حقوق العباد
اولاد کے حقوق
اولاد کے بھی اپنے والد پر حقوق ہیں جن کی ادائیگی اس کے لیے ضروری ہے اور کچھ آداب ایسے ہیں کہ والد پر لازم ہے کہ وہ انھیں اولاد کے لیے ملحوظ رکھے،مثلاً:ان کی والدہ کا انتخاب اچھا کرے،بچے کا بہتر نام رکھے،ساتویں دن عقیقہ اور ختنہ کرے،اپنی اولاد کے ساتھ نرمی اور شفقت سے پیش آئے،ان کے لیے خرچ کرے،اچھی تربیت اور تادیب و تعلیم کا انتظام کرے،انھیں اسلامی احکام وفرائض کی ادائیگی اور سنن و آداب کے ملحوظ رکھنے کی مشق کرائے اور جب بالغ ہو جائیں تو ان کا نکاح کر دے اور پھر انھیں اختیار دے دے،چاہے باپ کے ساتھ رہیں،چاہے الگ سے اپنا گھر بسائیں۔کتاب و سنت کے مندرجہ ذیل دلائل ان احکام کی وضاحت کرتے ہیں:اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:﴿وَالْوَالِدَاتُ يُرْضِعْنَ أَوْلَادَهُنَّ حَوْلَيْنِ كَامِلَيْنِ ۖ لِمَنْ أَرَادَ أَن يُتِمَّ الرَّضَاعَةَ ۚ وَعَلَى الْمَوْلُودِ لَهُ رِزْقُهُنَّ وَكِسْوَتُهُنَّ بِالْمَعْرُوفِ﴾
’’اور مائیں اپنی اولاد کو پورے دو سال دودھ پلائیں(یہ حکم اس کے لیے ہے)جو پوری مدت دودھ پلانا چاہے اور باپ پر،ان(ماؤں)کو دستور کے مطابق روٹی اور کپڑا دینا ہے۔‘‘[4] نیز فرمایا:
﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا قُوا أَنفُسَكُمْ وَأَهْلِيكُمْ نَارًا وَقُودُهَا النَّاسُ وَالْحِجَارَةُ عَلَيْهَا مَلَائِكَةٌ غِلَاظٌ شِدَادٌ لَّا يَعْصُونَ اللّٰهَ مَا أَمَرَهُمْ وَيَفْعَلُونَ مَا يُؤْمَرُونَ﴾
’’اے ایمان والو!اپنے آپ اور اپنے گھر والوں کو آگ سے بچاؤ جس کا ایندھن انسان اور پتھر ہیں(اور)جس پر تندخو اور سخت مزاج فرشتے(مقرر)ہیں،اللہ انھیں جو حکم دیتا ہے،وہ اس کی نافرمانی نہیں کرتے اور جو انھیں حکم ملتا ہے،(فورًا)اس کی تعمیل کرتے ہیں۔‘‘[1]
اس آیت مبارکہ میں اپنے اہل کو آگ سے بچانے کا حکم ارشاد ہوا ہے جس کی تعمیل اللہ تعالیٰ کی اطاعت سے ہی ممکن ہے اور اس کا تقاضا یہ ہے کہ اللہ کی اطاعت کے کاموں کی معرفت حاصل کی جائے جو تعلیم کے بغیر ناممکن ہے۔اولاد بھی اہل میں داخل ہے،آیتِ کریمہ کی رو سے ان کی تعلیم و تربیت کرنا،نیک کاموں کی ترغیب دینا،اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے احکام بجا لانے پر انھیں آمادہ کرتے رہنا اور شوق دلانا،نیز گناہوں،نافرمانیوں،خرابیوں اور شرارتوں سے انھیں دور رکھنا ضروری ہے تاکہ انھیں عذاب جہنم سے بچایا جا سکے جبکہ اس سے پہلی آیت:﴿وَعَلَى الْمَوْلُودِ لَهُ ....﴾[2]
اس بات کی دلیل ہے کہ اولاد کا خرچ والد کے ذمہ ہے کیونکہ دودھ پلانے والی کو نفقہ(خرچ)اس لیے دیا جاتا ہے کہ وہ بچے کو دودھ پلاتی ہے۔حکم ربانی ہے:﴿وَلَا تَقْتُلُوا أَوْلَادَكُمْ خَشْيَةَ إِمْلَاقٍ ....﴾’’اور فقر کے ڈر سے اپنی اولاد کو قتل نہ کرو۔‘‘ [3]
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے جب سب سے بڑے گناہ کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا:
