حسنِ خلق

ایثار وقربانی اور نیکی سے پیار

مسلمان کے اخلاق میں اور جو فیوض و برکات اس نے دینی تعلیمات اور محاسنِ اسلام سے حاصل کی ہیں،ان میں ایثار اور دوسروں سے محبت کرنا بھی شامل ہے،چنانچہ جب بھی وہ ایثار کا موقع محل پاتا ہے تو اپنے اوپر دوسرے کو فوقیت دیتا ہے،خود بھوکا رہتا ہے مگر دوسرے کو پیٹ بھر کر کھلاتا ہے،خود پیاسا رہتا ہے مگر ساتھی کی پیاس بجھاتا ہے بلکہ وہ تو دوسروں کی زندگی کے لیے اپنی جان قربان کرنے کا جذبہ بھی رکھتا ہے۔ایثار کا یہ جذبہ کسی ایسے فرد کے لیے قطعًا کوئی عجیب و غریب بات نہیں ہے جو بہترین صفات سے متصف اور اچھائی اور فضل و ایثار کی محبت سے سرشار ہو۔ یہ اللہ کا رنگ ہے اور اس کے رنگ سے کس کا رنگ بہتر ہو سکتا ہے۔مومن ایثار ومحبت کی اس بھلائی میں سلف صالحین رحمۃ اللہ علیہم کے نقش قدم پر چلتا ہے،جن کی تعریف میں اللہ سبحانہ و تعالیٰ فرماتا ہے:﴿وَيُؤْثِرُونَ عَلَىٰ أَنفُسِهِمْ وَلَوْ كَانَ بِهِمْ خَصَاصَةٌ ۚ وَمَن يُوقَ شُحَّ نَفْسِهِ فَأُولَـٰئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ﴾ ’’اور وہ اپنے آپ پر(دوسروں کو)ترجیح دیتے ہیں،خواہ انھیں خود احتیاج ہی ہو اور جو نفس کی کنجوسی سے بچالیے گئے،وہی کامیاب ہیں۔‘‘[1] مسلمان کے جملہ اخلاق فاضلہ اور تمام صفات حسنہ،قابل تعریف حکمت محمدی کے چشمہ ٔ صافی سے ماخوذ ہیں یا رحمت الٰہی سے فیضان سے الہام شدہ۔نبی ٔکریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے: ’لَا یُؤْمِنُ أَحَدُکُمْ حَتّٰی یُحِبَّ لِأَخِیہِ مَا یُحِبُّ لِنَفْسِہٖ‘ ’’کوئی شخص مومن نہیں ہو سکتا یہاں تک کہ اپنے بھائی کے لیے بھی وہی پسند کرے جو وہ اپنے لیے پسند کرتا ہے۔‘‘[2] اس ہدایت پر عمل کرنے سے مسلمان کی عادات میں رفعت وعظمت اور بلندی حاصل ہوتی ہے۔ارشاد ربانی ہے: ﴿وَيُؤْثِرُونَ عَلَىٰ أَنفُسِهِمْ وَلَوْ كَانَ بِهِمْ خَصَاصَةٌ ۚ وَمَن يُوقَ شُحَّ نَفْسِهِ فَأُولَـٰئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ﴾ ’’اوروہ اپنے آپ پر(دوسروں کو)ترجیح دیتے ہیں،چاہے خود محتاج ہوں اور جو نفس کی کنجوسی سے بچالیاگیا وہی کامیاب ہے۔‘‘[3] اس آیت کا ماننے والا اپنے نفس،اہل اور اولاد پر دوسرے مستحق لوگوں کو فوقیت دے گا۔اور اس ایثار میں وہ بڑھتا ہی رہے گا۔ دراصل ایک سچے مسلمان کی پوری زندگی اللہ کے تعلق میں بسر ہوتی ہے،اس کی زبان ہمیشہ اس کے ذکر سے تروتازہ رہتی ہے اور دل اس کی محبت میں سرشار۔اگر وہ مظاہر قدرت پر نظر دوڑاتا ہے تو عبرت پکڑتا ہے اور اگر سورۂ مزمل اور فاطر کی مندرجہ ذیل آیات کے معانی پر غور وفکر کرتا ہے تو دنیا کو حقیر اور معیوب جانتا ہے اور اسے آخرت ہی کی فکر دامن گیر رہتی ہے۔