اللہ تعالیٰ کے اسماء اورصفات پر ایمان

قرآن وسنت اور آثارِ صحابہ رضی اللہ عنہم سے دلائل

ایک مسلمان اللہ تعالیٰ کے اچھے ناموں اور صفاتِ عالیہ کو تسلیم کرتا ہے اور ان میں کسی مخلوق کو شریک نہیں کرتا اور نہ ہی تاویل(۱)و تعطیل کرتا ہے اور مخلوق کے ساتھ اس کے اسماء وصفات کو تشبیہ دے کر ان کی کیفیت اور مثال بھی بیان نہیں کرتا بلکہ وہ جملہ صفات،جن کا اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اثبات کیا،اللہ تعالیٰ کے لیے ان کا اثبات کرتا ہے اور عیب ونقص کی جملہ صفات سے اسے مبرّا اور پاک قرار دیتا ہے۔اس پر عقلی و نقلی(قرآن و سنت اور آثارِ صحابہ سے منقول)دلائل موجود ہیں۔ قرآن وسنت اور آثارِ صحابہ رضی اللہ عنہم سے دلائل: 1: اللہ رب العزت نے اپنے نام اور صفات کا تذکرہ خود فرمایا ہے۔ارشادِ ربانی ہے:﴿وَلِلّٰهِ الْأَسْمَاءُ الْحُسْنَىٰ فَادْعُوهُ بِهَا ۖ وَذَرُوا الَّذِينَ يُلْحِدُونَ فِي أَسْمَائِهِ ۚ سَيُجْزَوْنَ مَا كَانُوا يَعْمَلُونَ﴾ 1. اس فصل میں آپ کو مختلف اصطلاحات ملیں گی۔یہاں آپ کی سہولت کے لیے ان کی مختصر تشریح کی جاتی ہے: ٭ تشبیہ:اللہ تعالیٰ کو اس کی مخلوق سے تشبیہ دینا۔یہ حرام ہے،کیونکہ اللہ تعالیٰ ہر قسم کی مشابہت سے پاک ہے۔ ٭ تکییف:اللہ تعالیٰ کی ہر صفت کی کوئی نہ کوئی کیفیت ضرور ہے مگر چونکہ اس نے کسی صفت کی کیفیت بیان نہیں کی،لہٰذا کسی صفت کی کیفیت سوچنا،پوچھنا یا بیان کرنا،تکییف میں داخل ہے اور چونکہ اس سے مشابہت کا دروازہ کھلتا ہے،لہٰذا یہ بھی حرام ہے۔ ٭ تمثیل:اللہ تعالیٰ کے لیے مخلوق جیسی مثالیں بیان کرنا،یہ بھی مشابہت کی وجہ سے حرام ہے۔ ٭ تجسیم:یہ عقیدہ رکھنا کہ اللہ تعالیٰ کا جسم ہے،یہ باطل عقیدہ ہے کیونکہ اس کی کوئی شرعی دلیل نہیں ہے۔اور یہ جو اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں اپنے ہاتھ کی خبر دی ہے تو اس سے مراد ہے کہ اللہ تعالیٰ کا ہاتھ ہے اور یہ اللہ تعالیٰ کی ایک صفت ہے،جس کی کیفیت ہم نہیں جانتے۔اسی طرح یہ جو کہا جاتا ہے ’’وجودِ باری تعالیٰ‘‘ تو اس سے بھی مراد جسم نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کا موجود ہونا مراد ہوتا ہے۔ ٭ تعطیل:کتاب و سنت میں وارد اللہ تعالیٰ کی صفات کا انکار کرنا تعطیل کہلاتا ہے،مثلاً:اللہ تعالیٰ کے لیے ہاتھ ہے،آنکھ ہے،عرش پر مستوی ہے،سننے والا،دیکھنے والا ہے،وغیرہ۔اس کا انکار کرنا تعطیل ہے اور یہ باطل عقیدہ ہے۔ ٭ تاویل:اسی تشبیہ کے خوف سے اللہ تعالیٰ کی کسی صفت کے ظاہری معنی چھوڑ دینا اور خود ساختہ معنی مراد لینا تاویل کہلاتا ہے۔یہ بھی حرام ہے،کیونکہ کسی ٹھوس دلیل اور وجہ کے بغیر ظاہری معنی چھوڑ دینا اصول کے خلاف ہے اور کتاب و سنت کے کسی لفظ کا خود ساختہ مفہوم متعین کرنا گناہ ہے۔باقی رہی تشبیہ تو وہ ظاہری معنی مراد لینے سے لازم نہیں آتی بلکہ تکییف سے لازم آتی ہے۔ ٭ تفویض:اللہ تعالیٰ کی صفات بیان کرنے کے لیے جو الفاظ کتاب و سنت میں وارد ہوئے ہیں ان الفاظ پر تو ایمان لانا مگر ان کے ظاہری معنی و مفہوم کے متعلق تجاہل عارفانہ سے کام لیتے ہوئے یہ عقیدہ رکھنا کہ اللہ ہی بہتر جانتا ہے کہ اس کے کیا معنی ہیں ؟ مثلاً:یہ کہنا:اللہ تعالیٰ ’’سمیع‘‘ ہے مگر اس کا معنی ’’خوب سننے والا‘‘ نہیں،اللہ تعالیٰ کے لیے یَدٌ،عَیْنٌ تو ہے لیکن اس (’’اور اللہ ہی کے لیے سب سے اچھے نام ہیں،لہٰذا ان کے ساتھ اس سے دعا کرو اور ان لوگوں کو چھوڑ دو جو اس کے ناموں میں کج روی اختیار کرتے ہیں۔عنقریب یہ لوگ اپنے اعمال کی سزا پائیں گے۔‘‘[1] نیز فرمانِ الٰہی ہے:﴿قُلِ ادْعُوا اللّٰهَ أَوِ ادْعُوا الرَّحْمَـٰنَ ۖ أَيًّا مَّا تَدْعُوا فَلَهُ الْأَسْمَاءُ الْحُسْنَ﴾ ’’کہہ دیجیے کہ اللہ کو پکارو یا رحمان کو،جس نام سے بھی پکارو،اس کے سب سے اچھے نام ہیں۔‘‘[2] اللہ تعالیٰ نے اپنے آپ کو ان صفات کے ساتھ موصوف فرمایا ہے:وہ سننے والا،دیکھنے والا،جاننے والا،حکمت والا،طاقتور اور غالب ہے،باریک بین اور باخبر ہے،قدردان اور حلم والا ہے،بخشنے والا اور مہربان ہے۔اس نے موسیٰ علیہ السلام سے کلام کیا ہے،وہ اپنے عرش پر مستوی ہے،اس نے آدم علیہ السلام کو اپنے ہاتھوں سے پیدا کیا ہے،وہ نیکی کرنے والوں سے محبت کرتا ہے،ایمان داروں سے راضی ہے اور ان کے علاوہ اس کی اور بھی بے شمار ذاتی و فعلی صفات ہیں،مثلاً:قیامت کے دن اس کا آنا اور ہر رات کے آخری حصے میں آسمانِ دنیا کی طرف نزول فرمانا۔یہ باتیں اس نے قرآنِ پاک میں ذکر فرمائی ہیں اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ان باتوں کو اپنی زبانِ مبارک سے ارشاد فرمایا ہے۔ 2: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی ہمیں اللہ سبحانہ و تعالیٰ کی صفات سے آگاہ فرمایا ہے۔جیساکہ صحیح احادیث میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: ((یَضْحَکُ اللّٰہُ إِلٰی رَجُلَیْنِ یَقْتُلُ أَحَدُہُمَا الْآخَرَ یَدْخُلَانِ الْجَنَّۃَ)) (کے کیا معنی ہیں ؟ یہ اللہ ہی بہتر جانتا ہے کہ اس لفظ سے اس کی کیا مراد ہے؟ یہ بھی غلط ہے۔کیونکہ سب اہلِ عرب جانتے ہیں کہ اس لفظ کا بدیہی اور ظاہری معنی’’خوب سننے والا‘‘ ہی ہے تو پھر اس معنی سے کیوں بھاگا جائے؟ اسی طرح یَدٌ اور عین کے معنی ہاتھ اور آنکھ ہے تو لازم ہے کہ اس کو مانا جائے۔ دراصل تفویض کی روش کسی صفت کے ظاہری معنی و مفہوم میں نہیں بلکہ اس کی کیفیت میں اپنانی چاہیے کہ فلاں صفت کے ظاہری معنی تو یہ ہیں جو ہم مانتے ہیں،البتہ اس کی کیفیت ہم نہیں جانتے،وہ اللہ کے سپرد ہے اور وہی بہتر جانتا ہے۔ ٭ اثبات:(۱)کسی چیز کے وجود کی خبر دینا۔ (۲)کتاب و سنت سے اللہ تعالیٰ کی کسی صفت کو ثابت کرنا اور (۳)اللہ کی صفات پر ایمان لانا۔ ٭ نفی:کسی چیز کو نہ ماننا(یہ اثبات کی ضد ہے)۔اس کا شرعی معنی ہے:اللہ تعالیٰ کی ہر صفت کو اس کے ظاہری اور حقیقی معنی کے ساتھ اسی طرح تسلیم کیا جائے گا جس طرح وہ کتاب و سنت میں وارد ہوئی ہے۔ ٭ إلحاد فی الأسماء:اللہ تعالیٰ کے ناموں یا صفات کی بابت کج روی سے کام لینا،مثلاً:اللہ تعالیٰ کے لیے خود ساختہ نام تجویز کرنا،قیاس آرائی سے کام لیتے ہوئے اس کی من گھڑت صفات بیان کرنا،اس کے ناموں سے مزید نام اخذ کرکے معبودانِ باطلہ کو ان سے موسوم کرنا۔اسی طرح تشبیہ و تمثیل،تعطیل و تاویل یا تفویض سے کام لینا بھی الحاد فی الاسماء ہی کی ایک شکل ہے۔واللہ اعلم۔(ع،ر) ’’اللہ تعالیٰ ان دوآدمیوں کو دیکھ کے ہنستا ہے،جن میں سے ایک دوسرے کو قتل کر دیتا ہے(پھر)دونوں جنت میں داخل ہوتے ہیں۔‘‘(قاتل بھی مسلمان ہو کر شہید ہو جاتا ہے۔)[1] ایک اور حدیث میں ہے:((لَا تَزَالُ جَھَنَّمُ یُلْقٰی فِیھَا وَ تَقُولُ:ھَلْ مِنْ مَّزِیدٍ؟ حَتّٰی یَضَعَ رَبُّ الْعِزَّۃِ فِیھَا قَدَمَہُ۔وَ فِي رِوَایَۃٍ۔رِجْلَہُ فَیَنْزَوِي بَعْضُھَا إِلٰی بَعْضٍ وَّ تَقُولُ:قَطْ قَطْ)) ’’جہنم میں لوگ برابر ڈالے جاتے رہیں گے اور وہ کہتی رہے گی:کیا ابھی اور بھی ہیں ؟ پھر اللہ رب العزت اس میں اپنا قدم مبارک اور ایک روایت میں ہے کہ پاؤں مبارک رکھے گا تو جہنم کے حصے ایک دوسرے کی طرف سمٹ آئیں گے اور جہنم کہے گی:بس بس!‘‘[2] ارشادِ نبوی ہے:((یَنْزِلُ رَبُّنَا تَـبَارَکَ وَتَعَالٰی کُلَّ لَیْلَۃٍ إِلَی السَّمَائِ الدُّنْیَا حِینَ یَبْقٰی ثُلُثُ اللَّیْلِ الآْخِرُ فَیَقُولُ:مَنْ یَّدْعُونِي؟ فَأَسْتَجِیبَ لَہُ،مَنْ یَّسْأَلُنِي؟ فَأُعْطِیَہُ،مَنْ یَّسْتَغْفِرُنِي؟ فَأَغْفِرَ لَہُ)) ’’ہمارا رب ہر رات آسمانِ دنیا پر جب رات کی آخری تہائی باقی ہوتی ہے،اتر کر فرماتا ہے:’’کون مجھ سے دعا مانگتا ہے کہ میں اس کی دعا قبول کروں ؟ کون مجھ سے سوال کرتا ہے کہ میں اسے عطا کروں ؟ کون مجھ سے مغفرت کی درخواست کرتا ہے کہ میں اسے بخش دوں ؟‘‘[3] نیز فرمایا:((اَللّٰہُ أَشَدُّ فَرَحًا بِتَوْبَۃِ عَبْدِہِ مِنَ الرَّجُلِ بِرَاحِلَتِہِ)) ’’اللہ تعالیٰ اپنے بندے کی توبہ پر اس مسافر سے بھی کہیں زیادہ خوش ہوتا ہے،جسے اپنی سواری(گم ہونے کے بعد)مل جاتی ہے۔‘‘[4] ایک لونڈی سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا:((أَیْنَ اللّٰہُ؟ قَالَتْ:فِي السَّمَائِ،قَالَ:مَنْ أَنَا؟ قَالَ:أَنْتَ رَسُولُ اللّٰہِ،قَالَ:أَعْتِقْہَا فَإِنَّہَا مُؤْمِنَۃٌ)) ’’اللہ تعالیٰ کہاں ہے؟‘‘ لونڈی نے کہا:آسمان پر۔پھر پوچھا:’’میں کون ہوں ؟‘‘ کہنے لگی:آپ اللہ کے رسول ہیں۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے(اپنے صحابی،لونڈی کے مالک سے)فرمایا:’’اسے آزاد کر دے،یہ ایماندار ہے۔