’أَنْ تَجْعَلَ لِلّٰہِ نِدًّا وَّ ہُوَ خَلَقَکَ،وَ أَنْ تَقْتُلَ وَلَدَکَ تَخَافُ أَنْ یَّطْعَمَ مَعَکَ،أََنْ تُزَانِيَ حَلِیلَۃَ جَارِکَ‘
’’یہ کہ تو کسی کو اللہ کا برابر اور شریک ٹھہرائے،حالانکہ اس نے تجھے پیدا کیا ہے،یہ کہ تو اس ڈر سے اپنی اولاد کو قتل کردے کہ وہ تیرے ساتھ کھائے گی،اور یہ کہ تو اپنے ہمسائے کی بیوی سے زنا کرے۔‘‘ [4]
قتل اولاد سے منع کرنے میں یہ امور خود بخود شامل ہوگئے ہیں کہ ان کے ساتھ شفقت اور نرمی کا برتاؤ کیا جائے اور ان کے جسم،عقل اور روح کی درستی اور حفاظت کی جائے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اولاد کے عقیقہ کے بارے میں فرمایا:((اَلْغُلَامُ مُرْتَہَنٌ بِعَقِیقَتِہٖ یُذْبَحُ عَنْہُ یَوْمَ السَّابِعِ وَ یُسَمّٰی وَ یُحْلَقُ رَأْسُہٗ))
’’لڑکا اپنے عقیقہ کے عوض گروی ہے جو ساتویں دن اس کی طرف سے ذبح کیا جائے گا،اور اس کا نام رکھا جائے گا اور سر کے بال اتارے جائیں گے۔‘‘ [1] نیز فرمایا:
’اَلْفِطْرَۃُ خَمْسٌ:اَلْخِتَانُ،وَالاِسْتِحْدَادُ،وَ قَصُّ الشَّارِبِ،وَ تَقْلِیمُ الْأَظْفَارِ،وَ نَتْفُ الإِْبِطِ‘
’’پانچ چیزیں فطرت میں داخل ہیں:ختنہ کرنا،زیر ناف بال صاف کرنا،مونچھیں کاٹنا،ناخن تراشنا اور بغل کے بال اکھاڑنا۔‘‘ [2]
مزید فرمایا:’أَکْرِمُوا أَوْلَادَکُمْ وَ أَحْسِنُوا أَدَبَہُمْ‘ ’’اپنی اولاد کی عزت کرو اور ان کے آداب بہتر بناؤ۔‘‘ [3]
ارشادِ عالی ہے:’سَوُّوا بَیْنَ أَوْلَادِکُمْ فِي الْعَطِیَّۃِ،فَلَوْ کُنْتُ مُفَضِّلًا أَحَدًا لَّفَضَّلْتُ النِّسَائَ‘
’’عطیہ دینے میں اپنی اولاد میں برابری کرو۔اگر میں(اولاد میں سے)کسی کو فضیلت دیتا تو عورتوں کو دیتا۔‘‘ [4]
مزید فرمایا:’مُرُوا أَوْلَادَکُمْ بِالصَّلَاۃِ وَ ہُمْ أَبْنَائُ سَبْعِ سِنِینَ،وَاضْرِبُوہُمْ عَلَیْہَا وَ ہُمْ أَبْنَائُ عَشْرِ سِنِیْنَ،وَ فَرِّقُوا بَیْنَہُمْ فِي الْمَضَاجِعِ‘
’’جب تمھارے بچے سات سال کے ہو جائیں تو انھیں نماز کا حکم دو اور اگر دس سال کے ہو جائیں تو انھیں نماز کے لیے مارو اور انھیں الگ الگ بستروں میں سلاؤ۔‘‘[5]
ایک حدیث میں والد پر اولاد کے حقوق کی بابت یہ بھی آیا ہے کہ وہ ان کی تربیت کرے اور اچھا نام رکھے۔[6]
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:والد پر اولاد کے حقوق میں یہ بھی ہے کہ انھیں لکھنا،پڑھنا اور تیر اندازی سکھائے اور انھیں صرف حلال خوراک مہیا کرے۔[7]
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا یہ مقولہ بھی ہے کہ نکاح کے لیے صالح خاندانوں کا انتخاب کرو،اس لیے کہ نسلوں کی خفیہ تاثیر ہوتی ہے۔[1]
ایک اعرابی اپنی اولاد پر احسان جتلاتے ہوئے کہتا ہے:میں نے تمھارے لیے تمھاری ماں کا بہتر انتخاب کیا تھا۔پھر یوں کہتا ہے:’وَ أَوَّلُ إِحْسَانِي إِلَیْکُمْ تَخَیُّرِي لِمَاجِدَۃِ الْأَعْرَاقِ بَادٍ عَفَافُہَا‘
’’میرا تم پر اولیں احسان یہ ہے کہ میں نے تمھارے لیے اچھی نسل کی عفیفہ،پاک دامن عورت کا چناؤ کیا ہے۔‘‘[2]