ایسا انسان مال کی سخاوت میں خوشی کیوں نہیں محسوس کرے گا اور خیر کے جذبہ میں بڑھ چڑھ کر حصہ کیوں نہیں لے گا جبکہ وہ جانتا ہے کہ ہم جو کچھ آج کر رہے ہیں،کل آخرت میں ہمیں بہتر انداز میں مل جائے گا۔ارشاد ربانی ہے:﴿وَمَا تُقَدِّمُوا لِأَنفُسِكُم مِّنْ خَيْرٍ تَجِدُوهُ عِندَ اللّٰهِ هُوَ خَيْرًا﴾ ’’اور تم جو بھی اپنے لیے اچھا کام کرتے ہو،اللہ کے پاس اسے،اس سے بہتر اور اجر میں زیادہ پاؤ گے۔‘‘[1] ارشاد عالی ہے:﴿وَأَنفَقُوا مِمَّا رَزَقْنَاهُمْ سِرًّا وَعَلَانِيَةً يَرْجُونَ تِجَارَةً لَّن تَبُورَ﴿٢٩﴾لِيُوَفِّيَهُمْ أُجُورَهُمْ وَيَزِيدَهُم مِّن فَضْلِهِ ۚ إِنَّهُ غَفُورٌ شَكُورٌ﴾ ’’اور جو کچھ ہم نے انھیں دیا ہے،وہ اس میں سے پوشیدہ اور ظاہر(دونوں طرح)خرچ کرتے ہیں،وہ ایک ایسی تجارت کے امیدوار ہیں جو کبھی تباہ نہیں ہو گی تاکہ وہ(اللہ)ان کو ان کے پورے پورے صلے دے اور اپنا مزید فضل عطا کرے۔یقینا وہ بخشنے والا،قدر دان ہے۔‘‘[2] اب ہم ایثار،بھلائی اور محبت کے پانچ واقعات کا ذکر کرتے ہیں تاکہ عقل وفہم والے انسان ان سے راہنمائی حاصل کریں: ایثار و بھلائی کی عملی مثالیں: 1:’’دار الندوہ‘‘میں قریش کی پارلیمینٹ کا اجلاس ہوا۔ابومرہ ملعون نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قتل کی ایک رائے پیش کی جسے مجلس نے بالاتفاق منظور کیا اور اس پر عملدرآمد کے لیے آپ کے گھر پر اچانک حملہ کرنے کا فیصلہ کر لیاتواللہ رب کریم نے پیغمبر اعظم صلی اللہ علیہ وسلم کو ہجرت کی اجازت دے دی اور آپ نے اس کے لیے تیاری شروع کر دی،طے یہ ہوا کہ حملہ آوروں کے حملوں کو جنھوں نے مکان سے نکلتے وقت آپ پر جھپٹنا تھا،ناکام بنایا جائے اور آپ کے بستر پر ایک نوجوان سو جائے تاکہ دشمن سمجھے کہ آپ ابھی سوئے ہوئے ہیں۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے چچیرے بھائی علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کو اس ایثار وقربانی کے قابل پایا،چنانچہ آپ نے انھیں حکم دیا کہ آج رات میرے بستر پر تم نے سونا ہے۔علی رضی اللہ عنہ بلا تردد اس پر آمادہ ہو گئے،جبکہ یہ بھی امکان تھا کہ بوکھلایا ہوا دشمن جھپٹ پڑے اور تکا بوٹی کر دے۔نوعمری کے باوجود علی رضی اللہ عنہ نے سخاوت نفس کی ایک اعلیٰ مثال پیش کی۔[3] اس سے یہ ثابت ہوا کہ ایک سچا مسلمان اس انداز کی قربانی پیش کرنے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے اپنی جان کی بازی لگانے کے لیے ہر وقت تیار رہتا ہے۔ 