حسنِ خلق
سچائی
مسلمان سچا اور سچائی پسند ہوتا ہے،اپنے اقوال وافعال میں صداقت کا التزام کرتا ہے،اس لیے کہ سچائی نیکی کا راستہ دکھاتی ہے اور نیکی جنت میں لے جاتی ہے اور جنت تو مسلمان کی سب سے بڑی مراد اور عظیم تمنا ہے،جبکہ جھوٹ سچائی کی ضد ہے اور گناہ کی دعوت دیتا ہے اور گناہ جہنم میں پہنچاتا ہے اور جہنم ایک ایسا شر ہے جس سے مسلمان بہت ڈرتا اور ہمیشہ اس سے بچنے کی کوشش کرتا ہے۔
مسلمان صدق و سچائی محض ایک عادت کے طور پر نہیں اپناتا بلکہ یہ سمجھتا ہے کہ اس طرح ایمان واسلام کی تکمیل ہوگی،اس لیے کہ اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے صدق کا حکم دیا ہے اور اس صفت کے حامل لوگوں کی تعریف کی ہے اور اسی طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی سچائی کا حکم دیا،ترغیب دلائی اور اس کی دعوت دی ہے۔اللہ جل جلالہ کا ارشاد ہے:
﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللّٰهَ وَكُونُوا مَعَ الصَّادِقِينَ﴾’’اے ایمان والو!اللہ سے ڈرو اور سچ والوں کا ساتھ دو۔‘‘[1]
سچے لوگوں کی تعریف میں فرمایا:﴿مِّنَ الْمُؤْمِنِينَ رِجَالٌ صَدَقُوا مَا عَاهَدُوا اللّٰهَ عَلَيْهِ﴾
’’مومنوں میں کتنے ایسے اشخاص ہیں جنھوں نے جو اللہ کے ساتھ عہد کیا تھا،سچ کر دکھایا۔‘‘[2]
نیز ارشاد ربانی ہے:﴿وَالصَّادِقِينَ وَالصَّادِقَاتِ﴾’’سچ بولنے والے مرد اور سچ بولنے والی عورتیں۔‘‘[3]
اور فرمان الٰہی ہے:﴿وَالَّذِي جَاءَ بِالصِّدْقِ وَصَدَّقَ بِهِ ۙ أُولَـٰئِكَ هُمُ الْمُتَّقُونَ﴾
’’اور جو شخص سچائی لایا اور جنھوں نے اس کی تصدیق کی،یہی لوگ پرہیزگار ہیں۔‘‘[4] نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
((عَلَیْکُمْ بِالصِّدْقِ،فَإِنَّ الصِّدْقَ یَھْدِي إِلَی الْبِرِّ،وَإِنَّ الْبِرَّ یَھْدِي إِلَی الْجَنَّۃِ،وَمَا یزَالُ الرَّجُلُ یَصْدُقُ وَیَتَحَرَّی الصِّدْقَ حَتّٰی یُکْتَبَ عِنْدَ اللّٰہِ صِدِّیقًا،وَإِیَّاکُمْ وَالْکَذِبَ،فَإِنَّ الْکَذِبَ یَھْدِي إِلَی الْفُجُورِ،وَإِنَّ الْفُجُورَ یَھْدِي إِلَی النَّارِ،وَمَا یَزَالُ الرَّجُلُ یَکْذِبُ وَیَتَحَرَّی الْکَذِبَ حَتّٰی یُکْتَبَ عِنْدَ اللّٰہِ کَذَّابًا))
’’سچائی اختیار کرو۔سچائی نیکی کا راستہ دکھاتی ہے اور نیکی بہشت میں لے جاتی ہے اور انسان برابر سچ بولتا اور سچائی تلاش کرتا رہتا ہے یہاں تک کہ اللہ کے ہاں سچا لکھ دیا جاتا ہے اور جھوٹ سے بچو،جھوٹ گناہ کی طرف لے جاتا ہے اور گناہ جہنم میں لے جاتا ہے اور انسان ہمیشہ جھوٹ بولتا اور جھوٹ تلاش کرتا رہتا ہے یہاں تک کہ اللہ کے ہاں کذاب(بہت جھوٹ بولنے والا)لکھ دیا جاتا ہے۔‘‘[5]
سچائی کے ثمرات:
سچائی کے بہت اچھے ثمرات ہیں جو سچے لوگوں کو حاصل ہوتے ہیں۔ان میں چند ایک مندرجہ ذیل ہیں:
1: اس سے ضمیر کو راحت ملتی ہے اور دل مطمئن ہوتا ہے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:’فَإِنَّ الصِّدْقَ اطْمَأْنِینَۃٌ‘ ’’سچائی اطمینان انگیز ہے۔‘‘[6]
