حسنِ خلق

حسنِ خلق

عادت،انسانی نفس میں ایک راسخ کیفیت کا نام ہے۔اس سے اختیاری،اچھے یا برے کام سرزد ہوتے رہتے ہیں اور طبعی طور پر اس میں اچھی یا بری تربیت کا اثر ہوتا ہے۔اگر اس میں حق،نیکی،خیر اور خوبی کو ترجیح دینا اور اپنانا شامل کر دیا جائے اور یہ کام انسان کی طبیعت بن جائیں تو اچھے کام آسانی سے اور بغیر کسی تکلف ومشقت کے ہو جاتے ہیں۔یہی افعال حسنہ جو بلاتکلف ومشقت ہوتے رہتے ہیں،اخلاق حسنہ کہلاتے ہیں،مثلاً:حلم،حوصلہ،صبر،تحمل،بردباری،شجاعت و سخاوت اور عدل واحسان وغیرہ اور اسی طرح اخلاق فاضلہ،کمالات نفسانیہ اور دیگر اچھی عادات بھی اخلاقِ حسنہ میں شامل ہیں۔ اس کے برعکس اگر انسانی نفس کی مناسب تربیت وتہذیب نہ کی جائے اور اس میں پوشیدہ بھلائی کے عناصر کو اجاگر نہ کیا جائے،اس کی تربیت بری ہو جائے اور اسے قبیح چیز محبوب اور جمیل چیز ناپسند محسوس ہونے لگے اور پھر گھٹیا اور ناقص اقوال وافعال بلا تکلف اور بغیر مشقت کے اس سے صادر ہونے لگیں تو یہ بری عادات کہلاتی ہیں اور یہ اقوال وافعال جو اس سے صادر ہوئے،اخلاق سیئہ کہلاتے ہیں،مثلاً:خیانت،جھوٹ،بے صبری،لالچ،زیادتی،سختی،فحش گوئی وغیرہ۔اسلام نے اچھی عادات اپنانے اور مسلمانوں میں ان کی تربیت بڑھانے کا حکم دیا ہے،نیز بندے کے ذاتی فضائل اور اخلاق حسنہ کو اس کے ایمان واسلام کے اعتبار میں لازم ٹھہرایا ہے،مثلاً:اللہ رب العزت نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حسنِ خلق کی تعریف کرتے ہوئے فرمایا:﴿وَإِنَّكَ لَعَلَىٰ خُلُقٍ عَظِيمٍ﴾’’اور یقینا تو بڑے اخلاق پر فائز ہے۔‘‘[1] اور آپ کو اچھے اخلاق وعادات کا حکم دیتے ہوئے فرمایا: ﴿ادْفَعْ بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ فَإِذَا الَّذِي بَيْنَكَ وَبَيْنَهُ عَدَاوَةٌ كَأَنَّهُ وَلِيٌّ حَمِيمٌ﴾’’بہترین طریقہ سے مدافعت کر،پھر(تو دیکھے گا کہ وہ شخص)جس کے اور تیرے درمیان عداوت ہے،گویا وہ(بھی تیرا)جگری دوست(بن گیا)ہے۔‘‘[2] نیز اچھی عادات کو حصول جنت کا سبب قرار دیتے ہوئے فرمایا: ﴿وَسَارِعُوا إِلَىٰ مَغْفِرَةٍ مِّن رَّبِّكُمْ وَجَنَّةٍ عَرْضُهَا السَّمَاوَاتُ وَالْأَرْضُ أُعِدَّتْ لِلْمُتَّقِينَ﴿١٣٣﴾الَّذِينَ يُنفِقُونَ فِي السَّرَّاءِ وَالضَّرَّاءِ وَالْكَاظِمِينَ الْغَيْظَ وَالْعَافِينَ عَنِ النَّاسِ ۗ وَاللّٰهُ يُحِبُّ الْمُحْسِنِينَ﴾’’اور اپنے رب کی مغفرت اور بہشت،جس کی چوڑائی آسمانوں اور زمین جتنی ہے،کی طرف تیزی سے چلو،یہ پرہیزگاروں کے لیے تیار کی گئی ہے،جو خوشی اور تنگی میں خرچ کرتے ہیں اور غصے کو روکتے اور لوگوں کو معاف کرتے ہیں۔اور اللہ نیکی کرنے والوں کو پسند کرتا ہے۔‘‘[1] اللہ تعالیٰ نے انھی اخلاق فاضلہ کی تکمیل کے لیے اپنا رسول مبعوث فرمایا۔جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے: ’إِنَّمَا بُعِثْتُ لِأُتَمِّمَ مَکَارِمَ الْأَخْلَاقِ‘ ’’میں اخلاق کریمہ کی تکمیل کے لیے مبعوث ہوا ہوں۔