2: صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک مہمان کو ایک انصاری صحابی رضی اللہ عنہ کھانا کھلانے کے لیے لے گئے،اس کے آگے کھانا رکھا،بیوی کو کہہ کر کسی بہانے سے چراغ گل کرا دیا اور خود کھانا کھانے کے انداز سے ہاتھ بڑھاتے رہے اور کھایا نہیں،مہمان سیر ہو گیا،صبح ہوئی تو اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے اس ایثار ومحبت کی اطلاع رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دی اور آیت مبارکہ نازل ہوئی۔﴿وَيُؤْثِرُونَ عَلَىٰ أَنفُسِهِمْ وَلَوْ كَانَ بِهِمْ خَصَاصَةٌ﴾ ’’اور وہ اپنے آپ پر(دوسروں کو)ترجیح دیتے ہیں،چاہے خود محتاج ہوں۔‘‘[1] 3: حذیفہ عدوی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جنگ یرموک کے موقع پر میں اپنے چچیرے بھائی کی تلاش میں زخمیوں کو دیکھ رہا تھا۔میرے پاس کچھ پانی تھا اور میں کہہ رہا تھا کہ اگراس میں زندگی کی کچھ رمق باقی ہوئی تو میں اسے پلادوں گا اور اس سے اس کا چہرہ صاف کردوں گا،چنانچہ وہ مجھے مل گیا،میں نے اس سے پانی کا پوچھا تو اس نے اثبات میں سرہلایا کہ اچانک دوسری طرف سے ایک اور زخمی کے کراہنے کی آواز آئی تو اس نے مجھ سے اس کی طرف جانے کا کہا،اس کے پاس پہنچا تو دیکھا کہ وہ ہشام بن عاص رضی اللہ عنہ ہیں۔انھیں پانی پیش کر رہا تھا کہ کسی اور طرف سے کراہنے کی آواز آئی ہشام بن عاص رضی اللہ عنہ نے اس کی طرف جانے کا اشارہ دیا۔میں ادھر گیا تو وہ مجاہد فوت ہو چکا تھا،پھر ہشام رضی اللہ عنہ کی طرف پلٹا تو وہ بھی فوت ہوگئے تھے اور آخر میں اپنے چچیرے بھائی کے پاس آیا تو وہ بھی اللہ کو پیارے ہو چکے تھے۔[2] ان تینوں شہداء نے ایثار وقربانی کی اعلیٰ مثال پیش کی ہے اور مسلمان کی تو ساری زندگی اس انداز سے گزرتی ہے۔ 4: مروی ہے کہ ابو الحسن الانطاکی رحمہ اللہ کے پاس تیس سے زائد آدمی جمع تھے اور ان کے پاس کھانے کے لیے چند روٹیاں تھیں،جو ان کے لیے کافی نہیں تھیں،انھوں نے روٹیوں کو ٹکڑے ٹکڑے کیا اور چراغ بجھا دیا اور پھر کھانے کے لیے بیٹھ گئے،دستر خوان اٹھایا گیا تو پتہ چلا کہ ساری روٹیاں اسی طرح موجود ہیں،اس لیے کہ کسی نے بھی وہ روٹیاں نہیں کھائیں ہر ایک کی یہ تمنا تھی کہ دوسرا کھالے گا۔بھوک میں مبتلا ہر مسلمان واقعی ایثار اور حب خیرکی یہی مثال پیش کرتا ہے۔[3] 5: منقول ہے کہ بشر بن حارث رحمہ اللہ کے پاس ایک شخص آیا،جبکہ وہ بیمار تھے اس شخص نے اپنی ضرورت کا اظہار کیا۔بشر رحمہ اللہ نے اپنی قمیض اتار کر اسے دے دی اور خود عاریتاً ایک قمیض منگوائی اور اس میں وہ فوت ہوئے۔[4] یہ پانچ واقعات مسلمان کے جذبۂ ایثار اورحب خیرکی پوری عکاسی کرتے ہیں۔ہم نے اس لیے ان کا تذکرہ کیا ہے تاکہ عام لوگ نیکی سے محبت اور قربانی کے جذبہ سے معمور ہو کر اعلیٰ،مثالی اور اسلامی زندگی کا نمونہ پیش کریں،اس لیے کہ وہ ہر چیز سے پہلے مسلمان ہیں۔