سورج کا مغرب سے طلوع ہونا
سورج کا مغرب سے طلوع ہونا
کچھ اس باب کے متعلق
وہ نشانیاں جن کا مشاہدہ چھوٹا بڑا ہر انسان کرے گا، وہ نظام افلاک کی حرکت میں اچانک پیدا ہونے والا تغیر (تبدیلی )ہے۔ وہ ایسے ہوگا کہ لوگ ایک صبح میں سورج کے اس کی اصلی ٹھکانے سے طلوع ہونے کے منتظر ہوں گے، جیسا کہ اس کی پیدائش سے لے کر آج تک اللہ تعالیٰ کی سنت ہے۔ مگر اچانک سورج مغرب سے طلوع ہوگا، اس وقت توبہ کا دروازہ بند کردیا جائے گا۔
سورج کے مغرب سے طلوع ہونے کے بارے میں آیات
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :
’’کیا یہ لوگ اس امر کے منتظر ہیں کہ ان کے پاس فرشتے آئیں یا ان کے پاس رب آئے یا آپ کے رب کی کوئی (بڑی) نشانی آئے جس روز آپ کے رب کی کوئی بڑی نشانی آپہنچے گی کسی ایسے شخص کا ایمان اس کے کام نہیں آئے گا جو پہلے سے ایمان نہیں رکھتا؛یا اس نے اپنے ایمان میں کوئی نیک عمل نہ کیا ہو؛آپ فرما دیجئے کہ تم منتظر رہو ہم بھی منتظر ہیں ۔‘‘ (الانعام: ۱۵۸)
سورج کے مغرب سے طلوع ہونے کے بارے میں احادیث
٭ سیّدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
’’تین چیزوں کے ظاہر ہو جانے کے بعد کسی ایسے آدمی کا ایمان لانا اس کے لیے فائدہ مند نہیں ہوگا جو کہ ان سے پہلے ایمان نہ لایا ہو یا نیک کام کیا ہو ان تین میں سے ایک سورج کا مغرب سے نکلنا دوسرے دجال کا نکلنا تیسرادابۃ الارض کا نکلنا ہے۔‘‘ (مسلم)
توبہ کا دروازہ بند کرنے میں حکمت یہ ہے کہ ایمان کے بہت سارے پہلو ایمان بالغیب سے وابستہ ہیں ۔ جب سورج مغرب سے طلوع ہوجائے گا تو معاملہ کھلی آنکھوں کے سامنے آجائے گا۔ اور مسئلہ غیب کا نہیں رہے گا۔ تو اس کی حالت بھی فرعون کے ایمان کی طرح ہوگی کہ جب غرق ہونے لگا تو تب کہنے لگا: میں اب ایمان لایا ہوں ۔
٭ سیّدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
’’قیامت قائم نہیں ہوگی یہاں تک کہ سورج مغرب سے طلوع ہو اور آفتاب مغرب سے طلوع ہوگا جب آفتاب مغرب سے طلوع ہوگا تو لوگ اسے دیکھیں گے، سب ایمان لے آئیں گے اس وقت کسی کا ایمان نفع نہ دے گا۔ جو پہلے ایمان لے آیا یا اپنے ایمان میں نیکی نہ کی، اور قیامت اس طرح قائم ہوگی کہ دوشخص کپڑے پھیلائے ہوں گے؛ نہ تو خرید و فروخت کرنے پائیں گے اور نہ اسے لپیٹ سکیں گے۔ اور قیامت اس حال میں قائم ہوگی کہ ایک شخص اونٹنی کا دودھ دوھ کرلائے گا لیکن اسے پی نہ سکے گا۔ اور قیامت اس حال میں قائم ہوگی کہ ایک شخص اپنے مویشیوں کے لیے حوض درست کر رہا ہوگا لیکن اس میں کھلانے پلانے کی قدرت نہ ہوگی، اور قیامت اس طرح قائم ہوگی کہ ایک شخص اپنے منہ تک لقمہ اٹھائے گا لیکن کھانے نہ پائے گا۔‘‘ (بخاری)
٭ سیّدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
’’کیا تم جانتے ہو کہ یہ سورج کہاں جاتا ہے؟ صحابہؓ نے عرض کیا: اللہ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں ۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