‘‘[2] رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ارشادات عالیہ میں محاسن اخلاق کی فضیلت واہمیت بیان کرتے ہوئے فرمایا: ’مَا مِنْ شَيْئٍ أَثْقَلُ فِي الْمِیزَانِ مِنْ حُسْنِ الْخُلُقِ‘’’میزان میں اچھے اخلاق سے زیادہ کوئی چیز بھاری نہیں ہے۔‘‘[3] اور فرمایا:’اَلْبِرُّ حُسْنُ الْخُلُقِ‘ ’’نیکی اچھے اخلاق(کا نام)ہے۔‘‘[4] مزید فرمایا:’أَکْمَلُ الْمُؤْمِنِینَ إِیمَانًا أَحْسَنُھُمْ خُلُقًا‘ ’’مومنوں میں،کامل ایمان والے وہ لوگ ہیں جو اخلاق میں سب سے اچھے ہیں۔‘‘[5] نیز فرمایا:’إِنَّ مِنْ أَحَبِّکُمْ إِلَيَّ أَحْسَنَکُمْ أَخْلَاقًا‘ ’’بے شک تم میں سے وہ لوگ مجھے سب سے زیادہ محبوب ہیں جو اخلاق میں سب سے اچھے ہیں۔‘‘[6] رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا کہ سب سے زیادہ کون سا عمل بہشت میں جانے کا سبب بنے گا؟ تو آپ نے فرمایا: ’تَقْوَی اللّٰہِ وَحُسْنُ الْخُلُقِ‘ ’’اللہ کا ڈر اور اچھی عادت۔‘‘[7] ارشاد نبوی ہے: ’إِنَّ الْعَبْدَ لَیَبْلُغُ بِحُسْنِ خُلُقِہِ عَظِیمَ دَرَجَاتِ الْآخِرَۃِ وَشَرَفَ الْمَنَازِلِ،وَإِنَّہُ لَضَعِیفُ الْعِبَادَۃِ‘ ’’بے شک بندہ اچھے اخلاق کے ذریعے سے آخرت کے درجات عالیہ اور اونچے مراتب حاصل کر لیتا ہے،حالانکہ وہ عبادت میں کمزور ہے۔‘‘[1] حسنِ خلق کے بارے میں برزگان سلف کی آراء: حسن بصری رحمہ اللہ کہتے ہیں:’’خندہ پیشانی،سخاوت اور کسی کو ایذا نہ دینا حسن خلق ہے:۔‘‘عبد اللہ بن مبارک رحمہ اللہ کی رائے میں تین صفات کا نام حسن خلق ہے:’’حرام کاموں سے اجتناب،حلال کی تلاش اور عیال کے لیے خرچ وخوراک میں فراخی:۔‘‘ایک اور صاحب کا مقولہ ہے:’’اچھا خلق لوگوں کے قریب رہنا اور ان کے اموال سے دور رہنا ہے:۔‘‘ایک اور صاحب کا فرمان ہے:’’کسی کو ایذا نہ دینا اور مومن کی ضروریات میں اس کا ساتھ دینا،اچھی عادت ہے:۔‘‘ایک اور بزرگ فرماتے ہیں:’’تو اللہ کے سوا کسی اور کو اپنا مقصود و مطلوب بنانا ترک کر دے،یہی بہترین خصلت ہے۔‘‘ دراصل یہ سب باتیں حسن خلق کی جزوی تعریف ہیں،اس کی اصل تعریف وہی ہے جو ہم پہلے بیان کر آئے ہیں۔ اچھے اخلاق کے مالک کی جو صفات عام طور پر بیان کی جاتی ہیں وہ یہ ہیں: وہ حیا دار ہو،ایذا نہ دینے والا ہو،انتہائی نیک،سچا،کم گفتار،بہت عمل والاہو،جس کی لغزشیں کم ہوں،بے فائدہ کام نہ کرے،تعلقات جوڑنے والا،عزت و وقار کا مالک،صابر،قدر دان،راضی بہ رضا رہنے والا،حلیم الطبع،وفادار،خود کو رذائل سے بچانے والا،لعنت نہ کرنے والاہو،جو گالی گلوچ نہ کرے،چغل خوری نہ کرے،غیبت نہ کرے،عجلت پسند نہ ہو،کینہ وبغض نہ رکھے،بخیل نہ ہو،حسد نہ کرے،ہشاش بشاش رہنے والا ہو،اس کی محبت وبغض اور خوشی وناراضی محض اللہ کے لیے ہو۔ یہ تعریف بھی جزوی صفات کی حامل ہے،آئندہ اوراق میں ہم حسن خلق کی صفات کا الگ الگ تذکرہ کریں گے۔ان صفات عظیمہ کے مجموعہ سے’’حسن خلق‘‘کے اجزاء ترتیب پائیں گے اور اچھے اخلاق کے مالک کا ایک صفاتی تعین ہوسکے گا۔(ان شاء اللہ تعالیٰ)