2: سچ کے نتیجے میں کمائی میں برکت اور نیکی میں اضافہ ہوتا ہے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
((اَلْبَیِّعَانِ بِالْخِیَارِ مَالَمْ یَتَفَرَّقَا،فَإِنْ صَدَقَا وَبَیَّنَا بُورِکَ لَھُمَا فِي بَیْعِھِمَا،وَإِنْ کَتَمَا وَکَذَبَا مُحِقَتْ بَرَکَۃُ بَیْعِھِمَا))
’’بیچنے اور خریدنے والے جب تک جدا نہ ہوں انھیں(بیع ختم کرنے کا)اختیار ہے۔اگر دونوں سچ کہیں گے اور بات واضح کریں گے تو ان کی بیع(سودے)میں برکت ہو گی اور اگر کوئی بات چھپاتے ہیں اور جھوٹ بولتے ہیں تو ان کی بیع کی برکت مٹا دی جاتی ہے۔‘‘[1]
3: سچائی سے شہداء کا مقام حاصل ہوتا ہے۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد عالی ہے:((مَنْ سَأَلَ اللّٰہَ الشَّھَادَۃَ بِصِدْقٍ بَلَّغَہُ اللّٰہُ مَنَازِلَ الشُّھَدَائِ،وَإِنْ مَّاتَ عَلٰی فِرَاشِہِ))
’’جو اللہ سے صدق دل سے شہادت کا سوال کرے،اللہ سبحانہ وتعالیٰ اسے شہداء کا مقام عطا کر دیتا ہے،چاہے اسے اپنے بسترپر ہی موت آئے۔‘‘[2]
4: ناپسندیدہ امور سے نجات ملتی ہے۔بیان کیا جاتا ہے کہ ایک شخص دشمن سے ڈر کر ایک صالح آدمی سے پناہ کا طلبگار ہوا اور کہا:مجھے میرا پیچھا کرنے والے سے چھپا دیجیے،چنانچہ اس نیک شخص نے اسے ایک جگہ سونے کو کہا اور اس پر کھجور کے پتوں کا گٹھا ڈال دیا،جب تلاش کرنے والے آئے اور مفرور شخص کا پوچھا تو نیک آدمی نے کہا:ان پتوں کے نیچے ہے۔انھوں نے اسے مذاق سمجھا اور چھوڑ کر چلے گئے اور اس طرح اس نیک آدمی کے سچ بولنے کی برکت سے اس شخص نے نجات پائی۔
سچائی کن باتوں میں نمایاں ہو سکتی ہے؟:
1: بات میں۔اس طرح کہ مسلمان حق اور صدق کے بغیر کوئی بات نہیں کرتا،اگر کسی خبر کی اطلاع دیتا ہے تو حقیقت اور نفس الامر کے خلاف کوئی بات نہیں کہتا،اس لیے کہ جھوٹ بولنا تو نفاق کی نشانی ہے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:((آیَۃُ الْمُنَافِقِ ثَلَاثٌ:إِذَا حَدَّثَ کَذَبَ،وَإِذَا وَعَدَ أَخْلَفَ،وَإِذَا اؤْتُمِنَ خَانَ))
’’منافق کی تین نشانیاں ہیں،بات کہے تو جھوٹ بولے،وعدہ کرے تو اس کی خلاف ورزی کرے اور امین بنایا جائے تو خیانت کرے۔‘‘[3]
2: لین دین میں مسلمان سچائی کو مد نظر رکھتا ہے،خیانت اور دھوکا نہیں کرتا اور کسی بھی حال میں جھوٹ اور دھوکے کا مرتکب نہیں ہوتا۔
3: مسلمان کا عزم و ارادہ سچا ہوتا ہے،جو کام کرنا چاہے بلا تردد صدق دل سے کرتا ہے،کسی(دوسری)چیز کی طرف توجہ کیے بغیر اپنے کام میں لگ جاتا ہے اور وہ اس میں پورا اترتا ہے۔
4: وعدے میں مسلمان سچ کا قائل ہے۔وہ جب بھی کسی سے وعدہ کرے تو اسے پورا کرتا ہے،اس لیے کہ وعدہ خلافی تو منافق کی نشانی ہے،جیسا کہ اوپر حدیث شریف میں گزر چکا ہے۔
