ایک حبشی کے ہاتھوں خانہ کعبہ کی تباہی

ایک حبشی کے ہاتھوں خانہ کعبہ کی تباہی

قیامت کی نشانیوں میں سے ایک مسلمانوں کے کعبہ شریفہ کا ہدم ہونا ہے۔ جسے آخری زمانے میں حبشہ سے ایک سیاہ فام شخص کرے گا۔ اس آدمی کو ذو سویقتین کہا جاتا ہوگا ؛ اس لیے کہ اس کی پنڈلیاں انتہائی باریک اور چھوٹی ہوں گی۔ وہ کعبہ کے ایک ایک پتھر کو گرا دے گا، اس کا غلاف اتار لے جائے گا۔ اور اس کے اندر موجود زیور کو بھی اٹھالے جائے گا۔ سیّدنا عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’حبشہ کو چھوڑ دیں جب تک وہ تمہیں چھوڑے رہیں ، اس لیے کہ کعبہ کے زیور کو حبشہ سے تعلق رکھنے والا ذو سویقتین ہی نکالے گا۔‘‘ (ابو داؤد) دوسری روایت میں ہے :’’کعبہ کوحبشہ سے تعلق رکھنے والا ذو سویقتین ہی خراب کرے گا۔‘‘ (متفق علیہ) سیّدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ بے شک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’گویا کہ میں دیکھ رہا ہوں کہ وہ کالا ٹیڑھی چال چلنے والا کعبہ کا ایک ایک پتھر گرارہا ہے ۔‘‘ (بخاری) سید نا عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’حبشہ کا ذو سویقتین کعبہ کو خراب کرے گا؛ اوراس کے زیورات کو اٹھالے جائے گا، اور اس کے غلاف کو اتار دے گا۔ لیکن میں اس کی طرف دیکھ رہا ہوں وہ گنجا اور لنگڑا اپنی گینتیاں اور بیلچے کعبہ پر مار رہا ہے ۔‘‘ (مسند احمد) اشکال :…یہ کہا جاسکتا ہے کہ کوئی کعبہ کو کیسے گراسکتا ہے جب کہ اللہ تعالیٰ نے اسے امن والا حرم بنایا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ’’کیا وہ دیکھتے نہیں کہ ہم نے حرم کو امن والا بنایا ہے۔‘‘ (العنکبوت:۶۷) اور فرمان الٰہی ہے: ’’کیا ہم نے انہیں امن والے حرم میں ٹھکانہ نہیں دیا۔‘‘ (القصص:۵۷) اور اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : ’’جو کوئی اس میں ظلم کے ساتھ الحاد پھیلانے کا ارادہ بھی کرے گا، ہم اسے دردناک عذاب چکھائیں گے۔‘‘(الحج: ۲۵) اور یقیناً اللہ تعالیٰ نے ہاتھی والوں سے اس گھر کی حفاظت فرمائی؛ جب کہ اس وقت اہل مکہ کافر اور مشرک تھے؛ تو پھر یہ آدمی بیت اللہ پر کیسے مسلط ہوگا، جب کہ وہ مسلمانوں کا قبلہ ہے ؟ جواب :… اولاً : بیت اللہ قرب قیامت تک حرم والا ہی رہے گا۔ نہ کہ قیامت قائم ہونے اوردنیا کے ختم ہونے تک۔ اس آیت میں یہ امت قیامت قائم ہونے تک باقی رہنے کی کوئی دلیل نہیں ہے، اس لیے کہ یہ آیت اس زمانے کے حالات بیان کررہی ہے جب وہ امن والا شہر تھا۔ ثانیاً : نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس جانب اشارہ دیا ہے کہ یہاں کے رہنے والے اس گھر کو یعنی حرم کو(حل)حلال سمجھ لیں گے۔ سیّدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ایک آدمی (امام مہدی ) کی بیعت حجر اسود اور مقام ابراہیم کے درمیان میں کی جائے گی اور اس گھر کو نہیں حلال سمجھیں گے مگر یہاں کے رہنے والے۔ جب وہ اس کو حلال سمجھنے لگیں تو پھر عربوں کی ہلاکت کا مت پوچھیں پھر اس کے بعد حبشہ آئیں گے، وہ اس گھر کو ایسے خراب کریں گے کہ اس کے بعد کبھی بھی آباد نہیں ہوگا۔ اوروہی لوگ اس کا خزانہ نکالیں گے۔‘‘ (مسند احمد) یہ بات درست ہے کہ اصحاب فیل کے زمانے میں اہل مکہ کفار تھے، مگر وہ اس گھر کی تعظیم کیا کرتے تھے۔ وہ اس کو حلال نہیں سمجھتے تھے،تو اللہ تعالیٰ نے ابرہہ اور اس کی قوتوں کو اہل مکہ تک پہنچنے سے روک لیا۔جب کہ ذو سویقتین اس گھر کو اسی وقت منہدم کر پائے گا جب یہاں کے رہنے والے اس کی حرمت کا پاس نہیں کریں گے۔ اور اس گھر میں گناہوں پر جرات کریں گیاور اس کی شان کا اہتمام نہیں کریں گے۔ جب وہ اللہ کے گھر کا خیال کرنا اور اس کی تعظیم کاپاس کرنا ترک کردیں گے تو اللہ تعالیٰ ان کی مدد کرنا ترک کردیں گے۔