴾ ’’اور تمھیں جو نعمتیں(میسر)ہیں،وہ اللہ کی طرف سے ہیں۔‘‘ [1] باری تعالیٰ فرماتے ہیں:﴿وَإِن تَعُدُّوا نِعْمَةَ اللّٰهِ لَا تُحْصُوهَا﴾ ’’اور اگر تم اللہ کی نعمتیں شمار کرنا چاہو بھی تو نہیں کر سکتے۔‘‘ [2] ارشادِ باری ہے:﴿فَاذْكُرُونِي أَذْكُرْكُمْ وَاشْكُرُوا لِي وَلَا تَكْفُرُونِ﴾ ’’پس تم مجھے یاد کرو میں تمھیں یاد رکھوں گا اور میرا شکر ادا کرو اور میری ناشکری نہ کرو۔‘‘ [3] اللہ رب العزت کو ماننے والا ایک انسان جب اپنے ذہن و فکر میں یہ عقیدہ راسخ پاتا ہے کہ ربِّ کائنات کو اس کی ذات اور اس کے سب احوال کا مکمل علم ہے تو اس کے دل میں معبود حقیقی کے رعب و ہیبت کی ایک کیفیت پیدا ہو جاتی ہے اور رب جلیل کی عظمت و توقیر کا شعور اس کے دل کی گہرائیوں میں جاگزیں ہوجاتا ہے،جس کے نتیجے میں انسان اس کی نافرمانی میں شرمندگی،ندامت اور خفت محسوس کرتا ہے کیونکہ کوئی غلام اپنے آقا کی نظروں کے سامنے نافرمانی نہیں کر سکتا اور اس کے سامنے گندے اور رذیل کام نہیں بجا لا سکتا۔ ارشادِ الٰہی ہے:﴿مَّا لَكُمْ لَا تَرْجُونَ لِلّٰهِ وَقَارًا﴿١٣﴾وَقَدْ خَلَقَكُمْ أَطْوَارًا﴾ ’’تمھیں کیا ہو گیا ہے کہ تم اللہ کی عظمت کا اعتقاد نہیں رکھتے،حالانکہ اس نے تمھیں مختلف حالات میں پیدا کیا ہے؟‘‘[1] ارشادِ عالی ہے:﴿وَيَعْلَمُ مَا تُسِرُّونَ وَمَا تُعْلِنُونَ﴾ ’’اور وہ جانتا ہے جو تم چھپاتے اور جو ظاہر کرتے ہو۔‘‘ [2] ارشادِ ربانی ہے:﴿وَمَا تَكُونُ فِي شَأْنٍ وَمَا تَتْلُو مِنْهُ مِن قُرْآنٍ وَلَا تَعْمَلُونَ مِنْ عَمَلٍ إِلَّا كُنَّا عَلَيْكُمْ شُهُودًا إِذْ تُفِيضُونَ فِيهِ ۚ وَمَا يَعْزُبُ عَن رَّبِّكَ مِن مِّثْقَالِ ذَرَّةٍ فِي الْأَرْضِ وَلَا فِي السَّمَاءِ﴾ ’’اور تم کسی بھی حال میں ہو یا قرآن پڑھ رہے ہو یا تم کسی بھی کام میں مگن ہو مگر ہم تم پر گواہ ہوتے ہیں جب تم اس میں مصروف ہوتے ہو اور زمین و آسمان کی ذرہ برابر چیز بھی تیرے رب کے علم سے چھپی نہیں رہ سکتی۔‘‘ [3] اور ایک مسلمان جب یہ سوچتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس پر ہر لحاظ سے قادر ہے اور وہ اس سے بھاگ نہیں سکتا،اس کے بغیر کوئی جائے پناہ نہیں ہے تو وہ ضرور اپنے سارے معاملات اسی کے سپرد کرے گا،اسی کے آگے گرے گا اور اسی پر بھروسا کرے گا اور یہی اپنے خالق و پروردگار کا ادب ملحوظ رکھنا ہے۔آخر یہ کیسا ادب و احترام ہے کہ بندہ اس سے بھاگنے کی کوشش کرے جس سے بھاگنا ناممکن ہے،اور اپنے معاملات اس کے سپرد کرے جسے اسباب عاریہ کے بغیر کوئی طاقت و قوت اور تصرف حاصل نہیں ہے۔ارشادِ گرامی ہے:﴿مَّا مِن دَابَّةٍ إِلَّا هُوَ آخِذٌ بِنَاصِيَتِهَا﴾’’(اللہ)زمین پر رینگنے والی ہر چیز کو اس کی چوٹی(پیشانی کے بالوں)سے پکڑے ہوئے ہے۔‘‘ [4] نیز فرمایا:﴿فَفِرُّوا إِلَى اللّٰهِ ۖ إِنِّي لَكُم مِّنْهُ نَذِيرٌ مُّبِينٌ﴾ ’’پس اللہ ہی کی طرف دوڑو،بے شک میں اس کی طرف سے تمھیں واضح ڈرانے والا ہوں۔