5: مسلمان اپنے حال میں سچا ہوتا ہے۔اس کا ظاہر وباطن یکساں ہے،وہ نہ تو جھوٹ کا لباس پہنتا ہے اور نہ ریا و دکھلاوا کرتا ہے وہ مال کے اظہار میں بھی تکلف نہیں کرتا کہ جو مال اس کا نہیں اسے اپنا ظاہر کرے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:’اَلْمُتَشَبِّعُ بِمَا لَمْ یُعْطَ کَلَابِسِ ثَوْبَيْ زُورٍ‘
’’نہ دی ہوئی چیز پر سیر ہونے کا دعویٰ کرنے والا،جھوٹ کے دو کپڑے پہننے والے شخص کی طرح ہے۔‘‘[1]
اس کا مطلب یہ ہے کہ استغنا اور دولت کے اظہار کے لیے مانگی ہوئی چیز سے زینت اور تجمل کرنا،ایسے ہے جیسے زہد و ورع کے اظہار کے لیے پھٹے پرانے کپڑے پہن لے،حالانکہ وہ زاہد ومتقی نہیں ہے۔
سچ کی چند مثالیں:
1: امام ابو داؤد رحمہ اللہ اپنی سند کے ساتھ عبداللہ بن ابی حمساء رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ میں نے بعثت سے پہلے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک سودا کیا اور وعدہ کیا کہ آپ یہیں ٹھہریں میں بقیہ رقم ابھی لادیتا ہوں،میں بھول گیا تین دن بعد مجھے بات یاد آئی اور میں نے دیکھا کہ آپ وہیں کھڑے ہیں تو آپ نے مجھے دیکھ کر فرمایا:’’اے جوان!تم نے مجھے تکلیف دی ہے،میں تین دن سے یہاں تمھارے انتظار میں ہوں۔‘‘[2]
اسی انداز کا ایک واقعہ آپ کے جد اعلیٰ حضرت اسماعیل بن ابراہیم علیہما السلام کو بھی پیش آیاتھا۔[3]
اور اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے ان کی تعریف کی:﴿وَاذْكُرْ فِي الْكِتَابِ إِسْمَاعِيلَ ۚ إِنَّهُ كَانَ صَادِقَ الْوَعْدِ وَكَانَ رَسُولًا نَّبِيًّا﴾
’’اور کتاب میں اسماعیل علیہ السلام کا بھی ذکر کر وہ سچے وعدے والے اور رسول،نبی تھے۔‘‘[4]
2: حجاج بن یوسف نے ایک دن لمبا خطبہ دیا۔حاضرین میں سے ایک شخص نے کہا:نماز کا وقت ہو گیا ہے،وقت تیرا انتظار نہیں کرتا اور رب تعالیٰ تجھے معذور نہیں قرار دے گا۔حجاج نے اسے قید کرنے کا حکم دیا۔اس کی قوم کے افراد آکر کہنے لگے:یہ تو مجنون ہے۔حجاج نے کہا:وہ خود کہہ دے کہ میں پاگل ہوں تو میں اسے جیل سے چھوڑ دوں گا۔اس پر اس آدمی نے کہا:میں اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی نعمتِ عقل کا کیسے انکار کر سکتا ہوں اور جس مرض جنون سے اس نے مجھے عافیت دی ہے،میں کیسے اس کا اقرار کروں۔حجاج نے اس کی سچی بات سنی تو آزاد کر دیا۔
3: امام بخاری رحمہ اللہ روایت کرتے ہیں کہ میں طلب حدیث کے لیے ایک شخص کے پاس گیا،دیکھا کہ اس کا گھوڑا بھاگ رہا تھا اور وہ شخص اپنے دامن میں ’’جو‘‘کا اشارہ دے کر اسے پکڑنا چاہتا تھا۔میں نے کہا:تیرے دامن میں ’’جو‘‘ ہیں ؟ اس نے کہا:نہیں،میں صرف گھوڑے کو پکڑنے کے لیے ایسا کر رہا ہوں۔امام بخاری رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے کہا:جو شخص جانوروں کے ساتھ جھوٹ بول رہا ہے،میں اس سے حدیث حاصل نہیں کروں گا۔صدق کے میدان میں جناب امام بخاری رحمہ اللہ کا یہ طرز عمل کتنا بلند ہے۔[1]