خصائل فطرت کے آداب
خصائل فطرت کے آداب
مسلمان کا شیوہ یہ ہے کہ وہ کتاب وسنت کی روشنی میں زندگی بسر کرتا ہے اور ہمہ وقت تمام کاموں میں ان کے مطابق چلنے کی کوشش و کاوش میں لگا رہتا ہے۔اس لیے کہ ربِ کائنات کا حکم ہے:﴿وَمَا كَانَ لِمُؤْمِنٍ وَلَا مُؤْمِنَةٍ إِذَا قَضَى اللّٰهُ وَرَسُولُهُ أَمْرًا أَن يَكُونَ لَهُمُ الْخِيَرَةُ مِنْ أَمْرِهِمْ﴾
’’اورکسی مومن مرد اور مومن عورت کو اللہ اور اس کے رسول(صلی اللہ علیہ وسلم)کے فیصلے کے بعد اپنی بات میں کوئی اختیار نہیں رہتا۔‘‘ [3] ارشادِ ربانی ہے:﴿وَمَا آتَاكُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوهُ وَمَا نَهَاكُمْ عَنْهُ فَانتَهُوا﴾
’’جو رسول اللہ(صلی اللہ علیہ وسلم)تمھیں دیتے ہیں وہ لے لو اور جس سے منع کرتے ہیں اس سے رک جاؤ۔‘‘ [4]
اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:((لَا یُؤْمِنُ أَحَدُکُمْ حَتّٰی یَکُونَ ھَوَاہُ تَبَعًا لِّمَا جِئْتُ بِہِ))
’’تم میں کوئی اس وقت تک مومن نہیں ہو سکتا جب تک کہ اس کی خواہش میرے لائے ہوئے دین کے تابع نہ ہو جائے۔‘‘[5]
نیز فرمایا:’مَنْ عَمِلَ عَمَلًا لَّیْسَ عَلَیْہِ أَمْرُنَا فَھُوَ رَدٌّ‘’’جو شخص ایسا عمل کرے جس پر ہمارا حکم نہیں ہے تو وہ مردود ہے۔‘‘ [6]
لہٰذا خصائل فطرت کو اپنانا ہر مسلمان کی ذمہ داری ہے جس کی تفصیل آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس ارشادِ گرامی میں ہے:
((خَمْسٌ مِّنَ الْفِطْرَۃِ:اَلْاِسْتِحْدَادُ،وَالْخِتَانُ،وَقَصُّ الشَّارِبِ،وَنَتْفُ الإِْبِطِ،وَتَقْلِیمُ الْأَظْفَارِ))
’’پانچ(خصائل)فطرت میں سے ہیں،زیر ناف بال اتارنا،ختنہ کرنا،مونچھیں کاٹنا،بغل کے بال اکھیڑنا اور ناخن تراشنا۔‘‘[1]
خصائلِ فطرت کی تفصیل:
1: ختنہ:عضو مخصوص کے سرے پر موجود جھلی کا کاٹنا،بہتر یہ ہے کہ یہ کام پیدائش سے ساتویں دن کیا جائے،اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حسن اور حسین رضی اللہ عنہما کا ختنہ ساتویں دن کیا تھا۔[2]
اگر تاخیر ہو جائے اور بالغ ہونے سے پہلے ختنہ کر لیا جائے تو بھی کوئی حرج نہیں ہے،اور اگر پھر بھی رہ جائے تو بلوغت کے بعد ہی کر لیا جائے کیونکہ ابراہیم علیہ السلام نے 80 سال کی عمر میں ختنہ کیا تھا۔[3]
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ہے کہ آپ ہر اسلام قبول کرنے والے شخص کو حکم فرماتے:
’أَلْقِ عَنْکَ شَعْرَ الْکُفْرِ وَاخْتَتِنْ‘ ’’وقتِ کفر کے بال اتار دے اور ختنہ کرالے۔‘‘ [4]
2: اوپر کے ہونٹ سے مونچھیں صاف کرے،البتہ داڑھی بڑھائے جس سے چہرہ بھر جائے اور خوبصورتی پیدا ہو۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:’جُزُّوا الشَّوَارِبَ وَأَرْخُوا اللِّحٰی،خَالِفُوا الْمَجُوسَ‘
’’مونچھیں کاٹو اور داڑھی بڑھاؤ اور مجوسیوں کی مخالفت کرو۔‘‘ [5]
نیز فرمایا:((خَالِفُوا الْمُشْرِکِینَ،أَحْفُوا الشَّوَارِبَ وَأَوْفُوا اللِّحٰی))’’مشرکین کی مخالفت کرو،مونچھیں خوب پست کرو اور داڑھی بڑھاؤ۔‘‘ [6] بنا بریں داڑھی منڈوانا حرام ہے
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سر کے کچھ حصے کو مونڈنے اور کچھ کے چھوڑنے سے بھی منع فرمایا ہے۔جیسا کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے:’نَھٰی رَسُولُ اللّٰہِ صلی اللّٰه علیہ وسلم عَنِ الْقَزَعِ‘’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سر کے بعض حصے کو مونڈنے اور بعض کو چھوڑنے سے منع فرمایا ہے۔‘‘ [7]
داڑھی کو سیاہ رنگ سے نہ رنگے کیونکہ فتح مکہ کے دن جب ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے والدکو لایا گیا تو ان کے سر کے بال انتہائی سفید تھے۔آپ نے فرمایا:’’ اس کا سر رنگ دو،اور سیاہ رنگ سے اجتناب کرو۔[1]
البتہ مہندی اور کتم(ایک بوٹی جسے مہندی میں ملایا جائے تو اس کا رنگ سیاہی مائل ہو جاتا ہے)سے داڑھی رنگنا مستحسن ہے۔[2] اگر سر کے بال بڑھانے کا ارادہ ہو تو کنگھی اور تیل سے انھیں درست رکھے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:’مَنْ کَانَ لَہُ شَعْرٌ فَلْیُکْرِمْہُ‘ ’’جس کے بال ہوں،وہ ان کی تکریم کرے۔‘‘ [3]
4: بغل کے بال اکھیڑے۔اگر بال ہاتھ سے نہ اکھیڑ سکے تو مونڈ لے یا کسی پاؤڈر کے ذریعہ سے صاف کر لے۔
5: ناخن کاٹے اور اس میں مستحب یہ ہے کہ پہلے دائیں ہاتھ کے ناخن اتارے،پھر بائیں کے۔اسی طرح پہلے دائیں پاؤں کے ناخن اتارے اور پھر بائیں کے کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایسے کام دائیں طرف سے ہی شروع کرتے تھے۔[4]
یاد رہے کہ ان تمام کاموں میں مسلمان کی نیت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتدا اور اتباع کی ہونی چاہیے تاکہ متابعت کا ثواب ملے اور آپ کی سنت کی پیروی ہو۔فرمانِ نبوی ہے:’إِنَّمَا الْأَعْمَالُ بِالنِّیَّاتِ،وَإِنَّمَا لِکُلِّ امْرِیئٍ مَّا نَوٰی‘’’اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے اور ہر انسان کو اس کی نیت ہی کا پھل ملتا ہے۔‘‘ [5]