‘‘ [5] مزید فرمایا ہے:﴿وَعَلَى اللّٰهِ فَتَوَكَّلُوا إِن كُنتُم مُّؤْمِنِينَ﴾’’اور اگر تم مومن ہو تو اللہ ہی پر بھروسا اور توکل کرو۔‘‘ [6] اور ایک مسلمان نظریہ رکھتا ہے کہ اس کے تمام امور میں اللہ جل جلالہ کی کرم نوازیاں اور مہربانیاں شاملِ حال ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ جملہ مخلوق اسی کی رحمت سے مالا مال ہے تو وہ اپنے لیے امید و توقع کے جذبات پیدا کرے گا اور انتہائی عجزو انکسار کے ساتھ اپنے پروردگار سے مزید فیضانِ رحمت کی درخواست کرے گا اور اس سلسلے میں اپنے اچھے کلمات اور نیک اعمال کو وسیلہ بنائے گا۔یہ اس کے حقیقی مالک،اللہ تعالیٰ کے حضور ادب و احترام کی ایک اور صورت ہے،اس لیے کہ جس کی رحمت اس قدر وسیع ہے جو ہر ایک چیز پر حاوی ہے تو اس سے ناامید ہوکر اپنے آپ کو محروم تصور کرنا ادب نہیں ہوگا۔فرمانِ الٰہی ہے:﴿وَرَحْمَتِي وَسِعَتْ كُلَّ شَيْءٍ﴾’’اور میری رحمت نے ہر چیز کوگھیر رکھا ہے۔‘‘ [7] فرمانِ باری ہے:﴿اللّٰهُ لَطِيفٌ بِعِبَادِهِ﴾’’اللہ اپنے بندوں پر بہت مہربان ہے۔‘‘ [8] فرمانِ عالی ہے:﴿وَلَا تَيْأَسُوا مِن رَّوْحِ اللّٰهِ﴾’’اور اللہ کی رحمت سے ناامید نہ ہونا۔‘‘ [1] فرمانِ ربانی ہے:﴿لَا تَقْنَطُوا مِن رَّحْمَةِ اللّٰهِ﴾’’اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہونا۔‘‘ [2] اور اگر انسان اس طرف اپنی توجہ مبذول کر لے کہ اللہ کی پکڑ بڑی سخت ہے،اس کا انتقام بڑا شدید ہے اور وہ جلدی حساب لینے والا ہے تو ہربندئہ خدا اس کی اطاعت کے کاموں میں لگ جائے اور نافرمانی سے احتراز کرے تو یہی اس کی جناب میں ادب ملحوظ رکھنا قرار پائے گا کیونکہ ایک عاجز بندہ بے نوا اور غلام،قادرِ مطلق،غالب،طاقتور اور قاہر ذات کی نافرمانی کرے توکوئی بھی عقلمند اسے ادب و احترام کا نام نہیں دے گا۔ فرمانِ گرامی ہے:﴿وَإِذَا أَرَادَ اللّٰهُ بِقَوْمٍ سُوءًا فَلَا مَرَدَّ لَهُ ۚ وَمَا لَهُم مِّن دُونِهِ مِن وَالٍ﴾ ’’اور جب اللہ کسی قوم کے ساتھ برائی(عذاب)کا ارادہ کرے تو کوئی اسے ٹال نہیں سکتا اور نہ ہی اس کے سوا اس(قوم)کا کوئی حمایتی(ہوتا)ہے۔‘‘ [3] ارشادِ باری تعالیٰ ہے:﴿إِنَّ بَطْشَ رَبِّكَ لَشَدِيدٌ﴾’’بے شک تیرے رب کی پکڑ بڑی سخت ہے۔‘‘ [4] ارشادِ حق تعالیٰ ہے:﴿وَاللّٰهُ عَزِيزٌ ذُو انتِقَامٍ﴾’’اوراللہ غالب(اور)انتقام(لینے)والا ہے۔‘‘ [5] مسلمان اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کرنے اور اس کی اطاعت سے روگردانی کرنے کی صورت میں محسوس کرتا ہے کہ مالک کی وعید اسے پکڑ رہی ہے اور اس کا عذاب نازل ہوا چاہتا ہے جبکہ اطاعت گزاری و فرماں برداری کی صورت میں اللہ جل شانہ کے وعدے اسے پورے ہوتے نظر آتے ہیں اور اس کی رضا اسے لباس کی طرح حاوی محسوس ہوتی ہے تو یہ اس مسلمان کا اللہ کے بارے میں حسنِ ظن ہے اور یہی ادب و احترام کا ایک مقام ہے کیونکہ انسان بدظنی کا شکار ہو جائے تو مالک کی نافرمانی اور بغاوت کرتے ہوئے اس زعم میں مبتلا ہو جاتا ہے کہ وہ میری اس حالت پر غیر مطلع ہے اوروہ میرا مؤاخذہ نہیں کرے گا۔