بکریوں کی عقاص نامی بیماری جیسی کثیر الوقوع موت
بکریوں کی عقاص نامی بیماری جیسی کثیر الوقوع موت
یہ بھی قیامت کی نشانیوں میں سے ایک ہے۔ اور (حدیث میں وارد لفظ ) موتان مبالغہ کے لیے آیا ہے، اس سے مراد یہ ہے کہ بہت زیادہ کثرت سے موت واقع ہوگی۔ یہ اس وبا سے مشابہ ہوگی جس میں لوگ جماعت در جماعت مریں گے۔ کہا جاتا ہے کہ یہ نشانی طاعون عمواس والے سال ظاہر ہوچکے ہیں ۔
طاعون ایک بیماری ہے جو جسم پر پھوڑوں کی شکل میں یا درد کی صورت میں ظاہر ہوتی ہے، اور اس کے ساتھ ہی انتہائی جلن سی پیدا ہوتی ہے، جوکہ انتہائی اذیت ناک ہوتی ہے۔ یہ بیماری انتہائی سخت قسم کی متعدی بیماری ہے۔
عمواس : فلسطین میں بیت المقدس کے قریب ایک بستی ہے۔ (دیکھیں معجم البلدان ۴/۱۷۷)۔
سیّدنا عوف بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :’’ یاد کرلو قیامت برپا ہونے سے پہلے چھ باتیں معرض وجود میں آئیں گی - ان میں سے ایک کے بارے میں فرمایا:یکدم سے مرنا ہے یہ وبا تم میں اس طرح پھیلے گی جس طرح بکریوں میں یکایک مرنے کی بیماری پھیل جاتی ہے۔ ‘‘ (بخاری)
یہ واقعات خلیفہ ٔبرحق جناب عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے دور میں پیش آئے ۱۶ ہجری میں بیت المقدس فتح ہوا اور ۱۸ ہجری میں شام کے علاقہ میں طاعون کا واقعہ پیش آیا۔ جس میں بہت بڑی تعداد میں خلقت خدا موت کے منہ میں چلی گئی، کہا جاتا ہے کہ مرنے والے مسلمانوں کی تعداد پچیس ہزار تھی۔
اس کی وجہ سے بہت بڑے بڑے قائد صحابہ کرام بھی فوت ہوئے۔ ان ہی میں سے حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ ؛ ابوعبیدہ شرحبیل بن حسنہ، فضل بن عباس بن عبد المطلب رضی اللہ عنہم اجمعین اور دوسرے اکابر صحابہ کرامؓ شامل ہیں ۔
قعاص غنم : ایک بیماری ہے ( جس کے الفاظ حدیث میں وارد ہوئے ہیں ) جو چوپاؤں میں پھیلتی ہے، جس سے ان کی ناک سے کوئی چیز بہنے لگتی ہے اوروہ اچانک مرجاتے ہیں ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس موت کو جانوروں کی بیماری سے تشبیہ دی ہے۔ اس لیے کہ طاعون کاایک پھوڑا بدن پر ظاہر ہوتا ہے، اورپھر وہ بہنے لگتا ہے اور پھر جس انسان کویہ بیماری لگی ہو، اس کی موت واقع ہوجاتی ہے۔