’’یہ چلتا ہے یہاں تک کہ اپنے قیام کی جگہ عرش کے نیچے آجاتا ہے اور سجدہ ریز ہو جاتا ہے سجدے میں پڑا رہتا ہے یہاں تک کہ اسے اٹھنے کا(بلند ہونے) کا حکم ملتا ہے؛ کہ جہاں سے آیا ہے وہیں پر لوٹ جا۔ پھر صبح کو نکلنے کی جگہ سے طلوع ہوتا ہے پھر چلتا رہتا ہے ؛یہاں تک کہ اپنے ٹھہرنے کی جگہ عرش کے نیچے پہنچ جاتا ہے؛ اور پھر سجدہ میں پڑ جاتا ہے۔ یہاں تک کہ اسے حکم ہوتا ہے کہ اٹھ کر جہاں سے آیا ہے وہیں لوٹ جا۔ تو وہ لوٹ جاتا ہے ؛پھر صبح کو اپنے نکلنے کی جگہ سے طلوع ہوتا ہے۔ پھر اس طرح چلتا رہتا ہے پھر ایک وقت ایسا آئے گا کہ لوگوں کو اس کے چلنے میں کوئی فرق محسوس نہیں ہوگا۔ یہاں تک کہ وہ اپنے ٹھہرنے کی جگہ عرش کے نیچے آ جائے گا ؛پھر اسے کہا جائے گا: اٹھ اور مغرب کی طرف سے نکل۔ چنانچہ وہ اس وقت مغرب کی طرف سے طلوع ہوگا۔ اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تم جانتے ہو کہ یہ کب ہوگا ؟ یہ اس وقت ہوگا جب کسی کا ایمان لانا اس کو فائدہ نہ دے گا؛جب تک کہ وہ اس سے پہلے ایمان نہ لایا ہو یا ایمان کی حالت میں اس نے نیک کام نہ کیے ہوں ۔‘‘ (مسلم)
٭ سیّدنا عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
’’ قیامت کی ابتدائی علا مات میں سے سورج کا مغرب سے طلوع ہونا اور چاشت کے وقت لوگوں کے سامنے دابۃ الارض کا نکلنا ہے، ان دونوں میں سے کسی کا بھی دوسرے سے پہلے ظہور ہوگا تو اس کے قریب ہی زمانہ میں دوسری علامت ظاہر ہو جائیں گی۔‘‘ (مسلم)
اشکال :…بعض لوگوں کے ہاں اشکال وارد ہوتاہے کہ اس حدیث میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خبر دی ہے کہ قیامت کی پہلی نشانی سورج کا مغرب سے طلوع ہونا اور پھر دابۃ الارض کا نکلنا ہے، جب کہ دوسری احادیث میں ہے : پہلی نشانی دجال یا مہدی کا ظہور ہے ؛ ان دونوں روایات کے مابین جمع کیسے ممکن ہے ؟
جواب: … حافظ ابن حجر رحمہ اللہ فرماتے ہیں احادیث کے مجموعے میں جو بات راجح ثابت ہوتی ہے، (وہ یہ ہے کہ) ’’دجال کا خروج قیامت کی بڑی نشانیوں میں سے پہلی نشانی ہے۔ جس سے زمین(عالم ارضی یا سفلی ) کے بڑے حصے میں احوال کے بدل جانے کی اطلاع دی جائے گی۔اور اس نشانی کا خاتمہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی موت پر ہوگا۔ اور یہ کہ سوج کا مغرب سے طلوع ہونا عالم بالا میں تغیر واقع ہونے کی پہلی بڑی نشانی ہے۔ جس کا خاتمہ قیامت کے قائم ہونے پر ہوگا اور شاید کہ چوپایہ اس دن نکلے گا جس دن سورج مغرب سے طلوع ہوگا۔‘‘ امام مسلم نے جناب عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے :
’’قیامت کی ابتدائی علا مت میں سے سورج کا مغرب سے طلوع ہونا اور چاشت کے وقت لوگوں کے سامنے دابۃ الارض کا نکلنا ہے ان دونوں میں سے کسی کا بھی دوسرے سے پہلے ظہور ہوگا تو اس کے قریب ہی زمانہ میں دوسری علامت ظاہر ہو جائیں گی۔‘‘ (مسلم)
نیک اعمال میں جلدی کرنے کا حکم
سیّدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
’’چھ چیزوں کے ظاہر ہونے سے پہلے اعمال میں سبقت کرو …دجال، دھواں ، دابۃ الارض، سورج کا مغرب سے طلوع ہونا اور عام موت یعنی قیامت اور حاض کسی ایک کی موت۔‘‘ (مسلم)
اس حدیث کے معانی کے بیان میں کلام پہلے گزر چکاہے۔