اللہ رب العزت کا ارشاد ہے:﴿وَلَـٰكِن ظَنَنتُمْ أَنَّ اللّٰهَ لَا يَعْلَمُ كَثِيرًا مِّمَّا تَعْمَلُونَ﴿٢٢﴾وَذَٰلِكُمْ ظَنُّكُمُ الَّذِي ظَنَنتُم بِرَبِّكُمْ أَرْدَاكُمْ فَأَصْبَحْتُم مِّنَ الْخَاسِرِينَ﴾ ’’اور لیکن تم یہ گمان کرتے تھے کہ اللہ تعالیٰ کو تمھاری بہت سی باتوں کی خبر ہی نہیں اور اسی خیال نے جو تم اپنے پروردگار کے بارے میں رکھتے تھے،تمھیں ہلاک کر دیا ہے،پس تم نقصان اٹھانے والوں میں سے ہو گئے۔‘‘ [6] اور یہ بھی اللہ جل جلالہ کی جناب میں ادب نہیں کہ انسان تقوٰی و اطاعت تو اختیار کرے مگر(اس کے اجر و ثواب کی نیت نہ کرے اور)یہ سمجھے کہ اللہ تعالیٰ اسے اچھے اعمال کا بدلہ نہیں دے گا اور نہ ہی اس کی اطاعت و عبادت قبول کرے گا۔ جبکہ باری تعالیٰ نے فرمایا:﴿وَمَن يُطِعِ اللّٰهَ وَرَسُولَهُ وَيَخْشَ اللّٰهَ وَيَتَّقْهِ فَأُولَـٰئِكَ هُمُ الْفَائِزُونَ﴾ ’’اور جو اللہ اور اس کے رسول(صلی اللہ علیہ وسلم)کی فرماں برداری کرتے ہیں اور اللہ سے ڈرتے ہیں اور اسی کا تقوٰی اختیار کرتے ہیں تو یہی لوگ کامیاب ہیں۔‘‘[1] نیز فرمایا:﴿مَنْ عَمِلَ صَالِحًا مِّن ذَكَرٍ أَوْ أُنثَىٰ وَهُوَ مُؤْمِنٌ فَلَنُحْيِيَنَّهُ حَيَاةً طَيِّبَةً ۖ وَلَنَجْزِيَنَّهُمْ أَجْرَهُم بِأَحْسَنِ مَا كَانُوا يَعْمَلُونَ﴾ ’’جو مرد و عورت حالتِ ایمان میں نیک عمل کرتے ہیں،ہم انھیں(دنیا میں)اچھی اور پاکیزہ زندگی سے زندہ رکھیں گے اور انھیں(قیامت کے دن)ان کے اچھے اعمال کا،جو وہ کرتے تھے،بہترین بدلہ دیں گے۔‘‘ [2] مزید فرمایا:﴿مَن جَاءَ بِالْحَسَنَةِ فَلَهُ عَشْرُ أَمْثَالِهَا ۖ وَمَن جَاءَ بِالسَّيِّئَةِ فَلَا يُجْزَىٰ إِلَّا مِثْلَهَا وَهُمْ لَا يُظْلَمُونَ﴾ ’’جو کوئی(اللہ کے حضور ایک)نیکی لے کر آئے گا،اسے ویسی دس نیکیاں ملیں گی اور جو(ایک)برائی لے کر آئے گا،اسے اس کی مثل(ایک ہی برائی کی)سزا ملے گی اور ان پر ظلم نہیں کیا جائے گا۔‘‘ [3] خلاصۂ کلام: یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا شکر ادا کرنا،نافرمانی کے اسباب پیدا ہونے کی صورت میں شرم و حیا کا احساس اجاگر کرنا،اللہ کی طرف پوری طرح متوجہ رہنا،اپنے معاملات کے نتائج اسی کے سپردکرنا،اس کی رحمت کی امید اور اس کی سزاو ناراضی کا خوف بیدار رکھنا،اس کے وعدوں کے ایفاء کا یقین کرنا اور گناہوں پر عذاب کے اترنے کا اندیشہ رکھنا،یہ سب اللہ سبحانہ و تعالیٰ کے ساتھ حسنِ ادب ہے اور اس میں جو شخص جتنے اچھے مقام پر فائز ہو گا وہ درجات کی اتنی ہی بلندی کا مستحق ٹھہرے گا۔ایسے انسان کے لیے اللہ جل شانہ کے ہاں عظیم مراتب اوراونچے درجات ہیں بلکہ وہ اللہ تعالیٰ کی ولایت و دوستی کا مستحق ہے،اس کی رحمت اور نعمت اس پر اترتی ہے اورمسلمان کی زندگی بھر کے مطلوب و مقصود میں یہی سب سے اونچا مقام ہے۔ اے مالک!ہمیں اپنی محبت اور دوستی عطا فرما،اپنی نگہداشت سے ہمیں محروم نہ کر اور اے ربِّ دو جہاں!ہمیں اپنے مقربین میں سے بنا لے۔آمین یا رب العالمین!