‘‘[5] فرمانِ نبوی ہے:((یَقْبِضُ اللّٰہُ الْأَرْضَ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ وَ یَطْوِي السَّمَائَ بِیَمِینِہِ،ثُمَّ یَقُولُ:أَنَا الْمَلِکُ أَیْنَ مُلُوکُ الْأَرْضِ؟)) ’’اللہ تعالیٰ قیامت کے روز زمین اپنی مٹھی میں لے گا اور آسمانوں کو دائیں ہاتھ میں لپیٹ لے گا،پھر فرمائے گا:میں بادشاہ ہوں،زمین کے بادشاہ کہاں ہیں ؟‘‘ [1] 3:صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم،تابعین،ائمۂ اربعہ اور سلف صالحین رحمۃ اللہ علیہم بھی اللہ تعالیٰ کی تمام صفات کے بلا تاویل قائل تھے۔وہ نہ تو صفات کا انکار کرتے تھے اور نہ ہی ان کے ظاہری(حقیقی)معانی سے انحراف۔کسی صحابی ٔرسول سے ثابت نہیں ہے کہ اس نے کسی صفت کی تاویل کی ہویا انکار کیا ہو یا کہا ہو کہ اس کا ظاہری معنی مراد نہیں ہے۔بلکہ یہ سب ظاہری مفہوم کے مطابق ان کے معانی کی حقانیت کا یقین رکھتے تھے۔انھیں یہ بھی معلوم تھا کہ اللہ تعالیٰ کی صفات مخلوق کی صفات کی طرح نہیں ہیں۔ چنانچہ جب امام مالک رحمہ اللہ سے آیت:﴿الرَّحْمَـٰنُ عَلَى الْعَرْشِ اسْتَوَىٰ﴾ ’’رحمان عرش پر مستوی ہے۔‘‘ کے بارے میں استفسار ہوا تو انھوں نے کہا:’’استواء‘‘(کا ظاہری معنی)معلوم ہے،کیفیت مجہول ہے،اس پر ایمان لانا واجب ہے اور اس کے بارے میں سوال کرنا بدعت ہے۔‘‘[2] امام شافعی رحمہ اللہ فرمایا کرتے تھے:’’میں اللہ تعالیٰ پر اور جو کچھ اس کی طرف سے آیا ہے اس پر،اس کی مراد و منشا کے مطابق ایمان لایا،اسی طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پراور جو کچھ آپ کی طرف سے آیا ہے اس پر،آپ کی مراد اور منشا کے مطابق ایمان لایا۔‘‘ امام احمد رحمہ اللہ فرمایا کرتے تھے:’’اللہ تعالیٰ آسمانِ دنیا پر نزول فرماتا ہے،اللہ تعالیٰ قیامت کے دن نظر آ ئے گا،وہ تعجب کرتا ہے،وہ ہنستا ہے،وہ ناراض ہوتا ہے،وہ راضی ہوتا ہے،ناپسند کرتا ہے اور محبت کرتا ہے۔‘‘ امام صاحب یہ بھی کہا کرتے تھے:’’ہم حقیقت وکیفیت بیان کیے بغیر،ان سب صفات پر ایمان لاتے ہیں اور ان کی تصدیق کرتے ہیں۔یوں سمجھیں کہ ہم یقین رکھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نزول کرتا ہے،وہ عرش پر مستوی ہے اور مخلوق سے جدا ہے۔مگر ہم اس کے نزول،اس کی رؤیت اور اس کے استواء کی کیفیت نہیں جانتے اور نہ اس کا حقیقی مفہوم ومطلب ہی ہمارے علم میں ہے۔ہم اسے اللہ تعالیٰ کے سپرد کرتے ہیں جس نے یہ بات خود کہی ہے اور اپنے رسول(صلی اللہ علیہ وسلم)کی طرف وحی کی ہے اور ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تردید نہیں کرتے(بلکہ ان کی تصدیق کرتے ہیں)اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت شدہ ان صفات کے علاوہ ہم کسی(خود ساختہ)صفت کے قائل نہیں اور نہ ان صفات میں کسی حدبندی اور انتہا کے قائل ہیں۔ہم جانتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے مثل کوئی چیز نہیں اور وہ سننے اور دیکھنے والا ہے۔‘‘